Naats in Urdu

Naats in Urdu

بے خود کیے دیتے ہیں ، انداز حیجابانا

آ دِل میں تجھے رکھ لوں ، اے جلوہ جانانہ

کیوں آنکھ ملائی تھی ، کیوں آگ لگائی تھی
اب رخ کو چھپا بیٹھے ، کر کے مجھے دیوانہ .

جی چاہتا ہے تووحفای میں بیحجون میں انہیں آنکھیں
کے درشن کا تو درشن ہو ، نظرانے کا نذرانہ .

کیوں آنکھ ملائی تھی ، کیوں آگ لگائے تھی
اب رخ کو چھپا بیٹھا کر کی مجھے دیوانہ .

پینے کو تو پی لوں گا پر عرض ذرا سی ہے
کے اجمیر کا ساقی ہو ، بغداد کا مے خانہ .

بیدام میری قسمت میں سجدے ہیں اسی گھر کے
چھوٹا ہے نا چووتے گا سنگ دَر جانانہ

آ گئے آ گئے مصطفیی آ گئے

آج دنیا میں خایر-ول-وارا آ گئے

بزم کونین میں ہر طرف شور ہے

مصطفیی آ گئے مجتبی آ گئے

عرش والے مبارک دینی لگے

فرش والو حبیب خدا آ گئے

کون دیتا ہے دینی کو منہ چاہیے

دینے والا ہے سچا ہمارا نبی

کیا خبر کتنے تارے کھلے چُپ گئے

پر ناں ڈوبے ناں ڈوبا ہمارا نبی

ہر طرف ہے نیازی سامان عید کا

مصطفیی آ گئے موجحتابا آ گئے

ہر طرف تیرگی تھی نا تھی روشنی

آپ آئے تو سب کو ملی روشنی .

خیلکاتی اولین خاتامال مرسلین

آپ پہلی کرن آخری روشنی .

مصطفیی کی میں توصیف کرتا رہا

عمر بھر میرے گھر میں رہی روشنی .

تو دو جہاں کا اجالا ہمارا نبی

ہے بڑی شان والا ہمرا نبی .

آ گئے آ گئے مصطفیی آ گئے

آج دنیا میں خایر-ول-وارا آ گئے . .

آ جائے بلوا مجھے آقا تیرے دَر سے
جس دَر کی غلامی کو تو جبریل بھی ترسے

پیدل ہی نکلتے ہیں ، ماساافات کا نہیں خوف

تھکتی ہی نہیں ہَم تو مدینی كے سفر سے

سنت پہ تیری چلنے کا آ جائے قرینہ

یہ ابر کرم کاش میرے دشت پہ برسے

Zاراح بھی لگے گوہر الماس سے بڑھ کر

دیکھے تو کوئی خاک ارب میری نظر سے

اک میں ہی نہیں طالب جلوہ میرے آقا !

ہر اک مسلمان تیرے دید کو ترسے

ناموس محمد كے لیے جان بھی دوں گا

ہو جاؤں گا واقف میں شہادت كے ہنر سے

دنیا كے فقط چند ہی لمحات تھے گزرے

ہو آئے پیامبر میرے سادیاون كے سفر سے

جو شام سحر صلی اعلی کہتا رہے گا

آئے گا بلوا اسے آقا كے نگر سے

کچھ خوف نہیں مجھ کو کادیی دھوپ کا امجد

سایہ مجھے ملتا ہے ریساالت كے شجر سے

دنگ ہیں سب دیکھ کر آدھا اِدھر آدھا اُدھر
ہوگیا پل میں قمر آدھا اِدھر آدھا اُدھر

چاند کیا آسماں کوبھی اگر کہتے حضور
وہ بهی گِرتا ٹوٹ کر آدھا اِدھر آدھا اُدھر

اعلیٰ حضرت کے غلاموں سے اُلجھنا چھوڑ دو
فیک دینگے کاٹ کر آدھا اِدھر آدھا اُدھر

جب رضا کی اٹھ گئی تلوار تو پھِر کیا ہوا
ہو گیا نجدی کا سر آدھا اِدھر آدھا اُدھر
ایک طرف مکّے کی سرحد ایک طرف شہرِ نبی
کاش ہوتا میرا گھر آدھا اِدھر آدھا اُدھر

دشمنانِ مصطفیٰ کو دیکھ لینا پُل صراط
ڈال دیگا کاٹ کر آدھا اِدھر آدھا اُدھر

آج محمد آئے مو رے گھر
صل علیٰ کی دھوم ہے ہر گھر

آنکھوں میں ما زا غل کا سرمہ
سر پر تاج ورفعنا کا
حُسنِ مجسّم اللہُ اکبر

صبح ہے مکھڑا اُنکا
شام عوض ہے زُلف کا سایا
اُن سے ہوا ہر قلب منوّر

مہندی لگاؤ گھر کو سجاؤ
مائے آگن میں ناچو گاؤ
تن من واروں اُنکے چرن پر

آؤ سکھیوں مل کر گائے
اپنے پیا کا جشن منائیں
صل علی کی دھوم ہے ہر گھر

رم جم برسے نور کی برکھا
آیا ہے معراج کا دولہا
دھرتی اور آکاش سے بہتر

دوش پہ يوں گیسو لہرائیں
بھینی بھینی خوشبو آئے
رنگوں نگہت سارا منظر

آمنہ بی کا راج دلارا
کتنا انوکھا کِتنا پیارا
چاند اُتر آیا ہے زمیں پر

بنکے شبِ معراج کا دولہا
پہونچے جب افلاک پہ آقا
نغمہ تھا ہر ایک کی زباں پر

ٹل جائیگی ساری مصیبت
آجائےگا دورِ رحمت
اب تو مُجھے دینکھینگے نظر بھر

انجم بے کس آپ کا منگتا
دیجیے بخشش جگ کے داتا
بوند ہوں میں اور آپ سمندر

آج اشک میرے نعت سنائے تو عجب کیا ہے
سنکر وہ مجھے پاس بلائے تو عجب کیا ہے

اُن پر تو گنہگار کا سب حال کھلا ہے
اس پر بھی وہ دامن میں چھپائے تو عجب کیا ہے

منہ ڈھانپ کے رکھنا کے گُنہگار بہت ہے
میت کو میری دیکھنے آئیں تو عجب کیا ہے

نا زادِ سفر ہے نہ کوئی کام بھلے ہیں
پھِر بہی ہمیں سرکار ب بلائیں تو عجب کیا ہے

دیدار کے قابل تو کہاں میری نظر ہے
لیکن وہ کبھی خواب میں آئیں تو عجب کیا ہے

یہ نسبتِ شاہ مدنی اور یہ آنسُو
محشر میں ایک غم سے شورائے تو عجب کیا ہے

میں ایسا خطاوار ہوں کُچھ حد بھی نہی جِسکی
پھِر بھی میرے عیبوں کو چھپائیں تو عجب کیا ہے

پابندِ نوا تو نہیں فریاد کی رسمیں
آنسُو ہی میرا حال سنائے تو عجب کیا ہے

حاصل جنہیں آقا کی غلامی کا شرف ہے
ٹھوکر سے وہ مردے کو جلائیں تو عجب کیا ہے

وہ حُسنِ دو عالم ہیں ادیب اُنکے قدم سے
صحرا میں اگر پھول کہلائیں تو عجب کیا ہے

آج مسلم تیرا مہمان چل دیا
ختم روزِ ہووے رمضان چل دیا
چھوڑ کر رہنما کارواں چل دیا
آج مسلم تیرا مہمان چل دیا

مسجدوں میں وہ نورِ چراگاہ کہاں
سال بھر یہ مہمان کہاں اور ہم کہاں

آج مسلم تیرا مہمان چل دیا
ختم روزِ ہووے رمضان چل دیا
چھوڑ کر رہنما کارواں چل دیا
آج مسلم تیرا مہمان چل دیا

مسجدوں میں وہ رونق نا جب پائینگے
غمزدہ موزکر دل کو رہ جائینگے

آج مسلم تیرا مہمان چل دیا
ختم روزِ ہووے رمضان چل دیا
چھوڑ کر رہنما کارواں چل دیا
آج مسلم تیرا مہمان چل دیا

آقا کو پکار بندے آقا کو پکار
ان شاءاللہ ہو جائیگا تیرا بیڑا پار

اُنکے ہاتھ میں کل کنگی ہے رب اُنہیں مختار کیا
ہمکو اُنکا منگتا بنایا اور اُنہیں سرکار کیا
جو سرکار کے در کا گدا ہے وہ خود ہے مختار

آقا کو پکار بندے آقا کو پکار
ان شاءاللہ ہو جائیگا تیرا بیڑا پار

کیا کہنا دربارِ نبی کا اُسکی شان ہی اعلیٰ ہے
ہرگز نہ محروم وہ لوٹا اُس در کا جو سوالی ہے
آؤں چلے اب سوئے مدینہ چھوڑ کے سب دربار

آقا کو پکار بندے آقا کو پکار
ان شاءاللہ ہو جائیگا تیرا بیڑا پار

اعلحضرت نے یاروں سبق ہمیں سیکھایا ہے
جو گستاخِ خُدا و نبی ہے اپنا نہی وہ پیارا ہے
ہاں ایسے گستاخوں پر مولیٰ کی ہے فٹکار

آقا کو پکار بندے آقا کو پکار
ان شاءاللہ ہو جائیگا تیرا بیڑا پار

کیوں غمگین ہے تو اے سید در پر وہ بلوائینگے
رنج و غم سب دور کرینگے
اور بھی کوئی اُنکے سوا ہے دخيوں کا غم کھنوار

آقا…

آخری عمر میں کیا رونقِ دُنیا دیکھوں
اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

رُوبرُو روضہ سرکار کے محفلِ نعت
کاش طیبہ حسیں ایسا زمانہ دیکھوں

اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

سائل در کو شہنشاہِ زمانہ کر دے
شاہ طیبہ کا وہ اندازِ شاہانہ دیکھوں

اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

سجدائے سر میں کروں کعبے کی عظمت کے لئے
سجداۓ دل کے لئے کعبے کا کعبہ دیکھوں

اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

اُنکے دربار میں کُچھ ہمکو ملے ایسی عطا
عوض پر اپنے مقدر کا ستارہ دیکھوں

اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

یا نبی کردو میرے دل کو سبھی زنگ سے پاک
وصل کی رات کو میں دل کا چمکنا دیکھوں

اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

صدقائے آل نبی ہمکو ملے آجکی شب
گلشنِ زہرہ کا رنگین نظارہ دیکھوں

اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

مال و زر پاس ن…

اعلیٰ حضرت کا ترانه
جب سنائےگا دیوانہ
سن کے سنی مچلتا رہےگا
اعلحضرت کا ڈنکا بجیگا

جب غلام رضا کی سواری چلے
دیوبندی کے سینے پہ آری چلے
جب وہ بنکے رضا کی کٹاری چلے
سانس بھی دیوبندی کی بھاری چلے

اعلیٰ حضرت کا مستانہ
جو رضا کا ہے دیوانہ
دشمنوں سے وہ ڈٹ کر کهیگا
اعلیٰ حضرت کا ڈنکا بجیگا

لے کے نام رضا مسکراتے رہو
اعلیٰ حضرت کا نغمه سناتے رہو
نعرہ اعلیٰ حضرت لگاتے رہو
جلنے والوں کو ہر دم جلاتے رہو
سنی اسکا غم نا کرنا ہر دم آگے بڑھتے رہنا
جلنے والا ہمیشہ جلیگا
اعلیٰ حضرت کا ڈنکا بجیگا

علم و حکت کا اُسکو خزانہ ملا
جسکو احمد رضا کا زمانہ ملا
دیکھو ایسا نقی کا گھرانہ ملا
خلد کا جس جگہ سے ٹھکانہ ملا
یہ زمانے کو سنادو
ساری دنیا کو بتادو
اب تو رضوی ہی سکّہ چلیگا
اعلیٰ حضرت کا ڈنکا بجیگا

عامال نہیں کُچھ بھی یہ حال ہمارا ہے
بس آپ کی رحمت کا سرکار سہارا ہے

ڈوبا ہوں گُناہوں میں سرکار کرم کرنا
رحمت بھی تمہاری ہے بندہ بھی تمہارا ہے

اے موت ذرا روک جا کیا اتنی بھی جلدی ہے
آنکھوں میں ابھی میری طیبہ کا نظارہ ہے

چاہیں یہ جہاں چھوٹے چاہیں یہ جہاں رُوٹھے
ٹوٹے نا شہا تم سے رشتہ جو ہمارا ہے

ہے پست اگر قِسمت گھبرا نا امیں آسی
وہ جیت گیا محشر دُنیا میں جو ہارا ہے

توفیق مُجھے دی ہے دُنیا میں جو نعتوں کی
محشر میں بھی کہہ دینا فرقان ہمارا ہے

آنے والوں یہ تو بتاؤ شہر مدینہ کیسا ہے
سر اُنکے قدموں میں رکھ کر جُھک کر جینا کیسا ہے

گنبدِ خضرا کے سائے میں بیٹھ کے تم تو آئے ہو
اس سائے میں رب کے آگے سجدہ کرنا کیسا ہے

دل آنکھیں اور روح تمہاری لگتی ہیں سہراب مُجھے
در پر اُنکے بیٹھ کے یاروں زم زم پینا کیسا ہے

دیوانوں آنکھوں سے تمہاری اتنا پوچھ تو لینے دو
وقتِ دعا روزِ پر اُنکے آنسُو بہانا کیسا ہے

وقتِ رخصت دل کو اپنے چھوڑ وہاں تم آئے ہو
یہ بتلاؤں اشرت اُنکے در سے بچھڑنا کیسا ہے

آنکھیں رو رو کے سُجانے والے
جانے والے نہیں آنے والے

کوئی دن میں یہ سرا اوجڑ ہے
ارے او چھاؤنی چھانے والے

ذبح ہوتے ہیں وطن سے بچھڑے
ڈالے کیوں گاتے ہیں گانے والے

ارے بد فَال بُری ہوتی ہے
ڈالے کا جنگلا سُنانے والے

سُن لیں اَعدا میں بگڑنے کا نہیں
وہ سلامت ہیں بنانے والے

آنکھیں کچھ کہتی ہیں تجھ سے پیغام
او درِ یار کے جانے والے

پھر نہ کروٹ لی مدینہ کی طرف
ارے چل جُھوٹے بہانے والے

نفس میں خاک ہوا تو نہ مِٹا
ہے میری جان کے کھانے والے

جیتے کیا دیکھ کے ہیں اے حورو
طیبہ سے خُلد میں آنے والے

حُسن تیرا سا نہ دیکھا نہ سُنا
کہتے ہیں اگلے زمانے والے

وہی دُھوم ان کی ہے ما شاء اللہ
مِٹ گئے آپ مِٹانے والے

ساتھ لے لو مجھے میں مجرم ہوں
راہ میں پڑتے ہیں تھانے والے

کیوں رضا آج گلی سُونی ہے
اُٹھ مرے دُھوم مچانے والے

آنکھیں پور نور کروں دیکھ کے چہرہ تیرا
گر عطا ہو دم آخر مُجھے جلوا تیرا

میں نے مانا کے سياه کار گنہار ہوں میں
لاج رکھ لے میری مولیٰ کے ہوں شیدا تیرا

روزِ محشر کی تمازت سے بچائیگا مُجھے
میری بخشش کا ذریعہ ہے یہ جلسہ اُنکا

دیکھ لو اہل جہاں میرے نبی کی اُلفت
چُما ہے بلبلِ سدرہ نے بھی تلوا تیرا

کیوں بھلا فکر کروں روزِ قیامت کا تمیم
خلد لے جائیگا مُجھکو بھی وسیلہ تیرا

آنکھوں کا تارا نامِ محمد
دل کا اجالا نامِ محمد

اللہ اکبر رب العلا نے
ہر شے پہ لکھا نامِ محمد

دولت جو چاہو دونوں جہاں کی
کر لو وظیفہ نام محمد

شیدا نہ کیوں ہوں اُس پر مسلماں
رب کو ہے پیارا نام محمد

اللہ والا دم میں بنا دے
اللہ والا نامِ محمد

صل علیٰ کا سہرا سجا کر
دولہا بنایا نامِ محمد

نوح وخلیل و موسیٰ و عیسیٰ
سب کا ہے آقا نام محمد

سارے چمن میں لاکھوں گلوں میں
گل ہے ہزارا نامِ محمد

پائیں مرادیں دونوں جہاں میں
جس نے پکارا نامِ محمد

مومن کو کیوں ہو خطرہ کہیں پر
دل پر ہے کندہ نامِ محمد

پڑھتی درودیں دوڑیں گی حوریں
لاشہ جو لے گا نامِ محمد

روزِ قیامت میزان و پل پر
دے گا سہارا نامِ محمد

غم کی گھٹائیں چھائی ہیں سر پر
کر دے اشارا نام محمد

رنج و الم میں ہے نام لیوا
کر دے اشارا نام محمد

بیڑا تباہی میں آ گیا ہے
دے دے سہارا نام محمد

زخمی جگر پر مجروح دل پر

آؤں اہلِ شریعت بتائیں تمہیں
آؤں اہلِ منظر سنائے تمہیں

وقت ہو جائیگا دم نکل جائیگا
عمر تھم جائیگی سانس رک جائیگا
قبر میں نفسی نفسی کریگا جہاں
کوئی نا کسی کا مانوس رہےگا وہاں

آؤں اہلِ شریعت پڑھائے تمہے
آؤں اہلِ منظر سنائے تمہے

ایک یہ دن ہے کل وہ دن بھی آئیگا
دُنیا جیسی کی تیسی پلٹ جائیگی
اُسکی آغوش میں جاکر ہونش آئیگا
منکر نکیر آ جائیںگے قبر ہل جائیگی

قبر میں نفسی نفسی جہاں
کوئی نا کسی کا اپنا رھینگا وہاں

ہو جو مومن تو پھر کیا ہے بات
کریگا نورِ رسول میں پار پلصراط

اُمتِ رسول جو ہوگی وہاں
نور ہی نور اُس پر ہوگا وہاں

آؤں اہلِ شریعت سنائے تمہے
اہلِ منظر کیا ہوگا یہ بتائیں تمہے

آمدِ مصطفیٰ سے ہے پھولا پھلا چمن چمن
آئی بہار ہر طرف کھلنے لگا چمن چمن

شادی ہے ہر مقام میں نخل میں سب قیام ہے
ڈالیاں ہیں سلام میں سر ہے جُھکا جُھکا چمن

ٹھنڈی ہوائے آتی ہیں کلیاں بھی مسکراتی ہے
بل بل چہ چہاتی ہیں کھلنے لگا چمن چمن

جھومتے ہیں شجر شجر تازہ ہوا ہے پھول پھول
سبزہ ہوئی روِش روِش گھل سے بھرا چمن چمن

کلیاں تمام کھل گئیں شاخیں خوشی سے ہل گئیں
بلبل غل سے مل گئیں حسنِ لگا چمن چمن

نعت میں قیل و قال ہو مدحت ذوالجلال ہو
اکبر خوش مقال ہو نغمہ سارا چمن چمن

آؤں میرے نبی کی شان سنو
نبی ہے بولتا قرآن سنو

حبیب پیارا نظر اٹھائے
ہو مولیٰ قبلہ بدل دے
کہیں یہ چاہت کہیں یہ کہنا
اے موسیٰ آنا سنبھل کے
خدا ہے ان پہ مہربان سنو

نبی ہے بولتا قرآن سنو

نبی کا سجدہ ہوا ہے لمبا
حسین پشت پر بیٹھے
تیرے نواسے کے جنکے جوڑے
خُدا نے خلد سے بھینجے
ہے جبرائیل بھی دربان سنو

نبی ہے بولتا قرآن سنو

نمازِ دی تھی پچاس رب نے
نبی نے پانچ کرائی
ہے دیکھو کِتنا خیالِ اُمت
نبی نے بات بنائی
وہی ہے عرش کا مہمان سنو

نبی ہے بولتا قرآن سنو

نبی کے عاشق بلال حبشی
ہے جن کے عرش پہ چرچے
بلال جب بھی اذان دیتے
صحابہ عشق میں روتے
بلال حبش کی اذان سنو

نبی ہے بولتا قرآن سنو

نبی کی عظمت پہ پہرا دینا
رضا نے ہمکو سیکھایا
نبی کا دشمن ہے اپنا دشمن
رضا نے ہمکو بتایا
رضائے عشق کی پہچان سنو

نبی ہے بولتا قرآن سنو

حسنی جذبہ ابھارتا ہے
علی کے نام کا نعرہ…

آؤ آؤ سر کو جھکائے
آقا کا روضہ نظر آگیا
دل میں عشقِ نبی کو جگائینگے
آقا کا روضہ نظر آگیا

میری آنکھیں ہونگی منوّر
جب روضے کو دیکھوں گا
دل یہ خوشی سے بول اٹھے گا
آقا کا روضہ نظر آ گیا

دل کا یہ ارمان ہے آقا
طیبہ کی اُن گلیوں میں
میرے دل کو میں سمجھاوں
کے آقا کا روضہ نظر آگیا

اللہ اللہ اُنکی جالي
چوموں میں ان ہونٹوں سے
شکر خُدا کا کرتے بولوں
آقا کا روضہ نظر آ گیا

جلد گھڑی وہ آئیگی
رب تعالیٰ کی رحمت سے
دل یہ غلام کا بول اٹھے گا
آقا کا روضہ نظر آگیا

آپ شمع رسالت ہیں پروانے ہم
اب ہم آخر یہاں سے کدھر جائینگے

زِندگی تو ہماری اسی در سے ہے
آپ سے دور ہونگے تو مر جائینگے

جس نے مانگا ہے قطرہ تو دریا دیا
جس نے دامن پسارا اُسے بھر دیا

بس سخاوت تمہاری ہمکو بھرم
خالی دامن کبھی ہم نا رہ جائینگے

ذات میں ہم تو سرور نکارے صحیح
پھِر بھی نسبت ہماری نیاری صحیح

بس تمہاری شفاعت پہ ہمکو بھرم
خلد میں بھی اے پیارے اگر جائینگے

مثلِ پروانہ ہم آپکو ڈھونڈھتے
صبحِ صادق بھی آقا اب ہونے کو ہے
جبکہ دیدار ہم آپکا پائینگے
گر قدموں میں آقا ہم مر جائینگے

جائے اجمیر کو جائے بغداد کو
شاہ طیبہ کسی کے بھی دربار کو
ایک سوال اُن سے ہر دم یہ کرتے رہے
یا ولی کب مدینے کو ہم جائینگے

عرض دل سے یہ اشرف کی آقا سنو
ہاں بظاھر ہے ناصر کے لب پر مگر
جب میں آؤں مدینے میں دیدار کو
کہنا دیوانے اب تم کدھر جاؤگے

یا رسول اللہ یا حبیب اللہ
سلم علیک یارسول اللہ
و سلم علیک یا حبیب اللہ

اہلا و سہلا مرحبا
یا رسول اللہ

شاہ یار بن قد بدا
نورو ہول اعلیٰ
یا حببدا بدرا
زاکل حما يوجلا

چاروں طرف نور چھایا آقا کا میلاد آیا
خوشیوں کا پیغام لایا
آقا کا میلاد آیا

شمس و قمر اور تارے کیوں نا ہو خوش آج سارے
اُن سے ہی تو نور چھایا
آقا کا میلاد آیا

خوشیاں مناتے ہیں وہیں
دھومیں مچاتے ہیں وہیں
جن پر ہوا اُنکا سایہ
آقا کا میلاد آیا

گھر کو سجاتے ہیں وہیں
جھنڈے لگاتے ہیں وہیں
جن پر ہوا اُنکا سایہ
آقا کا میلاد آیا

ہے شاد ہر اِک مسلماں
کرتا ہے گھر گھر چراگاہ
گلیوں کو بھی جگمگایا
آقا کا میلاد آیا

مختار کُل مانے جو اُنہیں
نوری بشر جانے جو اُنہیں
نعرہ اُسی نے لگایا
آقا کا میلاد آیا

جو آج میں محفل میں آئے
منکی مرادے وہ پائے
سب پر کرم ہو خُدایا
آقا کا میلاد آیا

غوث الورا اور دات…

داماد مصطفیٰ ہیں وہ جوز بتول ہیں
میرا علی تو شیر خُدا و رسول ہے

حسنین جنکے بیٹوں نے پائیں شہادتِ
شہزاد گان آپکے جنت کے پھول ہیں

نام علی سے میں نے کیا یہ مشاہدہ
سنی کا چہرہ ایسا لگے کے وہ پھول ہے

اور خارجی کے سامنے جب کہہ دیا علی
وہ ہو گئے ہیں ایسے کے خير البتول ہیں

احمد رضا نے لکھ دیا ہے فاطمہ کلی
حسنین کے لئے کے وہ جنت کے پھول ہیں

مشکل کُشائی کیجیے مُشکِل کشا علی
اُنکا ہے واسطہ جو کے بنت رسول ہیں

دُنیا سمجھ رہی ہے کے میرا کوئی نہیں
اے حاسدوں تمہاری سراسر یہ بھول ہے

یہ کہہ دیجئے یہ میرا سگے در ہے
آج بھی دُنیا سمجھ رہی ہے منوّر فضول ہے

اذن کردو عطا در پہ آؤں شہا
جلد اب لو بلا در پہ آؤں شہا

یا رسولِ خدا در پہ آؤں شہا
سن لیجیے اِلتجا در پہ آؤں شہا

آرزو بھی یہی جُستجُو بھی یہی
کاش روتا ہوا در پہ آؤں شہا

میں گُنہگار ہوں مانا بدکار ہوں
تُم تو رحمت خُدا در پہ آؤں شہا

دل پریشان ہے اسمِ ارمان ہے
بس تڑپتا ہوا در پہ آؤں شہا

ہو نگاہِ کرم میں بھی دیکھوں حرم
یہ نبی آپکے در پہ آؤں شہا

آپ بلوائنگے طیبہ ہم آئینگے
کہتا ہے دل میرا در پہ آؤں شہا

سنلو محبوبِ رب کوئی اسباب اب
کر بھی دو میرے آقا در پہ آؤں شہا

سب مدینے گئے ہم یہیں رہ گئے
دل مچلتا رہا در پہ آؤں شہا

تمکو شیخین کا پیارے حسنین کا
دیتا ہوں واسطہ در پہ آؤں شہا

کُچھ نا زر پاس ہے تُم پہ ہی آس ہے
سن لو میری صدا در پہ آؤں شہا

ایک خواہش رہی در پہ ہو حاضری
میں یہ کہتا رہا در پہ آؤں شہا

کردو زاہد پہ بھی اب کرم یا نبی
ہے یہی ایک دعا در پہ آؤں شہا

در خواجہ پہ سوالی کو کھڑا رہنے دو
سر ندامت سے جُھکا ہے تو جُھکا رہنے دو

مُجھکو مل جائیگا صدقۃ میں چلا جاؤنگا
كاسائے دل میرا قدموں میں پڑا رہنے دو

خود ہی فرمائینگے مجرم پہ وہ رحمت کی نظر
مُجھکو خواجہ کی عدالت میں کھڑا رہنے دو

چھوڑکر آپ کا در اب میں کہاں جاؤنگا
اس گدا کو اسی سائے میں کھڑا رہنے دو

روزِ محشر یہ گنہگار کے کام آئیگا
وارثي رنگ چڑا ہے تو چڑا رہنے دو

مُجھکو کرنا نا جُدا در سے کبھی خواجہ جی
دل جو دیوانہ بنا ہے تو بنا رہنے دو

روز کرتا ہے دعا اپنے خواجہ سے خلیل
اپنی رحمت سے جہاں میرا سجا رہنے دو

در نبی پہ پڑا رہوں گا پڑے ہی رہنے سے کام ہو گا

کبھی تو قسمت کھلے گی میری کبھی تو میرا سلام ہو گا

خلاف معشوق کچھ ہوا ہے نہ کوئی عاشق سے کام ہو گا

خدا بھی ہو گا ادھر اے دل جدھر وہ عالی مقام ہوگا

کئے ہی جاوں گا عرض مطلب ملے گا جب تک نہ دل کا مطلب

نہ شام مطلب کی صبح ہو گی نہ یہ فسانہ تمام ہو گا

جو دل سے ہے مائل پیمبر یہ اس کی پہچان ہے مقرر

کہ ہر دم اس بے نوا کے لب پر درود ہوگا سلام ہوگا

اسی توقع پہ جی رہا ہوں یہی تمنا جِلا رہی ہے

نگاہ لطف و کرم نہ ہوگی تو مجھ کو جینا حرام ہوگا

در نبی پہ پڑا رہوں گا پڑے ہی رہنے سے کام ہو گا

کبھی تو قسمت کھلے گی میری کبھی تو میرا سلام ہو گا

در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
گزرے جو وہاں شام و سحر کیسا لگے گا

اے کاش مدینے میں مجھے موت ہوں آئے
قدموں میں ہو سرکار کے سر کیسا لگے گا

جب دور سے ہے اتنا حسیں گنبد خضریٰ
اس پار یہ عالم ہے ادھر کیسا لگے گا

آ جائیں اگر گھر میں میرے رحمت عالم
میں کیسا لگوں گا میرا گھر کیسا لگے گا

اے پیارے خدا دیکھوں میں سرکار کا جلوہ
مل جائے دعا کو جو اثر کیسا لگے گا

طیبہ کی سعادت تو یوں پاتے ہیں ہزاروں
مرشد کا ساتھ ہو تو سفر کیسا لگے گا

غوث الوریٰ سے پوچھ لے بغداد یہ چل کر
بغداد سے طیبہ کا سفر کیسا لگے گا

پائی منوّر نے قضا در پہ نبی کے
آجائے وطن ایسی خبر کیسا لگے گا

آقا لے لو سلام اب ہمارا

صبا تو مدینے جا کر کہنا خدارا

آقا لے لو سلام اب ہمارا

غم سے ہیں ٹوٹے ہووے ظلموں سے لوٹے ہووے
مدت ہوئی یا نبی قسمت کو رُوٹھے ہووے
روزِ محشر اُمتی کا آپ ہی سہارا

چاند نے ٹکڑے کئے پیڑوں نے سجدے کیے
سورج پلٹ آ گیا یہ معجزے آپ کے
اُمتی کیا خود خُدا بھی مدح خواہ تمہارا

دن رات روتی ہے یہ اُمت تمہارے لیے
ہو جائے نذرِ کرم آقا ہمارے لیے
طیبہ کی اُن گلیوں کا کب ہوگا نظارہ

سب انبیاء کے امام تُم پر ہو لاکھوں سلام
روضہ پہ آئے مجید
کہتا ہے یہ صبح و شام
زندگی میں آس کا نا ٹوٹے ستارہ

آتے ہیں آتے ہیں سرکار مدینہ
جہاں ذکر کیا جائے اُنکا

تشریف وہاں پر لاتے ہیں
آتے ہیں آتے ہیں سرکار مدینہ

آتے ہیں آتے ہیں سرکار مدینہ
جہاں ذکر کیا جائے اُنکا

ہے آمنہ پیارا خواب تیرا

تعبیر ہے یہ اللہ اللہ

ہے لعل تیرا محبوبِ خُدا

جبرائیل پیام سناتے ہیں

آتے ہیں آتے ہیں سرکار مدینہ
جہاں ذکر کیا جائے اُنکا

صدقے ہیں کبوتر آقا پر

طیبہ میں دیکھو یہ منظر

وہ صل علی سارے پڑه کر

جب پر اپنے پھیلاتے ہیں

آتے ہیں آتے ہیں سرکار مدینہ
جہاں ذکر کیا جائے اُنکا

آواز پانچ وقت لگاتی ہے مومنوں

آؤ نماز ہمکو بلاتی ہے مومنوں

آجاؤ مومنوں آجاؤ مومنوں

حی علي الصلاح کی آواز جب سنو

چلو نماز کے لیے ہر کام چھوڑدو

آواز پانچ وقت لگاتی ہے مومنوں

دو سب بڑوں کو پیار سے دعوت نماز کی

ڈالو تُم اپنے بچوں کو عادت نماز کی

آواز پانچ وقت لگاتی ہے مومنوں

بتلادو کیسے مِلتا ہے کیا کِیا نماز میں

حد یہ ہے کے رب سے مِلتا ہے بندہ نماز میں

آواز پانچ وقت لگاتی ہے مومنوں

فرمان مصطفیٰ ہے یہ دین کا سکون

ٹھنڈک ہے آنکھ کی یہ دِلوں کا سکون ہے

آواز پانچ وقت لگاتی ہے مومنوں

تبلیغ میں نماز کی مشغول میں رہوں

یہ ایک کام میرے خُدا عمر بھر کروں

آواز پانچ وقت لگاتی ہے مومنوں

عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا​
بے ٹھکانوں کو ٹھکانا مل گیا​

​فضلِ رب سے پھر کمی کس بات کی​
مل گیا سب کچھ جو طیبہ مل گیاگی

کشف رازِ مر رآنی یون ہوا
تُم ملے تو حق تعالٰی مل گیا


​اُن کے دَر نے سب سے مستغنی کیا​
بے طلب بے خواہش اِتنا مل گیا​

​ناخدائی کے لیے آئے حضور​
ڈوبتو نکلو سہارا مل گیا​

​دونوں عالم سے مجھے کیوں کھو دیا​
نفسِ خود مطلب تجھے کیا مل گیا​

​خلد کیسا کیا چمن کس کا وطن​
مجھ کو صحراے مدینہ مل گیا​

​آنکھیں پُرنم ہو گئیں سر جھک گیا​
جب ترا نقشِ کفِ پا مل گیا​

​ہے محبت کس قدر نامِ خدا​
نامِ حق سے نامِ والا مل گیا​

​اُن کے طالب نے جو چاہا پا لیا​
اُن کے سائل نے جو مانگا مل گیا​

​تیرے دَر کے ٹکڑے ہیں اور میں غریب​
مجھ کو روزی کا ٹھکانا مل گیا​

​اے حسن فردوس میں جائیں جناب​
ہم کو صحراے مدینہ مل گیا

عارض شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
عرش کی آنکھوں کے تارے ہیں وہ خوشتر ایڑیاں

جاں بجا پر تو فگن ہیں آسماں پر ایڑیاں

دن کو ہیں خورشید شب کو ماہ و اختر ایڑیاں

نجم گردوں تو نظر آتے ہیں چھوٹے اور وہ پاؤں

عرش پر پھر کیوں نہ ہوں محسوس لاغر ایڑیاں

دب کے زیرِ پا نہ گنجائش سمانے کو رہی

بن گیا جلوہ کفِ پا کا ابھر کر ایڑیاں

ان کا منگتا پاؤں سے ٹھکرادے وہ دنیا کا تاج

جس کی خاطر مرگئے منعم رگڑ کر ایڑیاں

دو قمر دو پنجئےخور دو ستارے دس ہلال

ان کے تلوے پنجے ناخن پائے اطہر ایڑیاں

ہائے اس پتھر سے اس سینہ کی قسمت پھوڑیے

بے تکلف جس کے دل میں یوں کریں گھر ایڑیاں

تاج روح القدس کے موتی جسے سجدہ کریں

رکھتی ہیں واللہ وہ پاکیزہ گوہر ایڑیاں

ایک ٹھوکر میں احد کا زلزلہ جاتا رہا

رکھتی ہیں کتنا وقار اللہ اکبر ایڑیاں

چرخ پر چڑھتے ہی چاندی میں سیاہی آگئی

کرچک…

آیا نہ ہوگا اس طرح رنگ و شباب ریت پر
گُلشنِ فاطمہ کے تھے سارے گُلاب ریت پر

جانِ بتول کے سِوا کوئی نہیں کھِلا سکا
قطرئے آب کے بغیر اتنے گُلاب ریت پر

ترسے حُسین آب کو میں جو کہوں تو بے ادب
لمسِ لبِ حُسین کو تَرسا ہے آب ریت پر

عشق میں کیا لٹائیے عشق میں کیا بچا ئیے
آلِ نبی نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر

لذت سوزش بلال شوق شہادت حُسین
جس نے لیا یونہی لیا اپنا خطاب ریت پر

جتنے سوال عشق نے آل رسول سے کیے
ایک سے بڑھ کے ایک دیا سب نے جواب ریت پر

آل ِ نبی کا کام تھا آلِ نبی ہی کر گئے
کوئی نہ لکھ سکا ادیب ایسی کتاب ریت پر

آیا رمضان کا مہینہ قافلہ چلا سوئے مدینہ
مُجھے بھی دو اذن مدینہ آنے کی سرکار مدینہ

مُجھے نا آیا بلاوا کِتنی ہے دل میں تمنّا
کاش آقا میں دیکھ لیتا بہار رمضان مدینہ

میری قِسمت کو بھی خدارا تُم سجانا
حسنین کے صدقے میں دکھانا بار بار مدینہ

کہاں جاؤں کہاں دامن پساروں میں مالکِ مدینہ
آس لگائی ہم نے تمہارے در سے اے شہنشاہِ مدینہ

کہیں ایسا نہ ہو سینے میں دفن کر کے غم مدینہ
میں دُنیا سے چلا جاؤں بن دیکھے ہی مدینہ

غموں کے سیلاب میں ڈوبا جا رہا ہوں سلطانِ مدینہ
للہ امداد کو آؤ میری سرور مدینہ

اس سال ضرور مُجھ آسی کو سرکار بلانا
روزائے انور اور گنبدِ خضریٰ دکھانا

چمکا کر میری آنکھوں جلوہ دکھا دینا
دیکھ لوں آنکھ بھر کے تمکو شاہ مدینہ

دُنیا کی محبت دل سے نکل جائے آقائے مدینہ
راہِ چشمِ نم دل میں بس غمِ مدینہ

مانا کے نہیں قابل ہوں جو دیکھوں تمہارا مدینہ
پھِر لاؤں …

آئے آقا مدنی آقا
پیارے پیارے پیارے آقا

اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ

آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی تازہ بہار
پڑتے ہیں صل اللہ و سلم آج در و دیوار مدنی

اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ

بارہ ربیع الاول کو وہ آیا در یتیم
ماہ نبوت مہر رسالت
صاحب خلق عظیم نبی جی

اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ

نوری صورت ہنستا چہرہ
منہ سے جھڑتے پھول
نور سراپا چاند سا چہرہ
حق کا پیارا رسول عربی

اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ

جبرائیل آئے جھولا جلانے
لوری دے ذی شان
سو جا سو جا رحمت عالم دو جگ کے سلطان مدنی

اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ

اول و آخر سب کُچھ جانے
دیکھے بعید و قریب
غیب کی خبریں دینے والا
اللہ کا وہ حبیب مدنی

اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ

حامد و محمود و محمد
دو جگ کے سردار
جان سے پیارا راج دلارا
رحمت کی سرکار مدنی

اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ

آئے آقا مدنی آقا
پیارے پیارے پیارے آقا
اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ

اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی

جیسے میرے سرکار ہیں ایسا نہیں کوئی

اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی

تم سا تو حسیں آنکھ نے دیکھا نہیں کوئی

یہ شان لطافت ہے کہ سایہ نہیں کوئی

اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی

اے ظرف نظر دیکھ مگر دیکھ ادب سے

سرکار کا جلوہ ہے تماشہ نہیں کوئی

اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی

ہوتا ہے جہاں ذکر محمد کے کرم کا

اس بزم میں محروم تمنا نہیں کوئی

اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی

اعزاز یہ حاصل ہے تو حاصل ہے زمیں کو

افلاک پہ تو گنبد خضرا نہیں کوئی

اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی

سرکار کی رحمت نے مگر خوب نوازا

یہ سچ ہے کہ خالد سا نکما نہیں کوئی

Be khud kiye dete hai

Aa gaye aa gaye Mustafa aa gaye

Aa jaye bulawa mujhe Aaqa tera dar se

Dang hai sab dekh kar Aadha idhar

Aaj Muhammad Aaye morey ghar

Aaj ashk mere naat sunaye to ajab kiya

Aaj muslim tera mehmaan chal diya

Aaqa ko pukar bande

Aakhri umar me kiya ronaqe dunia denkhun

Aala hazrat ka danka bajega

Aamal nahi kuch bhi ye haal hamara hai

Aane walon ye to batao

Aankhen ro ro ke sujane wale

Aankhen poor noor karun dekh ke chehra tera

Aankhon ka tara naame

Aao ahle shariat batayen tumhe

Aamade Mustafa se hai phoola phala chaman

Aawo mere nabi ki shan suno

Aao Aao sar ko jhukayen

Aap shan e risalat hai parwane hai hum

Aaqa ka milaad Aaya

Damade Mustafa hai woh jawze batool

Izn kardo Ataa dar pe…

URDU COMPLETE
________

Be khud kiye dete hai

Aa gaye aa gaye Mustafa aa gaye

Aa jaye bulawa mujhe Aaqa tera dar se

Dang hai sab dekh kar Aadha idhar

Aaj Muhammad Aaye morey ghar

Aaj ashk mere naat sunaye to ajab kiya

Aaj muslim tera mehmaan chal diya

Aaqa ko pukar bande

Aakhri umar me kiya ronaqe dunia denkhun

Aala hazrat ka danka bajega

Aamal nahi kuch bhi ye haal hamara hai

Aane walon ye to batao

Aankhen ro ro ke sujane wale

Aankhen poor noor karun dekh ke chehra tera

Aankhon ka tara naame

Aao ahle shariat batayen tumhe

Aamade Mustafa se hai phoola phala chaman

Aawo mere nabi ki shan suno

Aao Aao sar ko jhukayen

Aap shan e risalat hai parwane hai hum

Aaqa ka milaad Aaya

Damade Mustafa hai woh jawze batool

Izn kardo Ataa dar pe…

سخی شاہ باز قلندر

دھوم ہے گھر گھر تمہاری اے سخي شاہ باز قلندر

جولیا بھردو ہماری اے سخي شاہ باز قلندر

جولیا بھردو ہماری اے سخي شاہ باز قلندر

نام تیرا لال مولیٰ مشکلوں کو ٹال مولیٰ
دفع کر عافت ہماری اے سخي شاہ باز قلندر

جولیا بھردو ہماری اے سخي شاہ باز قلندر

آئے ہیں در پر تمہارے اپنے دامن کو پسارے
التجا سن ہماری اے سخي شاہ باز قلندر

جولیا بھردو ہماری اے سخي شاہ باز قلندر

لو صدا نام قلندر اور پیو جام قلندر

ہر گھڑی ہر دم ہو جاری اے سخي شاہ باز قلندر

جولیا بھردو ہماری اے سخي شاہ باز قلندر

آپکا دربارِ عالی بھیک ہے سب سے نرالی
فیض پاتی خلق ساری اے سخي شاہ باز قلندر

جولیا بھردو ہماری اے سخي شاہ باز قلندر

اے سخي اپنے کرم سے مُجھکو بھی شاداب کر دے

ہیں علیم ادنا بھکاری اے سخي شاہ باز قلندر

اہلِ صراط رُوحِ امیں کو خبر کریں
جاتی ہے اُمتِ نبوی فرش پر کریں

اِن فتنہ ہائے حشر سے کہدو حَذر کریں
نازوں کے پالے آتے ہیں رہ سے گزر کریں

بد ہیں تو آپ کے ہیں بھلے ہیں تو آپ کے
ٹکڑوں سے یَہاں کے پلے رُخ کِدھر کریں

سرکار ہم کمینوں کے اطوار پر نہ جائیں
آقا حضور اپنے کرم پر نظر کریں

ان کی حرم کے خار کشیدہ ہیں کس لئے
آنکھوں میں آئیں سر پہ رہیں دل میں گھر کریں

جالوں پہ جال پڑ گئے لِلہ وقت ہے
مشکل کشائی آپ کے ناخن اگر کریں

منزل کڑی ہے شان تبسّم کرم کرے
تاروں کی چھاؤں نور کے تڑکے سفر کریں

کلک رضا ہے خنجرِ خونخوار برق بار
اعدا سے کہدو خیر منائیں نہ شر کریں

احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی
خورشید علم اُنکا درخشاں آج بھی

عرصہ ہوا وہ مردِ مجاہد چلا گیا
سنیوں میں اِک سوزشِ پنہاں ہے آج بھی

ایمان پا رہا ہے حلاوت کی نعمتیں
اور کُفر تیرے نام سے لرزہ ہے آج بھی

کس طرح اتنے علم کے دریا بہا دیے
علمائے حق کی عقل تو حیراں ہے آج بھی

مغموم اہلِ علم نا ہو کیوں تیرے لیے
جب علم خود ہی سر بہ گریباں ہے آج بھی

بھر دی دِلوں میں اُلفت و عظمت رسول کی
جو مخزن حلاوت ایمان ہے آج بھی

تُم کِیا گئے کے رونقِ محفل چلی گئی
شیر و ادب کی زُلف پریشاں ہے آج بھی

عالم کی موت کہتے ہیں عالم کی موت ہے
اپنے کیے پہ موت پشیماں ہے آج بھی

وابستگان کیو ہو پریشان اُن پہ جب
لطف و کرم اُنکا داماں ہے آج بھی

للہ اپنے فیض سے اب کام لیجیے
فتنوں سے سر اٹھانے کا امکاں ہے آج بھی

طیبہ میں اُسکی ذات سلامت رہے کہ جو
تیری امانتوں کا نگہاں ہے آج بھی

مرزا سر نیاز جھکاتا ہے اِس لئے
علم و ادب آپ کا احساں ہے آج بھی