ہر دم برس رہے ہیں انوار مدرسوں میں
آکر تو دیکھیے نا ایک بار مدرسوں میں

ہر پل محبتوں کا اظہار مدرسوں میں
گفتار مدرسوں میں کردار مدرسوں میں

دن بھر تلاوتیں ہیں شب بھر عبادتیں ہیں
ہوتا نہیں کوئی دن اتوار مدرسوں میں

تنخواہ چهوٹی موٹی گهر بھی کرائے والے
ہیں فاقہ مست پهر بھی سرشار مدرسوں میں

اپنی کوئی ضرورت کہتے نہیں کسی سے
ہوتے ہیں یوں بهی دیکهو خوددار مدرسوں میں

دیکهو سبق وفا کا دیتے ہیں رات دن ہم
تم سوچتے ہو ہونگے غدار مدرسوں میں

ترکاری کاٹنے کی چھریاں تلک نہیں ہیں
کچه لوگ ڈھونڈتے ہیں تلوار مدرسوں میں

ہم نے کبھی پٹاخے چھوڑے نہیں ہیں بھائ
تم کو کہاں ملیں گے بمبار مدرسوں میں

دل کو کوئ کھٹک ہو شک ہو کسی طرح کا
آجاو موسٹ ویلکم سوبار مدرسوں میں

آزادیوں کے نعرے ہم نے عطا کئے تھے
ہیں مادر وطن کے معمار مدرسوں میں

پندرہ اگست ہو یا چھبیس جنوری ہو
ہوتا ہے جشن جیسا تیوہار مدرسوں میں

تسبیح جا نما ز یں قرآن اور کتابیں
اس کے علاوہ کیا ہے اے یار مدرسوں میں

محسوس خود ہی ہوگاسچ کیاہے جھوٹ کیاہے
تم آکے پاس بیٹھو اک بار مدرسوں میں

اپنی عنایتوں کو اپنے ہی پاس رکھئے
کیجے مداخلت نہ سرکار مدرسوں میں

ایسا نہ کام کرنا جس سے کسی کو دکھ ہو
ہم سے لیا بڑوں نے اقرار مدرسوں میں

سوتی ہے قوم ساری ہم پر بھروسہ کر کے
رہتے ہیں رات دن ہم بیدار مدرسوں میں

بدنام کرنے والو اب ہوش میں بھی آجاو
ہم لوگ بن نہ جائیں انگار مدرسوں میں

ہر سمت ہر جگہ ہے تبدیلیوں کا موسم
مولا رہے سلا مت معیار مدرسوں میں

اب اپنی زندگی کا کوثر خدا ہی حافظ
ہم نےتو پھونک ڈالےگھر بار مدرسوں میں.

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.