Islamic Online Fatwa – Part 1

کیا فرماتے علمائے دین و مفتیان کرام مسئلے ذیل میں کہ جن وقتوں میں نفل نماز مکروہ ہے کیا ان وقتوں میں قضا بھی مکروہ ہے جواب عنا یت فرماٸیں؟
المستفتی : عاطف برکاتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب صبح صادق کے بعد سے طلوع آفتاب تک اورعصر کی نماز کے بعد سے غروب آفتاب تک نفل نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، البتہ ان دونوں وقتوں میں قضائے عمری پڑھنا درست ہے؛ لیکن سورج نکلنے اور غروب ہونے کے وقت قضاء نماز پڑھنا بھی مکروہ ہے جیسا کہ قال الحصکفى ” وکرہ نفل بعد صلاة فجر و صلاة عصر لایکرہ قضاء فائتة ، وکذا بعد طلوع فجر سوی سنته إلخ ․ قال ابن عابدین قولہ : ” کرہ “ کراهة تحریمیة ، کما صرح به فى الحلبة و قولہ : ” بعد صلاة فجر وعصر ” أي إلی ما قبل الطلوع و التغیر ․ و قال الحصکفي ” وکرہ تحریما صلاة مطلقًا ولو قضاءً أو واجبة أو نفلاً مع شروق و استواء وغروب ” اھ ( الدر المختار مع رد المحتار ج 2 ص 37 / 30 ) وکذا فى الفتاوی الہندیة ج 1 ص 109 ، کتاب الصلاة ، الأوقات التی تکرہ فیہا الصلاة ، زکریا دیوبند) اور ایسا ہی بہار شریعت میں ہے کہ ” طلوع و غروب نصف النہار ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں نہ فرض نہ واجب نہ نفل نہ ادا نہ قضا یوہیں سجدہ تلاوت و سجدہ سہو بھی ناجائز ہے البتہ اس روز اگر عصر کی نماز نہیں پڑھی تو اگر چہ آفتاب ڈوبتا ہو پڑھ لے مگر اتنی تاخیر کرنا حرام ہے ” اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 454 )

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313

 

لسلام علیکم
سوال = 12 شریف میں گھرکو سجانا روشنی کرنا لائٹ وغیرہ کا انتظام اچھی بات ہے
مگر چوری کی ہوئی لائٹ استعمال کرنا کیسا گھر. راستہ. مکان. دوکان. وغیرہ وغیرہ
الجواب بعون الملک الوہاب
گھر, راستہ, مکان, دوکان, کسی بھی جگہ چوری سے بجلی جلانا منع ہے اور بارہویں شریف کے موقع پر کار ثواب سمجھ کر ایسا کام کرنا اور زیادہ ممنوع کہ اس میں حکومت کو دھوکہ دینا اورقانون کے خلاف ہونے کی وجہ سے خود کو اہانت کیلئے پیش کرنانیز اپنی عزت کو خطرہ میں ڈالنا ہے اور عزت کی حفاظت کرنا اور خود کو ذلت و رسوائی سے بچانا ضروری ہے ـ
حضور مفتی اعظم ھند علیہ الرحمتہ اسی قسم کے ایک جواب میں تحریر فرماتے ہیں , “یہاں کفار اگر چہ حربی ہیں مگر بلاٹکٹ (ریل میں) سفر کرنا اپنے کو اہانت کیلئے پیش کرنا ہے اپنی عزت کو خطرہ میں ڈالنا ہے کہ خلاف قانون ہے ـ مستو جب سزا ہوگا ـ لھذا ایسی حرکت سے احتراز لازم جو موجب ذلت و رسوائی ہو( فتاوی مصطفویہ, حصہ سوم ص 146,فتاوی فقیہ ملت,ج1 ص 192) . واللہ اعلم بالصواب
سید سرفراز علی

مولد نبوی کے موقع سے کیک کاٹنا کیسا ہے؟؟؟

الجواب : حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ماہ میلاد مبارک میں یا آپ کی ولادت کی ساعت سعید کے موقع پر خوشیاں منانا ؛ عمدہ سے عمدہ کھانے مسلمانوں کو کھلانا صدیوں سے خوش عقیدہ مسلمانان عالم میں رائج و معمول اور بارگاہ رسالت میں مقبول ہے.
اور ظاہر ہے کہ کیک کاٹ کر بنیت حسن کھلانا بھی کارثواب اور بارگاہ رسالت میں اس کا ہدیہ کرنا یقینا محل قبول میں ہے. مگر کیک کاٹنے کو جو طریقہ مسلمانوں میں نصاری کی تقلید میں رائج ہوچکا ہے کہ محرم غیرمحرم بلا امتیاز اس موقع سے شریک ہوتے ہیں ؛ کیک میں نام لکھا جاتا ہے پھر خاص اس نام پر چھری چلائی جاتی ہے ؛ چاروں طرف سے تالیوں کے شور بپا ہوتے ہیں ؛ مخصوص طرز کے ساتھ نغمہ محرم و غیر محرم سب مل کر دھڑلے سےگاتے ہیں , یہ طریقہ البتہ ناجائز و گناہ اور تقلید یہود و نصاری ہے جس سے احتراز لازم ہے تو مولد النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے موقع سے یہ بدرجۂ اولی ممنوع و ناجائز ہوگا.
خلاصہ یہ کہ کیک کاٹ کر مسلمانوں کو کھلانا اپنی حد ذات میں جائز اور بنیت حسن, محمود و بنیت ایصال ثواب علی حسب المدارج مستحب و متبرک ہوجاتا ہے . اور طریقۂ معہودہ کے ساتھ ہو تو ممنوع و ناجائز ہے. واللہ تعالی اعلم

کتبہ محمد مزمل برکاتی

Islamic Online Fatwa – Part 1

جس ٹوپی میں کسی بزرگان دین کے گنبد کا نقشہ بنا ہو اس کو پہن کر بیت الخلاء میں جانا کیسا؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ آجکل ہم جو ٹوپی استعمال کرتے ہیں جس میں حضور خواجہ غریب نواز کا گنبد شریف ، حضور اعلیٰ حضرت کا گنبد شریف ، حضور تاج الشریعہ کا تاج شریف اور بھی بزرگوں مزاروں کے گنبد شریف نقش ہوتے ہیں کسی میں ہاتھ بھرت سے اور کسی میں مشین سے تو کیا ایسی نقش والی ٹوپی پہن کر بیت الخلاء وغیرہ میں جانا شرعاََ درست ہے؟؟؟؟

سائل : محمد ظہیر برکاتی احمدآباد گجرات

وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
الـجـوابـــ جس ٹوپی میں حضور غریب نواز یا حضور سیدی اعلیحضرت یا حضور تاج الشریعہ کا تاج یا دیگر بزرگوں کے مزارات کے گبند شریف کا نقش بنے ہوتے ہیں ایسی نقش والی ٹوپی پہن کر بیت الخلاء میں ہرگز نہ جائیں کہ بے ادبی ہے کیونکہ جس طرح ان مزارات کے گبند شریف کا ادب و احترام لازم و ضروری ہے اسی طرح اس کے نقوش کا بھی ادب و احترام لازم و ضروری ہے کیونکہ ادب و احترام کے سلسلے میں جو حکم اصل کا ہوتا ہے وہی حکم نقوش کا بھی ہوتا ہے جیسا کہ امام اہل سنت سیدی اعلیحضرت امام احمد رضا خان قدس سرہ

 فتاوی رضویہ ج 9 ص 150 نصف اول پر تحریر فرماتے ہیں کہ “

 علمائے دین نے نقشے کا اعزاز و عظام وہی رکھا ہے جو اصل کا رکھتے ہیں ” اھ

 ( ماخوذ فتاوی فقیہ ملت ج 1 ص 182 )

📿لہذا مذکورہ باتوں سے واضح ہوا کہ ادب کا تقاضا یہی ہے کہ ایسی ٹوپیاں پہن کراستنجاء خانہ وغیرہ میں نہ جائیں ۔

واللہ اعلم بالصواب

شرف قلم حضرت علامہ و مولانا کریم اللہ رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی
۱۴ نومبر بروز بدھ ۲۰۱۸

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.