Online Fatwa Barkate Raza | ask fatwa online

Online Fatwa Barkate Raza

ask fatwa online
سوال :– زید نے بکر سے پوچھا کہ کاروبار کیسا چل رہا ہے بکر نے جواب دیا ” اللہ کے فضل و کرم سے ابھی کم ہے یا بند ہے” دریافت طلب امر یہ ہے کہ بکر کا اس طرح کا جواب دینا کیسا ہے.

موجب نے نقص شیء کو صفات الہی( فضل و کرم) سے متصف کیا جو کہ بے محل اور تقاضاے فضل وکرم کے خلاف ہے. اور حکم یہ ہے کہ مصیبت اپنے نفس کی طرف منسوب کی جاءے. ارشاد باری تعالی ہے {وما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم}،
[الشورى:30] وفي الآية الأخرى: مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ[النساء:79]،
اب اگر موجب نے تنز, طعن,ناشکری, یا ہنسی مذاق یاکسی اور باطل قصد سے کہا تو بہت ہی برا کیا کہ ذات و صفات سے نسبت میں ادنی سی توہین مستلزم کفر ہے.كما فی شرح العقاءد النسفیۃ “و من وصف اللہ تعالی بما لا یلیق…… یکفر”
اور اگر یہ قصد نہیں تب بھی توبہ لازم کہ نسبت شیء الی اللہ میں احتیاط از حد ضروری ہے.
اور کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر جو دل میں آے اللہ رب العزۃ کی جانب کہے دینا بڑی جرءت ہے. لہذا قاءل توبہ و استغفار کرے.
ہاں اگر موجب کمال درجہ کا شاکر و صابر ہے اور ہر کمی و نقصان,تکلیف و آسانی, موت و حیات وغیرہ کو کرم الہی سے گردانتاہے جیساکہ اصفیا کا طریقہ رہا, تو کوءی حرج نہیں. بلکہ یہ قوی ایمان کی علامت ہے.
واللہ اعلم بالصواب.

Aaj kal ye riwaaj ziyada he
K marhum K isale sawaab K liye 10 15 quraan mangte he or hadya 200 300 rupiya
De dete he
To kya kya jaae
Bara e karam rahnumayi farmaaiye

اسلام علیکم کیا فرما تے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی بیوی دو بچوں کی ماں ہے اور ایک غیر مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات کی وجہ سے اس کےساتھ بھاگ گئ اور زید نے طلاق دے دیا ہے جس کے ساتھ ناجائز تعلقات تھا اس کے ساتھ کورٹ میرج کیا تھا لیکن اب اس کو چھوڑ کر شوہر اول یعنی زید کے پاس آگئی ہے اور چار چھ ماہ سے ساتھ رہتی ہے اب زید کہتا کہ میں شرعی روپ سے لوٹانا چاھتا ھوں تو کیا ایسی صورت میں نکاح ثانی کیلیے حلالہ اور عدت کی ضرورت ہے مدلل جواب عنایت فرمائیں مولانا محمد تعظیم الدین امام غریب نواز مسجد بیڈیشور جامنگر گجرات
شوہر اول نے باقاعدہ نہ رکھنے کے لئے تین طلاق دے دیا تھا اور جس کے ساتھ بھاگئ تھی اس کے ساتھ صرف کورٹ میرج ہی کیا ہے لہذا اب ایسی صورت میں حکم شرعی کیا ہے حلالہ اور عدت کی ضرورت ہے جواب عنایت فرمائیں

الجواب صورت مسئولہ میں بغیر حلالہ نکاح جائز نہیں کہ کورٹ مریج, شرعی نکاح نہیں لفقدان شرط النکاح. ایسا ہی فتاوی علیمیہ ( ج ۲ ص ٥١ ) میں بالتفصیل مذکور ہے.
ہاں اگر کورٹ ہی میں پیپر ورک کے بعد یا کہیں پر بھی شرعی نکاح ہوا اور شوہر ثانی نے طلاق دے دی تو اب اس صورت میں عدت گزار کر (اگر مکمل نہ ہوئ ہو) نکاح کرلے حلالہ کی حاجت نہیں.
واللہ اعلم بالصواب.

سوال : ایک شخص کی دو مرتبہ نمازجنازہ پڑھنا کیسا ہے؟؟؟؟ وضاحت فرمائیں!!!
اور اگر کسی گاؤں میں دو مرتبہ پڑھنے کا رواج ہو تو جنازہ میں شامل ہونے والے لوگوں کو کیا حکم دیا جائے گا ؟؟؟

الجواب:
نماز جنازہ میں تکرار جائز نہیں ہے، البتہ اگر اذن ولی کے بغیر پڑھی گئی ہو تو ولی کو اعادہ کا حق ہے، اس صورت میں بھی جو لوگ پہلے پڑھ چکے ہوں ان کو ولی کے ساتھ دوبارہ پڑھنا جائز نہیں،
کیونکہ ایک مرتبہ نمازِ جنازہ پڑھنے سے فرض ساقط ہو جاتا ہے اور نمازِ جنازہ میں نفل مشروع نہیں ہے ۔
الدر المختار – (2 / 223)

( وإن صلى هو ) أي الولي ( بحق ) بأن لم يحضر من يقدم عليه ( لا يصلي غيره بعده ) وإن حضر من له التقدم لكونها بحق

ختم قرآن کی اجرت ناجاءز و حرام اور سخت گناہ کبیرہ ہے. لینے اور دینے والے دونوں توبہ و استغفار کریں. فتاوی شامی و بہار شریعت.
حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان نے فرمایا کہ ایسی صورتوں میں ثواب ہی نہیں ملتا تو ایصال کس چیز کا
علماءے کرام فرمایا جواز کی صورت یہ ہے کہ کسی عوض کی صراحۃ منع کردے پھر کچھ بخوشی دے تو لے سکتا ہے.
یا وقت کی اجرت لے

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سوال

🌺 کیا معتکف اذان دینے کے لئے مسجد سے باہر جاسکتا ہے؟؟

🌺 اگر کسی بنا پر اعتکاف فاسد ہو گیا تو اسکی قضا کریگا؟؟

🌺 رمضان کے آخری عشرے کا معتکف ہے اور مثلا اسکا پچسویں رمضان کا اعتکاف جاتا رہا تو کیا وہ ہمیشہ کے لئے نکل گیا یا 26 وے اعتکاف میں شامل ہوجائے گا؟؟؟

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ… (1) ہاں اس کی اجازت ہے کما فی الہندیۃ و الدر مع الرد. (2) جس دن ٹوٹا اسی کی قضا لازم ہوگی . (3) ٰاعتکاف مسنون فاسد ہونے کے بعد ما بقی ایام کا اعتکاف اعتکاف نفل ہوگا. اگر چاہے تو کرسکتا ہے . اعتکاف نفل کا ثواب پائے گا.

جواب از قلم مفتی محمد مزمل برکاتی صاحب قبلہ پوربند

اسلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں ۔

کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ظاہری سے پہلے بھی قبر میں تین سوال ہوتے تھے ?
اگر ہاں , تو تیسرا سوال کیا تھا
اور اس کا اشارہ کس کے طرف ہوتا تھا ؟
برائے مہربانی دلیل سے مزیّن جواب عطا فرمائیں

الجواب: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم و دیگر انبیاء علیہم السلام پر, اذان سے پہلے اور بعد میں درود و دعا و سلام پڑھنا جائز و مستحسن ہے. ایسا ہی (فتاویٰ امجدیہ، جلد 1، ص 67, 66, 65 ) میں ہے۔

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں، مسجد کے اندر سوال کرنا اپنے یا غیر کے واسطے اور سائل کو دینااس کے یا غیر کے واسطے جائز ہے یا نہیں

الجواب: حضور سرکار علی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ایسے ہی ایک سوال کے حواب میں فرمایا ” جو مسجد میں غل مچادیتے ہیں نمازیوں کی نماز میں خلل ڈالتے ہیں لوگوں کی گردنیں پھلانکتے ہوئے صفوں میں پھرتے ہیں مطلقا حرام ہے اپنے لئے خواہ دوسرے کے لئے،حدیث میں ہےمسجدوں کو بچوں اور پاگلوں اور بلند آواز سے بچاؤ حدیث میں ہے :جس نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اس نے جہنم تک پہنچنے کا اپنے لئے پل بنالیااور اگر یہ باتیں نہ ہوں جب بھی اپنے لئے مسجد میں بھیک مانگنا منع ہے۔رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں :جو کسی مسجد میں اپنی گمی چیز دریافت کرنے سنے اس سے کہے اللہ تجھے وہ چیز نہ ملائے مسجدیں اس لئے نہیںجب اتنی بات منع ہے تو بھیک مانگنی خصوصا اکثر بلا ضرورت بطور پیشہ کے خود ہی حرام ہے یہ کیونکر جائز ہوسکتی ہے ولہذا ائمہ دین نے فرمایا جو مسجد کے سائل کو ایک پیسہ دے وہ ستر۷۰ پیسے راہ خدا میں اور دے کہ اس پیسہ کے گناہ کا کفارہ ہوں اور دوسرے محتاج کے لئے امداد کو کہنا یا کسی دینی کام کے لئے چندہ کرنا جس میں نہ غل شور ہو نہ گردن پھلانگنا نہ کسی کی نماز میں خلل یہ بلا شبہہ جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے۔ اور بے سوال کسی محتاج کو دینابہت خوب اور مولٰی علی کرم اللہ تعالی وجہہ سے ثابت ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ ” فتاوی رضویہ شریف ( ج ۲٣ ص ٣۹٦)۔

Online Fatwa Barkate Raza | ask fatwa online

و علیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ ۔۔ الجواب : اصح و راجح قول کے مطابق امم سابقہ سے قبر میں کوئ سوال نہیں ہوتا تھا. قبر میں تین ساوالات, یہ اس امت محمدیہ، علی صاحبہا الصلاۃ والسلام کا خاصہ ہے۔ فتاوی شامی ( ج ۲ ص ١٩٢ ) میں ہے. نقل العقلی فی شرحه على الجامع الصغير ان الراجح أيضًا اختصاص السوال بهذه الامة خلافاً لما استظھرہ ابن القيم و نقل أيضاً عن الحافظ ابن حجر العسقلاني ان الذي يظهر اختصاص السوال ۔ اور فتاوی حديثيہ ( ص ١١ ) میں ہے. و كان اختصاصهم بالسوال في القبر من تخفيفات التي اختصوا بها عن غيرهم لما تقرر فتأمل ۔ ایسا ہی فتاوی مرکز تربیت افتا ( ج ١ ص ٣٤٠ ) میں ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب۔

سوال

کیا شہر یا گاوں میں جو مکتب چلتا ہے جہاں مقامی طلبہ ڈیڑھ دو گھنٹے کے لئے آتے ہیں اور پڑھ کر چلے جاتے ہیں

کیا ایسے مکتب میں زكوة فطرہ دے سکتے ہیں؟؟؟

الجواب : بلا حاجت شرعیہ دینا جائز نہیں بالخصوص وہ مکاتب جہاں خود کے یا مالداروں کے بچے زیر تعلیم ہو کہ اب کوئ حاجت نہ رہی. ہاں اگر کہیں واقعی حاجت ہو تو بعد حیلہ شرعی دے سکتے ہیں کہ وقت ضرور ہر کار خیر میں زکاۃ دینا, مصارف زکاۃ “و في سبيل اﷲ “کے زمرہ سے ہے جیساکہ رد المحتار( 2: 323، بيروت: دار الفک ) میں ہے و في سبيل اﷲ عبارة عن جميع القرب فيدخل فيه کل من سعی في طاعة اﷲ وسبيل الخيرات إذا کان محتاجا.

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ” میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور ہر مہینے میری تنخواہ سے دس فیصد % کاٹ کے رکھ لیتی ہے جو ریٹائر کرنے کے بعد ملے گی وہ بھی ۱۰۰ فیصد نہی بلکہ 75 فیصد تو کیا ابھی تک جمع شدہ رقم کی ذکوہ(zakat ) دینا ہم پر فرض ہے یا نہی
سوال نمبر ۲۔۔۔ بینک میں بچی کے نام سے sukniya yojna اکاؤنٹ کھولا ہوں اس کی zakat بھی ہمارے ذمہ ہے کیونکہ بچی کے بعد بلوغ بغیر بچی کی اجازت ہم پیسہ نہی نکال سکتے ہیں بینک کے اصول کے مطابق ” برائے مہربانی ان سوالوں کے جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں

الجواب : پہلے مسئلہ میں اصل جمع شدہ رقم پر زکاۃ ہر سال واجب ‎ہوتی رہےگی البتہ اس کی ادائیگی اس وقت واجب، جب ملے.
اور دوسرے مسئلہ میں بچی کے بلوغ کے بعد ایک سال ہونے پر، اس پر زکاۃ ہر سال واجب اگر بقدر نصاب ہو اور ادائیگی بعد حصول .
فتاوی رضویہ (ج 4 ص 428)

سوال:کیا فرما تے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ذیل کے اس مسئلہ میں کہ کھےکھڑا

(CRAB)

کا کاروبار کرنا ایک مسلم کے لیے کیسا ہے؟

[22:46, 5/19/2018] HASAN PATHAN: کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی وہابی، دیوبندی، تبلیغی جماعت والے کی زکوٰۃ سنّی لے سکتا ہے؟
يا پھر کسی وہابی، دیوبندی، تبلیغی جماعت والے کے پاس سے زکوٰۃ کی رقم لیکر کسی سنّی حقدار کو یہ نہ بتایا جائے کہ زکوٰۃ کس نے دی ہے؟ تو اس طرح سے سنّی کا زکوٰۃ لینا زکوٰۃ دلوانا کیسا ہے؟
برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں
[22:51, 5/19/2018] HASAN PATHAN: الجواب وہابی دیوبندی وغیرہ گستاخ رسول اور ضروریات دین کے منکر ہونے کی وجہ مرتد ہیں اور مرتد کے افعال نا عبادت میں شمار ہیں اور نا ان کے اموال قابل زکاۃ کہ مرتد کے زمانہ ردت کا مکسوب مال بیت المال کا ہے.فئ للمسلیمین ہے ایسا ہی ( فتاوی مصطفویہ ج 1 ص 421 میں ہے ) لہزا مرتدین سے زکاۃ کے نام پر پییسہ لینا دینا ،دلانا سب ناجائز وحرام ہے بلکہ ان سے کوئ معاملات جائز نہیں. جیسا کہ حدیث مشہور میں مذکور۔
[22:56, 5/19/2018] HASAN PATHAN: کسی مسلمان سے غزا کے لئے کیکڑا کی خرید وفروخت ناجائز ہے. بہار شریعت ( ح 8 بیع کے متفرق مسائل ) میں ہے مچھلی کے سوا پانی کے تمام جانور مینڈک کیکڑا وغیرہ…… کی بیع ناجائز ہے.

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا کسی تنظیم کو یا کسی ادارے کو یا کسی مفتی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ چاند کے نہ ہونے کا خصوصاً رمضان المبارک کے چاند کی نفی کا اعلان کرے
اور اگر کرے تو کب کرے قبل عشاء یا بعد عشاء یا قبل سحری
اور اگر نفی کا اعلان ہونے کے بعد شرعی شہادت کے ملنے پر اگر عوام پہلی گواہی پر اعتماد کر کے روزہ ترک کر دیں تو کیا حکم ہے؟

ذمہدار ادارہ یا شخص بلا شرعی گواہی اثبات نہیں کرسکتا تو لا محالہ نفی کرتا رہے ملنے تک یعنی نصف النہار پھر بعد شرعی گواہی ملے تو بعد رمضان قضا کرے.

سوال :–کیا مسجد میں غیر روزہ دار کو افطار کرنا جائز ہے؟

غیر روزے دار کے لۓ افطاری اس صورت میں حرام ہے جب کہ وقف بالتخصیص روزہ دارکی افطاری کے لۓ ہو جیسا کہ حضور سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے وضاحت فرمائ ۔ البتہ ہمارے یہاں لوگ افطاری محض کار خیر سمجھکر بلا نیت وقف و تخصیص روزہ دار بھیجتے ہیں. اگر چہ صراحۃ اجازت نہیں ہوتی البتہ دلالۃ ضرور پای جاتی ہے کہ دہندہ کا دیکھنا اور انکار نا کرنا اس لۓ اس صورت میں مسجد میں غیر روزہ دار کا افطار کرنا جاءژ ہے۔

سوال :– مسجد میں جو پانی پینے کے لئے بھرا ہوا ہوتا ہے اس کو بوتل میں بھر کر باہر جا کر پینا کیسا ہے؟

الجواب : اس مسئلہ کے حکم کا دارومدار عرف ہے اور ہمارے یہاں عرف یہ ہے کہ صرف نمازیوں کے پینے کے لئے رکھا جاتا ہے لہزا اپنے گھر لےجانا جائز نہیں. ہاں اگر کہیں عرف اسکے برخلاف ہو تو اس صورت میں اجازت ہے خواں وہ پانی وقف کی آمدنی سے ہو یا کسی نے اپنے مال سے پانی بھرواکر سب کے لئے مباح کر رکھا ہو جیسے آب سبیل یا مباح صرف نمازیوں کے لۓ ہو لیکن مالک دہندہ سے گھر لے جانے کی اجازت حاصل کر لے ۔ فتاوي رضويہ شریف ج 2 ص 125 میں ہے ” پھر خانیہ اور ہندیہ کے کتاب الشرب میں ہے کہ اگر کوئی شخص سقایہ کا پانی اپنے گھر بیوی بچّوں کو پلانے کیلئے لے جائے تو جائز ہے اھ تو اس سے مراد وہ پانی ہے جو خاص پینے ہی کیلئے رکھا گیا ہو، عبارت کا اوّل وآخر یہی بتاتا ہے۔ اس میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ _سقایہ_ کے پانی سے وضوء جائز ہے یا نہیں، بعض نے جواز کا قول کیا، اور بعض نے کہا کہ اگر پانی زائد ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں۔ اور یہی حکم ہر اُس پانی کیلئے ہے جو پینے کیلئے رکھا گیا ہو، یہاں تک فقہاء نے اُس حوض کی بابت بھی یہی فرمایا ہے جو پینے کیلئے بنایا گیا ہو کر اُس میں وضوء جائز نہیں، اور اگر کوئی کرے تو اس کو منع کیا جائیگا، اور یہی صحیح ہے۔ اور یہ جائز ہے کہ وہ پانی گھر لے جائے الخ اس کی بنیاد یہ ہے کہ جو پانی پینے کیلئے رکھا جائے اس سے پردہ نشینوں کو محروم نہ رکھا جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ اصل دارومدار عُرف پر ہے۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ سبیل کا پانی پینے کیلئے ہے اور وہی لوگ اس سے استفادہ کرسکیں گے جو اس پر وارد ہوں تو ایسے پانی کو گھر نہیں لے جایا جاسکتا ہے بلکہ اگر بطور خاص گزرنے والوں کیلئے ہے تو دوسرے وارد ہونے والوں کو اُس کا استعمال جائز نہ ہوگا، چنانچہ بعض جاہل محرّم کے عشرہ میں پانی یا دُودھ کی سبیل تعزیہ کے ساتھ گزرنے والوں کے لئے بطور خاص لگاتے ہیں، یہ بدعث محدثہ ہے، اس کا استعمال دوسروں کو جائز نہیں بلکہ اگر ایک تعزیہ کے لئے جائز ہے تودوسرے تعزیہ کے شرکاء کو اس کا استعمال جائز نہیں واللہ تعالٰی اعلم۔ بزازیہ میں ہے (متفرقات کراہیۃ میں) (ت) سِقایہ کا پانی گھر والوں کیلئے لے جانا اگر اُس کی اجازت ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں اھ اور یہ بعینہٖ وہی ہے جو میں نے کہا ہے وللہ الحمد (ت)

(۱؎ ہندیۃ الباب الاول من کتاب الشرب پشاور ۵/ ۳۹۱)

السلام عليكم

سوال: کیا رضائی بہن سے شادی جائز ہے؟؟

رضاعی بہن سے نکاح جائز نہیں اور علم ہوتے ہوے کرے گا تونکاح نہ ہوگا البتہ حکم خداوندی کا مخالف اور سخت گناہ کبیرہ مرتکب ہوگا.
اللہ حاکم المطلق کا حکم گرامی ہے. ” قال اللہ تعالٰی: واخواتکم من الرضاعۃ ۱؎

(اور تمھاری رضاعی بہنیں ۔ ؎ القرآن الکریم -سورۃالنساء ایہ ۲۳) اور صحیح مسلم میں حضرت مولی علی رضی اللہ تعالى عنه سے مروی – رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے فرمایا : بیشک اللہ تعالی نے رضاعت سے انہیں حرام کردیا جنہیں نسب سے حرام فرمایا (مشکاۃ المصابیح- کتاب النکاح – باب المحرمات ) اور امام بخاری رحم اللہ علیہ حضرت عاءشہ رضی اللہ تعالى عنہا سے راوی ” و عورتیں ولادت سےحرام ہیں, وہ رضاعت سے حرام ہیں.” ( مشکاۃ المصابیح کتاب النکاح ) یساہی ( فتاوی رضویہ شریف ج 11ص131 اور بہار شریعت حصہ 7 محرمات کے بیان) میں ہے.

سوال :– کسی غلطی پر جرمانہ عائد کرنا کیسا ہے؟

کسی غلطی پر جرمانہ یعنی تعزیر بالمال ناجائز و حرام ہے. بہار شریعت ح 9 تعزیر کا بیان اور فتاوی رضویہ شریف ہے ” 

جرمانہ کے ساتھ تعزیر کہ مجرم کا کچھ مال خطا کے عوض لے لیا جائے منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں کما حققہ الامام الطحاوی رحمہ اﷲ تعالٰی والمسألۃ فی الدرالمختار وغیرہ وقد بیناھا علی ھامش ردالمحتار (جیسا کہ اس کی تحقیق امام طحاوی رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمائی، اور یہ مسئلہ درمختار وغیرہ میں ہے____اور ہم نے اس کو ردالمحتار کے حاشیہ میں بیان کیا ہے۔ت

تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں۔ درمختار میں ہے:

لاباخذ مال فی المذھب ۱؎ بحر۔

مال لینے کا جرمانہ مذہب کی رُو سے جائز نہیں ہے۔ بحر (ت)

 (۱؎ درمختار باب التعزیر    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۳۲۶)

اُسی میں ہے:وفی المجتبٰی انہ کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ ۲؎۔

اور مجتبٰی میں ہے کہ ابتدائے اسلام میں تھا، پھر منسوخ کردیا گیا۔ (ت)

 (۲؎  درمختار باب التعزیر    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۳۲۶)

ردالمحتار میں بحر سے ہے: وافاد فی البزازیۃ، ان معنی التعزیر باخذ المال، علی القول بہ، امساک شیئ من مالہ عندہ مدۃ لینزجر، ثم یعیدہ الحاکم الیہ، لا ان یاخذہ الحاکم لنفسہ اولبیت المال، کمایتوھمہ الظلمۃ، اذلایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی۱؂

اور بزازیہ میں افادہ کیا ہے کہ مالی تعزیر کا قول اگر اختیار کیا بھی جائے تو اس کا صرف اتنا ہی مطلب ہے کہ اس کا مال کچھ مدّت کے لئے روک لینا تاکہ وہ باز آجائے، اس کے بعد حاکم اس کا مال لوٹادے، نہ یہ کہ حاکم اپنے لیے لے لے یا بیت المال کیلئے، جیسا کہ ظالم لوگ سمجھتے ہیں، کیونکہ شرعی بسبب کے بغیر کسی کا مال لینا مسلمان کے لئے روا نہیں۔ (ت)

(۱؎ ردالمحتار    باب التعزیر    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۳/۱۹۵ )

ج 5 ص 11

Plastic ki topiya jo masjidon main rakhi hoti hain unko pahan kar namaz parhna kaisa hai?

 

Online Fatwa Barkate Raza | ask fatwa online

پلاسٹیک کی ٹوپی محترم محافل و مجالس میں نہیں پہنی جاتی اور نا ہی عوام و خواص بطور زینت پہنتے ہیں ۔ اس لئے محض بوجہ کسل کہ مسجد جاکر میلی کچیلی پرانی جیسی ملی , پہنکر نماز پڑھلی ایسی ٹوپی پہنکر نماز مکروہ تنزیہ ہوگی جیسا کہ کام کاج کے پڑوں میں نماز مکروہ ہے ۔ ایسے ہی ایک مسئلہ میں حضور سرکار اعلی حضرت نے فرمایا فانہ اِذَنْ من ثیاب مھنۃ والصلاۃ فیھا مکروھۃ (کیونکہ یہ اس کے کام کاج والے کپڑے ہوں گے اور ان کے ساتھ نماز ادا کرنا مکروہ ہے۔ت) جب وہ ذی علم ہے اور اسے سمجھایا جائے کہ دربار الہٰی بازار سے زیادہ قابلِ تعظیم و تذلّل ہے [ج 6 ص 159]

%d bloggers like this: