Free Directory Submission - 101+ Free Directory Submission Sites to Drive Traffic to your Website!

Fatwa online | Part 6 | Urdu

خلاصہ یہ ہے کہ سوال کردہ صورت میں کوئی عمارت بنانا حرام حرام اشد حرام ہے۔بلکہ قبرستان میں بنی ہوئی ان چیزوں کو منہدم کر دیا جائے کہ قبرستان میں یہ تصرف نا جائز ہے۔ جیساکہ تفصیل گزر چکی ہے۔ اور جو لوگ قبروں پر عمارتیں بنانے اور قائم رکھنے کے لئے آمادہ ہو، وہ سب مجرم و گناہگار حرام کار مستحق نار و غضب جبار اور حق اللہ و حق العبد میں گرفتار ہیں۔اور جو لہگ ان کی مددکریں گے،وہ بھی اینہیں کی مثل ٹھریں گے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اپنی طاقت بھر لوگوں کو ایسے سخت حرام کار سے روکیں اور کوشش کے باوجود ہو نہ رکیں تو مسلمان ان لوگوں کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ ورنہ سب گناہگار ہوں گے۔
قال اللہ تعالی و اما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین۔ (سورہ انعام آیہ ۸۶)
واللہ تعالی اعلم۔

Fatwa online Salah

جواب (۳) نا جائز ہے۔حدیث شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا
لا تصلوا الی قبر و لا علی قبر (معجم الکبیر عن ابن عباس حدیث ۱۵۰۳۱ ج ۱۱ ص ۶۷۳)

جواب (۴ و ۵ و ۶) غیر کی زمین یا کوئی چیز غصب کرلینا یا جبرا دبا لینا یا زبردستی سے اس پر قابض ہو جانا، سب ظلم و حرام و اشد اخبث و اشنع کام ہے۔ جو پرائی زمین ظلما دبالے اس کی نسبت حدیث شریف میں ہے
من ظلم قید شبر من الارض طوقہ من سبع ارضین(یعنی جو کسی کی بالشت بھر زمین ظلما لے لے گا تو بروز قیامت ساتوں زمینوں سے طو ق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ (فیض القدیر جلد ۶ صفحہ ۷۶)
صحیح بخاری شریف کی حدیث پاک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے نے فرمایا
من اخذ ارضا بغیر حقہ کلف ان یحمل ترابھا المشر (یعنی جو شخص نا حق لے گا اسے اسکی مٹی اپنے اوپر لاد کر میدان حشر میں پہونچائے)۔
(رواہ بخاری عن سالم عن ابیہ جلد ۱صفحہ ۲۳۳ باب اثم من ظلم شیئا من الارض)
رواہ الامام احمد عن یعلی ابن مرہ رضی اللہ عنہ امام احمد کی دوسری روایت انہیں سے ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے۔
ایمارجل ظلم شبر من الارض کلفہ اللہ عز و جل ان یجفرہ حتی یبلغ آخر سبعارضین ثم یطوفہ الی یوم القیامۃ حتی یقضی بین الناس
(یعنی جو شخص ایک بالشت زمین طلم سے لیگا اللہ عزوجل اسے اسکی تکلیف دیا جائے گا کہ ساتویں زمین تک کھودے بھر وہ قیامت تک مثل طوق اسکے گلے میں ڈال دیا جائے گی یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔)
طبرانی نے اشعث بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ
حضور صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے جو شخص پرایا مال لے لے گا وہ قیامت کے دن اللہ تعالی سے کوڑی ہوکر ملے گا۔ (بہار شریعت حصہ ۵۱ صفحہ ۳۲)
ایسی سخت و شدید وعیدیں سننے کے بعد کبھی دوسرے کی زمین لینے کی جرئت نہ ہونی چاہئے۔نا حق قبضہ کرنے والے اور جو لوگ جانتے ہوئے ساتھ دینے والے جب تک قبضہ ہٹانہ لے اور توبہ نہ کریں قہر الہی میں رہیں گے۔
جواب (۹،۸،۷) کافرہوں سے دوستی تعلقات اور ان کی اعانت اور ان سے اظہار محبت بے ضرورت و مصلحت شرعی عظیم نے فرمایا۔
انکم اذا مثلہم یعنی کفار سے دلی محبت کرنے والا انہیں کے مثل ہے۔ اور فرمایا فلیس من اللہ فی شیء (یعنی اسے خدا سے کوئی علاقہ نہیں)۔
حضور صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے من جامع المشرک و سکن مع معر فانہ مثلہ (یعنی جو مشرک سے یکجا ہو اور اس کے ساتھ رہے وہ اسی کی مانند ہے)۔(فتاوی رضویہ جلد ۹ صفحہ ۰۴۱)
نیز فقہ حنفی کی معتمد کتاب تلبیس الحق جلد اول صفحہ ۴۳۱ پر ہے :قد وجب علیہم اھانتہ شرعا (یعنی ازروئے شرع مسلمانوں پر فاسق معلن کی اہانت واجب ہے۔)
لہذا جب فاسق مسلمانوں کی توہین واجب ہے اور تعظیم جائز نہیں تو مذکورہ لوگوں کو اپنے مذہبی جلسوں میں بلانا اور اس کی تعظیم و توقیر کرنا بدرجہ اولی نا جائز و حرام ہے۔ جن لوگوں نے ایسا کیا عند الشرع ان پر توبہ لازم ہے۔

Fatwa online Waqf

جواب (۰۱) یہ سراسر جھوٹ غلط الزام و بہتان و مکر و فریب اور بریلی شریف سے دور کرنے کی ناپاک شازس ہے۔پیر طریقت رہبر شریعت چشم و چراغ خاندان برکات حضور امین ملت قادری برکاتی دام برکاتہ نے اجمیر شریف میں جو خدام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخ ہیں، ان کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے۔ نہ کہ شہنشاہ ہندوستاں عطا ے رسول معین ملت و الدین حضور خواجہ غرعب نواز رضی اللہ عنہ کی بارگاہ مین جانے سے بلکہ خود آپ نے آپ کے بیان کی غلط ترجمانی کرنے والوں کو اپنے لیٹرپیڈ اور جلسوں میں بر سر ممبر جواب دیا کہ میں خود سلطان الہند کی بارگاہ میں جاتا ہوں اور فیض حاصل کرتا ہوں۔ ہمیشہ کا میرا یہ معمول ہے۔ پھر میں کیسے منع کرسکتا ہوں۔ لہذا مذکورہ شخص اپنے اس بیان سے علانیہ توبہ و استغفار کرے اور عوام اہل سنت کو بہکانے سے باز اائے۔
واللہ تعالی اعلم۔
جواب (۱۱) ایسے لہگون کی ہرگز نہ اتباع کی جائے اور ناہی اس کے ہاتھ پر بیعت کی اجازت ہے۔ جو وقفی قبرستان میں مالکنہ تصرف کرے اور والی مع مزامیر کی محفلیں قائم کریں۔ حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماطتے ہیں (مزامیر جائز نہیں)۔ حضور سلطان المشائخ نظامالحق و الدین سردار سلسلہ عالیہ نظامیہ، فوائد الفواد شریف میں فرماتے ہیں (مزامیر حرام است)۔(فتاوی رضویہ جلد ۹ صفحہ ۰۴۱)
لہذا مذکورہ کاموں کا مرتکب فاسق ہے اور پیر کے لئے چار شرتیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ فاسق نہ ہو۔ حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ فاسق کے ہاتھ پر بیعت جائز نہیں اگر کر لی ہو تو فسخ کر کے کسی پعر متقی، سنی،صحیح العقیدہ، عالم دین، متصل السلسلہ کے ہاتھپر بیعت کرے۔ (فتاوی رضویہ جلد ۱۲صفحہ۳۰۶) واللہ تعالی اعلم۔

Mufti Asgar Ali Razavi, Jamnagar

Khadim Darul Ifta – Anware Khawaja

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.