fatwa online | Islamic law | sharia law rules | Part 11

سوال :— کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین کہ میت کے بالوں میں تیل لگانا, کنگھی کرنا,آنکھوں میں سرمہ لگانا جائز

ہے یا نہیں ؟ بالدلیل جواب عنایت فرمائیں.

Maulana tahir Ali Misbahi

میت کے بالوں میں کنگھی کرنے کے متعلق تو فتاوی رضویہ شریف میں ایک جگہ جواب موجود ہے بقیہ تیل لگانا سرمہ وغیرہ کے علمائے کرام جواب عنایت فرمائیں

Hafiz Husain Khan Bedi

اسلام علیکم کیا فرما تے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ پر کہ ھندہ کہتی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے طلاق دے دیا ہے اور شوہر کہتا کہ میں نے ایسا نہیں کہا ہے لہذا اب کس کے قول کا اعتبار کیا جائے گا معقول ومدلل جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا

Maulana tazimuddin imam garib Nawaz Masjid Jamnagar

وعلیکم السلام ورحمة اللہ و برکاتہ
سوال میں طلاق کتنی ہے یہ ظاہر نہیں

اگر تین طلاق مراد ہے تو مسئلہ یہ ہے کہ۔
عورت کے پاس گواہ نہیں ہیں تو شوہر کا قول معتبر ہوگا۔ البتہ شوہر کو خوف خدا دلا کر دروغ گوئ کی وعیدیں سنا کر استفسار کیا جاۓ ،کیوں کہ اکثر آج کے دور میں لوگ طلاق دے کر انکار کر جاتے ہیں ۔ یا طرح طرح کی سازش اور حیلہ جوئ کرتے ہیں۔ پس قبول کر لے فعلیہ حکمہ ورنہ قضاءً شوہر کی بات پر فیصلہ ہوگا۔ پھر عورت کو یقین ہے کہ تین طلاق ہو گئ ہے تو حتی الوسعہ اس سے بچے اور آخر حد تک الگ نکلنے کی کوشش کرتی رہے۔ اس زمانے میں رہائ کے بہت سے طریقے ہیں جسکا فائدہ عورت شریعت پر عمل کرنے کے لۓ اٹھا سکتی ہے۔
بہار شریعت اور عامۂ کتب فقہ ۔
واللہ اعلم

از مفتی جنید قادری ازہری صاحب قبلہ

شوہر کا قول مطلقا نہیں بلکہ قسم کے ساتھ معتبر ہوگا.

[18:35, 4/28/2018] Tahir Juna: السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سوال :– جنید کے والدین بہار کے ہیں اور جنید کی پیدائش گجرات کی ہے
اب امر طلب یہ ہے کہ جنید اگر 12 دنوں کے لئے یا 25 دنوں کے لئے بہار جائے تو اس کی نماز کا کیا ہوگا ؟؟
قصر کریگا یا کامل پڑھے گا؟؟

علماء کرام توجہ فرمائیں اور مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔
[18:58, 4/28/2018] Mehbub Ali Bapu: وعلیکم السلام و رحمت الله و بركاته
جنید کے والدین جہاں رہتے ہیں وہ جگہ اسکے لے وطن اصلی ھے تو جب کبھی وہ وہاں جاےگا , نماز پوری پرہےگا.
جیساکہ الدرالمختار میں ہے..
“الوطن الاصلي يبطل بمثله اذا لم يبق له بالاول اهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما.
تنويرالابصار،الدرالمختار،كتاب الصلاة،باب صلاةالمسافر
ج-2
ص-618

[11:06, 4/30/2018] Aasif Razavi: سوال :–نابالغ سے کام کرانا کیسا ہے. اور اگر وہ پانی یا کھانا لا کر دے تو اس پانی اور کھانے کا کیا حکم ہے.
[11:15, 4/30/2018] Aasif Razavi: .💽 شرائط وضوابط 💽

💫 “Barkate Raza Islamic Masail “💫

1⃣.Barkate Raza خالص علماء کرام کا گروپ ہے اور اس میں علماء ہی شامل رہیں گے.

2⃣. سوال مہذب انداز میں کرنا لازمی ہے.
3⃣. مفتیان کرام ومجیبین حضرات کسی بھی سوال کاجواب معتبر کتب کے حوالے اور دلائل سے مزین فرمائیں .
4⃣. کسی بھی اکابر اہلسنت کی توہین تحقیر لفظا وکنایۃ قابل برداشت نہیں ہوگی.
5⃣.گروپ کےتمام ممبران میں اتحاد واتفاق لازمی ہے
6⃣. گروپ میں سلام اور جواب سلام کے علاوہ آپسی گفتگو کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی.
7⃣. اکابرین حلقہ کی توہین وتحقیر ہرگز قابل معافی نہیں ہوگی.
8⃣ . کسی بھی سوال کے جواب میں عجلت نہ کریں اگر عجلت ہوں تو اکابرین حلقہ کی ذاتی آئ ڈی پر رابطہ کریں.
9⃣.عامیانہ سوال سے پرہیز لازمی ہےاور یومیہ تین سوال سے زیادہ کی اجازت نہیں ہوگی.
🔟. گروپ میں امیج یاتصویر ارسال کرناناقابل تلافی عمل قرار دیا جائیگا.

📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
نوٹ : کسی کی بار خاطر کے لئے معذرت.
[11:40, 4/30/2018] Mufti Asgar Ali Razavi: bahare shariyat me nabalig ka bhara huva pani ke taluk se he

auske ma bap ya jis ka vo nokar he aus ke siva kisi ko jaez nahi

hissa 2 pej 50
[12:03, 4/30/2018] Aasif Razavi: جزاك الله خيرا
[12:25, 4/30/2018] Mufti Asgar Ali Razavi: suwal : – kiya farmate he aulma e kiram v muftiya ne ezam maslaye zil me

halate nashe me kiya gaya zabiha ka kiya
hukm he halal he ya nahi
[12:45, 4/30/2018] Mufti Asgar Ali Razavi: بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

(رسالہ ضمنیہ) عطاء۳۴ النبی لافاضۃ ہ احکام ماء الصبی۱۳

(بچّے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا عطیہ)

(۳۲ تا ۴۸) نابالغ(۲) کا بھرا ہوا پانی یہ مسئلہ بہت طویل الذیل وکثیر الشقوق ہے کتابوں میں اس کی تفصیل تام درکنار بہت صورتوں کا ذکر بھی نہیں فقیر بتوفیق القدیر اُمید کرتا ہے کہ اُس میں کلام شافی وکافی ذکر کرے فاقول وباللہ التوفیق پانی تین قسم ہیں (۱) مباح غیر مملوک (۲) مملوک غیر مباح (۳) مباح مملوک

اول دریاؤں نہروں کے پانی تالاب جھیلوں ڈبروں کے برساتی پانی مملوک کنویں کا پانی کہ وہ بھی جب تک بھرا نہ جائے کسی کی مِلک نہیں ہوتا جس کی تحقیق ابھی گزری مساجد وغیرہا کے حوضوں سقایوں کا پانی کہ مالِ وقف سے بھرا گیا اس کا بیان بھی گزرا یہ سب پانی مباح ہیں اور کسی کی مِلک نہیں۔

دوم برتنوں کا پانی کہ آدمی نے اپنے گھر کے خرچ کو بھرایا بھروا کر رکھا وہ خاص اس کی مِلک ہے۔بے اس کی اجازت کے کسی کو اس میں تصرف جائز نہیں۔

سوم سبیل یا سقایہ کا پانی کہ کسی نے خود بھرایا اپنے مال سے بھروایا بہرحال اس کی مِلک ہو اور اس نے لوگوں کیلئے اس کا استعمال مباح کردیا وہ بعد اباحت بھی اُسی کی مِلک رہتا ہے یہ پانی مملوک بھی ہے اور مباح بھی۔ ظاہر ہے کہ قسم اخیر کا پانی بالغ بھرے یا نابالغ کچھ تفاوت احکام نہ ہوگا کہ لینے والا اس کا مالک ہی نہیں ہوتا۔ یوں ہی قسم دوم میں جبکہ مالک نے اسے بطور اباحت دیا ہاں اگر مالک کیا تو اب فرق احکام آئے گا اور اگر بے اجازت مالک لیا یا دونوں قسم اخیر میں مالک بوجہ صغر یا جنون اجازت دینے کے قابل نہ تھا تو وہ آب مغصوب ہے۔ زیادہ تفصیل طلب اور یہاں مقصود بالبحث قسم اوّل ہے اس کیلئے تنقیح اول(۱) ان اصول پر نظر لازم جو اموال مباحہ جیسے آبِ مذکور یا جنگل کی خود روگھاس پیڑ پھل پھول وغیرہا پر حصول مِلک کیلئے ہیں کتب میں اس کے جزئیات میں متفرق طور پر مذکور ہوئے جن سے نظر حاضر ایک ضابطہ تک پہنچنے کی امید رکھتی ہے واللہ الہادی۔

فاقول: وبہ استعین یہ تو ظاہر ہے کہ مباح(۲) چیز احراز واستیلا سے مِلک ہوجاتی ہے اول بار جس کا ہاتھ اُس پر پہنچا اور اس نے اپنے قبضے میں کرلیا اُسی کی مِلک ہوجائیگی مگر یہ قبضہ کبھی دوسرے کی طرف منتقل ہوتا اور اُس کا قبضہ ٹھہرتا ہے اس کی تفصیل یہ(۳) ہے کہ مال مباح کا لینے والا دوحال سے خالی نہیں اُس(۱) شے کو اپنے لئے لے گا یا دُوسرے کیلئے، برتقدیر ثانی بطور خود یا اس سے کہے سے برتقدیر ثانی بلامعاوضہ(۳) یا باجرت برتقدیر ثانی اُس دوسرے کا اجیر(۴) مطلق ہے جیسے خدمتگار یا خاص اسی مباح کی تحصیل کیلئے اجیر کیا برتقدیر ثانی اجارہ(۵) وقت معین پرہوا مثلاً آ ج صبح سے دوپہر تک یا بلا تعین بر تقدیر ثانی وہ شے مباح(۶) متعین کردی تھی ۔ مثلاًیہ خاص درخت یا یہاں سے یہاں تک کہ یہ دس پیڑ یا اس قطعہ مخصوصہ کا سبزہ یا اس حوض کا سارا پانی یا یہ تعیین بھی نہ تھی برتقدیر ثانی اجیر(۷) قبول کرتا ہے کہ یہ شے میں نے مستاجر کیلئے لی یا نہیں برتقدیر ثانی اگر اس شے کا احراز مثلاً کسی ظرف میں ہوتا ہو تو وہ ظرف(۸) مستاجر کا تھا یا نہیں، یہ نو۹ صورتیں ہُوئیں۔ ان میں صورت اولٰی میں تو ظاہر ہے کہ وہ شے اُسی قبضہ کرنے والے کی مِلک ہوگی دوسرے کو اس سے علاقہ ہی نہیں، یوں ہی صورت دوم میںبھی کہ شرع مطہر نے سبب مِلک استیلا رکھا ہے وہ اس کا ہے دوسرے کیلئے محض نیت اس ملک کو منتقل نہ کر دے گی۔ فتح القدیر میں ہے:

لوقیل علیہ ھذا اذا استولی علیہ بقصدہ لنفسہ فاما اذا قصد ذلک لغیرہ فلم لایکون للغیر یجاب بان اطلاق نحو قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الن…

[12:45, 4/30/2018] Mufti Asgar Ali Razavi: بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

(رسالہ ضمنیہ) عطاء۳۴ النبی لافاضۃ ہ احکام ماء الصبی۱۳

(بچّے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا عطیہ)

(۳۲ تا ۴۸) نابالغ(۲) کا بھرا ہوا پانی یہ مسئلہ بہت طویل الذیل وکثیر الشقوق ہے کتابوں میں اس کی تفصیل تام درکنار بہت صورتوں کا ذکر بھی نہیں فقیر بتوفیق القدیر اُمید کرتا ہے کہ اُس میں کلام شافی وکافی ذکر کرے فاقول وباللہ التوفیق پانی تین قسم ہیں (۱) مباح غیر مملوک (۲) مملوک غیر مباح (۳) مباح مملوک

اول دریاؤں نہروں کے پانی تالاب جھیلوں ڈبروں کے برساتی پانی مملوک کنویں کا پانی کہ وہ بھی جب تک بھرا نہ جائے کسی کی مِلک نہیں ہوتا جس کی تحقیق ابھی گزری مساجد وغیرہا کے حوضوں سقایوں کا پانی کہ مالِ وقف سے بھرا گیا اس کا بیان بھی گزرا یہ سب پانی مباح ہیں اور کسی کی مِلک نہیں۔

دوم برتنوں کا پانی کہ آدمی نے اپنے گھر کے خرچ کو بھرایا بھروا کر رکھا وہ خاص اس کی مِلک ہے۔بے اس کی اجازت کے کسی کو اس میں تصرف جائز نہیں۔

سوم سبیل یا سقایہ کا پانی کہ کسی نے خود بھرایا اپنے مال سے بھروایا بہرحال اس کی مِلک ہو اور اس نے لوگوں کیلئے اس کا استعمال مباح کردیا وہ بعد اباحت بھی اُسی کی مِلک رہتا ہے یہ پانی مملوک بھی ہے اور مباح بھی۔ ظاہر ہے کہ قسم اخیر کا پانی بالغ بھرے یا نابالغ کچھ تفاوت احکام نہ ہوگا کہ لینے والا اس کا مالک ہی نہیں ہوتا۔ یوں ہی قسم دوم میں جبکہ مالک نے اسے بطور اباحت دیا ہاں اگر مالک کیا تو اب فرق احکام آئے گا اور اگر بے اجازت مالک لیا یا دونوں قسم اخیر میں مالک بوجہ صغر یا جنون اجازت دینے کے قابل نہ تھا تو وہ آب مغصوب ہے۔ زیادہ تفصیل طلب اور یہاں مقصود بالبحث قسم اوّل ہے اس کیلئے تنقیح اول(۱) ان اصول پر نظر لازم جو اموال مباحہ جیسے آبِ مذکور یا جنگل کی خود روگھاس پیڑ پھل پھول وغیرہا پر حصول مِلک کیلئے ہیں کتب میں اس کے جزئیات میں متفرق طور پر مذکور ہوئے جن سے نظر حاضر ایک ضابطہ تک پہنچنے کی امید رکھتی ہے واللہ الہادی۔

فاقول: وبہ استعین یہ تو ظاہر ہے کہ مباح(۲) چیز احراز واستیلا سے مِلک ہوجاتی ہے اول بار جس کا ہاتھ اُس پر پہنچا اور اس نے اپنے قبضے میں کرلیا اُسی کی مِلک ہوجائیگی مگر یہ قبضہ کبھی دوسرے کی طرف منتقل ہوتا اور اُس کا قبضہ ٹھہرتا ہے اس کی تفصیل یہ(۳) ہے کہ مال مباح کا لینے والا دوحال سے خالی نہیں اُس(۱) شے کو اپنے لئے لے گا یا دُوسرے کیلئے، برتقدیر ثانی بطور خود یا اس سے کہے سے برتقدیر ثانی بلامعاوضہ(۳) یا باجرت برتقدیر ثانی اُس دوسرے کا اجیر(۴) مطلق ہے جیسے خدمتگار یا خاص اسی مباح کی تحصیل کیلئے اجیر کیا برتقدیر ثانی اجارہ(۵) وقت معین پرہوا مثلاً آ ج صبح سے دوپہر تک یا بلا تعین بر تقدیر ثانی وہ شے مباح(۶) متعین کردی تھی ۔ مثلاًیہ خاص درخت یا یہاں سے یہاں تک کہ یہ دس پیڑ یا اس قطعہ مخصوصہ کا سبزہ یا اس حوض کا سارا پانی یا یہ تعیین بھی نہ تھی برتقدیر ثانی اجیر(۷) قبول کرتا ہے کہ یہ شے میں نے مستاجر کیلئے لی یا نہیں برتقدیر ثانی اگر اس شے کا احراز مثلاً کسی ظرف میں ہوتا ہو تو وہ ظرف(۸) مستاجر کا تھا یا نہیں، یہ نو۹ صورتیں ہُوئیں۔ ان میں صورت اولٰی میں تو ظاہر ہے کہ وہ شے اُسی قبضہ کرنے والے کی مِلک ہوگی دوسرے کو اس سے علاقہ ہی نہیں، یوں ہی صورت دوم میںبھی کہ شرع مطہر نے سبب مِلک استیلا رکھا ہے وہ اس کا ہے دوسرے کیلئے محض نیت اس ملک کو منتقل نہ کر دے گی۔ فتح القدیر میں ہے:

لوقیل علیہ ھذا اذا استولی علیہ بقصدہ لنفسہ فاما اذا قصد ذلک لغیرہ فلم لایکون للغیر یجاب بان اطلاق نحو قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الناسشرکاء فی ثلاث لایفرق بین قصد وقصد ۱؎ اھ۔ وکتبت علیہ۔ اقول: الاحراز سبب الملک وقدتم لہ فملک ولا ینتقل لغیرہ بمجرد القصد کمن شری غیر مضاف الٰی زید ونیتہ انہ یشتریہ لزید لم یکن لزید۔

اگر اس پر کہا جائے کہ یہ اس صورت میں ہے جبکہ اس پر استیلاء کیا اور قصد اپنے نفس کے لئے کیا، اور اگر کسی دوسرے کیلئے اس کا ارادہ کیا، تو یہ غیر کیلئے کیوں نہ ہوگا، اس کا یہ جواب ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان _لوگ تین چیزوں میں شریک ہیں_ ایک قصد اور دوسرے قصد میں فرق نہیں کرتا ہے اھ اس پر میں نے لکھا ہے کہ میں کہتا ہوں حاصل کرلینا اسبابِ ملک میں سے ہے اور ملک اس کیلئے تام ہوچکی ہے اور وہ مالک ہوگیا اور یہ ملک دوسرے کی طرف محض قصد کی وجہ سے منتقل نہ ہوگی، جیسے کوئی شخص کوئی چیز خریدے اور اس کو زید کی طرف مضاف نہ کرے اور نیت یہ ہو کہ وہ زید کیلئے ہے، تو وہ زید کیلئے نہ ہوگی۔ (ت)

(۱؎ فتح القدیر فصل فی شرکۃ فاسدہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۱۰)
ں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.