Ask Fatwa Online – Part 2 – May 2019

 

ZAKAT

 

Sawal – mufti asgar ali Razavi 1/1/2019

کیا فرماتے ہیں علماء عظام مسئلہ ذیل میں ایک شخص کو کینسر کی بیماری ہے اور اس کا لڑکے کا ماہنہ تنخہ 9000 ہے اور اس شخص کے پاس ایک زیور 30000 کا ہے اور ایک 20000 کا لہزا ایسی صورت میں وہ شخص زکاة لے سکتا ہے جواب عنایت فرمائے
از عبداللہ احمدآباد

 

الجواب بملک الوہاب صورت مسؤلہ میں اگر وہ شخص خود ان زیورات کا مالک ہے اور اس پر اتنا قرض نہ ہو کہ جو نصاب کو محیط ہو تو زکات نہیں لے سکتا البتہ اسکے گھر کے افراد میں سے جو صاحب نصاب نہ ہو وہ لیکر اس پر خرچ کر سکتا ہے. اور اگر اس پر اتنا قرض ہو جس کی ادائیگی کی صورت میں وہ صاحب نصاب نہیں رہتا تو وہ خود بھی زکات لے سکتا ہے. و اللہ اعلم.

 

KHAWAB TABEER

 

SAWAL – ABDUR RAZZAK

السلامعلیکم
خواب میں مردے کو برہنہ دیکھنا
کیا تعبیر ہو گی

 

خواب ميں مرده زنده تها يا مرده اور قريبى يا بعيد مجهول يا معروف ؟؟؟

معروف
قریبی
زندہ
خوش

مرده آپ سے دعاء خير يا ايصال ثواب كا طالب ہے۔ اور اگر ماں باپ بهائى بهن وغيره ميں سے کوئى هے اور مستور تها پهر كشف هوا تو مرده ادائیگی قرض يا حج وغيره كا طالب هے ۔

 

خواب دیکھنے والے کی بہن ہے غیر مستور تھی اس پر نہ قرض تھا نہ حج فرض تھا

 

TARAVEEH – KHATAME QURAN – NAMAZ

 

SAWAL – NAZIM MALEK

السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علماۓدین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے متعلق کیا تراویح میں ایک مرتبہ قرآن پاک پڑھنا سنت مؤکدہ ہے؟

SAWAL – 9725550712

تراویح میں ایک بار قرآن مجیدختم کرنا ختم کرنا سنت مؤکدہ ہے

 

اس سنت مؤکدہ کو چھوڑنے والوں کے لیے کیا حکم ہے ؟؟؟

یعنی الم تر سے تراویح پڑھنے والوں کے لیے ؟؟؟

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اصل مذہب اس بارے میں یہ ہے کہ تراویح میں ایک بار پورا قرآن ختم کرنا سنت ہے لہذا لوگوں کی سستی کی وجہ سے اسے ترک نہ کیا جائے.

مگر متاخرین فقہا نے زمانہ مابعد میں جب کہ بالعموم لوگوں میں سستی و کاہلی کا غلبہ دیکھا تو س کی رخصت عطا فرمائی بلکہ افضل قرار دیا کہ تراویح میں اس قدر قرآن قرآن پڑھا جائے جس کا سننا لوگوں پر گراں نہ ہو اور مسجد کی حاضری نہ چھوڑ دیں کہ طول قرأت سے مسجد کی حاضری اہم ہے اور اسی حکمت کے تحت بعض لوگوں نے سورۂ فیل تا سورۂ ناس کا طریقہ مشروع فرمایا ہے . لہذا اصل مذہب مصحح کے پیش نظر آبادی میں جہاں ایک ہی مسجد ہے؛ ایک بار ختم قرآن سنت ہے اور لوگوں کی سستی کی وجہ سے اسے چھوڑا نہ جائےگا مگر فقہائے متاخرین کے مطابق اگر ختم قرآن ان پر بوجہ سستی وکاہلی کے گراں گزرے تو ہلکی قرآت اختیار کرنا افضل ہے اور بہتر سورۂ تراویح ہے جو عام طور پر رائج ہے.
درمختار میں ہے: الختم مرۃ سنۃ ومرتین فضیلۃ و ثلاثا افضل. ولا یترک الختم لکسل القوم لکن فی الاختیار: الافضل فی زماننا قدر ما لا یثقل علیھم . وفی المجتبی عن الامام: لو قرأ ثلاثا قصارا أو آیۃ طویلۃ فی الفرض فقد أحسن ولم یسیء فما ظنک بالتروایح؟ وفی فضائل رمضان للزاھدی: أفتی أبو بکر الکرمانی والوبری: أنہ اذا قرأ فی التراویح الفاتحۃ أو آیتین لا یکرہ. ومن لم یکن عالما بأھل زامنہ فھو جاھل.
ردالمحتار میں ہے: قولہ: (الافضل فی زماننا) لأن تکثیر الجماعۃ أفضل من تطویل القراءۃ .وفیہ اشعار بأن ھذا الخلاف مبنی علی اختلاف الزمان فقد تغیر الاحکام لاختلاف الزمان فی کثیر من المسائل علی حسب المصالح. ولھذا قال فی البحر: فالحاصل أن المصحح فی المذھب أن الختم سنۃ ؛ لکن لا یلزم منہ عدم ترکہ اذا لزم منہ تنفیر القوم وتعطیل کثیر من المساجد خصوصا فی زماننا؛ فالظاھر اختیار الأخف علی القوم. (در مختار و رد المحتار: 2 / 498‘ 499)

واللہ تعالی اعلم

کتبہ: محمد مزمل برکاتی

ROZA

 

SAWAL – SAYYAD SARFARA ALI

السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ زید آنکھوں کا مریض ہے ہر دو تین گھنٹوں میں اسے آنکھوں میں دوائی ڈالنی پڑتی ہے ایسے مریض کے لیے روزہ کا کیا حکم ہے رکھے یا چھوڑ دے ؟

 

5/7/2019

الجواب: آنکھ میں دوا ڈالنا مفسد صوم نہیں ہے جیساکہ اکتحال والے جزئیے سے یہ واضح ہے اگر چہ حلق میں ذائقہ محسوس ہو کہ یہ وہ اثر ہے جو بذریعۂ مسام اندر داخل ہوا نہ کے منفذ کے ذریعے سے اور روزہ فاسد اس وقت ہوگا کہ دوا منفذ کے ذریعے سے بدن کے کسی عضو باطن تک پہنچائی جائے مثلا پیٹ ؛حلق ؛ دماغ وغیرہ یا ایسے عضو تک پہنچائی جائے جو عضو باطن کے حکم میں ہے. جیسے کہ کان میں .
درمختار میں جن باتوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے؛ اس کے بیان میں ہے: أو ادهن أو اكتحل وإن وجد طعمه في حلقه.
رد المحتار میں ہے: وکذا لو بزق فوجد لونه فی الأصح. لأن الموجود فی حلقه أثر داخل من المسام الذی ھو خلل البدن, والمفطر إنما ھو الداخل من المنافذ . (3/ 367 ‘366)

نیز درمختار میں ہے: لا یکرہ دھن شارب ولا کحل. (3/ 397).

فتح القدیر میں ہے: الصوم عن إمساك عن الجماع وعب إدخال شيء بطنا أو ما له حكم البطن، من الفجر إلى الغروب عن نية. (3/ 306‘ 307)
مجلس شرعی کے فیصلے میں ہے: آنکھ میں دوا ڈالنےسے روزہ فاسد نہ ہوگا اس لیے کہ آنکھ جوف کے حکم میں نہیں‛ نہ ہی اس میں ایسا کوئی منفذ ہے جو دوا کو جوف تک پہنچائے. فقہائے کرام کی عبارتوں میں بھی صراحت موجود ہے کہ آنکھ میں دوا ڈالنا مفسد صوم نہیں ہے. (ص: 285)

واللہ تعالی اعلم
محمد مزمل مرکاتی

 

الجواب: آنکھ میں دوا ڈالنا مفسد صوم نہیں ہے جیساکہ اکتحال والے جزئیے سے یہ واضح ہے بلکہ فقہائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ آنکھ میں ڈالنے سے روزہ فاسد نہیں ٹوٹتا ہے اگر چہ حلق میں ذائقہ محسوس ہو کہ یہ وہ اثر ہے جو بذریعۂ مسام اندر داخل ہوا نہ کے منفذ کے ذریعے سے اور روزہ فاسد اس وقت ہوگا کہ دوا منفذ کے ذریعے سے بدن کے کسی عضو باطن تک پہنچائی جائے مثلا پیٹ ؛حلق ؛ دماغ وغیرہ یا ایسے عضو تک پہنچائی جائے جو عضو باطن کے حکم میں ہے. جیسے کہ کان میں .
درمختار میں جن باتوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے؛ اس کے بیان میں ہے: أو ادهن أو اكتحل وإن وجد طعمه في حلقه.
رد المحتار میں ہے: وکذا لو بزق فوجد لونه فی الأصح. لأن الموجود فی حلقه أثر داخل من المسام الذی ھو خلل البدن, والمفطر إنما ھو الداخل من المنافذ . (3/ 367 ‘366)

نیز درمختار میں ہے: لا یکرہ دھن شارب ولا کحل. (3/ 397).

بحر الرائق میں ہے: لو صب في عينه لبن أو دواء مع الدهن فوجد طعمه ، أو مرارته في حلقه لا يفسد صومه كهذا في الظهيرية. (کتاب الصوم)

بنایہ علی الہدایہ میں ہے: لو صب لبنا فی عینه أو دواء فوجد طعمه أو مرارته في حلقه لا يفسد صومه. (كتاب الصوم )

فتح القدیر میں ہے: الصوم عن إمساك عن الجماع وعب إدخال شيء بطنا أو ما له حكم البطن، من الفجر إلى الغروب عن نية. (3/ 306‘ 307)
مجلس شرعی کے فیصلے میں ہے: آنکھ میں دوا ڈالنےسے روزہ فاسد نہ ہوگا اس لیے کہ آنکھ جوف کے حکم میں نہیں‛ نہ ہی اس میں ایسا کوئی منفذ ہے جو دوا کو جوف تک پہنچائے. فقہائے کرام کی عبارتوں میں بھی صراحت موجود ہے کہ آنکھ میں دوا ڈالنا مفسد صوم نہیں ہے. (ص: 285)

واللہ تعالی اعلم
محمد مزمل مرکاتی

 

 

 

 

 


☘ہندو کا دیا ہوا سامان سے روزہ افطاری کرنا کیسا ہے”؟☘

◆ــــــــــــــــــ▪☘▪ـــــــــــــــــــ◆
🌹السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🌹

📜سوال.. کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہندوکا دیا ہوا سامان سے روزہ افطاری کرنا کیسا ہے مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
♥سائل👈🏻..محمد ھارون رضا گجرات
◆ــــــــــــــــــ▪☘▪ـــــــــــــــــــ◆
🌹و علیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ🌹

📝الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ھدایت الحق والصواب📝
غیر مسلم کا دیا ہوا سامان اگر علاوہ گوشت کے اور حلال و پاک ہے تو اس سے افطار کرنے میں کوئی حرج نہیں

چنانچہ الفتاویٰ الھندیۃالمعروف فتاویٰ عالمگیری میں ہے 👇
(وَلاَ بَأْسَ بِطَعَامِ الْمَجُوْسِ کُلِّہ اِلَّا الذَّبِیْحَۃَ)
مجوسی یعنی(آتش پرست) کے ذبیحہ کے علاوہ بقیہ طعام (کھانے میں)میں کوئ حرج نہیں
📚حوالہ📚
(الفتاویٰ الھندیۃالمعروف فتاویٰ عالمگیری ج/ ص/347)

🌹ھٰذا ما سنح لی واللہ اعلم باالصواب🌹
🌹المفتقر الی رحمۃ اللہ التّواب🌹
★★★—————————★★★
📝شــــرف قلــــم📝
حـــضــرت علامہ و مــولانا مفتی محمد آفـــتاب عالم رحمتی مصباحی دہلوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی خطیب و امام جامع مسجد مہا سموند (چھتیس گڑھ)رابطہ نمبر:👇
📲+917860124553
🎍🎍🎍🎍⚜⚜⚜🎍🎍🎍🎍
✅الجواب صحیح و المجیب نجیح
فقط احقر العباد محمد الفاظ قریشی نجمی خادم التدریس جامعہ خاتون جنت نجم العلوم ہاسپیٹ کرناٹک

✅الجواب صحیح والمجیب نجیح فقط محمد نوشاد عالم کئیہار (بہار)خادم مدرسہ الجامعتہ القادریہ حفظ القرآن مالدہ مغربی بنگال
★★★—————————★★★
🧿محفل غلامان مصطفیٰﷺگروپ🧿
گروپ میں شامل ہونے کے لئے رابطہ کریں:👇
📲+91 7860124553
★★★—————————★★★
۲۳/شعبان المعظم ۱۴۴۰ھ
۲۹/اپریل ۲۰۱۹ء بروز پیر
▫___▪🌮▪____▫
🖥المشتہر🖥
گداۓ حضور تاج الشریعہ محمد شفیق رضا رضوی مقیم حال حبیب پور ضلع فتح پور الھنـــــد*917052569971📲+
•─────────────────────•
💚(مـحــفل غلامان مصطفٰیﷺگروپ)💚
•─────────────────────•
🧿🧿🧿🧿🛎🛎🛎🧿🧿🧿🧿

السلام علیکم

مسئلہ
مرد اور عورت کی نماز کا جو فرق ہے اس کا جواب حدیث کی روشنی میں عنایت فرمائیں دلیل کے ساتھ
از.. الطاف حسین

الجواب : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ…. ہم مقلد ہیں؛ احادیث سے براہ راست استدلال مقلد کا کام نہیں بلکہ یہ منصب صرف مجتہد کو حاصل ہے جس کا دراوزہ صدیوں سے بند ہے. ہمارے لیے اپنے امام کا قول ہی حجت ہے ؛ انہوں نے آیات و احادیث میں غور کرکے ہمیں اس سے فارغ کردیا ہے. درمختار میں ہے: ” أما نحن فعلينا اتباع ما صححوه وما رججحوه “ .
اس لیے مرد و عورت کی نماز میں جو فرق ہمارے فقہائے کرام نے کتب فقہ میں ذکر کیا ہے وہی ہماری لیے دلیل ہے . وبس

واللہ تعالی اعلم
کتبہ: .محمد مزمل برکاتی

الجواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ….
امام کے لیے بغرض قنوت رکوع چھوڑ کر قیام کی طرف عود کرنا گناہ ہے. تو اس کے لیے لقمہ دنیا بھی ناجائز اور گناہ ہوا. لہذا جس نے بھی لقمہ دیا اس کی نماز گئی اور جب امام نے اسے لیا تو امام کی اور سارے مقتدیوں کی نماز فاسد ہوگئی. سجدۂ سہو کیا کام دے گا بلکہ اس صورت میں نماز وتر از سر نو پڑھی جائے.

واللہ تعالی اعلم
کتبہ محمد مزمل برکاتی

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ حضرت ایک سوال ہے امام صاحب وتر کی نماز جماعت سے پڑھا رہے ہے اور بنا دعا۶ے قنوت پڑھے رکوع میں چلے گ۶ے پچھے سے کسی نے لقمہ دیا امام صاحب رکوع سےکھڑھے ہو گ۶ے اور دعا۶ے قنوت پڑھی اور اخر میں سجد۶ے سھو بھی کیا تو کیا وتر کی نماز ہوگ۶ی
علما۶ے اھلسنت سے گزارش ہے کہ جواب عطا کر دیج۶ے

وعلیکم السلام..
جواب

اگر دعائے قنوت پڑھنا بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا تو نہ قیام کی طرف لوٹے نہ رکوع میں پڑھے اور اگر قیام کی طرف لوٹ آیا اور قنوت پڑھا اور رکوع نہ کیا، تو نماز فاسد نہ ہوگی، مگر گنہگار ہو گا اور اگر صرف الحمد پڑھ کر رکوع میں چلا گیا تھا تو لوٹے اور سورت و قنوت پڑھے پھر رکوع کرے اور آخر میں سجدۂ سہو کرے۔ یوہیں اگر الحمد بھول گیا اور سورت پڑھ لی تھی تو لوٹے اور فاتحہ و سورت و قنوت پڑھ کر پھر رکوع کرے۔ (2) (عالمگیری)

سوال حل فرمادیں ۔
ایک شخص نے سحری کھاکر اپنی بیوی سے ہمبستری کرلی سحری کا وقت ختم نہیں ہوا وقت پورا ہونے سے پہلے فارغ ہو چکا ۔
کیا مذکورہ صورت میں قضا و کفارہ دونوں لازم ہیں؟
میاں بیوی دونوں پر لازم ہیں یا صرف شوہر پر ؟
اگر قضا و کفارہ ادا نہ کرے تو کیا بیوی اپنے شوہر پر حلال رہیگی یا نہیں؟

بینوا توجروا فی الدنیا و الآخرہ ۔
سائل ۔ محمد فاروق ۔ پاٹن ۔

مذکورہ صورت میں نہ قضاء ہے نہ کفارہ کیونکہ سحری کا وقت رات کے حصے میں ہی داخل ہے اور رمضان کی راتوں میں کھانے پینے اور وظیفہ زوجیت کی اجازت ہے۔

کما قال اللہ تبارک وتعالیٰ فی القرآن۔۔۔

اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىِٕكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ
وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْـٰٔنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ١ۚ (پ۲، البقرۃ: ۱۸۳ ۔ ۱۸۷۔)

اور روزے کی ابتداءصبح صادق سے ہے۔۔۔

روزہ عرف شرع میں مسلمان کا بہ نیّت عبادت صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے کو قصداً کھانے پینے جماع سے باز رکھنا، عورت کا حیض و نفاس سے خالی ہونا شرط ہے۔ (عامۂ کتب)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان کرام
کہ اگر امام نے بقدر واجب یعنی ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیات تلاوت کی، مگر زائد تلاوت میں کسی آیت میں قرأت کی ایسی غلطی ہوئی جس سے معنوی خراب لازم آتی ہے، جیسے ان الذين آمنوا وعملوا الصالحات اولائك أصحاب النار پڑھ دیا تو کیا نماز فاسد ہوگی یا سجدہ سہو لازم جبکہ اس رکعت میں بقدر واجب تلاوت کرچکا تھا، ابتداء یا اختتام میں جو زائد تلاوت ہوئی اس میں یہ غلطی ہوئی۔
جلد از جلد جواب فرما کر عند الله ماجور ہوں۔

دوسرا سوال :
حافظ صاحب نے تراویح میں کسی آیت کو پہلی مرتبہ درست پڑھا، انہیں شبہ ہوا کہ شاید غلط پڑھا، اور پھر دہرایا اور اس دہرانے میں غلطی ہوئی، اور رکوع کر لیا تو کیا اس آیت کا اعادہ لازم ہوگا جبکہ ایک دفعہ صحیح تلاوت کرچکے ہیں۔
محمد سبحان شریف
حیدرآباد

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ…
1. نماز فاسد ہوجائے گی اگر چہ ایک ہزار آیات درست پڑھنے کے بعد ایک ہزار ایک ویں آیت میں مفسد نماز غلطی پائی گئی. ایک ڈول آپ زمزم میں ایک قطرہ پیشاب کا گر جائے کل پانی نجس و ناپاک ہوجائے گا, کون عاقل کہےگا کہ جہاں پیشاب کا قطرہ گرا بس وہی حصہ ناپاک ہوا ؛ باقی پاک رہا…. کہ گر چہ قطرہ اپنے ہی مقابل اپنے ہی حجم بھر قطرے آب میں گرا مگر یہ نا قابل تجزی ہے کہ بھلے ہی اتنا حصہ ہی اقل ہی ناپاک ہوا مگر اس کا ڈول بھر پانی میں پھیل گیا, بالکل اسی طرح نماز غیر متجزی ہے, جب پوری نماز کے اندر کہیں بھی کسی وقت فساد طاری ہوجائے تو کل نماز میں اس کا اثر متعدی ہوجائےگا .
2. جب رکوع کرلیا اور اس غلطی کا اعادہ نہ کیا تو پھر دوسری رکعت میں اس کا اعادہ کیا جائے اگر چہ پہلی بار انہوں نے درست پڑھا ہو مگر جب بعد میں اس کو غلط سمجھ کر اعادہ کیا اور اس میں غلطی ہوئی تو اس غلطی کا پھر ازالہ ہونا چاہیے اور یہ ازالہ نہ ہوا. اور وہ پہلا کالعدم شمار کیا جائے گا.
واللہ تعالی اعلم
کتبہ : محمد مزمل برکاتی

یہ بات بے اصل و بے بنیاد ہے. نہ اس میں کسی کتاب کا حوالہ درج ہے. اس کی تفصیل سیدنا اعلی حضرت نے فتاوی رضویہ میں فرمائی ہے اور قضائے عمری کے سلسلے میں جو روایت ذکر کی جاتی ہے اسے ذکر کرکے حضرت ملا علی قاری کی کتاب الموضوعات سے اس کا موضوع ہونا ثابت فرمایا ہے . بس حضرت حکیم الامت علیہ الرحمۃ نے اس سے بچنے کے لیے یہ فرمایا کہ صرف گناہ معاف ہوجائیں گے؛ قضا بدستور ذمہ پر باقی رہےگی. اگر واقعی ایسی کوئی روایت ہوتی تو یقینا اعلی حضرت علیہ الرحمہ اس کو بیان فرماتے کہ صرف قضا معاف ہونا موضوع ہے نہ قضا کا گناہ معاف ہونا مگر آپ نے ایسی کوئی تفصیل بیان نہ کی بلکہ یہ طریقہ ہی اصلا غلط اور روایت ہی کو سرے موضوع فرمایا. علاوہ ازیں عقلا بھی یہ سمجھ میں نہیں آتا . جب گناہ ہی معاف ہوگیا تو قضا کس چیز کی اور قضا کیا اہمیت رہ گئی؟ نیز کبائر توبہ سے معاف ہوتے ہیں اور نماز کی توبہ یہی ہے کہ فوت شدہ نمازیں پڑھی جائیں جیساکہ امام نووی نے ریاض الصالحین میں فرمایا ہے. اور اوپر جو مولانا ذی شان کا مضمون ہے فتاوی رضویہ ہی سے ماخوذ ہے.

محمد مزمل برکاتی

sajid malek

نماز قضا کرنا گناہ ہے۔ اب اسے فوراً ادا کرنا واجب ہے۔ تاخیر کرنا گناہ ہے۔ جمعہ الوداع کی نوافل کی برکت سے تاخیر کا گناہ معاف ہو جائے گا۔ اصل قضا کا نہیں۔ والله اعلم بالصواب۔

mdgondil

اولا تو جمعۃ الوداع کے معمولات مروجہ طریقے پر حدیث سے کہیں ثابت نہیں ہے نہ حدیث میں اس دن میں عبادت کرنے پر کوئی مخصوص فضیلت اور ثواب وارد ہے. جن راتوں میں عبادت کی ترغیب احادیث طیبہ سے ثابت مثلا شب براءت؛ شب قدر وغیرہ , انہی راتوں کے بارے میں کسی حدیث سے ایسی فضیلت دکھادیں ورنہ من قام رمضان ایمانا واحتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ و من قام لیلۃ القدر ایمانا واحتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ کی تشریح میں محدثین اس مغفرت ذنوب کو صغائر سے مقید فرماتے ہیں.
تعجب یہ کہ جہاں مغفرت ذنوب مصرحا وارد ہے وہاں محدثین نے اس کو صغائر سے مقید کیا ہے اور جن کا حدیث پاک میں کوئی تذکرہ نہیں ہے وہاں اس بشارت عظمی کا قول کیا جائے…. یہ کس کی سمجھ میں آئے گا. پھر یہ کہ ان منصوص راتوں میں قیام کرنے پر جو ثواب مغفرت ذنوب کی شکل میں دیا گیا اس میں دو قول ہیں ایک قول یہ کہ اس سے مراد ہے اکثر رات کا قیام ہے اور دوسرا یہ کہ نصف رات سے زائد قیام کافی ہے. خلاصہ یہ کہ نصف رات تک قیام پر تو اتفاق ہے . دیکھیے شامی بحوالہ مراقی الفلاح یا امداد الفتاح . پس جہاں گناہ صغائر کی مغفرت وارد ہے وہاں تو اس آدھی رات تک قیام اس بشارت کا مورد قرار دیا جائے اور نماز کی قضا کرنے جو گناہ عظیم والعیاذ باللہ مرتب ہوا ہے اس کے لیے صرف دو رکعت کفایت کرے …..

—————————————————————-

جمعة الوداع ۔۔۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ

بہت سارے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ رمضان المبارک کا آخری جمعہ “جمعۃ الوداع” ایک الگ نوعیت کاجمعہ ہے جس کے خطبے میں
“الوداعُ الوداعُ یاشھر رمضان” پڑھنا ضروری ہے
اگر امام نے جمعۃ الوداع کے خطبہ میں “الوداعُ الوداعُ یاشھر رمضان” نہیں پڑھا تو فقط جمعہ
پڑھا “جمعۃ الوداع نہیں پڑھا,پیش ہیں اس سے متعلق سرکار اعلی حضرت سے کئے گئے کچھ سوالات اور ان کے جوابات غور سے پڑھئے اگر آپ کو بھی غلط فہمی ہو تودور کیجئے –

{1} جمعۃ الوداع کے خطبےمیں نبئ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے “الوداعُ الوداعُ یاشھر رمضان” پڑھا ہے یانہیں؟
{2} اگرحضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نہیں پڑھا ہے تو سب سے پہلے خطبہ میں”الوداع الوداع یاشھر رمضان” کس نے پڑھا ہے ؟ اس کا موجد ومخترع کون ہے ؟صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین یا ائمہ مجتہدین فقہاء و محدثین رحمہم اﷲ تعالٰی؟
{3} شریعت مقدسہ مطہرہ منورہ محمدیہ حنفیہ اہلسنت وجماعت میں “الوداعُ الوداعُ یاشھر رمضان”کا کیا درجہ ہے؟ فرض، واجب، سنت ، مستحب ، مباح؟ صاف صاف مدلل تحریر فرمائیں
{4} جس جمعۃ الوداع کے خطبہ میں “الوداع الوداع یاشھر رمضان”نہ پڑھا جائے وہ جمعہ صحیح ہوگا یا نہیں ؟ اور جمعۃ الوداع کے خطبے میں”الوداع الوداع یاشھر رمضان” نہ پڑھنے والا
امام کس درجہ کاخاطی وگنہگار ہے؟ وہ قابل ملامت و زجر ہے یا نہیں؟ اور جو لوگ اس کی ملامت و زجر کریں وہ گنہگارہوں گے یانہیں؟اور ایسے امام کی امامت جائز ہے یا نا جائز؟
{5}کتاب شبیہ الانسان میں لکھا ہے
“اما خواندن کلماتِ حسرت وافسوس درخطبۂ آخر رمضان مباح است فاما ازسلف منقول نیست وافضل ترک ست تا عوام راگمان وجوب وسنتش نگردد دریں شرط ست کہ روایت دروغ وبہتان برسول مقبول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دراں نباشد والاحرام ہم چنانکہ این ست “اکثر محمد مصطفی محبوب ومطلوبِ خداگفتے دریں حسرتا ای ماہ رمضان الوداع”
رمضان کے آخری جمعہ میں حسرت وافسوس کے کلمات پڑھنامباح ہےلیکن اسلاف سےمنقول نہیں ترک افضل ہے تاکہ عوام اسے واجب یاسنت نہ بنالیں، شرط یہ ہے کہ اس میں رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت جھوٹ شامل نہ ہو ورنہ حرام ہے اور وہ یہ ہے کہ “اکثرخدا کے محبوب ومطلوب محمد عربی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلمحسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے اے ماہِ رمضان ! الوداع۔
یہ فتوٰی مفتی سعد اﷲ نامی کسی بزرگ کا ہے جناب اس فتوٰی کے متعلق کیا فرماتے ہیں آیا صحیح قابلِ عمل ہے یا واجب الرد؟ جو کچھ ہو صاف تحریر فرمائیں، بینوا توجروا
الجــــــواب
{1}الوداع جس طرح رائج ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔
{2}نہ صحابہ کرام ومجتہدین عظام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے نہ اس کا موجد معلوم،
{3}وہ اپنی حد ذات میں مباح ہے ہر مباح نیتِ حسن سے مستحب ہوجاتا ہے اور عروض وعوارض خلاف سے مکروہ سے حرام تک۔
{4} جمعہ کے لئے خطبہ شرط ہے خاص خطبہ الوداع کوئی چیز نہیں ان کے ترک سے نماز پر کچھ اثر نہیں پڑسکتا اس کے ترک میں کچھ خلل نہیں، نہ تارک پرزجروملامت روا جب کہ ترک بر بنائے وہابیت نہ ہو، ہاں اگر وہابیت ہے تو وہابی کے پیچھے نماز بےشک ناجائز محض باطل اور وہ زجر و ملامت سے بھی سخت ترکا مستحق ہے۔
{5}اس فتوے میں جو کچھ لکھا حرف بحرف صحیح ہے سوائے اس لفظ کے کہ
” افضل ترک است”
اس کی جگہ یوں چاہئے”التزامش نہ شاید گا ہے ترک ہم کنند تا عوام گمان وجوب واستنان نہ دارند ؟
{ترجمہ – اس کا الترام نہیں کرنا چاہئے کبھی کبھاراسےترک کردیں تاکہ عوام کو وجوب یا سنت ہونے کا وہم نہ ہو}
فقد صرح العلماء الکرام ان الترک احیانا یزیل الایھام{ترجمہ- علماء کرام نے تصریح کی ہے کہ بعض اوقات ترک کردینا عوام کے وہم کو زائل کردیتا ہے} واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
“فتاوی رضویہ جلد ٨ رضافاؤنڈیشن لاہور”

نوٹ – عام قارئین کی سہولت کے لئے ناچیز نے سوال کے جملے کچھ ترمیم کے ساتھ واضح کردئے ہیں –
محمد مجاہدحسین رضوی
دارالعلوم غریب نواز الہ آباد

faize noori – kiya koi bimari chepi ho sakti he?

کیا کوئی بیماری چیپی ہو سکتی ہے؟

الجواب اللھم ہدایة الحق والصواب

حدیث سے ثابت ہے کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی، البتہ ضعیف الاعتقاد شخص کو بچنا ہی مناسب ہے نہ یہ سمجھ کر کہ بیماری اڑ کر لگ جاتی ہے کہ یہ خیال تو باطل محض ہے۔ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے صحیح حدیثوں میں اسے رد فرمایا: قال صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا عدوٰی (بیماری اڑ کر نہیں لگتی ) اخرجہ احمد والشیخان.
بلکہ اس نظر سے کہ شائد قضائے الٰہی کے مطابق کچھ واقع ہوا اور اس وقت شیطان کے بہکانے سے یہ سمجھ میں آیا کہ فلاں فعل سے ایسا ہو گیا ورنہ نہ ہوتا تو اس میں دین کا نقصان ہوگا۔ فان ”لو” تفتح عمل الشیطان قالہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔لوگو! حرف ”لو” سے بچوں کیونکہ یہ شیطانی کاموں کا دروازہ کھول دیتاہے۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔ غرض قوی الایمان کو توکلاً علی اللہ اس سے مخالطت میں کچھ نقصان نہیں، اور ضعیف الاعتقاد کے حق میں اپنے دین کی احتیاط کو احتراز بہتر

📚(فتاوی رضویہ مترجم ج ٢١ / کتاب الحظر و الاباحۃ / مسئلہ نمبر ١) ملخصاً

tazimi nara lagana

تعظیمی نعرہ لگانا کیسا🔸

🌹اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌹
✍سوال۔ کیافرماتے ہیں علماےدین ومفتیان شرع متین مسٸلہ ذیل میں کہ
کہ تعظیمی نعرہ لگانا کیسا ہے ؟
مع حوالہ کتب معتبرہ۔۔۔۔۔۔۔
🌹ساٸل ۔تسنیم۔رضوی مقام کولکاتا بنگال🌹
ا____💠⚜💠____
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ

📝الجواب بعون الملک الوھاب ⇩
صورت مذکورہ میں عالم دین ہو یا کوئی شیخ ان کی آمد کی اطلاع اور خاص ان کی تعظیم کے لئے نعرہائے تکبیر یا درود شریف یا سبحان اللہ وغیرہ لگانا جائز نہیں
🎗کیونکہ یہ کلمات اللہ تعالی کی تعظیم کے لیے خاص ہیں اور ان کلمات کے ذریعہ کسی کی آمد و رفت پر اطلاع کی خبر دینا یا ان کلمات کے ذریعہ خاص آنے والے کی تعظیم مقصود ہو کہ لوگ اس کی تعظیم کو اٹھیں اور جگہ چھوڑ دیں تو یہ ناجائز ہے :

📃رد المحتارمیں ہے
💝و عن هذا يمنع إذا قدم واحد من العظماء الى مجلس فسبح أو صلي على النبي صلى الله عليه وسلم إعلاما بقدومه حتى يفرج له الناس أو يقومواله يأثم :
(📓 ج 3 مطلب ھل تقع الصلاۃ عائدا للمصلی ام له وللمصلی عليه صفحہ 230)

‘ نیز فرماتے ہیں
🎯لما في كراهية الفتاوي الهندية اذا فتح التاجر الثوب فسبح الله تعاليٰ أو صلي على النبي صلى الله عليه وسلم يريد به اعلام المشتري جودة الثوب فذلك مكروه وكذا الحارس لأنه يأخذ لذلك ثمنا.
(📕ج3 صفحہ 230)

📑الاشباہ والنظائر میں ہے
🎗 وكذا الحارس إذا قال في الحراسة لا إله إلا الله يعني لأجل الاعلام بأنه مستيقظ يكون آثما :
(📙 ج1والقاعدۃ الثانیۃ الامور بمقاصدها صفحہ 114)
📃فتاویٰ بزازیہ میں ہے
♻و عن هذا يمنع إذا قدم واحد من العظماء الى مجلس فسبح أو صلي عليه والسلام إعلاما بقدومه حتى يفرج له الناس أو يقومواله يأثم لأنه جعل اسم الله تعالى وصلاته على رسول عليه السلام وسلية إلي تعظيم الغير و استحلال هذا الصنع واعتقاده عبادةلاخفاء في أنه أمر هائل عظيم نعوذ بالله سبحانه من ذلك وقد ابتلينا به في ديارنا.
(📘 صفحہ 473)

🔖یہی حکم اس وقت بھی جب کوئی دوسرا یہ اذکار اسی نیت سے کرے اور یہ جاننے والا اس پر راضی بھی ہو
📑بہار شریعت جلد اول میں ہے
گاہک کو سودا دیکھاتے وقت تاجر کا اس غرض سے درود شریف پڑھنا یا سبحان اللہ کہنا ہے کہ اس چیز کی عمدگی خریدار پر ظاہر کرے ناجائز ہے یوہیں کسی بڑے کو دیکھ کر درود شریف پڑھنا اس نیت سے کہ لوگوں کو اس کے آنے کی خبر ہو جائے اس کے ساتھ اٹھیں اور جگہ چھوڑ دے نا جائز ہے
( 📕صفحہ 533)

🍭ہاں اگر کسی معظم دینی آمد پر اظہار مسرت کے لئے لئے نعرۂ تکبیر و نعرۂ رسالت بلند کیے جائے یانعرۂ تکبیر اور نعرہ رسالت کے ذریعہ لوگوں کو علم دین کےوعظ سننے کو ہمہ تن گوش ہو جانے کے لیے نعرۂ تکبیر اللہ اکبر یا رسول اللہ کی صدائیں بلند کی جائیں اس میں کوئی حرج نہیں

📃الاشباہ والنظائر میں ہے
📿 بخلاف العالم إذا قال في المجلس صلوا على النبي فإنه يثاب على ذلك وكذا الغازي إذا قال كبروا يثاب لان الحارس والفقاعي يأخذان بذلك أجرا.
(📙 ج1والقاعدۃ الثانیۃ الامور بمقاصدها صفحہ 114)

💫تنبيهًا آج کل ہمارے جلسوں میں عموماً نعت شریف یا تقریر کے درمیان یہ عمل پایا جاتا ہے جس سے مقرر یا نعت خواں یا سامعین کو سخت خلل ہوتا ہے اور اسی وجہ سے نعت رسول اور مقرر کا ذکر خدا و رسول اور پند و نصائح کا سلسلہ کچھ دیر موقوف بھی کرنا پڑتا ہے اس پر لوگوں کو کنٹرول کرنا ضروری ہے۔

🌹واللہ اعلم سبحانہ وتعالی🌹
ا____💠⚜💠____
✍🏻کــتــبــہ
حضرت علامہ و مولانا محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی سونا پور اتر دیناجپور بنگال
🗓 ۲۵ مئی بروز سنیچر ۲۰۱۹ عیسوی https://wa.me/+918793969359
ا____💠⚜💠___
🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸 https://wa.me/+917800878771
ا____💠⚜💠___
المشتـــہر؛
منتظمین فیضان غـوث وخـواجہ گروپ؛محمد ایوب خان یارعلوی

جمعة الوداع ۔۔۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ

بہت سارے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ رمضان المبارک کا آخری جمعہ “جمعۃ الوداع” ایک الگ نوعیت کاجمعہ ہے جس کے خطبے میں
“الوداعُ الوداعُ یاشھر رمضان” پڑھنا ضروری ہے
اگر امام نے جمعۃ الوداع کے خطبہ میں “الوداعُ الوداعُ یاشھر رمضان” نہیں پڑھا تو فقط جمعہ
پڑھا “جمعۃ الوداع نہیں پڑھا,پیش ہیں اس سے متعلق سرکار اعلی حضرت سے کئے گئے کچھ سوالات اور ان کے جوابات غور سے پڑھئے اگر آپ کو بھی غلط فہمی ہو تودور کیجئے –

{1} جمعۃ الوداع کے خطبےمیں نبئ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے “الوداعُ الوداعُ یاشھر رمضان” پڑھا ہے یانہیں؟
{2} اگرحضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نہیں پڑھا ہے تو سب سے پہلے خطبہ میں”الوداع الوداع یاشھر رمضان” کس نے پڑھا ہے ؟ اس کا موجد ومخترع کون ہے ؟صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین یا ائمہ مجتہدین فقہاء و محدثین رحمہم اﷲ تعالٰی؟
{3} شریعت مقدسہ مطہرہ منورہ محمدیہ حنفیہ اہلسنت وجماعت میں “الوداعُ الوداعُ یاشھر رمضان”کا کیا درجہ ہے؟ فرض، واجب، سنت ، مستحب ، مباح؟ صاف صاف مدلل تحریر فرمائیں
{4} جس جمعۃ الوداع کے خطبہ میں “الوداع الوداع یاشھر رمضان”نہ پڑھا جائے وہ جمعہ صحیح ہوگا یا نہیں ؟ اور جمعۃ الوداع کے خطبے میں”الوداع الوداع یاشھر رمضان” نہ پڑھنے والا
امام کس درجہ کاخاطی وگنہگار ہے؟ وہ قابل ملامت و زجر ہے یا نہیں؟ اور جو لوگ اس کی ملامت و زجر کریں وہ گنہگارہوں گے یانہیں؟اور ایسے امام کی امامت جائز ہے یا نا جائز؟
{5}کتاب شبیہ الانسان میں لکھا ہے
“اما خواندن کلماتِ حسرت وافسوس درخطبۂ آخر رمضان مباح است فاما ازسلف منقول نیست وافضل ترک ست تا عوام راگمان وجوب وسنتش نگردد دریں شرط ست کہ روایت دروغ وبہتان برسول مقبول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دراں نباشد والاحرام ہم چنانکہ این ست “اکثر محمد مصطفی محبوب ومطلوبِ خداگفتے دریں حسرتا ای ماہ رمضان الوداع”
رمضان کے آخری جمعہ میں حسرت وافسوس کے کلمات پڑھنامباح ہےلیکن اسلاف سےمنقول نہیں ترک افضل ہے تاکہ عوام اسے واجب یاسنت نہ بنالیں، شرط یہ ہے کہ اس میں رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت جھوٹ شامل نہ ہو ورنہ حرام ہے اور وہ یہ ہے کہ “اکثرخدا کے محبوب ومطلوب محمد عربی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلمحسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے اے ماہِ رمضان ! الوداع۔
یہ فتوٰی مفتی سعد اﷲ نامی کسی بزرگ کا ہے جناب اس فتوٰی کے متعلق کیا فرماتے ہیں آیا صحیح قابلِ عمل ہے یا واجب الرد؟ جو کچھ ہو صاف تحریر فرمائیں، بینوا توجروا
الجــــــواب
{1}الوداع جس طرح رائج ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔
{2}نہ صحابہ کرام ومجتہدین عظام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے نہ اس کا موجد معلوم،
{3}وہ اپنی حد ذات میں مباح ہے ہر مباح نیتِ حسن سے مستحب ہوجاتا ہے اور عروض وعوارض خلاف سے مکروہ سے حرام تک۔
{4} جمعہ کے لئے خطبہ شرط ہے خاص خطبہ الوداع کوئی چیز نہیں ان کے ترک سے نماز پر کچھ اثر نہیں پڑسکتا اس کے ترک میں کچھ خلل نہیں، نہ تارک پرزجروملامت روا جب کہ ترک بر بنائے وہابیت نہ ہو، ہاں اگر وہابیت ہے تو وہابی کے پیچھے نماز بےشک ناجائز محض باطل اور وہ زجر و ملامت سے بھی سخت ترکا مستحق ہے۔
{5}اس فتوے میں جو کچھ لکھا حرف بحرف صحیح ہے سوائے اس لفظ کے کہ
” افضل ترک است”
اس کی جگہ یوں چاہئے”التزامش نہ شاید گا ہے ترک ہم کنند تا عوام گمان وجوب واستنان نہ دارند ؟
{ترجمہ – اس کا الترام نہیں کرنا چاہئے کبھی کبھاراسےترک کردیں تاکہ عوام کو وجوب یا سنت ہونے کا وہم نہ ہو}
فقد صرح العلماء الکرام ان الترک احیانا یزیل الایھام{ترجمہ- علماء کرام نے تصریح کی ہے کہ بعض اوقات ترک کردینا عوام کے وہم کو زائل کردیتا ہے} واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
“فتاوی رضویہ جلد ٨ رضافاؤنڈیشن لاہور”

نوٹ – عام قارئین کی سہولت کے لئے ناچیز نے سوال کے جملے کچھ ترمیم کے ساتھ واضح کردئے ہیں –
محمد مجاہدحسین رضوی
دارالعلوم غریب نواز الہ آباد

ایک غلط فہمی کا ازالہ

دور حاضر میں
🌹 مسجدوں میں افطاری🌹 ہوتی ہے
اس پر مطلقا یہ حکم لگانا کہ

❎مسجد کی افطاری غیر روزہ دار کو کھانا حرام ہے ❎

یہ حرام کا حکم لگانا ہر گز درست نہیں
بعض اہل علم حضرات
کو غلط فہمی ہوئی اور مسئلہ ایک خاص صورت میں تھا اور اس کو مطلق سمجھ لیا

🌹مسئلہ کی وضاحت 🌹

امام اہل سنت نے غیر روز جو حکم ناجائز و حرام کا بیان کیا ہے وہ حکم اس وقت ہے
جب مسجد کی افطاری وقف کی آمدنی سے حاصل ہو مثلا مسجد کے کمرے وغیرہ جو مسجد کے انتظام اور حاجت کے لئے کرائے پر چلانے کے لئے وقف ہوں اور روزہ دار کے لئے افطاری کے انظام کا ذکر بھی صراحتا وقف کرنے والے نے وقف کرتے وقت کر دیا ہو کہ اس آمدنی سے افطاری کا بھی انتظام کیا جائیگا
اس صورت میں جبکہ واقف نے آمدنی سے مسجد میں افطاری کی اجازت دی تھی تو یہ افطاری بھی مال وقف اور مثل مال یتیم ہے اور اس میں غیر کا تصرف حرام لہذا اس افطاری کو غیر روزہ دار کا کھانا ناجائز اور حرام ہے
امام اہل سنت نے واضح الفاظ میں لکھا ہے ملاحظہ فرمائیں

یونہی یہاں ان غیر روزہ داروں کو اس کاکھانا حرام ہے۔
وقف کا مال مثل مال یتیم ہے
جسے ناحق کھانے پر فرمایا:انما یاکلون فی بطونھم ناراوسیصلون سعیرا۱؎۔

اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اور عنقریب جہنم میں جائیں گے۔

(۱؎ القرآن الکریم۴/ ۱۰)

(فتاوی رضویہ جلد مترجم 16 صفحہ 485 تا 488 مسئلہ نمبر 292)

جبکہ مسجدوں میں عام طور پر جو افطاری آتی ہے وہ وقف کے مال سے نہیں بلکہ عوام اپنے گھر سے بھجتے ہیں
اور یہ اب عوام کے دینے اور انکی اجازت پر موقوف رہیگا اگر انکی جانب سے اجازت ہے تو غیر روزہ دار کو بھی کھانا جائز اور اگر اس لئے مسجد میں دیا کہ صرف روزہ دار ہی کھائیں اور غیر روزہ دار نہ کھائیں تو اس صورت میں ناجائز ہوگا

اور عرف عام میں عوام کی یہ نیت تو ہر گز نہیں ہوتی کہ روزہ دار کھائے اور غیر روزہ دار نہ کھائے
بلکہ روزہ دار کو کھلانہ مقصود ہوتا ہے اور انکے ساتھ کوئی غیر بھی کھالے تو عوام کو اس پر اعتراض نہیں
اور عوام کو یہ بھی ہے کہ اکثر تعداد کھانے والوں میں بچوں کی ہی ہوتی ہے جو عموما روزہ تو نہیں رکھتے روزہ دار تو اتنا ہی کھا پاتے ہیں جتنی دیر میں اذان ہو جائے اس کے بعد تو تمام
افطاری بچوں کے ہی سپرد ہوتی ہے
نیز عوام اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ غیر بھی کھاتے ہیں اگر غیر کے کھانے میں انکی ناراضگی ہوتی تو عوام اعتراض ضرور کرتے
جیسا کہ کئی بار عوام اس وقت اعتراض ضرور کرتے جب روزہ دار کو افطاری نہیں ملتی اور غیر روزہ دار خوب جم کر کھاتے نظر آتے ہیں

🌹ایک مخلصانہ گزارش 🌹

مسجد کی افطاری غیر روزہ دار کے لئے حرام ہے
یہ میسج مجھے کچھ پڑھے لکھے حضرات نے بھی کیا اس لئے ایک گزارش ہے کہ
واٹس ایپ وغیرہ پر آنے والے مسائل اور ان میں بیان کئے ہوئے حوالوں کو یہ سمجھ لینا کہ بہت مضبوط دلیل کے ساتھ لکھا ہے
یہ مناسب نہیں خاص طور پر اہل علم حضرات واٹس ایپ وغیرہ پر آنے والے مسائل کو کسی اور کو بھیجنے سے پہلے ایک بار اصل کتاب میں
ضرور دیکھ لیں ورنہ اس قسم کی غلط فہمی والی چیزوں پر ہمارے بھجینے سے اس کے درست ہونے کی مہر لگ جاتی ہے اور عوام اعتماد میں رہتے ہیں

اللہ ہم سب کو صحیح فہم عطا فرمائے

📝خادم حضور سلطان العلماء
محمد شہزاد رضوی اندور
خطیب و امام سنی حنفی فاطمہ مسجد آزاد نگر اندور
9907578672

ﺣﺪﻳﺚ ﻗﻀﺎﺀ ﻋﻤﺮی ﺍﻳﮏ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮯ
تحقیقی ﺟﺎﺋﺰہ

چند روز قبل ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﻗﻀﺎﺀ ﻋﻤﺮی ﻛﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺳﮯ یہ ﭘﻮﺳﭧ ﮔﺰﺭﯼ ﺟﺲ ﻣﻴﮟ ﻟﻜﻬﺎ ﺗﻬﺎ کہ؛ ‏( ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ صلی ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ:
ﺟﺲ ﺷﺨﺺ کی ﻧﻤﺎﺯﻳﮟ ﻗﻀﺎ ہوئیں ہوں ﺍﻭﺭ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮧ ہو ، ﺗﻮ ﻭﻩ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻛﮯ ﺁﺧﺮی جمعہ ﻛﮯ ﺩﻥ 4 ﻧﻔﻞ 1 ﺳﻼﻡ ﻛﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﮍﮬﮯ، ﮨﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﻴﮟ ﺳﻮﺭﺓ ﻓﺎتحہ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﻳﺔ ﺍﻟﻜﺮﺳﻲ 7 ﺑﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﻮﺛﺮ 15 ﺑﺎﺭ ﭘﮍﮬﮯ
ﺍﮔﺮ 700 ﺳﺎﻝ کی ﻧﻤﺎﺯﻳﮟ بھی ﻗﻀﺎ ہوئیں ہوﮞ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻛﮯ ﻛﻔﺎﺭﻩ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ یہ ﻧﻤﺎﺯ ﻛﺎفی ہے

ﻳﮧ تھی ﺗﺤﺮﻳﺮ ﺟﻮ ﻣﻴﮟ ﻧﮯ ﻧﻘﻞ کج
ﺍﺏ ﺁﺋﯿﮯ ﺍﺱ ﺭﻭﺍﻳﺖ ﻛﻲ ﻋﺮﺑﻲ ﻋﺒﺎﺭﺕ بھی ﻣﻼﺣﻈﻪ ﻓﺮﻣﺎﻟﻴﮟ ؛
‏(ﺇﻥ ﺍﻟﺮﺳﻮﻝ ﷺ ﻗﺎﻝ : ﻣﻦ ﻓﺎﺗﺘﻪ ﺻﻼﺓ ﻓﻲ ﻋﻤﺮﻩ ﻭﻟﻢ ﻳﻘﻀﻬﺎ ﻓﻠﻴﻘﺾ ﻓﻲ ﺁﺧﺮ ﺟﻤﻌﺔ ﻣﻦ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻭﻳﺼﻠﻲ ﺃﺭﺑﻊ ﺭﻛﻌﺎﺕ ﺑﺘﺸﻬﺪ ﻭﺍﺣﺪ ﻳﻘﺮﺃ ﻓﻲ ﻛﻞ ﺭﻛﻌﺔ ﻓﺎﺗﺤﺔ ﺍﻟﻜﺘﺎﺏ ﻭﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻘﻤﺮ ﺧﻤﺴﺲ ﻋﺸﺮﺓ ﻣﺮﺓ، ﻭﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﻮﺛﺮ ﻛﺬﻟﻚ، ﻭﻳﻘﻮﻝ ﻓﻲ ﺍﻟﻨﻴﺔ : ﻧﻮﻳﺖ ﺃﺻﻠﻲ ﺃﺭﺑﻊ ﺭﻛﻌﺎﺕ ﻛﻔﺎﺭﺓ ﻟﻤﺎ ﻓﺎﺗﻨﻲ ﻣﻦ ﺍﻟﺼﻼﺓ، ﻓﺈﺫﺍ ﻓﺮﻍ ﻣﻦ ﺍﻟﺼﻼﺓ ﺻﻠﻰ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﻨﺒﻲ ﷺ ﻣﺎﺋﺔ ﻣﺮﺓ ،
ﺍسی ﻣﻔﻬﻮﻡ کی ﺍﻳﮏ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺍﻳﺖ ہے ﻣﻼﺣﻈﻪ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ
ﻣﻦ قضی ﺻﻠﻮﺍﺕ ﻣﻦ ﺍﻟﻔﺮﺍﺋﺾ ﻓﻲ ﺁﺧﺮ ﺟﻤﻌﺔ ﻣﻦ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻛﺎﻥ ﺫﺍﻟﻚ ﺟﺎﺑﺮﺍ ﻟﻜﻞ ﺻﻼﺓ ﻓﺎﺋﺘﺔ ﻣﻦ ﻋﻤﺮﻩ ﺍﻟﻲ ﺳﺒﻌﻴﻦ ﺳﻨﺔ
ﺗﺮجمہ: ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﻛﻲ ﺍﺩﺍئیگی کی ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻛﮯ ﺁﺧﺮی ﻣﻴﮟ ﺗﻮ ﻳﻪ ﺍﺩﺍئیگی ﺍﺱ کی ﺯﻧﺪگی ﻛﮯ 70 ﺳﺎﻝ کی ﺗﻤﺎﻡ ﻗﻀﺎﺀ ﺷﺪﻩ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﻛﺎ ﻛﻔﺎﺭﻩ ﻫﻮﮔﯽ)

ﺟﺐ ہم ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﻭﺍﻳﺖ ﻛﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺳﮯ ﻛﺘﺐ ﺣﺪﻳﺚ میں ﺩﻳﻜﻬﺎ ﺗﻮ کہیں بھی ﺍیسی ﻛﻮئی ﺭﻭﺍﻳﺖ نہیں ملی،

ہاں! ﺍﻳﮏ ﻛﺘﺎﺏ ﻛﺎ ﺣﻮﺍﻟﻪ ﻣﻠﺘﺎﻫﮯ
کہ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﻨﻬﺎﻳﺔ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻛﻮ ﺫﻛﺮ ﻛﻴﺎ ﻫﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﻳﮏ ﺍﻭﺭ ﻛﺘﺎﺏ ﺑﻌﻨﻮﺍﻥ ‏( ﺳﻮﺭ ﻣﻦ ﺍﻟﻘﺮﻥ ﺍﻟﻜﺮﻳﻢ ‏) ﻫﮯ
ﺍﺏ ﺍﺱ ﺭﻭﺍﻳﺖ ﻛﻮ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻣﺤﺪﺛﻴﻦ کی ﺑﺎﺭﮔﺎﻩ میں ﭘﻴﺶ ﻛﺮﺗﮯ ہیں ﺗﻮ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺳﮯ ،
ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﺣﻨﺎﻑ ﺳﮯ ﺍﻳﮏ بہت ﺑﮍﮮ ﻋﺎﻟﻢ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻼ علی ﻗﺎﺭی ، ﺍﭘﻨﻰ ﻛﺘﺎﺏ ﻣﻮﺿﻮﻋﺎﺕ ﺍﻟﺼﻐﺮی ﻭﺍﻟﻜﺒﺮی میں ﺗﺤﺮﻳﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﻫﻴﮟ:
ﺑﺎﻃﻞ ﻗﻄﻌﻴﺎ ﻷﻧﻪ ﻣﺘﻨﺎﻗﺾ ﻟﻺﺟﻤﺎﻉ علی ﺃﻥ ﺷﻴﺌﺎ ﻻﻳﻘﻮﻡ ﻣﻘﺎﻡ ﻓﺎﺋﺘﺔ ﺳﻨﻮﺍﺕ ﺛﻢ ﻻﻋﺒﺮﺓ ﺑﻨﻘﻞ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﻨﻬﺎﻳﺔ ﻭﻻﺑﻘﻴﺔ ﺷﺮﺍﺡ ﺍﻟﻬﺪﺍﻳﺔ ﻷﻧﻬﻢ ﻟﻴﺴﻮﺍ ﻣﻦ ﺍﻟﻤﺤﺪﺛﻴﻦ ﻭﻻﺍﺳﻨﺪﻭﺍ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﺇﻟﻲ ﺍﺣﺪ ﻣﻦ ﺍﻟﻤﺨﺮﺟﻴﻦ ﺍنتہی.
ﻭ ﺫﻛﺮﻩ ﺍﻟﺸﻮﻛﺎﻧﻲ ﻓﻲ ﺍﻟﻔﻮﺍﺋﺪ ﺍﻟﻤﺠﻤﻮﻋﺔ ﻓﻲ ﺍﻻﺣﺎﺩﻳﺚ ﺍﻟﻤﻮﺿﻮﻋﺔ ﺑﻠﻔﻆ ﻣﻦ صلی ﻓﻲ ﺁﺧﺮ ﺟﻤﻌﺔ ﻣﻦ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﺨﻤﺲ ﺻﻠﻮﺍﺕ ﺍﻟﻤﻔﺮﻭﺿﺔ ﻓﻲ ﺍﻟﻴﻮﻡ ﻭﺍﻟﻠﻴﻠﺔ ﻗﻀﺖ ﻋﻨﻪ ﻣﺎﺃﺧﻞ ﺑﻪ ﻣﻦ ﺻﻼﺓ ﺳﻨﺔ ، ﻭﻗﺎﻝ ﻫﺬﺍ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﺑﻼﺷﻚ ﻭﻟﻢ ﺍﺟﺪﻩ ﻓﻲ ﺷﻴﺊ ﻣﻦ ﺍﻟﻜﺘﺐ ﺍﻟﺘﻲ ﺟﻤﻊ ﻣﺼﻨﻔﻮﻫﺎ ﻓﻴﻬﺎ ﺍﻻﺣﺎﺩﻳﺚ ﺍﻟﻤﻮﺿﻮﻋﺔ ﻭﻟﻜﻦ ﺍﺷﺘﻬﺮ ﻋﻨﺪ ﺟﻤﺎﻋﺔ ﻣﻦ ﺍﻟﻤﺘﻔﻘﻬﺔ ﺑﻤﺪﻳﻨﺔ ﺻﻨﻌﺎﺀ ﻓﻲ ﻋﺼﺮﻧﺎ ﻫﺬﺍ ﻭﺻﺎﺭ ﻛﺜﻴﺮ ﻣﻨﻬﻢ ﻳﻔﻌﻠﻮﻥ ﺫﺍﻟﻚ ﻭﻻﺃﺩﺭﻱ ﻣﻦ ﻭﺿﻊ ﻟﻬﻢ ، ﻓﻘﺒﺢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻜﺬﺍﺑﻴﻦ ﺍﻧﺘﻬﻲ ، ﺍﻟﻔﻮﺍﺋﺪ ﺍﻟﻤﺠﻤﻮﻋﺔ ﺹ ٥٤
ﻭﻗﺎﻝ ﺍﻟﻌﻼﻣﺔ ﺍﻟﺪﻫﻠﻮﻱ ﻓﻲ ﺭﺳﺎﻟﺘﻪ ﺍﻟﻌﺠﺎﻟﺔ ﺍﻟﻨﺎﻓﻌﺔ ﻋﻨﺪ ﺫﻛﺮ ﻗﺮﺍﺋﻦ ﺍﻟﻮﺿﻊ ﺍﻟﺨﺎﻣﺲ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﻣﺨﺎﻟﻔﺎ ﻟﻤﻘﺘﻀﻲ ﺍﻟﻌﻘﻞ ﻭﺗﻜﺬﺑﻪ ﺍﻟﻘﻮﺍﻋﺪ ﺍﻟﺸﺮﻋﻴﺔ ﻣﺜﻞ ﺍﻟﻘﻀﺎﺀ ﺍﻟﻌﻤﺮﻱ ﻭﻧﺤﻮ ﺫﺍﻟﻚ ﺍﻧﺘﻬﻲ ﻣﻌﺮﺑﺎ ،
ﻗﻠﺖ ؛ ﻭﻗﺪ ﺃﻟﻔﺖ ﻹﺛﺒﺎﺕ ﻭﺿﻊ ﻫﺬﺍ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﺍﻟﺬﻱ ﻳﻮﺟﺪ ﻓﻲ ﻛﺘﺐ ﺍﻷﻭﺭﺍﺩ ﻭﺍﻟﻮﻇﺎﺋﻒ ﺑﺄﻟﻔﺎﻅ ﻣﺨﺘﻠﻔﺔ ﻣﺨﺘﺼﺮﺓ ﻭﻣﻄﻮﻟﺔ ﺑﺎﻟﺪﻻﺋﻞ ﺍﻟﻌﻘﻠﻴﺔ ﻭﺍﻟﻨﻘﻠﻴﺔ ﺭﺳﺎﻟﺔ ﻣﺴﻤﺎﺓ ﺑﺮﺩﻉ ﺍﻻﺧﻮﺍﻥ ﻋﻦ ﻣﺤﺪﺛﺎﺕ ﺁﺧﺮ ﺟﻤﻌﺔ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻭ ﺃﺩﺭﺟﺖ ﻓﻴﻬﺎ ﻓﻮﺍﺋﺪ ﺗﻨﺸﻂ ﺑﻬﺎ ﺍﻻﺫﻫﺎﻥ ﻭﺗﺼﻐﻲ ﺇﻟﻴﻬﺎ ﺍﻵﺫﺍﻥ ﻓﻠﺘﻄﺎﻟﻊ ﻓﺈﻧﻬﺎ ﻧﻔﻴﺴﺔ ﻓﻲ ﻫﺬﺍ ﺍﻟﺸﺄﻥ ،
ﺍﻵﺛﺎﺭ ﺍﻟﻤﺮﻓﻮﻋﺔ ﻓﻲ ﺍﻻﺧﺒﺎﺭ ﺍﻟﻤﻮﺿﻮﻋﺔ
ﻟﻠﻌﻼﻣﺔ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺤﺌﻲ ﺍﻟﻠﻜﻨﻮﻱ ﺭﺣﻤﻪ ﺍﻟﻠﻪ ))

ﺍﻟﺤﺎﺻﻞ؛ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻣﺤﺪﺛﻴﻦ ﻛﮯ ﻧﺰﺩﻳﮏ یہ ﺭﻭﺍﻳﺖ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﺍﻭﺭ چھوٹی ہے ﺟﺲ کی ﻧﺴﺒﺖ ﺣﻀﻮﺭ صلی ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ کی ﻃﺮﻑ ﻛﺮﻧﺎ بہت ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﻩ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺘﺤﻖ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﺎﺭ ہے ﺟﻴﺴﺎ ﻛﻪ ﺣﻀﻮﺭ صلی ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ ، ﻣﻦ ﻛﺬﺏ ﻋﻠﻲ ﻣﺘﻌﻤﺪﺍ ﻓﻠﻴﺘﺒﻮﺃ ﻣﻘﻌﺪﻩ ﻣﻦ ﺍﻟﻨﺎﺭ ‏( ﺻﺤﻴﺢ ﻣﺴﻠﻢ )
ﻟﻬﺬﺍ ﻣﻴﺮی ﮔﺰﺍﺭﺵ ہے کہ ﻣﻴﺮی ﺗﺤﺮﻳﺮ ﺟﺲ ﻛﻮ بھی ﻣﻠﮯ ﺧﺼﻮﺻﺎ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻭﻩ ﻟﻮﮔﻮں ﺗﮏ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻛﻮ ﭘﮩﻮﻧﭽﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﮔﺎﻩ ﻛﺮیں کہ یہ ﺭﻭﺍﻳﺖ ﺟﻬﻮٹی ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺑﻨﻴﺎﺩ ﻫﮯ
ﺍﺱ ﺗﺤﺮﻳﺮ ﻛﻮ ﺯﻳﺎﺩﻩ ﺳﮯ ﺯﻳﺎﺩﻩ ﺷﻴﺌﺮ ﻛﺮیں ﺗﺎکہ ہر ﻛﻮئی ﻣﺴﺘﻔﻴﺪ ﻫﻮﺳﻜﮯ
ﻓﻘﻂ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ

محمد ذی شان الحنفی
جامعة الأزهر الشريف، القاهرة مصر

ﺣﺪﻳﺚ ﻗﻀﺎﺀ ﻋﻤﺮی ﺍﻳﮏ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮯ
تحقیقی ﺟﺎﺋﺰہ

چند روز قبل ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﻗﻀﺎﺀ ﻋﻤﺮی ﻛﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺳﮯ یہ ﭘﻮﺳﭧ ﮔﺰﺭﯼ ﺟﺲ ﻣﻴﮟ ﻟﻜﻬﺎ ﺗﻬﺎ کہ؛ ‏( ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ صلی ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ:
ﺟﺲ ﺷﺨﺺ کی ﻧﻤﺎﺯﻳﮟ ﻗﻀﺎ ہوئیں ہوں ﺍﻭﺭ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮧ ہو ، ﺗﻮ ﻭﻩ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻛﮯ ﺁﺧﺮی جمعہ ﻛﮯ ﺩﻥ 4 ﻧﻔﻞ 1 ﺳﻼﻡ ﻛﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﮍﮬﮯ، ﮨﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﻴﮟ ﺳﻮﺭﺓ ﻓﺎتحہ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﻳﺔ ﺍﻟﻜﺮﺳﻲ 7 ﺑﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﻮﺛﺮ 15 ﺑﺎﺭ ﭘﮍﮬﮯ
ﺍﮔﺮ 700 ﺳﺎﻝ کی ﻧﻤﺎﺯﻳﮟ بھی ﻗﻀﺎ ہوئیں ہوﮞ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻛﮯ ﻛﻔﺎﺭﻩ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ یہ ﻧﻤﺎﺯ ﻛﺎفی ہے

ﻳﮧ تھی ﺗﺤﺮﻳﺮ ﺟﻮ ﻣﻴﮟ ﻧﮯ ﻧﻘﻞ کج
ﺍﺏ ﺁﺋﯿﮯ ﺍﺱ ﺭﻭﺍﻳﺖ ﻛﻲ ﻋﺮﺑﻲ ﻋﺒﺎﺭﺕ بھی ﻣﻼﺣﻈﻪ ﻓﺮﻣﺎﻟﻴﮟ ؛
‏(ﺇﻥ ﺍﻟﺮﺳﻮﻝ ﷺ ﻗﺎﻝ : ﻣﻦ ﻓﺎﺗﺘﻪ ﺻﻼﺓ ﻓﻲ ﻋﻤﺮﻩ ﻭﻟﻢ ﻳﻘﻀﻬﺎ ﻓﻠﻴﻘﺾ ﻓﻲ ﺁﺧﺮ ﺟﻤﻌﺔ ﻣﻦ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻭﻳﺼﻠﻲ ﺃﺭﺑﻊ ﺭﻛﻌﺎﺕ ﺑﺘﺸﻬﺪ ﻭﺍﺣﺪ ﻳﻘﺮﺃ ﻓﻲ ﻛﻞ ﺭﻛﻌﺔ ﻓﺎﺗﺤﺔ ﺍﻟﻜﺘﺎﺏ ﻭﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻘﻤﺮ ﺧﻤﺴﺲ ﻋﺸﺮﺓ ﻣﺮﺓ، ﻭﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﻮﺛﺮ ﻛﺬﻟﻚ، ﻭﻳﻘﻮﻝ ﻓﻲ ﺍﻟﻨﻴﺔ : ﻧﻮﻳﺖ ﺃﺻﻠﻲ ﺃﺭﺑﻊ ﺭﻛﻌﺎﺕ ﻛﻔﺎﺭﺓ ﻟﻤﺎ ﻓﺎﺗﻨﻲ ﻣﻦ ﺍﻟﺼﻼﺓ، ﻓﺈﺫﺍ ﻓﺮﻍ ﻣﻦ ﺍﻟﺼﻼﺓ ﺻﻠﻰ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﻨﺒﻲ ﷺ ﻣﺎﺋﺔ ﻣﺮﺓ ،
ﺍسی ﻣﻔﻬﻮﻡ کی ﺍﻳﮏ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺍﻳﺖ ہے ﻣﻼﺣﻈﻪ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ
ﻣﻦ قضی ﺻﻠﻮﺍﺕ ﻣﻦ ﺍﻟﻔﺮﺍﺋﺾ ﻓﻲ ﺁﺧﺮ ﺟﻤﻌﺔ ﻣﻦ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻛﺎﻥ ﺫﺍﻟﻚ ﺟﺎﺑﺮﺍ ﻟﻜﻞ ﺻﻼﺓ ﻓﺎﺋﺘﺔ ﻣﻦ ﻋﻤﺮﻩ ﺍﻟﻲ ﺳﺒﻌﻴﻦ ﺳﻨﺔ
ﺗﺮجمہ: ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﻛﻲ ﺍﺩﺍئیگی کی ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻛﮯ ﺁﺧﺮی ﻣﻴﮟ ﺗﻮ ﻳﻪ ﺍﺩﺍئیگی ﺍﺱ کی ﺯﻧﺪگی ﻛﮯ 70 ﺳﺎﻝ کی ﺗﻤﺎﻡ ﻗﻀﺎﺀ ﺷﺪﻩ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﻛﺎ ﻛﻔﺎﺭﻩ ﻫﻮﮔﯽ)

ﺟﺐ ہم ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﻭﺍﻳﺖ ﻛﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺳﮯ ﻛﺘﺐ ﺣﺪﻳﺚ میں ﺩﻳﻜﻬﺎ ﺗﻮ کہیں بھی ﺍیسی ﻛﻮئی ﺭﻭﺍﻳﺖ نہیں ملی،

ہاں! ﺍﻳﮏ ﻛﺘﺎﺏ ﻛﺎ ﺣﻮﺍﻟﻪ ﻣﻠﺘﺎﻫﮯ
کہ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﻨﻬﺎﻳﺔ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻛﻮ ﺫﻛﺮ ﻛﻴﺎ ﻫﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﻳﮏ ﺍﻭﺭ ﻛﺘﺎﺏ ﺑﻌﻨﻮﺍﻥ ‏( ﺳﻮﺭ ﻣﻦ ﺍﻟﻘﺮﻥ ﺍﻟﻜﺮﻳﻢ ‏) ﻫﮯ
ﺍﺏ ﺍﺱ ﺭﻭﺍﻳﺖ ﻛﻮ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻣﺤﺪﺛﻴﻦ کی ﺑﺎﺭﮔﺎﻩ میں ﭘﻴﺶ ﻛﺮﺗﮯ ہیں ﺗﻮ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺳﮯ ،
ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﺣﻨﺎﻑ ﺳﮯ ﺍﻳﮏ بہت ﺑﮍﮮ ﻋﺎﻟﻢ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻼ علی ﻗﺎﺭی ، ﺍﭘﻨﻰ ﻛﺘﺎﺏ ﻣﻮﺿﻮﻋﺎﺕ ﺍﻟﺼﻐﺮی ﻭﺍﻟﻜﺒﺮی میں ﺗﺤﺮﻳﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﻫﻴﮟ:
ﺑﺎﻃﻞ ﻗﻄﻌﻴﺎ ﻷﻧﻪ ﻣﺘﻨﺎﻗﺾ ﻟﻺﺟﻤﺎﻉ علی ﺃﻥ ﺷﻴﺌﺎ ﻻﻳﻘﻮﻡ ﻣﻘﺎﻡ ﻓﺎﺋﺘﺔ ﺳﻨﻮﺍﺕ ﺛﻢ ﻻﻋﺒﺮﺓ ﺑﻨﻘﻞ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﻨﻬﺎﻳﺔ ﻭﻻﺑﻘﻴﺔ ﺷﺮﺍﺡ ﺍﻟﻬﺪﺍﻳﺔ ﻷﻧﻬﻢ ﻟﻴﺴﻮﺍ ﻣﻦ ﺍﻟﻤﺤﺪﺛﻴﻦ ﻭﻻﺍﺳﻨﺪﻭﺍ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﺇﻟﻲ ﺍﺣﺪ ﻣﻦ ﺍﻟﻤﺨﺮﺟﻴﻦ ﺍنتہی.
ﻭ ﺫﻛﺮﻩ ﺍﻟﺸﻮﻛﺎﻧﻲ ﻓﻲ ﺍﻟﻔﻮﺍﺋﺪ ﺍﻟﻤﺠﻤﻮﻋﺔ ﻓﻲ ﺍﻻﺣﺎﺩﻳﺚ ﺍﻟﻤﻮﺿﻮﻋﺔ ﺑﻠﻔﻆ ﻣﻦ صلی ﻓﻲ ﺁﺧﺮ ﺟﻤﻌﺔ ﻣﻦ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﺨﻤﺲ ﺻﻠﻮﺍﺕ ﺍﻟﻤﻔﺮﻭﺿﺔ ﻓﻲ ﺍﻟﻴﻮﻡ ﻭﺍﻟﻠﻴﻠﺔ ﻗﻀﺖ ﻋﻨﻪ ﻣﺎﺃﺧﻞ ﺑﻪ ﻣﻦ ﺻﻼﺓ ﺳﻨﺔ ، ﻭﻗﺎﻝ ﻫﺬﺍ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﺑﻼﺷﻚ ﻭﻟﻢ ﺍﺟﺪﻩ ﻓﻲ ﺷﻴﺊ ﻣﻦ ﺍﻟﻜﺘﺐ ﺍﻟﺘﻲ ﺟﻤﻊ ﻣﺼﻨﻔﻮﻫﺎ ﻓﻴﻬﺎ ﺍﻻﺣﺎﺩﻳﺚ ﺍﻟﻤﻮﺿﻮﻋﺔ ﻭﻟﻜﻦ ﺍﺷﺘﻬﺮ ﻋﻨﺪ ﺟﻤﺎﻋﺔ ﻣﻦ ﺍﻟﻤﺘﻔﻘﻬﺔ ﺑﻤﺪﻳﻨﺔ ﺻﻨﻌﺎﺀ ﻓﻲ ﻋﺼﺮﻧﺎ ﻫﺬﺍ ﻭﺻﺎﺭ ﻛﺜﻴﺮ ﻣﻨﻬﻢ ﻳﻔﻌﻠﻮﻥ ﺫﺍﻟﻚ ﻭﻻﺃﺩﺭﻱ ﻣﻦ ﻭﺿﻊ ﻟﻬﻢ ، ﻓﻘﺒﺢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻜﺬﺍﺑﻴﻦ ﺍﻧﺘﻬﻲ ، ﺍﻟﻔﻮﺍﺋﺪ ﺍﻟﻤﺠﻤﻮﻋﺔ ﺹ ٥٤
ﻭﻗﺎﻝ ﺍﻟﻌﻼﻣﺔ ﺍﻟﺪﻫﻠﻮﻱ ﻓﻲ ﺭﺳﺎﻟﺘﻪ ﺍﻟﻌﺠﺎﻟﺔ ﺍﻟﻨﺎﻓﻌﺔ ﻋﻨﺪ ﺫﻛﺮ ﻗﺮﺍﺋﻦ ﺍﻟﻮﺿﻊ ﺍﻟﺨﺎﻣﺲ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﻣﺨﺎﻟﻔﺎ ﻟﻤﻘﺘﻀﻲ ﺍﻟﻌﻘﻞ ﻭﺗﻜﺬﺑﻪ ﺍﻟﻘﻮﺍﻋﺪ ﺍﻟﺸﺮﻋﻴﺔ ﻣﺜﻞ ﺍﻟﻘﻀﺎﺀ ﺍﻟﻌﻤﺮﻱ ﻭﻧﺤﻮ ﺫﺍﻟﻚ ﺍﻧﺘﻬﻲ ﻣﻌﺮﺑﺎ ،
ﻗﻠﺖ ؛ ﻭﻗﺪ ﺃﻟﻔﺖ ﻹﺛﺒﺎﺕ ﻭﺿﻊ ﻫﺬﺍ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﺍﻟﺬﻱ ﻳﻮﺟﺪ ﻓﻲ ﻛﺘﺐ ﺍﻷﻭﺭﺍﺩ ﻭﺍﻟﻮﻇﺎﺋﻒ ﺑﺄﻟﻔﺎﻅ ﻣﺨﺘﻠﻔﺔ ﻣﺨﺘﺼﺮﺓ ﻭﻣﻄﻮﻟﺔ ﺑﺎﻟﺪﻻﺋﻞ ﺍﻟﻌﻘﻠﻴﺔ ﻭﺍﻟﻨﻘﻠﻴﺔ ﺭﺳﺎﻟﺔ ﻣﺴﻤﺎﺓ ﺑﺮﺩﻉ ﺍﻻﺧﻮﺍﻥ ﻋﻦ ﻣﺤﺪﺛﺎﺕ ﺁﺧﺮ ﺟﻤﻌﺔ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻭ ﺃﺩﺭﺟﺖ ﻓﻴﻬﺎ ﻓﻮﺍﺋﺪ ﺗﻨﺸﻂ ﺑﻬﺎ ﺍﻻﺫﻫﺎﻥ ﻭﺗﺼﻐﻲ ﺇﻟﻴﻬﺎ ﺍﻵﺫﺍﻥ ﻓﻠﺘﻄﺎﻟﻊ ﻓﺈﻧﻬﺎ ﻧﻔﻴﺴﺔ ﻓﻲ ﻫﺬﺍ ﺍﻟﺸﺄﻥ ،
ﺍﻵﺛﺎﺭ ﺍﻟﻤﺮﻓﻮﻋﺔ ﻓﻲ ﺍﻻﺧﺒﺎﺭ ﺍﻟﻤﻮﺿﻮﻋﺔ
ﻟﻠﻌﻼﻣﺔ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺤﺌﻲ ﺍﻟﻠﻜﻨﻮﻱ ﺭﺣﻤﻪ ﺍﻟﻠﻪ ))

ﺍﻟﺤﺎﺻﻞ؛ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻣﺤﺪﺛﻴﻦ ﻛﮯ ﻧﺰﺩﻳﮏ یہ ﺭﻭﺍﻳﺖ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﺍﻭﺭ چھوٹی ہے ﺟﺲ کی ﻧﺴﺒﺖ ﺣﻀﻮﺭ صلی ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ کی ﻃﺮﻑ ﻛﺮﻧﺎ بہت ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﻩ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺘﺤﻖ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﺎﺭ ہے ﺟﻴﺴﺎ ﻛﻪ ﺣﻀﻮﺭ صلی ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ ، ﻣﻦ ﻛﺬﺏ ﻋﻠﻲ ﻣﺘﻌﻤﺪﺍ ﻓﻠﻴﺘﺒﻮﺃ ﻣﻘﻌﺪﻩ ﻣﻦ ﺍﻟﻨﺎﺭ ‏( ﺻﺤﻴﺢ ﻣﺴﻠﻢ )
ﻟﻬﺬﺍ ﻣﻴﺮی ﮔﺰﺍﺭﺵ ہے کہ ﻣﻴﺮی ﺗﺤﺮﻳﺮ ﺟﺲ ﻛﻮ بھی ﻣﻠﮯ ﺧﺼﻮﺻﺎ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻭﻩ ﻟﻮﮔﻮں ﺗﮏ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻛﻮ ﭘﮩﻮﻧﭽﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﮔﺎﻩ ﻛﺮیں کہ یہ ﺭﻭﺍﻳﺖ ﺟﻬﻮٹی ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺑﻨﻴﺎﺩ ﻫﮯ
ﺍﺱ ﺗﺤﺮﻳﺮ ﻛﻮ ﺯﻳﺎﺩﻩ ﺳﮯ ﺯﻳﺎﺩﻩ ﺷﻴﺌﺮ ﻛﺮیں ﺗﺎکہ ہر ﻛﻮئی ﻣﺴﺘﻔﻴﺪ ﻫﻮﺳﻜﮯ
ﻓﻘﻂ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ

محمد ذی شان الحنفی
جامعة الأزهر الشريف، القاهرة مصر

حضرت مفتی صاحب قبلہ دست بستہ عرض ہے کہ اس پہلے سوال کے جواب کا ماخذ ومصدر بھی ذکر فرما دیں تو بڑی مہربانی ہوگی، مزید یہ کہ اکثر حفاظ کرام عالم نہیں ہوتے ہیں تو وہ کیسے امتیاز کرینگے کہ معنوی خراب پیدا ہوئی یا نہیں؟ اور بقدر وجوب تلاوت ہوجائے تو سجدہ سہو نہیں کرتے اور بقدر واجب تلاوت نہیں تو سجدہ سہو کرتے ہیں۔ اور زائد تلاوت میں معنوی خرابی ہوئی یا نہیں یہ بات ان کی سمجھ سے بالاتر ہوتی ہے تو وہ کیسے نماز کا اعادہ کرینگے ؟ اور اس وقت عالم موجود نہیں اور بعد رجوع علماء کرام اگر اعادہ لازم بھی ہو تب بھی دوسرے روز ان دو رکعات کی تلاوت کا اعادہ ہوگا فقط، نماز کا تو نہیں؟ تو حفاظ کرام کے نقطہء نظر سے جواب مرحمت فرمائیں، نوازش ہوگی۔
محمد سبحان شریف

मस्जिद की इफ़्त़ारी ग़ैर रोज़ेदार को खाना ह़राम है…..! 👇🏻

सरकार आला ह़ज़रत अज़ीमुल बरकत मुजद्दिद ए दीन ओ मिल्लत अश’शाह इमाम अह़मद रज़ा ख़ान फ़ाज़िल ए बरेलवी रदिअल्लाहु ताला अन्हु वा अर्दाहो अन्ना फ़तावा रज़विय्या शरीफ़ में इर्शाद फ़रमाते हैं कि *मस्जिद की इफ़्त़ारी ग़ैर रोज़ेदार को खाना ह़राम है क्यूंकि *मस्जिद की इफ़्त़ारी भेजने वाले ने *रोज़ेदारों के लिए वक़्फ़ किया है *वक़्फ़ का माल मिस्ल ए माल ए यतीम है जिसे नाह़क़ खाने पर *अल्लाह रब्बुल इज़्ज़त ने इर्शाद फ़रमाया:

اِنَّمَا یَأکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھمْ نَارًا وَّ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا

तर्जुमा:- अपने पेट में निरी आग भरते हैं और अनक़रीब जहन्नम में जायेंगे…..!

📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚
{सूरह ए निसा आयत न॰10}

📒📒📒📒📒📒📒📒📒📒
{फ़तावा रज़विय्या शरीफ़ जिल्द 16 सफ़्ह़ा 485 से 488 तक}

وتر میں دعائے قنوت بھول کر رکوع میں جانے کے بعد دوبارہ قنوت کے لیئے لوٹ آنا
سوال
وتر کے آخری رکعت میں امام نے دعائے قنوت چھوڑ کر رکوع ادا کرنے لگا ۔ مقتدی کے آواز سے دوبارہ واپس آکر ہاتھ اٹھایا اور دعائے قنوت پڑھی پھررکوع ادا کیا اور آخر میں سجدہ سہوا ادا کیا ۔ امام کو کیا کرنا چاہیے تھا ۔ یہ وتر واجب الاعادہ ہے یا نہیں ۔ اور جن مقتدیوں نے اما م کی اقتدا نہیں کی ان کے لئے کیا تجویز ہے ۔ برائے مہربانی دلیل کے ساتھ جواب دیجئے ۔

جواب
صورت مسئولہ میں امام وتر کی آخری رکعت میں جب دعائے قنوت بھول کر رکوع میں چلا گیا تھا تو یاد آنے پر یا لقمہ ملنے پرواپس نہیں لوٹنا چاہیئے تھا بلکہ اخیر میں سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرلینی تھی، لیکن اگر لوٹ کر دعائے قنوت پڑھ لی تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوئی اورجب آخر میں سجدہ سہو کرلیا تو تلافی ہوگئی اوروتر درست ادا ہوگئے،اب اعادہ کی ضرورت نہیں۔کذا فی رد المحتار: کما لو سہا عن القنو ت فرکع فانہ لو عاد وقنت لاتفسد صلاتہ علی الاصح (ج:۲، ص: ۸۴) ۔باقی جن مقتدیوں نے امام کی اقتدا نہیں کی یعنی امام کے ساتھ یا امام کے بعد رکوع نہیں کیا ان کی نماز فاسد ہوگئی، وہ وتر کا اعادہ کریں لما فی رد الحتار علی الدر المختار فی باب المفسدات: ومسابقۃ الموتم برکن لم یشارکہ فیہ امامہ کان رکع ورفع راسہ قبل امامہ ولم یعدہ معہ او بعدہ(ج:۱،ص: ۶۳۰)

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ حضرت ایک سوال ہے امام صاحب وتر کی نماز جماعت سے پڑھا رہے ہے اور بنا دعا۶ے قنوت پڑھے رکوع میں چلے گ۶ے پچھے سے کسی نے لقمہ دیا امام صاحب رکوع سےکھڑھے ہو گ۶ے اور دعا۶ے قنوت پڑھی اور اخر میں سجد۶ے سھو بھی کیا تو کیا وتر کی نماز ہوگ۶ی
علما۶ے اھلسنت سے گزارش ہے کہ جواب عطا کر دیج۶ے

وعلیکم السلام..
جواب

اگر دعائے قنوت پڑھنا بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا تو نہ قیام کی طرف لوٹے نہ رکوع میں پڑھے اور اگر قیام کی طرف لوٹ آیا اور قنوت پڑھا اور رکوع نہ کیا، تو نماز فاسد نہ ہوگی، مگر گنہگار ہو گا اور اگر صرف الحمد پڑھ کر رکوع میں چلا گیا تھا تو لوٹے اور سورت و قنوت پڑھے پھر رکوع کرے اور آخر میں سجدۂ سہو کرے۔ یوہیں اگر الحمد بھول گیا اور سورت پڑھ لی تھی تو لوٹے اور فاتحہ و سورت و قنوت پڑھ کر پھر رکوع کرے۔ (2) (عالمگیری)

برائے کرم رہنمائ فرماے۔۔۔

اس مسئلہ میں نماز میں فساد واقع ہونا بتایا جا رہا ہے۔۔۔

👇
وعلیکم السلام ور رحمة الله وبركاته
📝الجواب اللھم ہدایةالحق والصواب ⇩
مسئلہ: اگر امام بھول کر دعائے قنوت پڑھے بغیر رکوع میں چلا گیا اور مقتدی نے لقمہ دیا تو مقتدی کی نماز فاسد ہو جائے گی اور اگر امام نے بھول کر لقمہ قبول کر لیا اور پھر قنوت پڑھنے کے لئیے کھڑا ہو گیا تو امام اور مقتدیوں کی نماز فاسد ہو جائے گی دوبارہ پڑھیں سجدہ سہو سے کام نہ چلے گا
(📙فتاوی رضویہ ج ۳ ص ۶۴)
🔖تنبیه: امام قنوت بھول کر رکوع میں چلا گیا تو مقتدیوں کو لقمہ دینا جائز نہیں ؛ لوگ اس مسئلے سے غافل ہیں

📗مسائل سجدہ سہو ص ۱۰۸

🌹واللہ تعالیٰ اعلم🌹

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.