سَر اُٹھاؤں تو جان جاتی ہے ..
اور جھُکا لوں تو شان جاتی ہے ..

خامشی بھی مجھے قبول نہیں ..
کچھ کہوں تو زبان جاتی ہے ..

نقد لینے کوئی نہیں آتا ..
قرض دوں تو دکان جاتی ہے ..

میرے ٹوٹے پروں پہ مت جانا ..
آسماں تک اُڑان جاتی ہے ..

بد دُعا تم کسی کی مت لینا ..
یہ سوئے آسمان جاتی ہے ..

موت اپنا خراج لینے کو ..
روح کے درمیان جاتی ہے ..

اک تری شکل دیکھ لینے سے ..
پورے دن کی تھکان جاتی ہے ..

میری ماں کا مزاج مت پوچھو ..
صرف باتوں سے مان جاتی ہے

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.