علمائے کرام کی بارگاہ میں یہ عرض ہے کہ

(1) کیا حالت روزہ میں پچھنا لگا سکتے ہیں ؟اور

(2) بیوٹی پارلر کا کاروبار کرنا کیسا ہے ؟

(3) کسی شخص کا اپنی دکان بیوٹی پارلر والے کو کرایہ پر دینا کیسا ہے ؟

جواب عنایت فرمائیں ۔
نوازش ہوگی۔۔۔۔

شوہر اپنی بیوی کو بیٹا کہہ سکتا ہے اور اگر کہہ دے تو کیا حکم ہوگا؟

jawab mdgondil

ناجائز اور مکروہ ہے.

 

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
سوال: زید جو ایک مسجد کا امام ہے اس نے جان بوجھ کر ایک دیو بندی کی نماز جنازہ پڑھائی جس کے عقائد پوری بستی والوں کو معلوم تھے تو زید کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے ؟ کیا زید کافر ہو گیا؟ اگر ہاں تو یہ جانتے ہوئے بھی کہ زید نے ایک دیوبندی کی نماز جنازہ پڑھائی ہے اس کے پیچھے نماز پڑھنے والوں پر کیا حکم ہے؟ اور زید اگر اسی حالت میں کسی کا نکاح پڑھائے تو کیا یہ نکاح صحیح ہوگا؟ مع حوالہ جواب عطا فرمائیں کرم ہوگا.
محمد توفیق مہیلج گجرات

 

faize noori

السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سوال: صلاۃ التسبیح جماعت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟

jawab mdgondil

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ … مکروہ تنزیہی ہے

aatif barkati

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ قصیدہ معراج اعلی حضرت نے کب اور کتنے وقت میں لکھا جلد جواب عطا فرما ٸیں ۔۔

jawab -sayyad sarfraz ali

اس قصیدہ کے لکھے جانے کی اصل وجہ تو حبِ احمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی ہے لیکن اس کا سبب مشہور شاعرسید محمد محسن کاکوروی بنے، انہوں نے بھی ایک معراج نامہ لکھا جو قصیدہ لامیہ کے نام سے موسوم ہے۔۔ اور جو اردو زبان کے معراج ناموں میں ایک بلند مقام رکھتا ہے، وہ قصیدہ لیے مولانا احمد رضا خان کے پاس آ گئے، کہ ان کو سناتا ہوں۔ ظہر کا وقت تھا، مولانا احمد رضا کو بتایا کہ میں کس غرض سے آپ کے پاس آیا ہوں، مولانا احمد رضا نے کہا کہ، عصر کی نماز کے بعد آپ کا قصیدہ سنتے ہیں۔ اسی دوران مولانا احمد رضا خان نے خود یہ قصیدہ معراجیہ لکھ لیا۔ عصر کی نماز کے بعد مولانا احمد رضا نے کہا پہلے میرا قصیدہ سن لو اور اپنا قصیدہ پڑھا، جس کو سن کر محسن کاکوروی نے اپنا قصیدہ سنانے سے انکار کر دیا۔
پروفیسر محمد اکرم رضا، تاجدار ملک سخن، صفحہ 128

junaid azhari

وہ قصیدۂ لامیہ اگر مل جاتا تو بہتر ہوتا

jawab mdgondil

یہ روایت موضوعات سے ہے . ارجح المطالب میں موضوعات و اباطیل روایات بکثرت وارد ہیں . انہی میں سے اس طرح کی روایات بھی ہیں.

تعجب تو اس پر ہوتا ہے کہ اس کتاب میں پوری سند سے حدیث مذکور ہوتی ہے اور سند بھی ثقات کی ہوتی ہے مگر معاملہ یہ ہوتا ہے کہ یہ؛ کسی شاطر راوی کا کام ہوتا ہے جو ثقات سے اباطیل کو جوڑ دیتا ہے حالاں کہ ثقات کا دامن اس پاک ہوتا ہے . غرض کہ سند صحیح کو لے کر اس سے موضوعات کو پیوست کردیا جاتا ہے

Meraj ki Shab Arsh Par Awaz e ALI

Hazrat e Abdullah ibne Umar ر se Manqul
hai ke “Maine Muhammad ﷺ Se Suna…. _____________
Logo’n Ne Huzoor ﷺ Se Poonchha…
_
Ya RasoolAllah ﷺ Shab_e_Meraj Me
Allah Ne Aapse Kis’ki Aawaz ke Sath
Kalam kiya tha…???
_
Huzoor ﷺ Ne Farmaya ::
Ali ع ki Aawaz ke Sath… 💕
______________
Huzoor ﷺ Ne Jab Arsh_e_Ilaahi Par
Ali ع ki Aawaz Suni tou Arz kiya….
_
“Aye Mere Parwardigaar Tu Mujse
Baat’en Kar Raha hai Ya Fir Ali ع ?”
_
Allah Azzawajal Ne Farmaya ::
Aye Ahmed ﷺ Mai Ek Aisi Cheez hun
ke kisi ke Sath Mera Qayas Nahi kiya
Ja Sakta… Or Mai Logo’n Jaisa Nahi or
Koi Shay Mere Mushabeh Nahi….
_
Maine Tujhe Apne Noor Se Paida kiya or
Ali ko Tere Noor se Paida kiya Hai….💚
Mai Tere Dil ke Bhed Par Waqif Huñ,
Ke Tere Qalb Me Ali ع se Zyada kisi
ki Mohabbat Nahi… Pas Mai Ali ع ki
Awaaz Se Tere Sath Hum’Kalaam
Huva ke Tere Dil ko Tasalli Rahe 💚

Reference :: ” Arjh Al Matalib, Safa. 838 ”

Yeh rivayat khi padhi he

bumuhammad khan

شبِ معراج آقا نے مسجدِ اقصیٰ میں انبیاء کو کونسی نماز پڑھائی تھی
برائے کرم جواب عنایت فرمائیں۔۔۔۔۔

 

لجواب : اس بارے میں اہل علم کے دو اقوال ہیں . پہلا یہ کہ مطلق نماز نفل تھی اور دوسرا قول یہ کہ یہ نماز فرض تھی مگر نماز پنج گانہ میں سے نہیں کہ نماز پنج گانہ کی فرضیت واقعہ معراج کے بعد ہوئی ہے. بلکہ یہ قیام اللیل تھی جو نماز پنج گانہ سے قبل حضور پر فرض تھی . اور سیدنا امام نووی کے کلام سے اسی قول دوم کی تایید ہوتی ہے . تفصیل کے لیے مواھب لدنیۃ اور امام زرقانی رحمۃ اللہ علیہ کی شرح مواھب اور سیدنا اعلی حضرت قدس سرہ کے رسالہ « جمان التاج فی بیان الصلاۃ قبل المعراج » کی طرف رجوع کریں .

واللہ تعالی اعلم
کتبہ محمد مزمل برکاتی

qadri nisbat

سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ماجدہ کا نام کیا ہے ؟ ام فردہ ہے یا ام فروہ. میں نے تلاش کیا مگر مستند حوالہ سے معلوم نہیں کر پایا

مستند حوالہ سے رہنمائی فرمائیں کرم ہوگا

jawab raj

sandalikaram

Ek shakhs ne dusra rehne k liye makan liya fir irada badl gya k bechdunga to ab us makan par zakat he?? Ya nhi.?

الجواب : جب اس نے وہ مکان رہنے کے لیے لیا تو اس پر زکاۃ نہ ہوئی کہ یہ مال تجارت نہ ہوا . مال تجارت اس وقت ہوتا کہ جب تجارت کی نیت سے اسے خریدا ہو. لہذا اگر بوقت خرید نیت تجارت نہ تھی تو مال تجارت نہیں ہے. اور بعد میں جو نیت تبدیل ہوئی اس کا اعتبار نہیں.
ہاں اگر سال گزرنے سے پہلے مکان فروخت ہوجائے تو البتہ سال پورا ہونے پر اس کی زکاۃ ہوگی.
واللہ تعالی اعلم

کتبہ محمد مزمل برکاتی

سير اعلام النبلاء ترجمة جعفر الصادق بن محمد الباقر

ام فروة

شوہر کی اقتدا میں بیوی نماز پڑھ سکتی ہے ؟ جماعت کا ثواب ہوگا ؟ جواب عنايت فرمائیں
از عبد الحفیظ

الجواب بعون الملک الوھاب
مرد حضرات کے لئے جماعت کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرنا سنت موکدہ ہے۔ لہذا شوہر کو پوری کوشش کرنی چاہیے کہ نماز باجماعت مسجد میں ادا کرے البتہ اگر کسی وجہ سے شوہر سے جماعت فوت ہوجائے تو زوجین گھر میں باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں۔ اور جماعت کا ثواب پا سکتے ہیں۔ ردالمحتار میں ہے : المرأۃ اذا صلت مع زوجھا فی البیت ان کان قدمھا بحذاء قدم الزوج لا تجوز صلاتھا بالجماعۃ و ان قدماھا خلف قدم الزوج الا انھا طویلۃ ۔ تقع رأس المرأۃ فی السجود قبل رأس الزوج جازت صلاتھما بالجماعۃ لان العبرۃ للقدم ۔ ترجمہ : عورت جب گھر میں اپنے شوہر کے ساتھ (اس کی اقتداء میں ) نماز ادا کرے اور اس کا قدم شوہر کے قدم کے مقابل اور برابر ہے تو دونوں کی نماز درست نہیں اور اگر بیوی کے دونوں قدم شوہرکے قدم سے پیچھے ہوں تو دونوں کی نماز باجماعت درست ہے اور اگر بیوی دراز قد کی ہو جس کی وجہ سے سجدہ میں اس کا سر شوہر کے سر کے آگے ہوجائے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ یہاں قدموں کا اعتبار ہے(ج ١ ص ٤۲٣) ۔
بہار شریعت میں ہے, “جس گھر میں  عورتیں  ہی عورتیں  ہوں ، اس میں  مرد کو ان کی اِمامت ناجائز ہے، ہاں  اگر ان عورتوں  میں  اس کی نسبی محارم ہوں  یا بی بی یا وہاں  کوئی مرد بھی ہو، تو ناجائز نہیں۔(ح ٣, ج ١, ص ٥۸٦) واللہ اعلم بالصواب
سید سرفراز علی

السلام علیکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قرآن کریم کی حفاظت اللہ نے اپنے ذمۂ کرم پر لی ہے تو اس سے مراد کلمات قرآن ہیں یا معانی قرآن اگر کلمات قرآن ہیں تو پھر سات قراءتیں کیسے ؟ اور اگر معانی مراد ہیں تو تو تراجم مختلف کیسے ؟ برائے کرم مدلل جواب عنایت فرمائیں
سائل :محمد الطاف احمد آباد

 

 

کیا فرماتے ہیں علماءکرام ومفتیان عظام،کسی عورت کا شوہر پاگل ھوجاءے اور ۲یا۳ سال کا عرصہ گزر گیا ہو تو اس عورت کےلیے رہائی کی کیا صورت ھوگی؟

الجواب بعون الملک الوھاب
ایسی صورت میں عورت قاضی یا اعلم علمائے بلد کی بارگاہ میں درخواست دے اور شوہر کا پاگل ہونا ثابت کرے ، قاضی یا اعلم علمائے بلد واقعہ کی تحقیق کرے، اگر واقعہ درست ثابت ہو تو پاگل کو علاج کے لیے ایک سال کی مہلت دےد ے ، سال گزرنے کے بعد بیوی پھر درخواست دے ، اگر شوہر کا جنون اب تک قائم ہو تو عورت کو اختیار دے دیا جائے، اس پر عورت اگر اسی مجلس میں نکاح کو ختم کرنے کا مطالبہ کرے  تو قاضی یا نائب قاضی تفریق واقع کر دے۔اور اگر شوہر کا مدت دراز سے پاگل ہونا قاضی کے نزدیک پہلے سے ثابت ہو تو ایک سال کی مہلت دینے کی ضرورت نہیں اسی وقت تفریق کردے.
فتاوی رضویہ میں ہے, “حکم یہ ہے کہ عورت حاکم شرعی کے حضور دعوٰی کرے وہ ثبوتِ جنون لےکر روزِنالش ایك سال کامل کی مہلت دے،اگر اس مدّت میں شوہر اچھا ہوگیا فبہا،اورا اگر اچھا نہ ہوا اور عورت نے بعد انقضائے سال پھر دعوٰی نہ کیا تو وُہ بدستور اس کی زوجہ ہے،اور اگر پھر رجوع لائی اور حاکم کو ثابت ہوا کہ شوہر ہنوز مجنون ہے تو اب وُہ عورت کو اختیار دے گا کہ چاہے اپنے شوہر کو اختیار کرے یا اپنے نفس کو،اور اگر عورت نے اپنے شوہر کو اختیار کیا یابغیر کچھ کہے چلی گئی یا کھڑی ہوگئی یا کسی نے اسے اٹھادیا یا حاکم خود اٹھ کھڑا ہوا تو اب عورت کو اصلًا اختیار نہ رہا وہ بدستور ہمیشہ اس مجنون کی زوجہ رہے گی،اور اگر مجلس بدلنے سے پہلے عورت نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو اب حاکم تفریق کردے گا اس روز سے عورت طلاق کی عدّت بیٹھے بعدہ،جس سے چاہے نکاح کرے،یہ اس صورت میں ہے کوجنون ثابت ہُوا س کا مطبق ہونا ثابت نہ ہُوا،اور اگر حاکم کو ثابت ہوجائے کہ واقعی مدتہائے دراز گزرگئیں کہ یہ شخص مجنون ہے اور آرام نہیں ہوتاجنون اس کا مطبق یعنی ملازم وممتد ہے تو اب سال کی مہلت نہ دے گا بلکہ فی الفور عورت کا اختیار دے گا کہ چاہے شوہر کو اختیار کرے یا اپنے نفس کو
ہندیہ میں ہے , “اذاکان بالزوج جنون او برص او جذام فلاخیار لھا کذا فی الکافی قال محمدرحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ ان کان الجنون حادثا یؤجلہ سنۃ کالعنۃ ثم یخیرالمرأۃ بعد الحول اذالم یبرأ وان کان مطبقا فھو کالجب وبہ ناخذ کذافی الحاوی القدسی.”(ترجمہ) جب خاوند میں جنون،برص یا جذام جیسی امراض کا عیب ہوتو بھی بیوی کو فسخ کااختیار نہیں ہے جیسا کہ کافی میں ہے کہ امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی نے فرمایا: اگر خاوند کو نکاح کے بعد جنون لاحق ہُوا تو نامرد کی طرح اس کو بھی قاضی ایك سال کی مہلت دے گا،پھر سال کے بعدتندرست نہ ہونے پر عورت کو نکاح کے فسخ کا اختیار دیا جائے گا،اور اگر جنون شروع سے چلا آرہا ہوتو اس کا حکم ذکر کٹے کی طرح ہوگا،اور اسی پر ہمارا عمل ہے جیسا کہ حاوی قدسی میں بیان کیا ہے۔(ج ١۲ ص ٥۰٥) واللہ تعالی اعلم بالصواب

 

 

علمائے کرام کی بارگاہ میں سوال یہ ہے کہ بعض لوگ قرآن مجید میں مور پنکھ رکھتے ہیں کیا ایسا کرنا جائز ہے قرآن پاک کی بےادبی تو نہیں ہے ؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ ہمارے یہاں ایک مدرسہ اور عبادت گاہ ہے جس میں پنج وقتہ نماز ہوتی ہے اب عرض یہ کرنا ہے کہ اس عبادت گاہ میں قرآن شریف کی بہت ساری پیٹیاں رکھی ہوئی ہیں جن میں بعض تو پڑھنے میں ہیں اور بعض ایسے ہی پڑی ہیں تو کیا ان کو کسی اور مدرسے اور مسجد میں دے سکتے ہیں? براہ کرم جواب عنایت فرمائیں۔۔۔۔۔
📤 سائل : غلام یاسین رضوی ، احمد آباد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب ( 1 ) قرآن پاک میں مور کے پنکھ رکھنے کی شرعا کوئی اصل نہیں ، اس لئے اس کو باعث خیر و برکت اور ثواب سمجھ کر رکھنا درست نہیں ، ہاں اگر مور کے پر پاک ہوں اور ان کے حسن و خوبصورتی کی وجہ سے قرآن یا دیگر کتاب میں رکھے جائے تو کوئی قباحت بھی نہیں ۔
( 2 ) اگر قرآن پاک رکھنے والے کا مقصود اس مسجد پر وقف کرنا نہیں ہے تو رکھنے والے کو اختیار ہے قرآن اس کی ملک پر باقی رہیں گے اور اگر مسجد پر وقف کرنا مقصود ہے تو اس سلسلہ میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے کہ ایسی صورت میں دوسری مسجد میں منتقل کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور جب وہ صورت ہے تو دوسری مساجد میں اس کی ضرورت ہو تو قول جواز پر عمل کرتے ہوئے دوسری مساجد و مدارس میں منتقل کرسکتے ہیں اسی شہر کے ساتھ خاص نہیں جس شہر کی مسجد میں قرآن پاک رکھا ہے اگر اس شہر کی مسجدوں مدرسوں کی حاجت سے زائد ہو تو دوسرے شہروں کی مساجد و مدارس میں بھی بھیج سکتے ہیں مگر انہیں ہدیہ کرکے ان کی قیمت مسجد میں صرف کرسکتے ہیں ۔
اور صورت مسئولہ میں تو اور احوط و بہتر ہے کہ دوسرے مساجد و مدارس میں منتقل کر دیا جائے کہ قرآن پاک کو بے حرمتی سے بچانا لازم ہے در مختار : کتاب الوقف میں ہے کہ ” وقف مصحفا على اهل مسجد القراءة ان يحصون جاز و ان وقف مسجد جاز و يقرأ فيه ولا يكون محصورا على هذا المسجد ” اھ ( در مختار ج 6 ص 557 ۔ 558 ) ایسا ہی فتاوی رضویہ ج 6 ص 355 میں بھی ہے ” اھ ( فتاوی مرکز تربیت افتاء ج 2 ص 205 / 204 )

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ویسٹ ممبئی موبائل نمبر 7666456313

sawal altaf ghazi

خدا گر نہ ہوتا تخت مشیت
تو خدا بن کے آتا یہ بندہ خدا کا.

یہ شعر پڑھنا کیسا ہے؟؟؟

 

الجواب: شعر میں لفظ تخت مشیت نہیں ہے بلکہ تحت مشیت ہے.

اس طرح کے کلام میں کوئی حرج نہیں ہے. اسے تعلیق بالمحال کہتے ہیں کہ شرط محال کی تقدیر پر جزائے محال کو مرتب ماننا یعنی اگر شرط پائی جائے تو جزا بھی پائی جائے مگر چوں کہ شرط کا وجود محال ہے لہذا جزا بھی محال ہے. اس کی پوری بحث حمد اللہ میں موجود ہے. بلکہ یہ خود قرآن پاک سے ثابت ہے .
” اِن كان للرحمن ولد فانا اول العٰبدين“. یعنی اگر رحمن کے کوئی اولاد ہوتی تو پہلا پرستار میں ہوتا. اسی طرح وارد ہے ” لو کان فیھما اٰلھة الا الله لفسدتا “ یعنی اگر زمین و آسمان میں سوائے اللہ کے معبود ہوتے تو زمین و آسمان درہم برہم ہوجاتے. اور حدیث پاک میں ہے: ” لو کان بعدی نبی لکان عمر“. اور دوسری حدیث میں ہے: ”لو کنتُ متخذا خلیلا لاتَّخذتُ أبا بکر “.

اسی قبیل سے مذکورہ شعر ہے یعنی اگر بالفرض مشیت الہی یہ نہ ہوتی کہ دوسرا خدا ہو تو حضور خدا ہوتے مگر چوں کہ شرط محال قطعی ہے لہذا اس پر مرتب ہونے والی جزا بھی محال قطعی ہے.
واللہ تعالی اعلم
محمد مزمل برکاتی

 

9752956545

نماز تراویح میں حافظ بغیر ثنا پڑھے نماز پڑھایے تو حکم شریعت کیا ہے رہنمائ فرماے۔۔۔

sayyad sarfraz

نماز ہو جائیگی مگر اس کی عادت بنالے تو گنہ گار ہوگا.
بہار شریعت میں ہے, “ان مذکورات میں بعض چیزیں فرض ہیں کہ اس کے بغیر نماز ہوگی ہی نہیں ، بعض واجب کہ اس کا ترک قصداً گناہ اور نماز واجب الاعادہ اور سہواً ہو تو سجدۂ سہو واجب۔ بعض سنت مؤکدہ کہ اس کے ترک کی عادت گناہ اور بعض مستحب کہ کریں تو ثواب، نہ کریں تو گناہ نہیں ۔”(ج١ ح ٣ ص ٥۰۹) واللہ تعالی اعلم


ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔۔۔۔

ﮔﻨﺎﮦ ﮐﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ

ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﮍﮬﻮﮞ ﻧﻤﺎﺯ

ﭘﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﺗﮏ، ﺟﺴﻢ ﻧﮧ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ
ﺗﮭﺎ۔

ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺭﻭﻧﻖ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﻦ ﺗﮭﺎ۔

ﻭﻗﺖ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮﺗﺎ
ﺗﮭﺎ۔

ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﭼﮭﺎ
ﮔﯿﺎ

ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ
ﭘﺎﯾﺎ

ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﻟﮯ ﮐﺮ
ﺁﯾﺎ۔

ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺎ ﻧﮧ ﭘﺎﯾﺎ۔

ﻗﺒﺮ ﮐﯽ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ڈﺭﺍﯾﺎ ۔

ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﺍﭘﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ

ﻭﻗﺖ ﮨﮯ ﺳﻨﺒﮭﻞ ﺟﺎ؟

ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺭﮐﻮﻉ ﺭﻭﺯﺍﻧﺎ ﭘﮍﮬﻨﮯ
ﺳﮯ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮ
ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﺟﺐ ﺁﭖ ﺍﺱ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﮐﻮ ﺁﮔﮯ ﺑﮭﯿﺠﻨﮯ
ﻟﮕﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﮯ
ﮔﺎ ۔

????????

ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻟﯿﮧ ﻧﺸﺎﻥ ﮨﮯ

ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺁﭖ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﺍﯾﮏ ﺳﯿﮑﻨڈ ﻧﮧ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﻤﺎﻡ
ﻧﻤﺒﺮﺯ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﮟ۔۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.