Ask Fatwa Online – Part 6– January 2019

 

سوال : ساس اور بہو کا جھگڑا ہوا اور جھگڑے کے دوران بہو نے ساس سے کہا کہ میں قرآن پاک کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ اب کبھی بھی آپ کے گھر نہیں آئونگی اب جھگڑے کو کافی دن گزر گئے اور بہو کو یہ احساس ہوا کہ مجھے یہ قسم نہیں کھانی چاہیے تھی اور اب وہ اپنی ساس کے گھر جانا چاہتی ہے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ بہو اب کیا کرے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
قرآن کی قسم کھانے سے قسم منعقد ہو جاتی ہے.
بہار شریعت, قسم کے بیان میں ہے. “یوہیں خدا کی جس صفت کی قسم کھائی جاتی ہو اوس کی قسم کھائی ہوگئی مثلاخدا کی عزت وجلال کی قسم… قرآن کی قسم، کلام اﷲ کی قسم.”(ح ۹ ص١۹)
اور چونکہ بہو نے ایسے امر کی قسم کھائی ہے جس کے غیر میں بہتری ہے اس لیے اس قسم کا توڑنا مستحب ہے. بہار شریعت میں ہے., ” تیسری وہ کہ اوس کا توڑنا مستحب ہے مثلا ایسے امر کی قسم کھائی کہ اوس کے غیر میں بہتری ہے تو ایسی قسم کو توڑ کروہ کرے جو بہتر ہے۔… منعقدہ جب توڑے گا کفارہ لازم آئیگا اگرچہ اوس کا توڑنا شرع نے ضروری قراردیا ہو.”(ح ۹ ص ١٧)
لہذا بہو قسم توڑ دے اپنی ساس کے گھر جائے اور کفارہ ادا کرے
قرآن پاک میں ہے,ترجمہ: تو ایسی قسموں کاکفارہ دس مسکین کو کھانا دینا ہے اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اوس کے اوسط میں سے یا اونھیں کپڑا دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جوان میں سے کسی بات پر قدرت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے. (پ۷،المآئدہ:۸۹) واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید سرفراز علی

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.