online fatwa in Urdu

online fatwa in Urdu

hajj

 

saa’il- sayyadihsanulhaqq—6/8/19

سوال یہ ہے کہ ایک حج یا ایک عمره ایک سے زیادہ زندہ لوگوں کی طرف سے کر سکتے ہیں ؟
ایک حج یا ایک عمره ایک سے زیادہ مرحومین کے ایثال ثواب کے لئے سکتے ہیں ؟
یا زندہ اور مرده دونوں کو ساتھ میں منسوب کر سکتے ہیں ؟ رہنمائی فرمائیں

mujib- altafgazi—6/8/18

الجواب بعون الملک الوھاب

اگر نفل حج یا عمرہ کررہے ہیں تو اس کا ثواب جملہ امت مسلمہ کو ایصال کرسکتے ہیں جیساکہ دیگر نوافل عبادتیں (نماز, روزہ اور صدقات ) کو ایصال ثواب کرتے ہیں البتہ حج بدل کررہے ہیں تو پھر اسی کی طرف سے ہی ادا ہوگا یہ ایک حج دو فرد کو شامل نہیں ہوسکتا..

ھذا ما ظہر عندی
وحقیقۃ الحال
اللہ تعالی اعلم

talaq

saa’il- sajidmalik—3/8/19

 

بیوی سو رہی تھی۔ شوہر نے یہ جاننے کے لیے کہ سو رہی ہےیا جگ ہے، اسکے کان میں دو مرتبہ طلاق طلاق کہا۔ بیوی فوراً جگ گئی۔ تو شوہر ہنس نے لگا۔ اس صورت میں طلاق ہوءی یا نہیں؟ اور شوہر کے لیے اب کیا حکم ہے؟

saa’il- sayyadsarfarazali—6/8/19

بیوی سو رہی تھی۔ شوہر نے یہ جاننے کے لیے کہ سو رہی ہےیا جگ رہی ہے، اسکے کان میں دو مرتبہ طلاق طلاق کہا۔ بیوی فوراً جگ گئی۔ تو شوہر ہنس نے لگا۔ اس صورت میں طلاق ہوءی یا نہیں؟ اور شوہر کے لیے اب کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
حکم بیان کرنے سے پہلے یہ کہ اس طرح طلاق کو کھیل بنانا اور اسکا مذاق کرنا جائز نہیں ہے۔ طلاق جیسی سنگین چیز کو اس طرح ہلکے میں لینا کتاب اللہ سے کھلواڑ ہے.
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں , “أخبر رسول الله صلَّى الله عليه وسلَّم عنْ رجلٍ، طلَّق امرأتَه ثلاث تطلیقاتٍ جميعا، فقام غضبَانا، ثمَّ قَال: «أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللهِ، وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ» حتّى قام رجلٌ فقال: يا رسول الله أَلا أقتلُه؟” ترجمہ: رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں اکٹھی دے دی ہیں تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم غصہ سے کھڑے ہوئے پھر فرمایا کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے جبکہ میں ابھی تمہارے درمیان موجود ہوں۔ حتى کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا اے اللہ کے رسول صلى اللہ علیہ وسلم کیا میں اسے قتل نہ کر دوں ؟ ( سنن النسائي‘‘، کتاب الطلاق،  الثلاث المجموعۃ ومافیہ من التغلیظ، الحدیث:۳۳۹۸، ص ٥٥٤)
اب حکم یہ ہے کہ اگر شوہر حلفیہ بیان دیتا ہے کہ ان الفاظ سے اس کی نیت عورت کو طلاق دینے کی نہ تھی تو چونکہ الفاظ طلاق میں عورت کی طرف نسبت و اضافت نہیں ہے اس لیے طلاق واقع نہ ہوگی.
فتاوی امجدیہ میں ہے, “شوہر نے حلف کے ساتھ بیان کیا کہ میں نے صرف اتنے ہی لفظ کہے تھے کہ «میں نے طلاق دی» نہ اپنی عورت کا نام لیا تھا نہ اس کی طرف اشارہ تھا نہ اس لفظ سے میری مراد بیوی کو طلاق دینا تھی…صورت مذکورہ میں چونکہ یہ کلمات اضافت سے خالی ہے, طلاق واقع نہ ہوئی. بحر الرائق میں ہے «لم یقع لترکہ الاضافۃ الیھا.” (ج ۲, ص۲۲۲ ) واللہ تعالی اعلم
سید سرفراز علی

7/8/19

ممتاز الفقہاء حضور محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفی قادری دامت برکاتہم العالیہ کا جواب

کیا قربانی کے کھال کو دفن کردینا صحیح ہے ؟

آج کل whatsapp اور fb پر کھال کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے اس کو دفن کر دینے کا مسئلہ بہت چل رہا ہے
اور اس سلسلے میں بہت سارے علماء کرام اور مفتیان اعظام نے فرمایا کہ قربانی کے کھال کو دفن کر دیا جائے اور اس کی قیمت یا دو سو روپیے مدارس اسلامیہ کو دیے دیا جائے
لیکن یہ مسئلہ جب حضور محدث کبیر علامہ ضیاءالمصطفیٰ کی بارگاہ میں پہنچا تو آپ نے اس پر تحقیق فرمائی
اور 2,8,2019 بروز جمعہ کو امجدی رضوی جامع مسجد میں طالبان علوم نبویہ سے خطاب کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ قربانی کے کھال کو دفن کر دینا یہ درست نہیں ہے اس لئے کی اس جانور پر اللہ تعالٰی کی ملکیت ہے
لیکن بندہ اس جانور کے گوشت کو کھائےاور کھال کو اپنے کام میں استعمال کرے اور اگر اس کھال کو بیچ دیا تو اسکی قیمت کو صدقہ کرنا ضروری ہے
لیکن اس جانور کے کوئی بھی جز کو ضائع کرنا درست نہیں ہے
لہذا کھال بھی ایک جز ہے تو اسکو بھی ضائع کرنا درست نہیں ہے

اور کھال کو دفن کر نے کے بارے میں نہ کوئی دلیل ہے کتب فقہ سے اور نہ قرآن و حدیث سے ہے اور ناہی اس پر کوئی جزیہ ہے

لہذا کھال دفن نہ کریں بلکہ اس کو اپنے کام میں استعمال کریں یا بیچ کر قیمت صدقہ کر دیں اگر چہ کم ہی قیمت میں کیوں نا ہو لیکن دفن کر کے ضائع نہ کریں.

 

hajj

 

saa’il- sayyadjawidmiya—8/8/19

سوال____

جو حجاج کرام ۱۵ دن پہلے مکہ مکرمہ میں پہنچ گئے ہیں وہ وہاں مقیم ہیں اپنی نماز پوری ادا کر رہے ہیں___
اب کل حج کے لئے مینا روانہ ہونگے مکہ مکرمہ سے مینا کا سفر شرعی مسافت سے کم ہے تو اب حاجی وہا مینا وغیرہ میں اپنی نماز پوری ادا کریگا یا قصر کریگا___
تفصیلی جواب عنایت فرمائیں کل حج کے لئے روانہ ہونا ہے

mujib- altafgazi—8/8/18

وہ حجاج کرام منی و عرفات وغیرہ میں مکمل نماز پڑھیں گے کیونکہ وہ مکہ مکرمہ میں مقیم ہوچوکے ہیں جو ان کے حق میں وطن اقامت ہے اور وطن اقامت سفر شرعی سے باطل ہوتاہے نہ کہ صرف سفر سے لہاذ ان کا سفر جب تک .92K. Mنہ ہو گا وہ مقیم ہی کہلائیں گے ان کو نماز بھی پوری پڑھنی ہے اور اگر وہ مالک نصاب ہیں تو حج قربانی کے ساتھ نصاب کی قربانی بھی کرنی ہوگی…..
واللہ تعالی اعلم بالصواب

 

9/8/19

 

سوال.

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام کیا ہے اگر کسی معتبر کتاب کے حوالے سے بتا دیا جائے تو مہربانی ہوگی؟

جواب
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلاَلٍ مُّبِينٍ

ترجمہ اور جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا تم کیا بتوں کو معبود بناتے ہو؟! میں دیکھتا ہوں کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہو…

تفسیر طبری میں ہے’’حدثنا محمد بن حمید وسفیان بن وکیع قالا حدثنا جریر، عن لیث، عن مجاہد قال لیس’’آزر‘‘ أبا إبراہیم۔ حدثنی الحارث قال، حدثنی عبد العزیز قال، حدثنا الثوری قال، أخبرنی رجل، عن ابن أبی نجیح، عن مجاہد وإذ قال إبراہیم لأبیہ آزر قال آزر لم یکن بأبیہ، إنما ہو صنم‘‘ ترجمہ

” حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد نہیں تھے۔ دوسری روایت حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد نہ تھے آزر ایک بت تھا”.

ابراہیم کے والد کا نام تارخ
ترميم
تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے ’’عن ابن عباس قولہ وإذ قال إبراہیم لأبیہ آزر قال إن أبا إبراہیم لم یکن اسمه آزر، إنما کان اسمه تارخ‘‘ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد آزر نہ تھے۔ ان کے والد کا نام تارخ تھا-
تفسیر قرطبی میں ہے’’قال مجاہد إن آزر لیس باسم أبیه وإنما هو اسم صنم وهو إبراہیم بن تارخ بن ناخور بن ساروع ابن أوغو بن فالغ بن عابر بن شالخ بن أرفخشد بن سام بن نوح علیہ السلام ‘‘ترجمہ:حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام نہ تھا ایک بت کا نام تھا۔ ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام تارخ بن ناخور بن ساروع بن اوغو بن فالغ بن عابر بن شالخ بن ارفخشد بن سام بن نوح تھا-
رضویہ میں ہے:’’ اہل تواریخ واہل کتابین (یہودونصاری) کا اجماع ہے کہ آزر باپ نہ تھا سید خلیل علیہ السلام الجلیل کا چچا تھا۔‘ ‘ مفتی محمد امجد علی اعظمی فرماتے ہیں:’’آزر بلاشبہ کافر و مشرک تھا، نصوص قطعیہ سے اس کا مشرک ہونا ثابت۔ مگر یہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا باپ نہ تھا، ان کے والد کا نام تارخ تھا اور آزر چچا تھا۔‘‘
مفتی احمد یار خان نعیمی آیت {ربنا اغفر لی ولوالدی وللمؤمنین یوم یقوم الحساب} کے تحت لکھتے ہیں :’’اس آیت میں والدین سے مراد جناب ابراہیم کے سگے والد تارخ اور آپ کی والدہ متلی بنت نمر ہیں یہ دونوں مؤمن تھے ان کے لیے آپ نے بڑھاپے میں دُعائے مغفرت کی ۔‘‘

عربی مورخ ابن حبیب اسے تارح و ہو آزر لکھتا ہے۔ چونکہ آزر عربی لفظ ہے اور اس کے معنی قوت کے بھی ہو سکتے ہیں اس لیے قرآن کی اس آیت کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کیا تو قوت کے سبب بت بناتا ہے۔؟کہتے ہیں کہ آزر نے 205 برس کی عمر پائی۔ امین حبیب نے اس کی عمر250 سال کی ہے۔ امام ابوحنیفہ لکھتے ہیں کہ نمرود نے کے اہل عجم فریدوں کہتے ہیں اپنے اعزہ میں سے سات افراد کو منتخب کر کے ان کا نام ” الکوہبارین“ رکھا اور انتظای امور ان کے سپرد کیے۔ ان میں حضرت ابراہیم کا والد یا چچا آزر بھی تھا۔ بائبل میں ہے کہ …….. جب تارح (آزر) ستر برس کا تھا کہ ابراہیم ناحور اور حاران پیدا ہوئے۔ اور تارح نے اپنے بیٹے ابراہیم اور پوتے لوط کو جو حاران کا بیٹا تھا اپنی بہو سارہ کو ساتھ لیا اور کنعان کی طرف روانہ ہوئے اور کنعان تک آئے اور وہیں رہنے لگے اور تارح کی عمر دو سو پانچ برس ہوئی اور وہ کنعان میں فوت ہوا۔

حضرت ابراہیم نے سب سے پہلے اپنے والد ہی کو دعوت حق دی۔ قرآن میں یہ واقعہ مفصل طور پر درج ہے۔ آزر پر ابراہیم کی تبلیغ کا کوئی اثر نہ ہوا اور اس نے اپنے پیغمبر بیٹے کو دھمکی دی کہ اگر ان بتوں کی برائی سے باز نہ آئے گا تو تجھے سنگسار کر کے چھوڑوں گا۔ اپنی خیر چاہتا ہے تو جان سلامت لے کر مجھ سے الگ ہو جا۔ اس پر ابراہیم اس سے الگ ہو گئے۔

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلم نے فرمایا:۔

قیامت کے روز حضرت ابراہیم اپنے باپ آزر کو خاک آلود سیاه چرے کے ساتھ پائیں گے۔ اس وقت آپ فرمائیں گے کہ کیوں میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا

کہ تو میری نافرمانی نہ کر؟ آذر جواب دے گا آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ اس پر ابراہیم اپنے خدا سے عرض کریں گے کہ تو نے وعدہ کیا تھا کہ قیامت کے دن تو مجھے رسوا نہیں کرے گا۔ اب اس سے بڑھ کر میری رسوائی اور کیا ہو گی۔ اللہ تعالی فرمائیں گے کہ میں نے جنت کو کافروں پر حرام کر دیا ہے اور پھر کہا جائے گا کہ اے ابراہیم تیرے پاؤں تلے کیا ہے۔ اب جو دیکھیں گے تو ایک نجاست آلودہ گھنے بالوں والا خون سے سے لتھڑا ہوا کفتار پڑا ہوگا، پھر اس کی ٹانگ پکڑ کر اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔

بعض علما کا خیال ہے کہ آزر ابراہیم کا چچا تھا اور چونکہ اس نے ان کی پرورش کی تھی اس لیے قرآن میں اسے ابراہیم کا باپ کہا گیا ہے۔ لیکن مولانا عبدالرشید نعمانی لکھتے ہیں کہ یہ لغو ہے کیونکہ صحیح بخاری میں ان کے والد نام آزر ہی بتایا گیا ہے۔ اوپر بیان شده نظریہ کی حمایت میں علما یہ بیان دیتے ہیں کہ چونکہ کسی پیغمبریانبی کا باپ مشرک نہیں ہو سکتا۔ اس لیے آزر ابراہیم کا باپ نہیں ہو سکتا۔ امام رازی کی تصریح کے مطابق یہ عقیدہ اہل تشیع سے تعلق رکھتاہے۔ ہو سکتا ہے کہ تارح اور تارخ اس کا نام ہو اور آزر لقب ہو۔

تفسیر نعیمی میں اسی آیت کے تحت لکھا ہے :’’حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سگے ماں باپ مومن متقی موّحد تھے آپ کی والدہ کا نام متلی بنت نمر تھا اور والد کا نام تارخ ابن نحور تھا حضرت ہود علیہ السلام کی اُمت میں سے تھے۔‘‘مزید اسی کے تحت فرمایا:’’ یہاں آیت میں والدہ اور والد دونوں کا ذکر ہے آپ کی والدہ کے مومنہ ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں ۔‘‘
یہی کلام صاحب روح المعانی نے کیا ہے’’ودعا ہناک فقال{ رَبَّنا إِنِّی أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِی بِوادٍ غَیْرِ ذِی زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ إلی قولہ رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَلِوالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِینَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسابُ} فإنہ یستنبط من ذلک أن المذکور فی القرآن بالکفر ہو عمہ حیث صرح فی الأثر الأول أن الذی ہلک قبل الہجرۃ ہو عمہ ودل الأثر الثانی علی أن الاستغفار لوالدیہ کان بعد ہلاک أبیہ بمدۃ مدیدۃ فلو کان الہالک ہو أبوہ الحقیقی لم یصح منہ علیہ السلام ہذا الاستغفار لہ أصلا فالذی یظہر أن الہالک ہو العم الکافر المعبر عنہ بالأب مجازا وذلک لم یستغفر لہ بعد الموت وأن المستغفر لہ إنما ہو الأب الحقیقی ولیس بآزر‘‘

9/8/19

 

رد کو زیر ناف بال کہاں سے کہاں تک صاف کرنا چاہیے؟

💢💥💢💥💢💥💢💥💢💥💢
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال ہے کہ مرد کو زیر ناف کے بال کہاں سے کہاں تک صاف کرنا چاہئے
کیا پاخانہ کے مقام سے بھی صاف کریں گے کہ نہیں
برائے کرم جواب عنایت فرمائیں
ساٸل قاری رفیق احمف چین پورہ
__🔷🔶____

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

✒الجواب بعون الملک الوھاب*
مستحب اور افضل یہ ہے کہ ہرہفتہ بروز جمعہ بال
صاف کرے ورنہ پندرہ روز میں کرے، البتہ چالیس روز میں ایک مرتبہ کاٹنا واجب ہے
ورنہ سخت گناہ ہوگا۔ رہی اس کے حد کی کہ کہاں سے کہاں تک کی صفائ کی جاے گی تو اس سلسلے میں حکم یہ ہے کہ ناف کے نیچے دائیں بائیں جو بال ہو نیز خصیتین
اور ذکر پر جو بال ہوں اس کے اردگرد اور اس کے مقابل رانوں کا وہ حصہ جس کے تلوث
کا خطرہ ہو سب کو صاف کرنا چاہیے
📖زیر ناف کا لفظ کنایہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے حدیث شریف میں ان بالوں کے لئے ً عانه کا لفظ استعمال ہوا ہے📖
جسکا اہل لغت نے ترجمہ کیا ہے
عورت کی شرم گاہ کے ارد گرد اگنے والے بال عانه ًً در اصل اس ہڈی کو کہتے ہیں جس پر یہ بال اگتے ہیں
علم القابلہ میں اس کی مناسب وضاحت ہو جاتی ہے
لہذا زیر ناف بالوں کو کاٹنے کی حد یہی ہے کہ صرف اس جگہ کے بال کو کاٹے جائے جہاں عموماً عورتوں کے بھی بال ہوتے ہیں اس سے تجاوز نہ کریں یا پھر آپ اپنے پیٹ کے نیچلے حصے کو دبا کر دیکھیں تو ایک ہڈی محسوس ہوگی بس جہاں سے اس ہڈی کا آغاز ہوتا ہے وہیں سے بال کاٹنے کی ابتداء کریں کیوں کہ یہی ہڈی عانه کہلاتی ہے زیر ناف کے بالوں کو حلق کرنے کا حکم ہے اور یہ کام استرے یا سیفٹی سے ہی ہوتا ہے
👈📚 العين ج ٨ ص ٢١٧ 📚👉
🌱والله اعلم با الصواب🌱
💈🔰💈🔰💈🔰💈🔰💈🔰💈
کتبہ____
فداۓ شمس ملت حضرت علامہ ومولانا محمد آزاد رضا حمیدی صاحب قبلہ بلہا مقیم حال دوحہ قطر
رابطہ نمبر __📞
📲0097474036721
〰〰〰〰〰
الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت علامہ ومولانا مفتی محمد رضا ٕ المصطفی مصباحی صدر شعبہ وافتإ دارالعلوم ریاضیہ قادریہ مالدہ بنگال
〰〰〰〰〰🔶🔷

🎌بتاریخ 🎌
02__08__2019
〰〰〰〰〰🔶🔷
شمس الاولیاء فقہی گروپ میں شامل ہونے کے لئے رابطہ کریں👇👇👇👇👇
+97474036721
🔗🔗🔗🔗🔗🔗🔗🔗🔗🔗🔗

♻💠♻💠تزمین کار ♻💠♻💠
محمد سالم رضا شمسی
🔪🔪🔪🔪🔪🔪🔪🔪🔪🔪🔪

 

[16:10, 8/9/2019] +91 99797 36542: السلام علیکم…

غوث اعظم بڑے پیر کی بارگاہ میں نیاز کی نیت سے جانور خریدہ….. اس شخص پر قربانی واجب ہو جائے تو اب اسی جانور کی قربانی کرے یا الگ سے جانور کا انتظام کرے……..
[16:10, 8/9/2019] +91 99797 36542: برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ….
اگر وہ مالک نصاب ہے تو پہلے اپنی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے . پھر چاہے تو حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے بھی نفل قربانی کرے .
لہذا صورت مسئولہ میں اس جانور کی قربانی اپنے نام سے کرے تاکہ قربانی کا وجوب اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائے اور پھر اس کا ثواب حضور غوث پاک رضی اللہ تعالی عنہ کو ایصال کرے کہ ہمارے نزدیک عبادات خواہ بدنی ہوں یا مالی ؛ فرائض و واجبات ہوں یا نوافل سب کا ثواب پہنچ سکتا ہےلہذا اس ترکیب سے دونوں مقاصد پورےہوجائیں گے .
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ بکرا حضور غوث اعظم ہی کے نام کرے اور اپنی قربانی کے لیے بڑے جانور میں ایک حصہ درج کرادے ؛ یوں ہی اس کا بر عکس بھی ہوسکتا ہے . اور اللہ تعالی نے مزید فراخی سے نوازا ہے تو ایک اور بکرا خرید لے ؛ ایک اپنے لیے اور دوسرا سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے نام سے ذبح کرے .
واللہ تعالی اعلم
کتبہ محمد مزمل برکاتی…

sail-sarfarazfunga-9/8/19

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

مسلہ:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام دریں مسلہ کہ ایک شخص جو کہ خود صاحب استطاعت صاحب مال ہے

اس کو گذشتہ سال ایک بچہ بیچ راستے میں ملا اس نے اس کے بارے میں لوگوں کو بتایا آس پاس میں پوچھا لیکن کوی اس کے مالک کا پتہ نہ چل سکا
پھر مذکورہ شخص نے اس بچھڑے کی دیکھ بھال کی اس کو کھلایا پلایا اب وہ بچھڑا قربانی کے لایق ہو گیا تو کیا اس سے اس کا واجب ادا ہو جائے گا

 

mujib- raj—9/8/18

الجواب بعون الملك الوهاب
اگر وه شخص صاحب نصاب هےتو وه جانور اس پر صدقه كرنا لازم هے. لهذا اس جانور سےاس كا وجوب ادا نه هوگا. والله اعلم.

Hazr w ibahat

—2/9/18

السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
( 1 ) کیا ماہ محرم الحرام میں تین رنگ کے لباس پہننے سے منع کیا گیا ہے ؟
( 2 ) تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا اور اس کا کھانا کیسا ؟
( 3 ) دشمنانِ صحابہ کی مجالس میں جانا کیسا ہے ؟
( 4 ) کیا یزید کو ” رحمۃ اﷲ علیہ ” کہنا ناصبی ہونے کی علامت ہے ؟
( 5 ) کڑے ، چھلے اور ایک سے زائد انگوٹھیاں پہننا کیسا ہے ؟

المستفتی : عبد الواحد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ” محرم الحرام میں (خصوصاً یکم تا بارہ محرم الحرام ) میں تین رنگ کے لباس نہ پہنے جائیں ۔
♧ سبز رنگ کا لباس نہ پہنا جائے کہ یہ تعزیہ داروں کا طریقہ ہے ۔
♧ لال رنگ کا لباس نہ پہنا جائے کہ یہ اہلبیت سے عداوت رکھنے والوں کا طریقہ ہے ۔
♧ کالے کپڑے نہ پہنے جائیں کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے ۔
لہذا مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے ” اھ ( ماخوذ فتاوی رضویہ ج 22 ص 185 : رضا فاؤنڈیشن لاھور / بہار شریعت ج 3 ص 416 : لباس کا بیان )

سوال : تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا اور اس کا کھانا کیسا ؟
جواب : اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ” تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا ناجائز ہے اور پھر اس چڑھاوے کو کھانا بھی ناجائز ہے ” اھ ( ماخوذ فتاوی رضویہ ج 21 ص 246 : مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور )
سوال : دشمنانِ صحابہ کی مجالس میں جانا کیسا ہے ؟
جواب : اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ” رافضیوں (دشمنانِ صحابہ) کی مجلس میں مسلمانوں کا جانا اور مرثیہ (نوحہ) سننا حرام ہے ۔ ان کی نیاز کی چیز نہ لی جائے ، ان کی نیاز ، نیاز نہیں اور وہ غالباً نجاست سے خالی نہیں ہوتی کم از کم ان کے ناپاک قلتین کا پانی ضرور ہوتا ہے اور وہ حاضری سخت ملعون ہے اور اس میں شرکت موجب لعنت ” اھ
محرم الحرام میں سبز اور سیاہ کپڑے علامتِ سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے ۔ خصوصاً سیاہ ( لباس ) کا شعار رافضیاں لیام ہے ” اھ ( فتاوی رضویہ ج 23 ص 756 : مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور / احکام شریعت حصہ اول ص 126 )

سوال : کیا یزید کو ” رحمۃ اﷲ علیہ ” کہنا ناصبی ہونے کی علامت ہے ؟
جواب : اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یزید بے شک پلید تھا اسے پلید کہنا اور لکھنا جائز ہے اور اسے ” رحمۃ اﷲ علیہ ” نہ کہے گا مگر ناصبی کہ اہلبیت رسالت کا دشمن ہے ” اھ ( فتاوی رضویہ جدید ج 14 ص 603 : مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور )

سوال : کڑے ، چھلے اور ایک سے زائد انگوٹھیاں پہننا کیسا ہے ؟
جواب اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ” چاندی کی ایک انگوٹھی ایک نگ کی ساڑھے چار ماشہ سے کم وزن کی مرد کو پہننا جائز ہے اور دو انگوٹھیاں یا کئی نگ کی ایک انگوٹھی یا ساڑھے چار ماشہ خواہ زائد چاندی کی ( پہننا ناجائز ہے ) اور سونے ، کانسی ، پیتل ، لوہے اور تانبے ( کی انگوٹھی ، چھلے ، کڑے) مطلقاً ناجائز ہیں ” اھ ( احکامِ شریعت حصہ دوم ، ص 170 : جسیم بکڈپو دہلی )

واللہ اعلم باالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313

Hazr w ibahat

murvajjah tazyadari ka hukm?

saa’il- sabarbhaibarkati—9/9/18

السلام علیکم مفتیان کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ تعزیہ کے سامنے دعا مانگنا نیاز رکھنا کیسا, ؟؟

 

Mujib – Mufti Muzammil Barkati —-10/9/18

الجواب : مروجہ تعزیہ داری ناجائز ہے یعنی فرضی تعزیے بنانا ؛ پھر انہیں لے لے کر گھومنا ؛ ان پر منتیں چڑھانا ؛ ان کے سامنے نیاز رکھنا اس اعتقاد کے ساتھ کہ اس میں امام عالی مقام کا روضہ جس کو اس کا ثواب ایصال کر رہے ہیں اور اسی اعتقاد سے اس کے آگے دعائیں کرنا ؛ سب ناجائز , بے بنیاد و جاہلانہ رسوم ہیں .

مگر عوام کے خرافات انہیں چیزوں تک بس نہیں ہیں بلکہ ان سے بھی تجاوز کرکے بہت سے گناہ کے کام تعزیہ داری میں رائج و عام ہیں حتی کہ وہ جزو لا ینفک کے درجے میں ہوگئے ہیں ولہذا علمائے کرام نے علی الاطلاق تعزیہ داری کو ممنوع و گناہ فرمایا ہے .

واللہ تعالی اعلم
کتبہ محمد مزمل برکاتی

 

Hazr w ibahat

kiya jua harame qatai he?

saa’il- nazimmalik4408—10/9/18

سلام ایک اسلامی بھائ اپنی گاڑی میں جوا کھلاتا ہے جس پر اس کو ۸۰۰روپیہ اجرت دی جاتی ہیں یہ روپیہ اس کے حق میں جائز ہے یا ناجائز؟

Mujib – Mufti Muzammil Barkati—10/9/18

وعلیکم السلام …. جوا حرام قطعی ہے لہذا اس کے کھلانے پر اجرت لینا بھی سخت حرام و گناہ کبیرہ ہے . عالم گیری ؛ کتاب الاجارۃ میں اور اسی طرح لہو ولعب کے بیان میں ہے کہ معصیت پر استیجار ناجائز وگناہ ہے .

واللہ تعالی اعلم
محمد مزمل برکاتی

 

 

 

Hazr w ibahat

qate tallok ka kiya hukm he?

saa’il- 3081816647

جناب دنیوی بات چیت پر ناراضگی ہو گئی ہے۔

اب ہم کیا کریں ہم پر کیا حق ہے۔۔

پلیز جواب

jawab – altafgazi  —10/9/18

مسلمان سے قطع تعلق حرام ہے اور معصیت میں اطاعت جائز نہیں لہذا والدین اگر نہیں بولتے ہیں تو وہ حرام کے مرتکب ہیں آپ کو اپنی پھوپھی سے تعلقات قائم رکھنے ہیں اور کوشش کرنی ہے کہ والد صاحب ان سے راضی ہو جاوے…
واللہ تعالی اعلم بالصواب

 

Hazr w ibahat

munche barhana makrooh hai?

saa’il- 3081816647

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ سوال عرض ہے کہ موچھ رکھنے کے بارے کیا حکم اگر رکھ لی تو کھانا وغیرہ میں لگ جاے تو کیا حکم ہے

اگر کھانے لگ جاۓ تو کیا مکروہ ہو گا۔یا نہیں

jawab – ashfaquejamal18  —12/9/18

و علیکم السلام، موچھ کے تعلق سے حکم یہ ہےحدیث پاک کا خلاصہ ہے موچھیں پست رکھو

مونچھیں اتنی بڑھانا کہ منہ میں آئیں حرام وگناہ وسنت مشرکین ومجوس ویہود ونصارٰی ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اعلٰی درجہ کی حدیث صحیح میں فرماتے ہیں: احفوا الشوارب واعفوا اللحی ولاتشبھوا بالیہود۔ رواہ الامام الطحاوی عن انس بن مالک۔مونچھیں کتر کر خوب پست کر اور داڑھیاں بڑھاؤ یہودیوں اور مجوسیوں کی صورت نہ بنو۔ امام ابو جعفر طحاوی نے حضرت انس بن مالک سے اس کو روایت کیا ہے۔

(فتاوی رضویہ مترجم ج ٢٢)

واللہ تعالٰی اعلم

 

 

 

 

 

%d bloggers like this: