Naat Urdu

Naat Urdu

آ جائے بلوا مجھے آقا تیرے دَر سے

آ گئے آ گئے مصطفیی آ گئے

اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نور باری حجاب میں ہے

آج اشک میرے نعت سنائے تو عجب کیا ہے

آج محمد آئے مو رے گھر

آج مسلم تیرا مہمان چل دیا

اَصَّلَاۃُ وَالسَّلام اے سرور عالی مقام

اعلیٰ سے اعلیٰ رفعت والے

آقا کو پکار بندے آقا کو پکار

آقا لے لو سلام اب ہمارا

الاماں قہر ہے اے غوث وہ تیکھا تیرا

اللہ اللہ شہ قونین جلالت تیری

الله الله کے نبی سے

اللہ کی سر تا بقدم شان ہیں یہ

اللہ میرا دہر میں اعلیٰ مقام ہو

اللہ میرا دہر میں اعلیٰ مقام ہو

اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں

المدد المدد المدد یا خُدا

امتان وسیاہ کار یہا

ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں

انبیاء کو بھی اجل آنی ہے

اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے

آنکھیں بھگو کے دِل کو ہلا کر چلے گئے

آنکھیں رو رو کے سوجانے والے

آہ پورا مرے دل کا کبھی ارماں ہوگا

اہل صراط روح امیں کو خبر کریں

اے شافعِ اُمَم شہِ ذی جاہ لے خبر

اے شافع تر دامناں وے چارہ درد نہاں

ایمان یہ قال مصطفائی

بخت خفتہ نے مجھے روضہ پہ جانے نہ دیا

بدل یا فرد کو کامل ہے یاغوث

برتر قیاس سے ہے مقام ابو الحسین

بکار خویش حیرانم اغثنی یا رسول الله

بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر

بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

بے خود کیے دیتے ہیں

پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم

پڑھوں وہ مطلعِ نوری ثنائے مہرِ انور کا

پل سے اتارو راہ گذر کو خبر نہ ہو

پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب

پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں

پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفی کے یوں

پیش حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے

تجلی نور قِدَم غوث اعظم

ترا جلوہ نور خدا غوث اعظم

ترا ذرہ مہ کامل ہے یاغوث

تم پر لاکھوں سلام

تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک

تو شاہِ خوباں تو جانِ جاناں ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا

تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا

ثَوَی الْمُفْتِی الْعُظَامُ مُخِلَّدًا

جو تیرا طفل ہے کامل ہے یاغوث

جو خواب میں کبھی آئیں حضور آنکھوں میں

جوبنوں پر ہے بہارِ چمن آرائیِ دوست

چارہ گر ہے دل تو گھائل عشق کی تلوار کا

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

چمن طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسو

حاجیو آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو

حبیب خدا نظارا کروں میں

حرز جاں ذکر شفاعت کیجئے

حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ

خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا

خوشا دلے کہ دہندش ولائے آل رسول

دشمن احمد پہ شدت کیجئے

دل کو ان سے خدا جدا نہ کرے

دنگ ہیں سب دیکھ کر آدھا اِدھر آدھا اُدھر

دو جہاں میں کوئی تم سا دوسرا ملتا نہیں

دو نوجوان سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی محفل میں داخل ہوتے ہی

ذرے جھڑ کر تیری پیزاروں کے

راہ پر خار ہے کیا ہونا ہے

راہ عرفاں سے جو ہم نادیدہ رو محرم نہیں

رخ دن ہے یا مہر سماں یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

رسل انہیں کا تو مژدہ سنانے آئے ہیں

رسولَ اللّٰہ یا کنزَ الأمانی. علی أعتابکم وقف المُعانی

رشک قمر ہوں رنگ رخ آفتاب ہوں

رونق بزم جہاں ہے عاشقان سوختہ

زائرو پاس ادب رکھ ہوس جانے دو

زعکست ماہ تاباں آفریدند

زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہد گل کو

زمین و زماں تمہارے لئے مکین تمہارے لئے

زہے عزّت و اعتلائے محمدﷺ

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبیﷺ

سبھی خوش ہیں خدائی بھی خُدا بھی

سرتا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول

سرسوئے روضہ جھکا پھر تجھ کیا

سرور کہوں کے مالک و مولیٰ کہوں تجھے

سقانی الحب کاسات الوصال

سنتے ہیں کہ محشر میں صرف ان کی رسائی ہے

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے

شکر خدا کہ آج گھڑی اس سفر کی ہے

شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا

صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا

طلب کا منہ تو کس قابل ہے یاغوث

طوبیٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ

عارض شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں

عارف باللہ حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ

عرش حق ہے مسند نعت رسول اللہ کیﷺ

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسماں ہے

عشق مولیٰ میں ہوں خونبار کنار دامن

علی مولا علی مولا

غم ہوگئے بے شمار آقا

فکر اَسفل ہے مری مرتبہ اعلیٰ تیرا

قافلے نے سوئے طیبہ کمر آرائی کی

قفس جسم سے چھُٹتے ہی یہ پرّاں ہوگا

قلب عاشق ہوا پارہ پارہ

قلب کو اس کی رویت کی ہے آرزو

قلب کو اس کی رُویت کی ہے آرزو

کچھ ایسا کردے مرے کردگار آنکھوں میں

کس کے جلوہ کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے

کعبے کے بدر الدجی تم پہ کروڑوں درود

کن کا حاکم کر دیا اللہ نے سرکار کو

کھلا میرے دل کی کلی غوث اعظم

کون ایسا ہے جسے خیرِ وَریٰ نے نہ دیا

کیا ٹھیک ہو رخ نبوی پر مثال گل

کیا مہکتے ہیں مہکنے والے

کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمہاری واہ واہ

کیسے کاٹوں رتیاں صابر

کیف الوصول صاحِ لدی الشامخ الأشم

گزرے جس راہ سے وہ سید والا ہوکر

گنہ گاروں کو ہاتف سے نوید خوش مآلی ہے

لَا مَوْجُوْدَ اِلَّا اللہ

لحد میں عشق رخ شہ کا داغ لے کے چلے

لطف اُن کا عام ہو ہی جائے گا

لَمْ یَاتِ نَظِیْرُکَ فِیْ نَظَرٍ مثلِ تو نہ شد پیدا جانا

مالکِ دُنیا قادر تُو حاضر تُو

ماہِ تاباں تو ہوا مہرِ عجم ماہِ عرب

ماہ طیبہ نیر بطحا صلی اللہ علیک وسلم

محمد مظہرِ کامل ہے حق کی شانِ عزّت کا

مژدہ باد اے عاصیو شافع شہ ابرار ہے

مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام

مقبول دعا کرنا منظور ثنا کرنا

مومن وہ ہے جو ان کی عزت پہ مرے دل سے

میرا گھرغیرت خورشیدِ درخشاں ہوگا

نار دوزخ کو چمن کردے بہار عارض

نبی سرور ہر رسول ولی ہے

نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے

نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا

نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا

نہ عرش ایمن نہ انی ذاھب میں میہمانی ہے

ھادیَ السبلِ یا مَنار سَلام عددَ البرِّ والبِحارِ سَلام

ہم اپنی حسرت دل کو مٹانے آئے ہیں

ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا

ہے تم سے عالم پر ضیا ماہِ عجم مہر عرب

ہے کلام الٰہی میں شمس و  ضحی ترے چہرہٴ نور فزا کی قسم

ہے لب عیسیٰ سے جاں بخشی نرالی ہاتھ میں

واہ کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا

وصف رخ ان کا کیا کرتے ہیں شرح و الشمس وضحی کرتے ہیں

وصف کیا لکھے کوئی اس مہبط انوار کا

وہ سرور کشور رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں

وہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں

وہابیﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ

وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا

یا خدا بہر جناب مصطفی امداد کن

یا شہید کربلا یا دافع کرب وبلا

یَا مُجِیْبُ یا مُجَابُ. أنتَ نِعْمَ المُستَنَابٗ. یَا رَسولَ اللّٰہِ حقّاً

یاالٰہی رحم فرما مصطفی کے واسطے

یاالٰہی ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو

یاد میں جس کی نہیں ہوش تن و جاں ہم کو

یاد وطن ستم کیا دشت حرم سے لائی کیوں

یہ کس شہنشہِ والا کی آمد آمد ہے