Ask Fatwa Online – Part 1

Warast

razavi

علماء کرام و مفتیان عظام کیا فرماتے ہیں مسلہ ذیل میں کہ ایک آدمی کی ٤ بیٹیاں ہیں اور ایک بیٹا ہے ان میں سے ایک بیٹی کا انتقال ہوگیا ہے
اب وہ آدمی مرحوم ہو چکا ہے
اور اب اس آدمی کی وراثت کی تقسیم کی بات ہے تو جواب طلب امر یہ ہے کہ اس آدمی کی مرحوم بیٹی کی اولاد کو اس کی وراثت میں سے حصہ دیا جائے گا یا نہیں
جواب عطا فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔

jawab

نہیں

کہ نواسے اور نواسیاں ذوی الارحام سے ہیں جنہیں اصحاب فرائض اور عصبات کی موجودگی میں ترکہ سے حصہ نہیں ملتا ہے. البتہ ! میت مذکور کے ورثہ اپنے طور پر اپنے حصے سے انہیں کچھ دے دیں تو یہ الگ بات ہے

AZAN

sajid malek

زید ایک مسجد میں موذن ہے۔ وہ کبھی کبھی اذان کے وقت کان میں انگلیاں نہیں ڈالتا اور کہتا ہے کہ کان میں انگلیاں ڈالنا مستحب ہے۔ اور مستحب کام کرو تو ثواب، نہ کرو تو کوئی گناہ نہیں۔ زید کا یہ کہنا کیسا ہے؟ کان میں انگلیاں نہ ڈالنے سے اذان میں کوئی خرابی ہوگی یا نہیں؟ اور زید گنہگار ہوگا یا نہیں؟
اسی طرح زید لاوڈ اسپیکر پر اذان پڈھتے وقت حی علی الصلوۃ، حی علی الفلاح میں داءیں، باءیں جانب چہرا نہیں پھیرتا اور کہتا ہے کہ جب بلند جگہ اور مینار پر اذان پڈھے تب چہرہ پھیرنا چاہیے۔ یہاں لاوڈ اسپیکر میں اسکی ضرورت نہیں۔ زید کا یہ کہنا کیسا ہے؟
الجواب بعون الملک الوھاب
سوال میں مذکور زید کی پہلی بات درست ہے کہ اذان دیتے وقت کانوں میں انگلیاں ڈالنا مستحب ہے کرو تو ثواب نہ کرو تو کوئی گناہ نہیں لیکن اگر ایسا نہ کرنے پر فتنہ ہوتا ہے تو کرے تا کہ ثواب بھی مل جائے اور فتنہ بھی دفع ہو کیونکہ الفتنۃ اشد من القتل. بہار شریعت میں ہے,” اَذان کہتے وقت کانوں  کے سوراخ میں  انگلیاں  ڈالے رہنا مستحب ہے اور اگر دونوں  ہاتھ کانوں  پر رکھ لیے تو بھی اچھا ہے.”(ج ١ ح ٣ ص ٤٧۲)
اور دوسرا جواب درست نہیں کیونکہ منہ پھیرنے کا حکم مینار کی اذان کے ساتھ خاص نہیں بلکہ مطلق اذان کے لیے ہے یہاں تک کہ بچے کی پیدائش پر کان میں جو اذان کہی جاتی ہے اس میں بھی منہ پھیرنے کا حکم ہے جبکہ وہ مینار میں نہیں ہوتی. بہار شریعت میں ہے,” حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ داہنی طرف مونھ کر کے کہے اور حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ  بائیں  جانب اگرچہ اَذان نمازکے لیے نہ ہو بلکہ مثلاً بچے کے کان میں  یا اور کسی لیے کہی یہ پھیرنا فقط مونھ کا ہے، سارے بدن سے نہ پھرے۔ (ج ١ ح ٣ ص ٤٧١) واللہ تعالی اعلم
سید سرفراز علی

منہ پھیرنے کا شرعاً حکم کیا ہے؟ فرض، واجب، سنت، مستحب، مباح؟

سنت
فتاوی بحر العلوم میں ہے, “مؤذن کو چاہیے کہ حی علی الصلاۃ کے وقت اپنے چہرے کو داہنے طرف موڑے اور فلاح کے وقت بائیں طرف. اگر اس طرح نہ کیا تو انہوں نے خلاف سنت کیا. “(ج ١ ص ١٤٤)

AQAID

السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ
کیا فرماتے علمائے کرام و مفتیان ذوالاحترام مسئلہ ھذا ( ابو طالب ) کے بارے میں کہ ( 1 ) زید کہتا ہے ابوطالب کو حضرت کہنا خلاف شرع ہے ( 2 ) عمر کہتا ہے ابو طالب کو حضرت کہنا بلا کراہیت جائز ہے کیونکہ سیرت کی شاذ و نادر کتب میں مصنفین نے حضرت لکھا ہے … دریافت امر طلب یہ ہے کہ حقیقت کیا ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیکر عنداللہ ماجور ہوں؟
المستفتی : محمد عبد الجلیل رضوی گلشن نگر جوگیشوری ممبئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب حضور کے چچا ابوطالب نے اگرچہ حضور صلی اللہ وسلم کی بڑی مدد کی مگر وہ ایمان نہیں لائے تھے تفصیل کے لئے اعلی حضرت علیہ الرحمۃ الرضوان کا رسالہ مبارکہ ” شرح المطالب فى مبحث ابى طالب ” ملاحظہ ہو ـ لہذا ابوطالب کے نام کے ساتھ رضی اللہ تعالی عنہ لکھنا جائز نہیں اور جن کتابوں میں آپ نے ان کے نام کے ساتھ رضی اللہ تعالی عنہ لکھا ہوا دیکھا ہے وہ کسی رافضی شیعہ نے لکھا ہوگا یا نا جانکاری میں کسی سنی عالم نے لکھ دیا ہوگا ـ اور حضور صلی اللہ وسلم کے والد کو حضرت عبد الله اور دادا کو حضرت عبد المطلب لکھنا درست بلکہ بہتر ہے ـ اور یہی حکم ان کے اوپر والوں کے بارے میں بهى ہے حدیث شریف میں فرماتے ہیں کہ ” حضور صلی اللہ علیہ وسلم لم يزل الله ينقلنى من الاصلاب الکريمة والارحام الطاهرة حتى اخرجنى بين ابوى ” اھ یعنی ہمیشہ اللہ عزوجل مجھے کرم والی پشتوں اور طہارت والی شکموں نقل فرماتا رہا یہاں تک کہ مجھے میرے ماں باپ سے پیدا کیا ” اھ ( شفاشریف قاری عياض ج 1 ص 100 ) اس حدیث کے تحت اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ عنہ ربه القوی تحریر فرماتے ہیں کہ ” تو ضروری ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء کرام طاهرين و امهات کرام طاهرات سب اهل ايمان و توحيد ہوں کہ نص قرآن عظیم کسی کافر و کافره کے لیے کرم و طهارت سے حصہ نہیں ـ یہ دلیل امام اجل فخر المتکلفين علامة الورى فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے افاده فرمائى اور امام جلال الدین سیوطی اور علامہ محقق سنوسى اور علامہ تلمسانى شارح شفا و امام ابن حجر مکی و علامہ محمد زرقانى شارح مواهب وغيرهم اکابر نے اس کی تائید و تصويب کی ” اھ ( شمول السلام ص 6 : مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی ) اور اعلی حضرت تحرير فرماتے ہیں کہ ” حضرات ابوين کريمين رضى الله تعالى عنهما کا انتقال عہد اسلام سے پہلے تها تو اس وقت تک وه صرف اهل توحيد و اهل الا الہ الله تهے بعده رب العزت نے اپنے نبى کريم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے صدقے میں ان پر اتمام نعمت کے لئے اصحاب کہف رضى الله تعالى عنهم کى طرح انہیں زنده کيا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ايمان لاکر شرف صحابيت پاکر آرام فرمايا ” اھ ( ايضا ص 22 بحوالہ فتاوی فقیہ ملت ج 2 ص 421 ) اور حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ نے فتاوی برکاتیہ میں بالکل صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ ” ابو طالب کو حضرت ابو طالب کہنے کی اجازت نہیںاس لئے کہ ان موت کفر پر ہوئی ” اھ ( فتاوی برکاتیہ ص 358 )
مذکورہ باتوں سے ثابت ہوا کہ حضور کے ابو طالب کو حضرت ابو طالب کہنا جائز نہیں لہذا عمر یہ کہنا کہ ابو طالب کو حضرت ابو طالب کہنا بلا کراہیت جائز ہے درست نہیں ۔

واللہ اعلم باالصواب
کریم اللّٰہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی

MYYIT – KAFANW DAFAN

aatif barkati

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
کیا فرماتیں ہیں علماۓ کرام اس بارے میں کہ اگر کسی عورت کی لاش کہی سے ملی اور گور منٹ نے تمام کوشش کی لاش کے وارثین کا پتہ کرنے کی مگر کٸ دن تک کچھ پتہ نہیں چلا اب انہوں نے لاش ایک مسلمان کو دی کہ وہ آخری مراسم ادا کرے اب وہ کیا کارے اور کیسے پہچانے اور عورت کی لاش کو پہچان نے کی کیا کیا علامات ہے کہ وہ مسلم ہے یا غیر جلد جواب عنایت فرماۓ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسؤولہ میں عورت کی لاش اگر مسلم علاقے سے ملی ہے تو وہ مسلم مانی جائیگی اگر غیر مسلم علاقے سے ملے تو غیر مسلم اور اگر غیرآباد زمین سے ملے تو قرب و جوار کا اعتبار ہوگا. اور اگر کسی بھی علامت اور کسی بھی طور سے مردے کے مسلمان ہونے کا علم نہ ہو سکے تو بغیر غسل و کفن و جنازہ کے ویسے ہی دفن کردیں. بہار شریعت میں ہے, “مُردہ مِلا اور یہ نہیں  معلوم کہ مسلمان ہے یا کافر تو اگر اس کی وضع قطع مسلمانوں  کی ہو یا کوئی علامت ایسی ہو، جس سے مسلمان ہونا ثابت ہوتا ہے یا مسلمانوں  کے محلّہ میں  ملا تو غسل دیں  اور نماز پڑھیں  ورنہ نہیں.”(ج١ ح٤ ص ۸١۸)
فتاوی شامی میں ہے, “لو لم یدر أ مسلم أم کافر، ولا علاقة، فإن في دارنا غسل الخ قولہ (فإن في دارنا الخ) أفاد بذکر التفصیل في المکان بعد انتفاء العلاقة أن العلاقة مقدمة، وعند فقدھا یعتبر المکان في الصحیح لأنہ یحصل بہ غلبة الظن کما في النھر عن البدائع.”(ج ٣ ص ۹٣) واللہ تعالی اعلم
سید سرفراز علی

HAZR O IBAHAT – HARAM W HALAL

علمائے کرام کی بارگاہ میں یہ عرض ہے کہ کیا ٹڈی کھانا حلال ہے ؟

باحوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔۔

سائل :

غلام یاسین رضوی، احمد آباد

jawab -mbgodil

حدیث پاک میں ہے: احلت لنا میتتان السمک والجراد والدمان القلب والطحال. جراد کےمعنی ٹڈی کے آتے ہیں

NAMAZ

KANIZ FATIMA

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا تہجد کے لۓ سونا شرط ہے؟؟

اگر کوئی سویا ہی نہیں نماز تھجد نہیں ہوگی مطلق نفل ہوگی
اور رات بھر نوافل و اذکار اور تلاوت قرآن مجید میں مصروف رہا۔۔۔

اور آخر میں تھجد پڑھی تو کیا نماز تھجد ہوگی یا مطلق نفل؟؟؟؟؟

TAHIR ALI MISBAHI

فتاوی رضویہ میں تفصیل موجود ہے

نماز تھجد نہیں ہوگی مطلق نفل ہوگی

NAMAZ – JAMAT

BU MUHAMMAD KHAN  6/4/2019

فاسق کی اذان کا اعادہ اگر اعادہ نہ کیا گیا تو کیا نماز میں کوئی کراہت آئےگی کیا نماز کا اعادہ ہوگا
برائے کرم جواب عطا فرمائیں۔

فاسق کی اذان مکروہ ہے
لیکن اس اذان کا اعادہ نہ کیا گیا تو نماز کا کیا حکم ہے؟

MBGODIL

فاسق کی اذان کا اعادہ مکروہ تنزیہی ہے .

نماز پر اس کا اثر مرتب نہ ہوگا.

* اصلاح کرلیں. فاسق کی اذان مکروہ تنزیہی ہے

AZAN – TAQBIIR

GULAM YASEEN RAZAVI – 4/6/2019

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا مکبر (جو امام کی آواز کو آگے مقتدیوں تک پہنچائے) کے لئے داڑھی ہونا شرط ہے ؟ یا بغیر داڑھی والا بھی مکبر بن سکتا ہے ۔۔۔؟

JAWAB – MBGODIL – 4/6/2019

ڈارھی والا

MUTAFARRIQAT

SAYYAD SARFARAZ ALI

ایک صاحب کا سوال ہے کہ عید کا چاند ہوتے ہی شیطان کو چھوڑ دیا جاتا ہے تو کہیں عید پہلے ہوتی ہے کہیں دوسرے دن تو ذرا رہنمائی فرمائیں کہ کس حساب شیطان کی رہائی ہوتی ہے

SHAMSUL HAQQ

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
باپو ان صاحب سے پوچھیں کہ شیطان کی رہائی کا انہیں انتظار کیوں ہے

TAHIR ALI

سائل کا مطلق سوال ہے ۔۔۔ جو ذہن میں آگیا ہوگا۔۔۔

سوال کر دیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کو شیطان کی رہائی کا انتظار ہے ۔۔۔

JUNAID AZHARI

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا جاء رمضان فتحت أبواب الجنة، وغلقت أبواب النار، وصفدت الشياطين. وفي رواية: سلسلت. وفي رواية عند الترمذي وابن خزيمة: إذا كان أول ليلة من شهر رمضان صفدت الشياطين ومردة الجن.
والمراد بالتصفيد إما على الحقيقة ليمتنعوا من إيذاء المؤمنين، أو مسترقو السمع منهم بخاصة، وإما على المجاز، ويكون إشارة إلى كثرة الثواب والعفو، لانكفاف الناس عن المخالفات، وقلة إغواء الشياطين فيصيرون كالمصفدين، ويكون تصفيدهم عن أشياء دون أشياء.. ولناس دون ناس، ذكر ذلك النووي عن القاضي عياض في شرحه لمسلم

SAYYAD SARFRAZ

اس کا مطلب جہاں چاند نہیں ہوا وہاں جانے کی آزادی نہیں اور آزادی نہ ہونے کی دو توجیہ ہو سکتی ہے یا تو صرف حکم کے وہاں نہیں جانا تو حکم ماننے والا مطیع. یا کسی اور طریقے سے حد بندی جو محتاج دلیل

J

حد بندی لفظ حدیث سے ثابت ۔ لہذا کوئ اور معنی عبارت سے ہی زائل

پھر منقول بھی حاضر ☝🏻

وقال الحافظ ابن حجر في فتح الباري قوله: وسلسلت الشياطين: قال الحليمي: يحتمل أن يكون المراد من الشياطين مسترقو السمع منهم، وأن تسلسلهم يقع في ليالي رمضان دون أيامه، لأنهم كانوا منعوا في زمن نزول القرآن من استراق السمع فزيدوا التسلسل مبالغة في الحفظ، ويحتمل أن يكون المراد أن الشياطين لا يخلصون من افتتان المسلمين إلى ما يخلصون إليه في غيره لاشتغالهم بالصيام الذي فيه قمع الشهوات وبقراءة القرآن والذكر، وقال غيره: المراد بالشياطين بعضهم، وهم المردة منهم، وترجم لذلك ابن خزيمة في صحيحه، وأورد ما أخرجه هو والترمذي والنسائي وابن ماجه والحاكم من طريق الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة بلفظ: إذا كان أول ليلة من شهر رمضان صفدت الشياطين ومردة الجن. وأخرجه النسائي من طريق أبي قلابة عن أبي هريرة بلفظ: وتغل فيه مردة الشياطين. زاد أبو صالح في روايته: وغلقت أبواب النار فلم يفتح منها باب، وفتحت أبواب الجنة فلم يغلق منها باب، ونادى منادٍ: يا باغي الخير أقبل ويا باغي الشر أقصر، ولله عتقاء من النار، وذلك كل ليلة. لفظ ابن خزيمة وقوله (صفدت) بالمهملة المضمومة بعدها فاء ثقيلة مكسورة، أي شدت بالأصفاد، وهي الأغلال، وهو بمعنى سلسلت، ونحوه للبيهقي من حديث ابن مسعود وقال فيه: فتحت أبواب الجنة فلم يغلق منها باب الشهر كله.

يحتمل التوقيت بالليل دون النهار في تصفيد الشياطين و اما في اغلاق ابواب النار و فتح ابواب الجنة فليس كذالك. والله تعالي اعلم

وذاك الإحتمال بعيد في التحقيق عند الجمهور

SAYYAD SRFRAZ

“ای شدت بالاصفاد, وھی الاغلال, وھو بمعنی سلسلت”
اس کی روشنی میں آپ وضاحت فرمائیں اپنے موقف کی

J

و يحتمل ان تكون كبار من الشياطين لكل بلد و قطعة من الأرض خاصة يديرون فيها اعمال الشر كما ثبت أن لكل بلد و قطعة من الأرض قطب من جمع الأولياء يديرون فيها اعمال الخير.
فتسلسل تلك الشياطين و يحررون بعد عند بدأ الشوال في تلك البلاد والله تعالي اعلم

اشارة نص ما سبق☝🏻

SARFRAZ

فتح الباری ؟

J

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ۚ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ (112)
القول في تأويل قوله تعالى : وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا
قال أبو جعفر: يقول تعالى ذكره لنبيه محمد صلى الله عليه وسلم، مسلِّيَه بذلك عما لقي من كفرة قومه في ذات الله, وحاثًّا له على الصبر على ما نال فيه: (وكذلك جعلنا لكل نبي عدوًّا)، يقول: وكما ابتليناك، يا محمد، بأن جعلنا لك من مشركي قومك أعداء شياطينَ يوحي بعضهم إلى بعض زخرف القول، ليصدُّوهم بمجادلتهم إياك بذلك عن اتباعك والإيمان بك وبما جئتهم به من عند ربّك، كذلك ابتلينا من قبلك من الأنبياء والرسّل, بأن جعلنا لهم أعداءً من قومهم يؤذُونهم بالجدال والخصومات.

 و هذا☝🏻
 (ولكل قوم هاد) . يقول ولكل قوم إمام يأتمُّون به وهادٍ يتقدمهم, فيهديهم إما إلى خيرٍ وإما إلى شرٍّ .
[19:26, 6/6/2019] +91 99043 77822: تفسير الطبري
[19:27, 6/6/2019] +91 99043 77822: يكفي هذا للحمل علي ذاك الإحتمال……..
[20:29, 6/6/2019] +91 87806 16019: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ…. حضرت سید صاحب قبلہ! طرفین کی بحثوں کو دیکھا. ماشاء اللہ کافی علمی بحث ہوئی.
ویسے میرا خیال عرض کردوں تو یہ سوال ہی لغو ہے. کیوں کہ یہی سوال دخول رمضان میں بھی پیش آئے گا کہ کہیں رمضان پہلے داخل ہوتا ہے, کہیں بعد میں تو شیطان زنجیروں میں جکڑا کب جاتا ہے ؟ اور آگے بڑھیے: سورج کے طلوع و غروب کا سلسلہ پوری دنیا میں چوبیسوں گھنٹے جاری رہتا ہے؛ تو چوبیس گھنٹے کہیں نہ کہیں رمضان داخل ہوا؛ تو شیطان کے پابند سلاسل ہونے میں کہاں کہاں کا اعتبار کریں گے ؛ ٹھیک یہی حال خروج رمضان میں ہے کہ چوبیس گھنٹے میں کہیں نہ کہیں رمضان کا خروج ہوا تو سوچیے شیطان کی رہائی سے متعلق کس کس لمحے کا اعتبار کریں گے یا ایک شخص ہے جس نے ہلال رمضان دیکھا مگر اسکی شہادت کسی وجہ سے رد کردی گئی تو اسے حکم ہے کہ دوسرے دن وہ خود روزہ رکھے … تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کے حق میں شیطان جکڑ دیے گئے ہیں , دوسروں کے حق میں نہیں …

بات در اصل یہ ہے کہ شارع علیہ السلام نے ہمیں جتنا بتایا اس سے ہم واقف ہیں اور جو نہ بتایا اس میں کوئی حکمت ومصلحت ہے. یہاں حدیثوں سے صراحتا خواہ اشارتا صرف اتنا ثبوت ملتا ہے کہ ماہ رمضان کی آمد کے وقت شیطان کو جکڑا جاتا ہے اور خروج ماہ کے وقت چھوڑ دیا جاتا ہے مگر اس کی کیفیت کیا ہے اور قید و رہائی میں کہاں کا اعتبار ہوگا؟ اس کی کچھ وضاحت نہ فرمائی؛یہی وجہ ہے کہ شارحین حدیث نے اس پر کچھ کلام نہیں کیا ہے کہ یہ عالم غیب کی باتیں ہیں جو شارع سے سن کر معلوم ہوتی ہیں؛ ظن و تخمین سے نہیں.
یہاں جو کہا جاسکتا ہے کہ وہ یہ کہ جہاں جہاں رمضان داخل ہوتا ہے وہاں کے لوگوں پر شیطان کو تسلط نہیں دیا جاتا ہے اور جہاں جہاں عید آئی وہاں کے لوگوں کو شیطان بہکانا شروع کردیتا ہے یعنی کہ اپنے اپنے افق کا اعتبار ہے اور سلسلت الشیاطین سے عامۂ شارحین نے مجازا یہی مراد لیا ہے کہ شیطان کے بہکاوے سے محفوظ کردیا جاتا ہے اور حقیقی پابند سلاسل مراد لیں تو بھی یہی مقصود ہے .

واللہ تعالی اعلم

آپ نے جو لکھا ہے وہ مفتی جنید صاحب کے تمام عربی حوالوں کا ماحصل ہے.
[21:13, 6/6/2019] +91 87806 16019: شاید قدرے فرق کے ساتھ.
بہر کیف ؛ یہ میرا ذاتی خیال ہے. اگر قبول ہو فبہا ورنہ کوئی بات نہیں.
[21:14, 6/6/2019] +91 99043 77822: جی۔
اور جو مزید استفادہ چاہے وہ تمام عربی عبادتیں ضرور پڑھے ۔ فإن اكل الفاكهة افضل من شرب العصير ولو كان العصير ايسر …
[12:17, 6/7/2019] +91 97148 78592: اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
کیا فرماتیں ہیں علماۓ کرام اس بارے میں کہ اگر کسی عورت کی لاش کہی سے ملی اور گور منٹ نے تمام کوشش کی لاش کے وارثین کا پتہ کرنے کی مگر کٸ دن تک کچھ پتہ نہیں چلا اب انہوں نے لاش ایک مسلمان کو دی کہ وہ آخری مراسم ادا کرے اب وہ کیا کارے اور کیسے پہچانے اور عورت کی لاش کو پہچان نے کی کیا کیا علامات ہے کہ وہ مسلم ہے یا غیر جلد جواب عنایت فرماۓ
[12:18, 6/7/2019] +91 97148 78592: اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام اس بات پر کہ اگر محلّے یا آبادی کے لوگ اپنی مسجد میں نماز کو نہ جاۓ تو کیا مسجد بد دعا دیتی ہے کیا کسی حدیث میں یا کسی کے قول سے یہ بات ثابت ہے ؟۔۔۔۔۔
[16:03, 6/7/2019] +91 90672 90190: اس کا کوئی ایسا جواب عطا فرمائیں جو عام سے عام آدمی کے ذہن میں اتر جائے
[17:12, 6/7/2019] +91 90672 90190: السلام علیکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں کہ
(١) مسجد کے صحن میں جو حضرات افطاری کرتے ہیں انہیں اعتکاف کی نیت ضروری ہے ؟
(۲) میعادی اور غیر میعادی قرض کی مثال کے ساتھ وضاحت فرمادیں.
(٣) مکان, دوکان یا گاڑی وغیرہ قسطوں پر لیے جاتے ہیں نیز بینک سے جو لون لی جاتی ہے وہ قرض میعادی ہوگا یا غیر میعادی ؟؟؟ بینوا و توجروا
سائل : عبد المجید احمدآباد
[09:59, 6/8/2019] +91 97223 65181: کیا تدفین کی آسانی کےلئے کچھ قبریں پہلے ہی سے قبریں کھود کرچرکھنا کیسا ہے؟
[12:24, 6/8/2019] +91 90672 90190: السلام علیکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ زید نے مرنے سے پہلے اپنا مال علاوہ زوجہ کے تمام وارثین میں باہمی رضامندی کے ساتھ تقسیم کردیا اور ایک کاغذ پر یہ لکھ کر کہ “ہمیں اپنا حق مل گیا اب زید کے مرنے کے بعد زید کے مال میں ہمارا کچھ حق نہیں.” ان وارثین کے دستخط لے لیے. زید کے انتقال کے بعد زید کی بیٹیاں (جن کو مال مل چکا تھا مذکور کاغذ پر دستخط بھی کر چکی تھیں) پھر سے مال میں اپنا حق مانگ رہی ہیں. تو کیا شرعا ان کا یہ مطالبہ درست ہے ان کے لیے کیا حکم شرع ہے بیان فرمائیں
سائل : معظم احمدآباد
[12:45, 6/8/2019] +91 98245 55192: سوال
ہندو اگر بار بارسلام کریں اور مسلمان کبھی اسے جواب دے تو مسلم پر کونسا گناہ نافذ ہوگا
مفُتیان عظام التجا کہ جواب سے نوازیں
[20:02, 6/8/2019] +91 97148 78592: اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام اس بات پر کہ اگر محلّے یا آبادی کے لوگ اپنی مسجد میں نماز کو نہ جاۓ تو کیا مسجد بد دعا دیتی ہے کیا کسی حدیث میں یا کسی کے قول سے یہ بات ثابت ہے ؟۔۔۔۔۔
[20:02, 6/8/2019] +91 97148 78592: اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
کیا فرماتیں ہیں علماۓ کرام اس بارے میں کہ اگر کسی عورت کی لاش کہی سے ملی اور گور منٹ نے تمام کوشش کی لاش کے وارثین کا پتہ کرنے کی مگر کٸ دن تک کچھ پتہ نہیں چلا اب انہوں نے لاش ایک مسلمان کو دی کہ وہ آخری مراسم ادا کرے اب وہ کیا کارے اور کیسے پہچانے اور عورت کی لاش کو پہچان نے کی کیا کیا علامات ہے کہ وہ مسلم ہے یا غیر جلد جواب عنایت فرماۓ
[20:02, 6/8/2019] +91 97148 78592: ان دونوں مساٸل کے بارے میں اگر کسی کے پاس کو پوسٹ یا فتوی ہو تو کرم کرے
[19:14, 6/9/2019] +91 90672 90190: یہ مسئلہ علمائے اہل سنت و جماعت کے درمیان متفق ہے یا مختلف فیہ ؟؟؟
[19:19, 6/9/2019] +91 87806 16019: جمہور کے نزدیک وہ کفر پر ہیں, البتہ بعضے اہل سنت اور اکثریت شیعہ ان کے ایمان پر ہے . وقت ملا تو اس کی تفصیل ان شاء اللہ لکھوں گا…
[12:27, 6/10/2019] +91 90672 90190: جی تو کیا بہتر یہ نہیں تھا کہ مذکور سوال کے جواب میں یہ کہا جاتا کہ زید مذہب جمہور کے حساب سے درست ہے اور عمر بعض کے ؟؟؟
کیا عمر کو یا کسی دوسرے ذی علم کو یہ اختیار ہے کہ وہ بعض کی پیروی کرے ؟؟؟
[13:25, 6/10/2019] +91 87806 16019: ہندوستان دار الاسلام ہے. تفصیل کے لیے امام اہل سنت کے رسالہ ” إعلام الأعلام بأن هندوستان دار الإسلام “ کا مطالعہ کریں.
[22:34, 6/10/2019] Mo Sarfaraz Bhunga: اور یہ عجیب مسلہ لگ رہا ہے

کیونکہ۔ سوال چونی جواب دگر۔
۔سوال تو ٫٫حضرت ،، یہ لفظ ابو طالب کے لیے کہنا درست ہے یا نہیں

لیکن جواب تو رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ کو لے کر کے دیا گیا ہے

یہ تو سمجھ میں آ رہا ہے کیونکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تعلق ایمان سے ہے
اور لفظ حضرت کا تعلق ایمان سے نہیں ہے
[23:35, 6/10/2019] +91 76664 56313: آپ کے سمجھ کا پھیر ہے جب رضی اللہ عنہ کہنا جائز نہیں ہے تو بدرجہ اتم حضرت کہنا کیوں جائز ہوگا
[23:51, 6/10/2019] +91 87806 16019: کیا کہہ دیا مولانا کریم اللہ صاحب آپ نے! کہاں حضرت اور کہاں رضی اللہ عنہ …
[23:52, 6/10/2019] +91 87806 16019: کیسے آپ نے ترضی سے حضرت کی نفی بدرجۂ اولی ثابت کی ؟
[23:55, 6/10/2019] +91 87806 16019: حضرت ہمارے دیار میں محض ایک اعزازی خطاب ہے؛ اور ترضی میں رضائے اللہ کی دعا ہے. کہاں کافر کے لیے ایک اعزازی خطاب اور کہاں اس کے لیے رضائے الہی کی دعا. معاذ اللہ
[00:05, 6/11/2019] Mo Sarfaraz Bhunga: حضرت کیا میرا اس سوال پر اعتراض کرنا درست ہے ؟؟؟
[08:59, 6/11/2019] +91 87806 16019: در اصل ان سے لکھنے میں چوک ہوگئی, بجائے حضرت کے رضی اللہ عنہ لکھ دیا
اور باقی فتوی ان کا ٹھیک ہے. لفظ حضرت اگرچہ معنئ وضعی کے لحاظ سے لفظ ایمان کے متعلقات نہیں ہے مگر ہمارے دیار میں چوں کہ لفظ حضرت تعظیمی خطاب کے طور پر مستعمل ہوتا ہے جو فاسق مسلمان کے لیے گوارا نہیں کیا جاتا تو کسی کافر کے لیے کیسے جائز ہوگا؟ …….. یہ ہے مولانا کریم اللہ صاحب کی عبارت کا حاصل….. باقی انہوں نے عجلت میں بجائے حضرت کے ترضی لکھ دیا پھر اس پر کٹ حجتی بھی کرلی ؛ یہ التبہ غلط ہے.
[10:42, 6/11/2019] +91 87806 16019: * متعلقات سے
[21:57, 6/11/2019] Mo Sarfaraz Bhunga: Agar ek gher Muslim se Muslim ne qarz liya or fir lota nahi paya yaha Tak ki us musalman ka intiqal ho gay to akhirat me kese hisab liya jayega kafir ko namaze ya nekiya di nahi ja sakti to ..to muftoyane kiram se iltimas he ki عند الشرع us Muslim or us gher Muslim me kese insaf Kya jaayega
[18:33, 6/13/2019] +91 90305 97041: السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
کیا فرماتے ہیں علماء دین مفتیان شرع متین شوال کے چھ نفل روزوں کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص شوال کے چھ روزے رکھے اور نفل کے ساتھ اپنے چھوٹے ہوئے فرض روزوں کی نیت بھی کر لے تو کیا اس کو قضا کے ساتھ ساتھ نفل روزوں کا ثواب بھی ملے گا اور اسے الگ سے نفل روزے پورے کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
برائے کرم رہنمائی فرمائیں
سوال کنندہ
شمس الحق
[20:06, 6/13/2019] +91 94265 84507: السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ غازی پاک علیہ الرحمہ کے کسی میلے کے موقع پر کچھ لوگ اپنے گھروں پر نشان یعنی جھنڈا لگاتے ہیں اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ایک بڑا بانس لیتے ہیں اس کو صاف کرتے ہیں پھر اسے ہلدی اور دودھ وغیرہ سے دھلتے ہیں پھر اس میں کالی اور رنگ برنگ کی ساڑی پہناتے ہیں پھر اسے اپنے گھروں پر نصب کرتے ہیں اور اس کے ارد گرد صاف کرکے ترشول بھی نصب کرتے ہیں پھر اگربتی، لوبان وغیرہ جلاتے ہیں اور پھر ایک داڑھی منڈا قوال آتا ہے جو وہیں پر بیٹھ کر قوالی گاتا ہے جس کی دھن پر عورتیں اور نوجوان لڑکیاں ناچتی ہے جس میں بے پردگی ہوتی ہے
اس میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ میرے اوپر غازی پاک، غوث پاک اور دیگر بزرگان دین آتے ہیں
ایسے لوگوں کے بارے شریعت کا کیا حکم ہے؟
اور اس میں جتنے لوگ شریک ہوتے ہیں وہ اکثر بے نمازی، یعنی فرائض و واجبات سے کوئی مطلب نہیں
مفتیان کرام سے مودبانہ عرض ہے کہ اس مسئلے پر توجہ دے کر بالتفصیل جواب سے نوازیں

مستفتیان…

ارکان تنظیم فیضان رضا
[23:36, 6/13/2019] +91 97223 65181: کسی نے رہنے کے مکان کے لئے پانچ لاکھ کی لون لی تو کیا اس لون کو زکوۃ میں شمار کیا جائےگا؟
[16:58, 6/15/2019] Mo Sarfaraz Bhunga: اگر ایک مسلم نے غیر مسلم سے قرض لیا اور پھر لوٹا نہیں پایا یہاں تک کہ اس مسلمان کا انتقال ہوگیا
اب علماء کرام و مفتیان عظام سے جواب طلب امر یہ ہے کہ آخرت میں کیسے حساب لیا جائے گا کافر کو نمازیں یا نیکیاں تو دی نہیں جا سکتیں تو اب علماء کرام و مفتیان شرع متین ارشاد فرماءیں کہ حشر میں اس مسلم و غیر مسلم میں کیسے انصاف کیا جائے گا

جواب عطا فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

وباللہ التوفیق
[16:59, 6/15/2019] Mo Sarfaraz Bhunga: اور اس مسلم کا کوئی وارث بھی نہیں ہے
[18:06, 6/15/2019] +91 97223 65181: شکریہ
[20:01, 6/15/2019] +91 90672 90190: السلام علیکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ زید نے مرنے سے پہلے اپنا مال علاوہ زوجہ کے تمام وارثین میں باہمی رضامندی کے ساتھ تقسیم کردیا اور ایک کاغذ پر یہ لکھ کر کہ “ہمیں اپنا حق مل گیا اب زید کے مرنے کے بعد زید کے مال میں ہمارا کچھ حق نہیں.” ان وارثین کے دستخط لے لیے. زید کے انتقال کے بعد زید کی بیٹیاں (جن کو مال مل چکا تھا مذکور کاغذ پر دستخط بھی کر چکی تھیں) پھر سے مال میں اپنا حق مانگ رہی ہیں. تو کیا شرعا ان کا یہ مطالبہ درست ہے ان کے لیے کیا حکم شرع ہے بیان فرمائیں
سائل : معظم احمدآباد
[22:37, 6/15/2019] +91 87806 16019: کل ان شاء اللہ اس کا جواب لکھ دیتا ہوں
[15:12, 6/17/2019] +91 97252 55413: السلام علیکم
سوال: بھینس نے بچہ جنا اور اس بچہ پر بھینس کا پیر آگیا جس کی وجہ سے وہ توڑا ٹیڑھا چلتا ہے لیکن آرام سے چل پھر سکتا ہے کیا ایسے جانور کی قربانی جائز ہے ؟
[08:25, 6/20/2019] +91 98985 42417: खानदान और खून की पहचान!

सुल्तान महमूद ग़ज़नवी ने इक बार दरबार लगाया दरबार में हज़ारों अफ़राद शरीक थे जिनमें औलिया क़ुतुब और अ़ब्दाल भी थे।

सुल्तान महमूद ने सबको मुखातिब करके कहा कोई शख्स मुझे हज़रत खिज़्र (عليه السلام) की ज़ियारत करा सकता है? सब खामोश रहे दरबार में एक गरीब देहाती खड़ा हुआ और कहा मैं करा सकता हूं।

सुल्तान ने शर्त पूछी तो अर्ज़ करने लगा छह माह दरिया के किनारे चिल्ला काटना होगा। लेकिन मैं एक गरीब आदमी हूं मेरे घर का खर्चा आपको उठाना होगा सुल्तान ने शर्त मंजूर कर ली उस शख्स को चिल्ला के लिए भेज दिया गया और घर का खर्चा बादशाह के जिम्मे हो गया। छह माह गुज़रने के बाद सुल्तान ने उस शख्स को दरबार में हाज़िर किया और पूछा तो देहाती कहने लगा हुज़ूर कुछ वज़ाईफ उल्टे हो गए हैं लिहाज़ा छह माह मज़ीद लगेंगे मज़ीद छह माह गुज़रने के बाद सुल्तान मह़मूद ने…
[08:26, 6/20/2019] +91 98985 42417: 👆🏻یہ واقعہ صحیح ہے؟
[08:19, 6/24/2019] +91 90672 90190: اصل حقیقت تو حساب لینے والا ہی جانتا ہے ہاں عقلی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب وہ کافر نیکی لینے کے لائق نہیں تو اس کے کچھ گناہ مسلم کو دیدیے جائیں یا مسلم کو سزا دیکر انصاف قائم کیا جائے.
یہ صرف میرا خیال ہے صحیح رائے ہمارے گروپ کے اہل علم حضرات عطا فرمائیںگے


—————————————————————————————–

اللہ عزوجل کو بھگوان، اوپر والااور میاں کہنے والے پر شرعی حکم کیا ہے…؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ایک مومن مسلمان اللہ تعالیٰ کو اوپر والا اللہ میاں اور اللہ اور بھگوان ایک ہے کہتا ہے تو اس پر شریعت کا کیا حکم ہے علمائے کرام قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں
ٹیلی گرام پے فــخــر ازھـــر چینل میں جوئن کے لئے ⇩

سائل عرش عالم ضیائی، خیروا، سیتا مڑھی (بہار)

وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــ 
صورت مستفسرہ میں بھگوان کا جو حقیقی معنی ہے ان پر مطلع ہوتے ہوئے جو شخص اللہ عزوجل کو بھگوان کہے وہ بلا شبہ کافر و مرتد ہے – اس کے تمام اعمال حسنہ اکارت ہو گئے، اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی، اس پر فرض ہے کہ فورا اس سے توبہ کرے، پھر سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو، اور اپنی بیوی کو رکھنا چاہتا ہو تو پھر سے تجدید نکاح کرے –
🎗سنسکرت میں ” بھگ ” عورت کی شرم گاہ کو کہتے ہیں اور ” وان ” کا معنی ” والا ” یہ معنی اللہ عزوجل کے لئے عیب اور اس کو مستلزم کہ وہ خدا نہ ہو – اس لئے لفظ (بھگوان ) کا اطلاق اللہ عزو جل پر کفر ہے –
رہ گئے وہ لوگ جو اس کے حقیقی معنی نہیں جانتے وہ صرف اتناجانتے ہیں کہ ہندوؤں میں ” اللہ عزوجل” کو ” بھگوان کہتےہیں – انھوں نے اللہ عزوجل کو ” بھگوان ” کہا تو اس کاحکم اتنا سخت نہیں ..!!! پھر بھی ان پر توبہ و تجدید ایمان و نکاح لازم ہے – “
( فتاوی شارح بخاری جلد اول، صفحہ ۱۷۱- ۱۷۲)

اوپر والا سے اس کی مراد اگر اللہ عزوجل ہے اس میں کفر کاشائبہ ہے ” اوپر والا ” کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی اوپر رہتا ہے – اس میں اللہ تعالی کے لئے مکان ثابت ہے اور اللہ تعالی کے لئے مکان ثابت کرنا کفر ہے – نیز اس کا بھی شائبہ ہےکہ ” اوپر والا” ہے، نیچے والا نہیں – ایسے کلمات کا بولنا شرعا ممنوع ہے –

بہرحال …!!! ایسے کلمات کے بولنے سے بچنا لازم ہے جس میں کفر کا پہلو ہو – اس لئے مسلمان ہرگز نہ کہیں ” اوپر والاجانے ” یا نیلی چھتری والاجانے ” یہ سب ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے کہاجاتا ہے یہ نیت اور بری ہے -“
(کتاب مذکور صفحہ ۲۵۹)

اب رہا اللہ تبارک و تعالی کو لفظ ” میاں ” بولنے کے متعلق – تو ”
(فتاوی رضویہ شریف جلد چہاردہم، صفحہ ۶۱۴، مطبوعہ جدید ” میں ہے کہ )

” اللہ عزوجل کے لئے” میاں ” کا اطلاق نہ کیا جائے ….!!! کیونکہ وہ تین معنی رکھتا ہے – ان دو رب العزت کے لئے محال ہیں – میاں آقااور شوہر اور مرد عورت میں زنا دلال ( بھڑوا) – لہذا…!!! اطلاق ممنوع ہے – اور افتخار جہل -“

معلوم ہوا کہ لفظ ” میاں ” کا اطلاق رب تعالی کے لئے کفر تو نہیں …!!! مگر ناجائز و منع ضرور ہے لہذا….!!! احتراز لازم ہے ….!!!

 واللہ اعلم …!!!
ا____💠⚜💠____
شرف قلم حضرت علامہ و مولاناو مفتی محمد جعفر علی صدیقی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی
کرلوسکرواڑی سانگلی مہاراشٹر
🗓 ۱۰ جون بروز سوموار ۲۰۱۹عیسوی
المشتـــہر؛
منتظمین فـــخـــر ازھـــر گــروپ
محمدایوب خان یارعلوی بہرائچ

سیدنا اعلیٰ حضرت
امام احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ
کی ولادت
14 جون 1856 کو ہوئی
اس دن اسلامی تاریخ
10 شوال تھی ……….
اب 163 سال بعد
پھر
14 جون اور 10 شوال ایک ساتھ آرہے ہیں ………..
یہ ایک بڑا حسین اتفاق ہے ….
10 شوال / 14 جون کو
یوم رضا کی نسبت سے آپ بھی اپنے گھر، اپنی مسجد، اپنے مدرسے، اپنی خانقاہ اور اپنے گاؤں یا شہر میں کسی نہ کسی ایسی تقریب کا انعقاد ضرور کیجیے
جس سے جذبہ ء عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم پروان چڑھے ……….
ڈالدی قلب میں عظمت مصطفی
سیدی اعلحضرت پہ لاکھوں سلام ….
اعلحضرت کے مسلک پر سختی سے قائم رہو خدا کی قسم کبھی گمراہ نہیں ہو سکتے.
✍ ….. ثاقب رضا قادری سمنانی
………………………………………

اختلاف !

فقہاء کے درمیان بہت سےعلمی مسائل میں اختلاف رونماہوا،بعض مرتبہ افضلیت اور عدم افضلیت کےمسائل پرزور دار مباحثے ہوئے، بلکہ ان مسائل میں لطیف علمی چوٹیں بھی چلتی رہی ہیں- رکوع میں جاتے وقت ہاتھ اٹھائے جائیں یا نہ اٹھائے جائیں? آمین آہستہ کہی جائے یا زور سے? اذن میں ترجیع کی جائے یا نہیں? یہ بڑے معرکتہ الآراء مسائل رہے ہیں، لیکن درحقیقت یہ سارے اختلافات اس بارے میں ہیں کہ افضل طریقہ کون سا ہے? ورنہ نماز ہر ایک کے نزدیک بلا کراہت ہوجاتی ہے- یہی وجہ ہےکہ ان مسائل پر بحث ومباحثہ کی گرم بازاری کے باوجود باہمی رواداری کی بھي بہت سی مثالیں ملتی ہیں- آج اسی قسم کا ایک واقعہ نظر سے گذرا “‘حاضرخدمت ہے- علامہ طحطاویؒ نے نقل کیا ہے کہ قاضی ابوعاصم عامریؒ ایک حنفی عالم تھے، ایک مرتبہ وہ مشہور شافعی عالم علامہ قفالؒ کی مسجد میں مغرب کی نماز پڑھنے گئے، شافعی مسلک میں تکبیر کہتے وقت شہادتین اشھد ان لا الہ الا اللہ اور اشھد ان محمدا رسول الله اور حیعلتین حی علی الصلوٰۃ حی علی الفلاح صرف ایک ایک مرتبہ کہے جاتے ہیں اور حنفی مسلک میں دو دو مرتبہ علامہ قفالؒ نے قاضی ابو عاصمؒ کو مسجد میں دیکھا تو ان کے احترام کی وجہ سے مؤذن کو حکم دیا کہ آج تکبیر کے یہ کلمات دو دو مرتبہ کہنا- اس کے بعد انہوں نے قاضی ابو عاصم سے نماز پڑھانے کو کہا قاضی صاحب نے نماز پڑھاتے وقت سورہ فاتحہ سے پہلے بسم الله جہراً پڑھی اور نماز کے کئی دوسرے افعال بھی شافعی مسلک کے مطابق ادا کیے-

(طحطاوی: حاشیہ الدرالمختار، ص:۵۰ جلد اول طبع مصر)

السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ
کیا فرماتے علمائے کرام و مفتیان ذوالاحترام مسئلہ ھذا ( ابو طالب ) کے بارے میں کہ ( 1 ) زید کہتا ہے ابوطالب کو حضرت کہنا خلاف شرع ہے ( 2 ) عمر کہتا ہے ابو طالب کو حضرت کہنا بلا کراہیت جائز ہے کیونکہ سیرت کی شاذ و نادر کتب میں مصنفین نے حضرت لکھا ہے … دریافت امر طلب یہ ہے کہ حقیقت کیا ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیکر عنداللہ ماجور ہوں؟
المستفتی : محمد عبد الجلیل رضوی گلشن نگر جوگیشوری ممبئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب حضور کے چچا ابوطالب نے اگرچہ حضور صلی اللہ وسلم کی بڑی مدد کی مگر وہ ایمان نہیں لائے تھے تفصیل کے لئے اعلی حضرت علیہ الرحمۃ الرضوان کا رسالہ مبارکہ ” شرح المطالب فى مبحث ابى طالب ” ملاحظہ ہو ـ لہذا ابوطالب کے نام کے ساتھ رضی اللہ تعالی عنہ لکھنا جائز نہیں اور جن کتابوں میں آپ نے ان کے نام کے ساتھ رضی اللہ تعالی عنہ لکھا ہوا دیکھا ہے وہ کسی رافضی شیعہ نے لکھا ہوگا یا نا جانکاری میں کسی سنی عالم نے لکھ دیا ہوگا ـ اور حضور صلی اللہ وسلم کے والد کو حضرت عبد الله اور دادا کو حضرت عبد المطلب لکھنا درست بلکہ بہتر ہے ـ اور یہی حکم ان کے اوپر والوں کے بارے میں بهى ہے حدیث شریف میں فرماتے ہیں کہ ” حضور صلی اللہ علیہ وسلم لم يزل الله ينقلنى من الاصلاب الکريمة والارحام الطاهرة حتى اخرجنى بين ابوى ” اھ یعنی ہمیشہ اللہ عزوجل مجھے کرم والی پشتوں اور طہارت والی شکموں نقل فرماتا رہا یہاں تک کہ مجھے میرے ماں باپ سے پیدا کیا ” اھ ( شفاشریف قاری عياض ج 1 ص 100 ) اس حدیث کے تحت اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ عنہ ربه القوی تحریر فرماتے ہیں کہ ” تو ضروری ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء کرام طاهرين و امهات کرام طاهرات سب اهل ايمان و توحيد ہوں کہ نص قرآن عظیم کسی کافر و کافره کے لیے کرم و طهارت سے حصہ نہیں ـ یہ دلیل امام اجل فخر المتکلفين علامة الورى فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے افاده فرمائى اور امام جلال الدین سیوطی اور علامہ محقق سنوسى اور علامہ تلمسانى شارح شفا و امام ابن حجر مکی و علامہ محمد زرقانى شارح مواهب وغيرهم اکابر نے اس کی تائید و تصويب کی ” اھ ( شمول السلام ص 6 : مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی ) اور اعلی حضرت تحرير فرماتے ہیں کہ ” حضرات ابوين کريمين رضى الله تعالى عنهما کا انتقال عہد اسلام سے پہلے تها تو اس وقت تک وه صرف اهل توحيد و اهل الا الہ الله تهے بعده رب العزت نے اپنے نبى کريم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے صدقے میں ان پر اتمام نعمت کے لئے اصحاب کہف رضى الله تعالى عنهم کى طرح انہیں زنده کيا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ايمان لاکر شرف صحابيت پاکر آرام فرمايا ” اھ ( ايضا ص 22 بحوالہ فتاوی فقیہ ملت ج 2 ص 421 )
مذکورہ باتوں سے ثابت ہوا کہ حضور کے ابو طالب کو حضرت ابو طالب کہنا جائز نہیں لہذا عمر یہ کہنا کہ ابو طالب کو حضرت ابو طالب کہنا بلا کراہیت جائز ہے درست نہیں ۔

واللہ اعلم باالصواب
کریم اللّٰہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی

جدید ذرائع ابلاغ سے رویت ہلال کے ثبوت کی شرعی حیثیت🌙

✍🏻از: ممتاز الفقہاء سلطان الاساتذہ، محدثِ کبیر، حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری مدظلہ العالی۔

حصہ 6⃣

اب یہ کہنا کی پیلی بھیت بریلی شریف سے کافی فاصلہ پر واقع ھے، وہاں کے لوگ کیونکر تحقیق کرسکتے تھے، کوئی فنکار اپنی مہارت سے ایسا ہی پرچہ تقسیم کراسکتاتھا.
واضح رہے کہ اعلیٰ حضرت نے اپنی اس عبارت میں پیلی بھیت کے مقابلے میں بلند شہر وغیرہ کو بلاد بعیدہ سے تعبیر کیا ہے؛ جس کا مطلب یہ ہے کہ پیلی بھیت قریب تھا، صرف انچاس کلومیٹر کی دوری ہے، بآسانی تحقیق کی جا سکتی تھی. اس لیے یہ توضیح اعلی حضرت کی تحقیق کے بر خلاف ہے.
ستم یہ کہ اعلی حضرت کے زمانے میں جعل وتزویر کی تحقیق متعذر تھی مگر اب جب کہ آوارگئ فکروعمل کے فتنے شباب پر ہیں؛ ای میل اور فیکس پر وائرس کے فنکار اربوں کا وارا نیاراکرتے ہیں تو کیا اس دور میں جعل سازی کی تحقیق آسان ہوگئی ہے اور ای میل اور فیکس کا کتاب القاضی سے الحاق ضروری ہوگیا ہے؟
حضور تاج الشریعہ مد ظلہ العالی کے رسالہ ”جدید ذرائع ابلاغ سے رویت ہلال کے ثبوت کی شرعی حیثیت“ سے متعلق تمام علمائے اہلسنت و مفکرین اور عامۂ اہل سنت سے میری گزارش ہے ک بغور، باربار پڑھیں اور اپنے روزوں عیدوں کو فساد و ابطال سے بچانے کے لئے رسالہ کے مشتملات و احکام پر پابندی سے عمل کریں اور کرائیں.

فقط
فقیر ضیاءالمصطفیٰ قادری

28محرم الحرام 1435ھ
مطابق 3 دسمبر 2013ء

(مکمل)

📌پیشکش:

👑قاضئ گجرات رویت ہلال کمیٹی👑
🌹ماتحت سنی بریلوی دار القضاء🌹

📬جوائن گروپ ۱
https://chat.whatsapp.com/L3Te47fwNxBHICCyS6n3WM
📬جوائن گروپ ۲
https://chat.whatsapp.com/Fbxb5PPJFu0E5ZGhkns0jR

•┈┈┈┈• • ✦ ✿ ✦ • •┈┈┈┈•

دید ذرائع ابلاغ سے رویت ہلال کے ثبوت کی شرعی حیثیت🌙

✍🏻از: ممتاز الفقہاء سلطان الاساتذہ، محدثِ کبیر، حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری مدظلہ العالی۔

حصہ5⃣

امام کرخی نے اختلاف الفقہاء میں ذکر فرمایا ھے کہ کتاب القاضی الیٰ القاضی مقبول ھے اگرچہ دونوں قاضی ایک ہی شہر میں ہوں.
اس عبارت پر حاشیہ شلبیہ میں ہے
وفی الخضاف ورویٰ عن محمد انہ قال:فی مصر فیہ قاضیان فی کل جانب قاض یکتب احدھما الیٰ الاٰخر یقبل کتابہ ولو اتی احدھما صاحبہ وأخبرہ بالحادثۃ بنفسہ لم یقبل قولہ لان فی الوجہ الأول خاطبہ من موضع الفقہاء وفی الثانی خاطبہ فی غیر محل القضاء
خصاف میں ہے امام محمد سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: جس شہر میں دو قاضی ایک ایک ایک جانب میں ہیں تو ان میں سے ایک قاضی دوسرے کو کتاب القاضی بھیجے تو مقبول ہے، اگر ان میں سے ایک آکر دوسرے قاضی کو کسی حادثے کی خود خبر دے تو اس کا قول نا مقبول ہے کہ پہلی صورت میں گویا اس نے دوسرے قاضی کو اپنے موضع قضا سے خطاب کیا ہے اور دوسری صورت میں اس نے محل قضا کے باہر سے خطاب کیا ہے.

بزاریہ کی ایک دوسری عبارت یوں ہے
عن الامام الثانی: قضاة أمیر المومنین إذا خرجوا مع أمیر مومنین؛ لهم ان یحکموا فی أی بلدة نزل فیها الخلیفة لأنهم لیسوا قضاة أرض؛ إنما هم قضاة الخلیفة. و إن خرجوا بدون الخلیفة لیس لهم القضاء
(بزاریہ، برحاشیہ عالمگیری 5 ص 139)
امام یوسف سے روایت ہے کہ امیرالمومنین کے قاضی اگر امیرالمومنین کے ساتھ سفر کریں تو جس شہر میں امیرالمومنین ٹھرے؛ وہاں یہ قضاة فیصلہ کرسکتے ہیں. کیونکہ وہ کسی خاص جگہ کے قاضی نہیں بلکہ وہ خلیفہ کے قاضی ہیں. اور بغیر خلیفہ کے سفر پر ہوں تو امور قضا انجام نہیں دے سکتے.
یعنی خلیفہ اگرچہ پورے کا قاضی ہے لیکن وہ جہاں رہے بالفعل وہیں فصل مقدمات کرسکتا ہے دوسری جگہ کے لئے مسلئہ قضا میں وہ اجنبی ہے. اسی لئے اس کا مخصوص قاضی خلیفہ کےجائے نزول پر ہی حق قضا رکھتا ہے.
مذکورہ بالا فقہی شہادات سے ثابت ہوا کہ سلطان اسلام یا پورے ملک کا قاضی اپنے پورے حدود قضا کے مختلف شہروں میں صرف کتاب القاضی کے ذریعہ اپنا فیصلہ نافذ کرسکتا ہے. ہم نے اپنے موقف کی تائید میں ایک مختصر فہرست پیش کردی جو لوگ قاضی القضاة کا اعلان پورے ملک کے لئے کافی قرار دیتے ہیں؛ وہ فقہ حنفی سے ایک جزئیہ بھی اپنے دعویٰ کے ثبوت میں نہ لا سکے.
اعلیٰ حضرت جو پورے غیر منقسم ہندوستان کے قاضی القضاة کے منصب پر فائز تھے ان کے پاس بلند شہر سے سوال آیا کہ ایک مختصر سا پرچہ جس پر جناب کی مہر لگی ہوئی ہے اور ایک سطر میں یہ عبارت مرقوم (میرے سامنے شہادتیں گزرگئیں کل جمعہ کو عید ہے)
خاکسار کو موصول ہوا، جس جگہ یہ پرچہ پہونچے؛ وہاں کے لوگوں کو جمعہ کو عید کرنا لازم تھی یا نہیں؟
اور اس کی عام تشہیر ودیگر بلاد میں اشاعت سے کیا مفاد تھا؟
اعلیٰ حضرت نے جواب لکھا:
”وہ پرچے دیگر بلاد میں نہ بھیجے گئے. تقسیم کرنے والوں نے اسٹیشن پر بھی دیئے، ان میں سےکوئی لے گیاہوگا، بعض لوگوں نے پیلی بھیت کے واسطے چاہا، ان کو جواب دے دیا گیا کہ جب تک دو شاہد عادل لیکر نہ جائیں؛ پرچہ کافی نہ ہوگا اور بلاد بعیدہ کو کیونکر بھیجے جاتے.“
(فتاوی رضویہ جلد 4 ص 532)

انشاء اللہ جاری۔۔۔۔۔۔۔۔
📌پیشکش:

👑قاضئ گجرات رویت ہلال کمیٹی👑
🌹ماتحت سنی بریلوی دار القضاء🌹

📬جوائن گروپ ۱
https://chat.whatsapp.com/L3Te47fwNxBHICCyS6n3WM
📬جوائن گروپ ۲
https://chat.whatsapp.com/Fbxb5PPJFu0E5ZGhkns0jR

•┈┈┈┈• • ✦ ✿ ✦ • •┈┈┈┈•

جدید ذرائع ابلاغ سے رویت ہلال کے ثبوت کی شرعی حیثیت🌙

✍🏻از: ممتاز الفقہاء سلطان الاساتذہ، محدثِ کبیر، حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری مدظلہ العالی۔

حصہ 4⃣

اعلان رویت کے حدود

قاضی خواں ایک شہر کا ہو یا پورے ملک کا، اس کا اعلان اسی شہر اور حوالی میں معتبر ہے جہاں اس نے فیصلہ صادر کیا.
امیر المومنین، خلیفۃ المسلین، سلطانِ اسلام، قاضی القضاة ،پورے ملک کا قاضی، یہ سب عہدے؛ آج کی ایجاد نہیں ہیں بلکہ قدیم سے عہدے رائج ہیں، اس کے باوجود فقہائے عظام نے قاضی کے اعلان کو شہر اور حوالئ شہر تک ہی کیوں محدود رکھا؟ اور یہ کیوں نہ فرمایا کہ سلطان اسلام اور پورے ملک کے قاضی کا اعلان پورے ملک میں نافذ و واجب العمل ہوگا.
اس تفصیل سے فقہائے کرام کا گریز، محل بیان میں سکوت ہے جو بیان حکم عدم کے درجہ میں ہے، ایک قاضی کا مکتوب دوسرے قاضی کے نام اسی وقت واجب العمل ہے جب کہ شرائط کتاب القاضی سے مزین ہو.

فتاوٰی بزاریہ میں ھے:
بلدة فیہا قاضیان حضر احدھما مجلس الاخبر بحادثۃ لایجوز لہ ان یعمل بخبرہ ولو کتب الیہ بشرطہ لہ العمل بہ
(بزاریہ، برحاشیہ، عالمگیر ص 183 جلد 5)

تبیین الحقائق میں ہے:
ذکر الکرخی فی اختلاف الفقہاء، أن کتاب القاضی الی القاضی مقبول وان کانا فی مصر واحد
جس شہر میں دو قاضی ہوں ان میں سے ایک قاضی دوسری کے اجلاس میں حاضر ہو کر کسی قضیہ کی خبر دے تو اس دوسرے قاضی کو اس خبر پر عمل جائز نہیں اور اگر شرائط کے مطابق کتاب القاضی بھیجے تو دوسرا قاضی اس پر عمل کرے.

ان شاءاللہ جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
📌پیشکش:

👑قاضئ گجرات رویت ہلال کمیٹی👑
🌹ماتحت سنی بریلوی دار القضاء🌹

📬جوائن گروپ ۱
https://chat.whatsapp.com/DENggGGCLX4CFSNuIZotRw
📬جوائن گروپ ۲
https://chat.whatsapp.com/Fbxb5PPJFu0E5ZGhkns0jR

•┈┈┈┈• • ✦ ✿ ✦ • •┈┈┈┈•

جدید ذرائع ابلاغ سے رویت ہلال کے ثبوت کی شرعی حیثیت🌙

✍🏻از: ممتاز الفقہاء سلطان الاساتذہ، محدثِ کبیر، حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری مدظلہ العالی۔

حصہ 3⃣
اور عدم اعتبار کی علت میں فرمایا: النغمۃ تشبه النغمۃ
تھری جی۔3g۔ اور انٹرنیٹ پر تصویر کا روبرو ہونا آدمی کے حاضرہ ہونے جیسا نہیں۔ کیونکہ یہ عوام کے مشاہدے میں بھی ہے کہ بہت سی تصویروں میں ہونٹ کسی اور کے ہلتے ہیں اور آواز کسی اور کی ہوتی ہے تو موبائل کی خبر کے مشتبہ ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے، زیادہ سے زیادہ آواز پہچاننے کی صورت میں ظن عرفی حاصل ہو سکتا ہے نہ کہ ظن شرعی جیسا کہ اعلیٰ حضرت کی مذکورہ بالا صراحت سے ظاہر ہے۔

اور اگر مان بھی لیا جائے کے 3G موبائیل میں اسی کی تصویر اور اسی کی آواز ہے تو کہاں ہر شخص کے پاس 3G موبائل ہے؟ اور کب مجوزین نے 3G موبائل کو ٹیلیفونی استفاضہ میں لازم قرار دیا ؟ وہ تو کسی بھی ٹیلیفون اور موبائل سے حاصل ہونے والی متعدد خبر کو، خبر مستفیض مان رہے ہیں، تو ازالہ شبہات کے بیان میں 3G موبائل کا ذکر ہے فائدہے. اور احتیاطی تدابیر میں مخصوص نمبروں کا ذکر بھی لا حاصل کہ ایک دوسرے کا موبائل استعمال کرنے کا عام رواج ہے.

علاوہ ازیں رحمتی کی عبارت میں جماعات متعددون کا مصداق چار، چھ، نو ٹیلیفون کو کیے قرار دیا جا سکتا ہے، کیا آپ ٹیلیفون میں یہ متعین کر سکتے ہیں کہ خبر دینے والی ہر ایک جماعت، کتنے، کتنے افراد اوپر مشتمل تھی؟

نوٹیلیفون دراصل چند ٹیلیفون کا مجموعہ اور ان کی آوازیں ہیں، نہ کہ مخبرين کی چند جماعتیں جن کا مشاہدہ ہو سکے.

آپ اگر اپنے طور پر احتیاطی ذرائع مقرر کریں تو ان ذرائع میں بھی یہی شبہ ہے کہ وہ کس کی آواز ہے جس نے آپ کو اطمینان دلایا. بہر حال ان ذرائع کو بروئے کار لانے میں شرعی شبہات اپنی جگہ پر قائم ہیں.

اور جماعت کے افراد کی تعیین کا حق کسی قاضی یا مفتی کو نہیں بلک واردین کے وہ تمام افراد جو ایک ساتھ آئیں وہ سب مل کر ایک جماعت قرار دیئےجائیں گے اور یہ صورت ٹیلیفون، موبائل کے ذریعہ متعذر ہے، اس لیے ٹیلیفون، موبائل وغیرہ کی کثیر خبریں بھی طریق موجب بننے کی صلاحیت سے عاری ہیں.

اعلیٰ حضرت نے ٹیلیفون کی خبر کو حجت شرعی ہونے سے اس بنا پر انکار نہیں کیا ہے کہ اس میں کئی “ایکسچینج” کے واسطوں کے بعد گفتگو ہوتی ہے اور آواز نہیں پہچانی جاتی بلکہ اعلیٰ حضرت نے ٹیلیفون کے غیر معتبر ہونے کے متعلق یہ ارشاد فرمایا ” یونہی ٹیلیفون کہ اس میں شاہد و مشہود نہیں ہوتا صرف آواز سنائی دیتی ہے.

اعلیٰ حضرت کی یہ عبارت بذریعہ ٹیلیفون چاند کی خبر معتبر ہونے کے بارے میں کئے گئے ایک سوال کے جواب میں ہے اس لیے اس کو شہادت کے ساتھ خاص کرنا دیانت کے خلاف ہے.

الحاصل اس زمانے میں جب کے فساد و فتنہ عام ہو چکا ہے خصوصاً رویت ہلال کے سلسلے میں عوام بے لگام ہوتے جارہے ہیں اور وہابیہ عوام کو اپنے فيور میں لینے اور گمراہ کرنے کے لیے غیر شرعی فیصلہ کرنے سے نہیں چوکتے، استفاضہ وغیرہ کی تعریف میں تحریف سے بچنا اور زیادہ ناگزیر ہو گیا ہے.

اس بنا پر مشائخ متاخرین نے فرمایا “الفتوی الیوم علی عدم جواز القضاء مطلقا لفساد قضاۃ الزمان
📚(حموی علی الاشباہ جلد ۱، ص ۳۸۶)

علامہ شامی فرماتے ہیں : قوله 🙁 الا ان المعتمد عدم حکمہ فی زماننا) ای عند المتاخرین لفساد قضاۃ الزمان

انشاء اللہ جاری۔۔۔۔۔۔۔۔
📌پیشکش:

👑قاضئ گجرات رویت ہلال کمیٹی👑
🌹ماتحت سنی بریلوی دار القضاء🌹

📬جوائن گروپ ۱
https://chat.whatsapp.com/DENggGGCLX4CFSNuIZotRw
📬جوائن گروپ ۲
https://chat.whatsapp.com/Fbxb5PPJFu0E5ZGhkns0jR

•┈┈┈┈• • ✦ ✿ ✦ • •┈┈┈┈•

جدید ذرائع ابلاغ سے رویت ہلال کے ثبوت کی شرعی حیثیت🌙

✍🏻از: ممتاز الفقہاء سلطان الاساتذہ، محدثِ کبیر، حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری مدظلہ العالی۔

حصہ 2⃣

اسکے علاوہ استفاضۂ خبر میں مخبرین کا قاضی کے روبرو خبر دینا بھی ضروری ہے، جیسا کہ علامہ رحمتی کی تعبیر “ان تاتی من تلک البلدۃ” اور علامہ شامی کی عبارت ” من الواردین من بلدۃ الثبوت” سے ظاہر ہے۔ اور یہی اعلی حضرت کی درجہ ذیل عبارت کا صریح مفاد ہے، اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں : ” مگر یہ کہنا ہرگز صحیح نہیں کہ خبر، تار یا خط بدرجۂ کثرت پہنچ جائے تو ان پر عمل ہو سکتا ہے، اسے استفاضہ میں داخل سمجھنا صریح غلط، استفاضہ کے معنی جو علماء نے بیان فرمائے وہ تھے کہ طریق پنجم میں مذکور ہوئے( متعدد جماعتوں کا آنا اور یک زبان بیان کرنا چاہیے)
📚(فتاویٰ رضویہ جلد۴, ص ۵۵۸)

یہ بھی ضروری ہے کہ خبر دینے والے امر محقّق کی خبر دیں تاکہ افواہ اور استفاضۂ شرعیہ میں امتیاز حاصل ہو جائے جیسا کہ علامہ شامی نے فرمایا: لا مجرد الشیوع من غیر علم بمن اشاعہ” الخ اور یہ بات مسلّمات سے ہے کہ کوئی خبر بے اتصال سند؛ پایۂ تحقیق کو نہیں پہنچ سکتی.
علاوہ ازیں ایک شرط یہ بھی ہے جس کو اعلیٰ حضرت نے بایں الفاظ ذکر فرمایا: استفاضہ یعنی جس اسلامی شہر میں حاکم شرع قاضی اسلام ہو کہ احکام ہلال اسی کے یہاں سے صادر ہوتے ہیں اور خود عالم اور اُن احکام میں علم پر عامل و قائم یا کسی عالم دین محقق و معتمد پر اعتماد کا ملتزم و ملازم ہے، یا جہاں قاضئ شرع نہیں تو مفتی اسلام، مرجع عوام و مثبت الاحکام ہو کہ احکام روزہ و عیدیں اسی کے فتویٰ سے نفاذ پاتے ہیں، عوام کالانعام بطور خود عید و رمضان نہیں ٹھہرا لیتے؛ وہاں سے متعدد جماعتیں آئیں اور سب یک زبان اپنے علم سے خبر دیں کہ وہاں فلاں دن بربنائے رویت روزہ ہوا یا عید کی گئی.
📚(فتاویٰ رضویہ ج ص ۵۵۲)

علامہ رحمتی کی عبارت میں متعدد جماعتوں کے آنے کی قید کو اتفاق قرار دینا غلط ہے، بلکہ یہ قید لازمی و احترازی ہے، جن لوگوں نے جدید وسائل خبر مثلاً ٹیلیفون، موبائل، فیکس، انٹرنیٹ وغیرہ کی خبر کواستفاضہ میں داخل کرنے کی کوشش کی ہے وہ صحیح نہیں، کیونکہ وسائل کی خبر میں مخبر کا قاضی کے روبرو ہونا شرط ہے۔

اس لیے ہمارے مشائخ نے پردے کے پیچھے سے سنی ہوئی خبروں کو ثبوت شرعی کے طور پر قبول نہیں کیا بلکہ یہ فرمایا: ” ٹیلیفون کہ اس میں شاہدومشہود نہیں ہوتا؛ صرف آواز سنائی دیتی ہے، علماء تصریح فرماتے ہیں کہ آڑ سے جو آواز مسموع ہو اس پر احکام شریعہ کی بنا نہیں ہو سکتی.
📚(فتویٰ رضویہ ج ۴, ص۵۲۷)

خط کشیدہ عبارت سے ثابت ہوا کہ آڑ سے سنی ہوئی آواز پر استفاضۂ شرعیہ کی بنا نہیں ہو سکتی.

جدید ذرائع ابلاغ سے رویت ہلال کے ثبوت کی شرعی حیثیت🌙

✍🏻از: ممتاز الفقہاء سلطان الاساتذہ، محدثِ کبیر، حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری مدظلہ العالی۔

حصہ 1⃣

استفاضۂ شریعہ سے متعلق وارث علوم اعلیٰ حضرات، تاج الشریعہ علامہ مفتی اختر رضا صاحب (علیہ الرحمہ) ، قاضی القضاۃ فی الہند کا ایک رسالہ “جدید ذرائع ابلاغ سے رویت ہلال کے ثبوت کی شرعی حیثیت” اس وقت میرے پیش نظر ہے، رسالہ کا پورا مضمون تحقیق انیق سے لبریز ہے، مجھے اس پر کچھ پیش لفظ لکھنے کی جرات نہیں، لیکن چونکہ آپ کے علمی طرز زبان اور فقہی اصطلاحات کی وجہ سے سطحی ادراک رکھنے والوں کے لیے مضمون کی گہرائی تک پہنچنے میں زحمتیں ہے، اس لیے کچھ توضیحی کلمات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

حنفیہ کے نزدیک خبر مستفیض ، خبر متواتر کا مترادف ہے، اس لیے کلام فقہا میں اگر کہیں استفاضۂ خبر کا ذکر ملتا ہے تو وہ تواتر خبر کے معنی میں ہے جیسا کہ درج ذیل عبارتوں کے توافق سے ظاہر ہے. بحر الرائق میں ہے: قال الامام الحلوانی من مذہب اصحابنا ان الخیر اذا استفاض من بلدۃ اخری و تحقق یلزمھم حکم تلک البلدۃ۔
📚(ج ۲، ص ۴۷۱)

اور تاتار خانیہ میں ہے ” وعن محمد لا یعتبر حتٰی یتواتر الخیر من کل جانب ھکذا روی عن ابی یوسف۔
📚(ج۱،ص ۱۹۶)

ہمارے اس دعویٰ پر علامہ شامی کی درج ذیل عبارت روشن دلیل ہے : اعلم ان المراد بالاستفاضۃ تواتر الخبر من الواردین من بلدۃ الثبوت الی البلدۃ التی لم یثبت بھا لا مجرد الاستفاضة۔
📚(مخته الخالق حاشیہ البحر الرائق ج۲ /ص ۲۷۰)

ان عبارتوں کے بعد علامہ رحمتی رحمۃ اللہ علیہ کی درج ذیل عبارت ” معنی الاستفاضة ان تاتی من تلک البلدة جماعات متعددون” الخ میں استفاضہ بمعنی تواتر خبر متعین ہے . یعنی محض شہرت خبر یہ محدثین کے اصول پر خبر مستفیض ہونا کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ خبر دینے والے اتنے افراد پر مشتمل ہوں کہ جن کی خبر پر یقین شرعی حاصل ہو جائے، اور مخبرین کی کثرت تعداد کے سبب ان کا کذب پر متفق ہونا عادۃ محال ہو جائے۔

لہٰذا استفاضۂ خبر کے لیے موبائل اور ٹیلیفون سے خبر دینا ہرگز معتبر نہیں، اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: شریعت مطہرہ نے درباره ہلال دوسرے شہر کی خبر کو شہادت کافیہ یا تواتر شرعی پربنا فرمایا اور اُن میں بھی کافی و شرعی ہونے کے لیے بہت قیودو شرایط لگائیں، جن کے بغیر ہرگز گواہی و شہرت بکار آمد نہیں۔
📚(فتاویٰ رضویہ ج۴، ص ۵۲۳)

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.