fatwa online | Islamic law | sharia law rules | Part 10

Shabe barat me namaze istikhara ba jamat ada karna kesa he?

 نماز استخارہ من وجہ نوافل سے ہے اور نوافل کی جماعت تداعی کے ساتھ مکروہ تنزیہ ہے
حضور سرکار اعلی حضرت نے نفل کی جماعت کے متعلق فرمایا:
استسقاء کے سوا ہر نماز نفل و تراویح وکسوف کے سوا ہر نماز سنت میں ایسی جماعت جس میں چار یا زیادہ شخص مقتدی بنیں مکروہ ہے اور وتروں کی جماعت غیررمضان میں اگراتفاقاً کبھی ہوجائے توحرج نہیں مگر التزام کے ساتھ وہی حکم ہے کہ چاریازیادہ مقتدی ہوں توکراہت ہے

؎ درمختار باب الاستسقائ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ /۱۱۸)

سئلہ کی اصل یہ ہے کہ جب نوافل کی جماعت علٰی سبیل التداعی ہو تو صدرشہید کی اصلمیں ہے کہ یہ مکروہ ہے لیکن اگر مسجد کے گوشے میں بغیر اذان و تکبیر نفل کی جماعت ہوئی تو کراہت نہیں، اور شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا کہ اگرامام کے علاوہ تین افراد ہوں توبالاتفاق کراہت نہیں اور اگرمقتدی چارہوں تواس میںمشائخ کااختلاف ہے، اور اصح کراہت ہے(ت)

(۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس عشرالخ مطبوعہ مطبع منشی نولکشور لکھنؤ ۱ /۱۵۴)

بالجملہ دو مقتدیوں میں بالاجماع جائز اور پانچ میں بالاتفاق مکروہ، اور تین اور چارمیں اختلاف نقل ومشائخ، اوراصح یہ کہ تین میں کراہت نہیں چار میں ہے، تومذہب مختار یہ نکلا کہ امام کے سوا چار یا زائد ہوں توکراہت ہے ورنہ نہیں، ولہٰذا دررو غرر پھر درمختارمیں فرمایا:

یکرہ ذلک لوعلی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد۲؎۔

اگرنفل کی جماعت علٰی سبیل التداعی ہو بایں طورپرکہ چارآدمی ایک کی اقتداء کریں تومکروہ ہے(ت)

(۲؎ درمختار آخرباب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ /۹۹)

پھر اظہریہ کہ یہ کراہت صرف تنزیہی ہے یعنی

خلاف اولٰی لمخالفۃ التوارث

(کیونکہ یہ طریقہ توارث کے خلاف ہے۔ت) نہ تحریمی کہ گناہ وممنوع ہو،

ردالمحتارمیں ہے:

فی الحلیۃ الظاھر ان الجماعۃ فیہ غیرمستحبۃ ثم ان کان ذلک احیانا کان مباحا غیرمکروہ وان کان علی سبیل المواظبۃ کان بدعہ مکروھۃ لانہ خلاف المتوارث ۱ھ ویؤید ایضا مافی البدائع من قولہ ان الجماعۃ فی التطوع لیست بسنۃ الا فی قیام رمضان۱ھ فان نفی السنیۃ لایستلزم الکراھۃ ثم ان کان مع المواظبۃ کان بدعۃ فیکرہ وفی حاشیۃ البحر للخیر الرملی علل الکراھۃ فی الضیأ والنھایۃ بان الوتر نفل من وجہ والنفل بالجماعۃ غیرمستحب لانہ لم تفعلہ الصحابۃ فی غیررمضان۱ھ وھو کالصریح فی انھا کراھۃ تنزیہ تأمل۱؎اھ اھ مختصرا۔

حلیہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ نفل میں جماعت مستحب نہیں پھر اگرکبھی کبھی ایسا ہو تو یہ مباح ہے مکروہ نہیں اور اس میں دوام ہو توطریقہ متوارث کے خلاف ہونے کی وجہ سے بدعت مکروہ ہے اھ اس کی تائید بدائع کے اس قول سے بھی ہوتی ہے کہ جماعت، قیام رمضان کے علاوہ نوافل میں سنت نہیں اھ کیونکہ نفی سنیت کراہت کومستلزم نہیں پھر اگر اس میں دوام ہو تو یہ بدعت ومکروہ ہوگی، خیررملی نے حاشیہ بحر میں کہا کہ ضیاء اور نہایہ میں کراہت کی علت یہ بیان کی ہے کہ وتر من وجہ نفل ہیں اور نوافل کی جماعت مستحب نہیں کیونکہ صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین نے رمضان کے علاوہ وتر کی جماعت نہیں کرائی اھ یہ گویا اس بات کی تصریح ہی ہے کہ جماعت مکروہ تنزیہی ہے تامل اھ اھ اختصاراً(ت)

(۱؎ ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۴۸)

صلٰوۃ الرغائب وصلٰوۃ البرائۃ وصلٰوۃ القدر

کہ جماعات کثیرہ کے ساتھ بکثرت بلاداسلام میں رائج تھیں متأخرین کا اُن پر انکار اس نظر سے ہے کہ عوام سنت نہ سمجھیں ولہٰذا وجیزکردری میں بعد بحث و کلام فرمایا:

فلوترک امثال ھذہ الصلوات تارک لیعلم الناس انہ لیس من الشعار فحسن۲؎۔

اگرنمازوں کوکوئی اس لئے ت…

Molana Sarfaraz Mahesana

Nafla namaz ki jamaat makruh he magar baaz jagah logo ki asaani k liye badi ratoo me salatut tasbih ki jamaat karaai jaati he to kiya usme qiraat zor se karenge ya aahistaa?

Mo Ashraf:

Plastic ki topiya jo masjidon main rakhi hoti hain unko pahan kar namaz parhna kaisa hai?

پلاسٹیک کی ٹوپی محترم محافل و مجالس میں نہیں پہنی جاتی اور نا ہی عوام و خواص بطور زینت پہنتے ہیں ۔ اس لئے محض بوجہ کسل کہ مسجد جاکر میلی کچیلی پرانی جیسی ملی , پہنکر نماز پڑھلی ایسی ٹوپی پہنکر نماز مکروہ تنزیہ ہوگی جیسا کہ کام کاج کے پڑوں میں نماز مکروہ ہے ۔ ایسے ہی ایک مسئلہ میں حضور سرکار اعلی حضرت نے فرمایا فانہ اِذَنْ من ثیاب مھنۃ والصلاۃ فیھا مکروھۃ (کیونکہ یہ اس کے کام کاج والے کپڑے ہوں گے اور ان کے ساتھ نماز ادا کرنا مکروہ ہے۔ت) جب وہ ذی علم ہے اور اسے سمجھایا جائے کہ دربار الہٰی بازار سے زیادہ قابلِ تعظیم و تذلّل ہے [ج 6 ص 159]

Aasif Razavi:

سوال :– کسی غلطی پر جرمانہ عائد کرنا کیسا ہے؟

HASAN PATHAN:

کسی غلطی پر جرمانہ یعنی تعزیر بالمال ناجائز و حرام ہے. بہار شریعت ح 9 تعزیر کا بیان اور فتاوی رضویہ شریف ہے “

جرمانہ کے ساتھ تعزیر کہ مجرم کا کچھ مال خطا کے عوض لے لیا جائے منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں کما حققہ الامام الطحاوی رحمہ اﷲ تعالٰی والمسألۃ فی الدرالمختار وغیرہ وقد بیناھا علی ھامش ردالمحتار (جیسا کہ اس کی تحقیق امام طحاوی رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمائی، اور یہ مسئلہ درمختار وغیرہ میں ہے____اور ہم نے اس کو ردالمحتار کے حاشیہ میں بیان کیا ہے۔ت

تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں۔ درمختار میں ہے:

لاباخذ مال فی المذھب ۱؎ بحر۔

مال لینے کا جرمانہ مذہب کی رُو سے جائز نہیں ہے۔ بحر (ت)

(۱؎ درمختار باب التعزیر    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۳۲۶)

اُسی میں ہے:وفی المجتبٰی انہ کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ ۲؎۔

اور مجتبٰی میں ہے کہ ابتدائے اسلام میں تھا، پھر منسوخ کردیا گیا۔ (ت)

(۲؎  درمختار باب التعزیر    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۳۲۶)

ردالمحتار میں بحر سے ہے: وافاد فی البزازیۃ، ان معنی التعزیر باخذ المال، علی القول بہ، امساک شیئ من مالہ عندہ مدۃ لینزجر، ثم یعیدہ الحاکم الیہ، لا ان یاخذہ الحاکم لنفسہ اولبیت المال، کمایتوھمہ الظلمۃ، اذلایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی۱؂

اور بزازیہ میں افادہ کیا ہے کہ مالی تعزیر کا قول اگر اختیار کیا بھی جائے تو اس کا صرف اتنا ہی مطلب ہے کہ اس کا مال کچھ مدّت کے لئے روک لینا تاکہ وہ باز آجائے، اس کے بعد حاکم اس کا مال لوٹادے، نہ یہ کہ حاکم اپنے لیے لے لے یا بیت المال کیلئے، جیسا کہ ظالم لوگ سمجھتے ہیں، کیونکہ شرعی بسبب کے بغیر کسی کا مال لینا مسلمان کے لئے روا نہیں۔ (ت)

(۱؎ ردالمحتار    باب التعزیر    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۳/۱۹۵ )

ج 5 ص 11

Hamid Raza Bhagad:

السلام عليكم

سوال: کیا رضائی بہن سے شادی جائز ہے؟؟اور اگر کرے گا تو؟؟

 

HASAN PATHAN:

رضاعی بہن سے نکاح جائز نہیں اور علم ہوتے ہوے کرے گا تونکاح نہ ہوگا البتہ حکم خداوندی کا مخالف اور سخت گناہ کبیرہ مرتکب ہوگا.
اللہ حاکم المطلق کا حکم گرامی ہے. ” قال اللہ تعالٰی: واخواتکم من الرضاعۃ ۱؎

(اور تمھاری رضاعی بہنیں ۔ ؎ القرآن الکریم -سورۃالنساء ایہ ۲۳) اور صحیح مسلم میں حضرت مولی علی رضی اللہ تعالى عنه سے مروی – رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے فرمایا : بیشک اللہ تعالی نے رضاعت سے انہیں حرام کردیا جنہیں نسب سے حرام فرمایا (مشکاۃ المصابیح- کتاب النکاح – باب المحرمات ) اور امام بخاری رحم اللہ علیہ حضرت عاءشہ رضی اللہ تعالى عنہا سے راوی ” و عورتیں ولادت سےحرام ہیں, وہ رضاعت سے حرام ہیں.” ( مشکاۃ المصابیح کتاب النکاح ) یساہی ( فتاوی رضویہ شریف ج 11ص131 اور بہار شریعت حصہ 7 محرمات کے بیان) میں ہے.

Aasif Razavi:

سوال :– مسجد میں جو پانی پینے کے لئے بھرا ہوا ہوتا ہے اس کو بوتل میں بھر کر باہر جا کر پینا کیسا ہے؟

HASAN PATHAN:

الجواب : اس مسئلہ کے حکم کا دارومدار عرف ہے اور ہمارے یہاں عرف یہ ہے کہ صرف نمازیوں کے پینے کے لئے رکھا جاتا ہے لہزا اپنے گھر لےجانا جائز نہیں. ہاں اگر کہیں عرف اسکے برخلاف ہو تو اس صورت میں اجازت ہے خواں وہ پانی وقف کی آمدنی سے ہو یا کسی نے اپنے مال سے پانی بھرواکر سب کے لئے مباح کر رکھا ہو جیسے آب سبیل یا مباح صرف نمازیوں کے لۓ ہو لیکن مالک دہندہ سے گھر لے جانے کی اجازت حاصل کر لے ۔ فتاوي رضويہ شریف ج 2 ص 125 میں ہے ” پھر خانیہ اور ہندیہ کے کتاب الشرب میں ہے کہ اگر کوئی شخص سقایہ کا پانی اپنے گھر بیوی بچّوں کو پلانے کیلئے لے جائے تو جائز ہے اھ تو اس سے مراد وہ پانی ہے جو خاص پینے ہی کیلئے رکھا گیا ہو، عبارت کا اوّل وآخر یہی بتاتا ہے۔ اس میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ _سقایہ_ کے پانی سے وضوء جائز ہے یا نہیں، بعض نے جواز کا قول کیا، اور بعض نے کہا کہ اگر پانی زائد ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں۔ اور یہی حکم ہر اُس پانی کیلئے ہے جو پینے کیلئے رکھا گیا ہو، یہاں تک فقہاء نے اُس حوض کی بابت بھی یہی فرمایا ہے جو پینے کیلئے بنایا گیا ہو کر اُس میں وضوء جائز نہیں، اور اگر کوئی کرے تو اس کو منع کیا جائیگا، اور یہی صحیح ہے۔ اور یہ جائز ہے کہ وہ پانی گھر لے جائے الخ اس کی بنیاد یہ ہے کہ جو پانی پینے کیلئے رکھا جائے اس سے پردہ نشینوں کو محروم نہ رکھا جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ اصل دارومدار عُرف پر ہے۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ سبیل کا پانی پینے کیلئے ہے اور وہی لوگ اس سے استفادہ کرسکیں گے جو اس پر وارد ہوں تو ایسے پانی کو گھر نہیں لے جایا جاسکتا ہے بلکہ اگر بطور خاص گزرنے والوں کیلئے ہے تو دوسرے وارد ہونے والوں کو اُس کا استعمال جائز نہ ہوگا، چنانچہ بعض جاہل محرّم کے عشرہ میں پانی یا دُودھ کی سبیل تعزیہ کے ساتھ گزرنے والوں کے لئے بطور خاص لگاتے ہیں، یہ بدعث محدثہ ہے، اس کا استعمال دوسروں کو جائز نہیں بلکہ اگر ایک تعزیہ کے لئے جائز ہے تودوسرے تعزیہ کے شرکاء کو اس کا استعمال جائز نہیں واللہ تعالٰی اعلم۔ بزازیہ میں ہے (متفرقات کراہیۃ میں) (ت) سِقایہ کا پانی گھر والوں کیلئے لے جانا اگر اُس کی اجازت ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں اھ اور یہ بعینہٖ وہی ہے جو میں نے کہا ہے وللہ الحمد (ت)

(۱؎ ہندیۃ الباب الاول من کتاب الشرب پشاور ۵/ ۳۹۱)

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.