Fatwa Books

 

 

Fatawa Faqih e Millat by Mufti Jallaluddin Ahmad Amjadi Vol 1
Fatawa Faqih e Millat by Mufti Jallaluddin Ahmad Amjadi Vol 2

 

Fatawa Bahrul Uloom by Mufti Abdul Mannan Aazmi Vol 1
Fatawa Bahrul Uloom by Mufti Abdul Mannan Aazmi Vol 2
Fatawa Bahrul Uloom by Mufti Abdul Mannan Aazmi Vol 3
Fatawa Bahrul Uloom by Mufti Abdul Mannan Aazmi Vol 4
Fatawa Bahrul Uloom by Mufti Abdul Mannan Aazmi Vol 5
Fatawa Bahrul Uloom by Mufti Abdul Mannan Aazmi Vol 6

 

 

Fatawa Malikul Ulama By Allama Zafaruddin Bihari
Fatawa Africa by Alahazrat Imam Ahmed Raza Khan
Fatawa Sadrul Afazil by Naeem-ud-Din Muradabadi
Fatawa Mansooria By Maulana Abdur Rasool MansoorVol 1
Fatawa Mansooria Vol By Maulana Abdur Rasool Mansoor 2
Fatawa Europe By Mufti Abdul Wajad Qadri
Fatawa Jamatia By Allama Mufti Gulam Rasool Naqshbandi
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 1
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 2
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 3
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 4
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 5
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 6
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 7
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 8
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 9
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 10
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 1
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 12
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 1
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 15
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 16
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 17
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 1
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 19
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 20
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 21
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 22
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 1
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 24
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 25
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 26
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 27
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 28
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 29
Fatawa Razwiya by Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Vol 30

 

 

Fatawa Alamgiri Urdu Vol 1
Fatawa Alamgiri Urdu Vol 2
Fatawa Alamgiri Urdu Vol 3
Fatawa Alamgiri Urdu Vol 4
Fatawa Alamgiri Urdu Vol 5
Fatawa Alamgiri Urdu Vol 6
Fatawa Alamgiri Urdu Vol 7
Fatawa Alamgiri Urdu Vol 8
Fatawa Alamgiri Urdu Vol 9
Fatawa Alamgiri Urdu Vol 10

 

Fatawa e Nooria by Mufti Noor Ullah Naemi Vol 1
Fatawa e Nooria by Mufti Noor Ullah Naemi Vol 2
Fatawa e Nooria by Mufti Noor Ullah Naemi Vol 3
Fatawa e Nooria by Mufti Noor Ullah Naemi Vol 4
Fatawa e Nooria by Mufti Noor Ullah Naemi Vol 5-6

 

Fatawa al-nawazil Arabic
Al-Durr al-mukhtar fi Sharh Tanwir al-Absar Vol 2
Al-Durr al-mukhtar fi Sharh Tanwir al-Absar Vol 3
Al-Durr al-mukhtar fi Sharh Tanwir al-Absar Vol 4

 

 

 

tahir ali  1/8/19

ذی الحج کی 7 ، 8 ، 9 اور 10 تاریخ کو خاص اولاد کے حق میں دعا مانگنی ہے۔
کیونکہ ان دنوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لیے دعا مانگی تھی اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے قبول فرمائی تھی۔
🌹اولاد کی زندگی ، صحت ، مال اور عزت میں برکت کے لیے دعا کرنی ہے۔
🌹 اولاد کے اچھے نصیب اور نیک جوڑے کے لیے دعا کرنی ہے۔
تمام ماں باپ یہ ضرور کریں۔

👈 حج کے دن عصر 4:30 سے 5:30 کے درمیان کا وقت قبولیت کا وقت ہے۔
👈 447 بار اللّٰھم لبیک ۔
👈 21 بار اول و آخر درودِ ابراہیمی ۔
پھر کوئی بھی جائز دعا کریں ان شاء اللہ عزوجل ضرور پوری ہوگی۔

 

👆یہ صحیح ہے؟؟

 

کیا درود تاج میں خط کشیدہ الفاظ میں غلطیاں ہیں ؟ اگر ہیں تو معانی میں کس قدر خرابی ہے؟؟؟؟

المُقَرَّبين
الثَّقَلَين
الثَّقَلَين
صَلّوا

 

انا للہ وانا الیہ راجعون

بتاریخ 4 اگست: مولانا غلام مصطفیٰ برکاتی (مہتمم دارالعلوم انوار رضا نوساری) کے فرزند گرامی مولانا حافظ مرتضیٰ صاحب کا ایک حادثے میں قضائے الٰہی سے انتقال ہو گیا- انا للہ وانا الیہ راجعون- اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے اور والدین و اہلِ خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے- آمین بجاہ سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم- ہم اس لمحۂ رنج و غم میں حضرت مولانا غلام مصطفیٰ برکاتی صاحب سے اظہار تعزیت کرتے ہیں- مرحوم کے لیے ایصال ثواب کی گزارش ہے-

تعزیت منجانب : اساتذہ و اراکین جامعہ حنفیہ سنیہ؛ صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری، محمد میاں مالیگ، نیاز احمد مالیگ، علامہ محمد ارشد مصباحی، علامہ ابوزہرہ رضوی(لندن)، ڈاکٹر حامد اقبال، ڈاکٹر امجد رضا امجد، الحاج محمد سعید نوری (رضا اکیڈمی ممبئی)، علامہ وقار احمد عزیزی، مولانا مدثر حسین ازہری، ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی (ممبئی)، نوری مشن مالیگاؤں
4-8-19

 

fatwa

 

fatwa

 

fatwa
fatwa
fatwa
fatwa
fatwa

 

 

fatwa on fatima sugrsughra jutha qissa

 

فاطمہ صغری کا جھوٹا قصہ

(سلسلہ “کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات” سے منسلک)

واقعۂ کربلا کو لکھنے اور بیان کرنے والوں میں سے بیشتر نے بغیر تحقیق کیے محض ناقلانہ رویہ اختیار کیا ہے اور کچھ نے تو گرے پڑے قصے کہانیوں کو بھی نہیں چھوڑا اور واقعۂ کربلا کے ساتھ جوڑ دیا۔ حضرت فاطمہ صغری کی طرف منسوب قصہ بھی انھی میں سے ایک ہے۔

امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی حضرت فاطمہ صغری کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ جب امام حسین مدینہ سے روانہ ہوئے تو اپنی بیٹی کو یعنی حضرت فاطمہ صغری کو اکیلا چھوڑ دیا اور مکۂ مکرمہ پھر وہاں سے کربلا تشریف لے گئے۔ اِدھر حضرت فاطمہ صغری مدینے میں اکیلی، بیماری میں مبتلا تھیں اور اپنے بابا کے انتظار میں روتی رہتی تھیں۔ پھر اس قصے کو دردناک بنانے کے لیے کچھ لکھنے والوں نے کافی محنت کی اور اس انداز سے لکھا کہ پڑھنے اور سننے والا اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکے۔

خاک کربلا اور شہید ابن شہید نامی کتاب میں یہ واقعہ جس ڈھنگ سے لکھا گیا ہے، اگر اسے جوں کا توں محافل میں بیان کر دیا جائے تو لوگ بنا ماتم کیے نہیں اٹھیں گے اور اگر کسی مقرر نے تھوڑا سا اور نمک مرچ لگا کر بیان کیا تو اندیشہ ہے کہ لوگ اپنے کپڑے چاک کر لیں۔ ان کتابوں میں صرف ایک یہی واقعہ نہیں بلکہ دوسرے واقعات کو بھی اس انداز میں لکھا گیا ہے کہ جسے پڑھ کر لوگ خوب روئیں۔ اس طرح کی کتابوں اور ان کے لکھنے والوں پر ہم دوسرے مضامین میں تفصیل سے کلام کریں گے، اب آئیے دیکھتے ہیں کہ حضرت فاطمہ صغری کے اس قصے کی حقیقت کیا ہے؟

واقعۂ کربلا پر لکھی جانے والی مشہور کتب میں سے ایک “شہادت نواسۂ سید الابرار” ہے۔ صاحب کتاب، حضرت علامہ عبد السلام قادری نے اس میں ایک عنوان لکھا ہے “واقعۂ سیدہ فاطمہ صغری بنت حسین تحقیق کی کسوٹی پر” اور اس عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ امام حسین کی دو شہزادیوں میں سے ایک حضرت سکینہ اور دوسری حضرت فاطمہ صغری ہیں۔ دوسری شہزادی کے متعلق جو قصہ مشہور کیا گیا ہے وہ عربی کی معتبر کتب تواریخ وغیرہ میں کہیں نہیں ہے اور اردو میں لکھی گئی معتبر کتابوں میں بھی اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اگر اس واقعے کو تحقیق کی کسوٹی پر رکھا جائے تو بالکل بے اصل ہے۔
حضرت فاطمہ صغری کی شادی امام حسن کے بیٹے حضرت حسن مثنی سے ہو چکی تھی اور امام حسین کی روانگی کے وقت آپ اپنے شوہر کے گھر میں مدینۂ طیبہ میں موجود تھیں۔

(ملخصاً و ملتقطاً: شہادت نواسۂ سید الابرار، ص357)

اس میں یہ تو صحیح ہے کہ حضرت فاطمہ صغری کا قصہ جو مشہور ہے وہ جھوٹ اور من گھڑت ہے لیکن یہ بات تحقیق کی کسوٹی پر کھری نہیں اترتی کہ حضرت فاطمہ صغری اپنے شوہر کے ساتھ مدینۂ طیبہ میں موجود تھیں۔ درست تحقیق یہ ہے کہ حضرت فاطمہ صغری میدان کربلا میں موجود تھیں اور اس پر گفتگو کرتے ہوئے شیخ الحدیث، حضرت علامہ محمد علی نقشبندی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

حضرت فاطمہ صغری میدان کربلا میں موجود تھیں اور سنی و شیعہ، دونوں کی کتب سے یہ ثابت ہے۔
شیعہ مصنف ہاشم خراسانی نے لکھا ہے کہ امام حسین نے اپنی شہادت کے وقت وصیت نامہ اپنی بیٹی حضرت فاطمہ صغری کو عطا فرمایا۔
(منتخب التواريخ، باب و فصل پنجم، ص243، مطبوعہ تہران)

ایک اور شیعہ محمد تقی لسان نے لکھا ہے کہ (جب اہل بیت کا قافلہ یزید کے پاس پہنچا تو) ایک شامی اٹھا اور یزید کی طرف منھ کر کے کہنے لگا: اے امیر المومنین! یہ لڑکی مجھے عنایت کر دو؛ وہ فاطمہ بنت حسین کو مانگ رہا تھا۔ جب سیدہ فاطمہ نے یہ سنا تو ان پر کپکپی طاری ہو گئی اور اپنی پھوپی سیدہ زینب کا دامن تھام لیا۔
(ناسخ التواریخ، ج3، ص141، مطبوعہ تہران جدید)

مشہور شیعہ محمد باقر مجلسی نے لکھا ہے کہ یزید کے سامنے حضرت فاطمہ صغری نے کہا کہ اے یزید! کیا رسول اللہ ﷺ کی بیٹیاں قیدی بنائی جائیں گی؟ پس (یہ سن کر) لوگ بھی رو پڑے اور گھر والے بھی رو پڑے۔
(بحار الانوار، ج11، ص250، مطبوعہ ایران قدیم)

علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب مستورات اہل بیت یزید کے دربار میں آئیں تو فاطمہ بنت حسین جو سکینہ سے بڑی تھیں، نے کہا اے یزید! رسول اللہ ﷺ کی بیٹیاں قیدی؟ یزید کہنے لگا کہ اے بھتیجی میں بھی اسے پسند نہیں کرتا ہوں۔
(البدایۃ والنھایۃ، ج8، ص196، مطبوعہ بیروت)

علامہ ابن اثیر جزری لکھتے ہیں کہ پھر امام حسین کے خاندان کی عورتیں اندر آئیں اور امام کا سر ان کے سامنے تھا تو سیدہ فاطمہ اور سکینہ بنت حسین آگے بڑھنے لگیں تاکہ سر کو دیکھ سکیں۔ فاطمہ بنت حسین جو سکینہ سے بڑی تھیں، انھوں نے کہا کہ اے یزید! رسول اللہ ﷺ کی بیٹیاں قیدی؟ کہنے لگا اے بھتیجی میں بھی اسے ناپسند سمجھتا ہوں پھر ایک شامی مرد کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ یہ فاطمہ مجھے دے دو۔
(کامل ابن اثیر، ج4، ص85، 86، مطبوعہ بیروت)

کتب اہل سنت و اہل تشیع سے ثابت ہے کہ امام حسین کی بیٹی حضرت فاطمہ صغری میدان کربلا میں موجود تھیں۔ یہ بھی ثابت ہو گیا کہ ان کی طرف منسوب قصہ بے اصل ہے۔ فاطمہ صغری کے قاصد اور خطوط وغیرہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے، یہ سب جاہل واعظین کے من گھڑت افسانے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لوگوں کو رلانے اور اپنا بازار چمکانے کے لیے ایسے قصے کہانیوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔

عبد مصطفی

6/9/19

 

fatwa

کچھ پانی بند ہونے کے بارے میں
(سلسلہ “کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات” سے منسلک)

میدان کربلا میں اہل بیت پر پانی بند کیا گیا یا نہیں؟ اس پر دونوں طرح کی روایات موجود ہیں لیکن بیان صرف انھی کو کیا جاتا ہے جس سے لوگوں کو رلایا جا سکے۔ کہا جاتا ہے کہ تین دن تک اہل بیت کے خیمے میں ایک بوند بھی پانی نہیں تھا اور مسلسل تین دن تک بچوں سے لے کر بڑوں تک سب پیاسے رہے اور کچھ مقررین تو اس سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں اور پانچ محرم سے ہی پانی بند کر دیتے ہیں تاکہ واقعہ مزید دردناک ہو جائے۔

تاریخ ابن کثیر میں ایک روایت کچھ یوں ہے کہ دسویں محرم کو امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے غسل فرمایا اور خوشبو لگائی اور بعض دوسرے ساتھیوں نے بھی غسل فرمایا۔
(البداية والنهاية، ج8، ص185)

اس روایت کو مقررین ہاتھ بھی نہیں لگاتے کیوں کہ اگر اسے بیان کر دیا گیا تو پھر لوگوں کو رلانے کا دھندا چوپٹ ہو جائے گا، پھر کس منھ سے کہا جائے گا کہ تین دن تک اہل بیت کے خیموں میں ایک بوند بھی پانی نہیں تھا۔

خلیفۂ حضور مفتئ اعظم ہند، شارح بخاری، حضرت علامہ شریف الحق امجدی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا امام حسین نے عاشورہ کی صبح کو غسل فرمایا تھا؟ کیا یہ روایت صحیح ہے؟ اگر صحیح ہے تو پھر خود علماے اہل سنت جو بیان کرتے ہیں کہ تین دن تک حضرت امام حسین اور ان کے رفقا پر پانی بند کیا گیا، یہاں تک کہ بچے پیاس سے بلکتے رہے۔

آپ رحمہ اللہ جواباً لکھتے ہیں کہ یہ روایت تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے، مثلاً بدایہ نہایہ میں ہے:

فعدل الحسین الی خیمة قد نصبت فاغتسل فیھا وانطلی بانورۃ… الخ
“اس کے بعد امام حسین خیمے میں گئے اور اس میں جا کر غسل فرمایا اور ہڑتال استعمال فرمائی اور بہت زیادہ مشک جسم پر ملی۔ ان کے بعد بعض رفقا بھی اس خیمے میں گئے اور انھوں نے بھی ایسا ہی کیا”

(البداية والنهاية، جلد ثامن، ص178)

اور اسی میں ایک صفحہ پہلے یہ بھی ہے:

وخرت مغشیا علیھا فقام الیھا وصب علی وجھھا الماء
“حضرت زینب بے ہوش ہو کر گر پڑیں، حضرت امام حسین ان کے قریب گئے اور ان کے چہرے پر پانی چھڑکا”

(ایضاً، ص177)

شارح بخاری رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں کہ یہ دوسری روایت طبری میں بھی ہے حتی کہ رافضیوں کی بھی بعض کتابوں میں (موجود) ہے۔ ہمارے یہاں شیعوں نے ایک دفعہ نقن میاں کو بلایا تھا جو مجتہد بھی تھے اور بہت پائے کے خطیب بھی، انھوں نے یہ روایت اپنی تقریر میں بیان کی جس پر جاہلوں نے بہت شور مچایا، ان کو گالیاں دیں، ایک جاہل نے تو یہاں تک کَہ دیا کہ اگر ایسے دو ایک واعظ (مقرر) آ گئے تو ہمارا مذہب …………. میں مل جائے گا۔ (خالی جگہ میں غالباً کوئی گالی ہوگی)

(پھر دونوں طرح کی روایات کے متعلق لکھتے ہیں کہ) یہ صحیح ہے کہ 7 محرم سے ابن زیاد کے حکم سے نہر فرات پر پہرہ بیٹھا دیا گیا تھا کہ حضرت امام عالی مقام کے لوگ پانی نہ لے پائیں مگر یہ بھی روایت ہے کہ اس پہرے کے باوجود حضرت عباس کچھ لوگوں کو لے کر کسی نہ کسی طرح سے پانی لایا کرتے تھے لیکن شہادت کے ذاکرین (ہمارے مقررین) آب بندی (یعنی پانی بند ہونے) کی روایت کو جس طرح بیان کرتے ہیں اگر نہ بیان کریں تو محفل کا رنگ نہیں جمے گا۔

اس روایت میں اور وقت شہادت حضرت علی اکبر و حضرت علی اصغر کا پیاس سے جو حال مذکور ہے منافات (تضاد) نہیں؛ ہو سکتا ہے کہ صبح کو پانی اس مقدار میں رہا ہو کہ سب نے غسل کر لیا پھر پانی ختم ہو گیا، اور جنگ شروع ہو جانے کی وجہ سے فرات کے پہرے داروں نے زیادہ سختی کر دی ہو۔ اس کی تائید اس سے بھی ہو رہی ہے کہ حضرت عباس فرات سے مَشک بھر کر پانی لا رہے تھے کہ شہید ہوئے۔ ہمیں اس پر اصرار نہیں کہ یہ روایت صحیح ہے مگر میں قطعی حکم بھی نہیں دے سکتا کہ یہ روایت غلط ہے۔ تاریخی واقعات جذبات سے نہیں جانچے جاتے، حقائق اور روایات کی بنیاد پر جانچے جاتے ہیں۔

(فتاوی شارح بخاری، ج2، ص68، 69)

پانی بند ہونے والی صرف ایک طرف کی روایت کو بیان کرنا اور یہ کہنا کہ تین دن تک اہل بیت کے خیموں میں ایک بوند پانی نہیں تھا، اس سے واضح ہے کہ مقصد صرف لوگوں کو رلانا اور محفل میں رنگ جمانا ہے۔ اپنے مطلب کی روایات میں نمک مرچ لگا کر بیان کرنا اور دوسری روایات کو ہڑپ جانا، یہ کہاں کا انصاف ہے؟
اب رہا یہ سوال کہ ہمیں کیا سمجھنا چاہیے تو اس کا جواب آپ پڑھ چکے ہیں۔

عبد مصطفی

fatwa

7/9/19

امام مسلم بن عقیل کے بچوں کا جھوٹا قصہ
(سلسلہ “کربلا کے کچھ جھوٹے واقعات” سے منسلک)

واقعۂ کربلا میں جو قصے کہانیاں داخل ہو گئیں یا جن من گھڑت واقعات کو واقعۂ کربلا کے ساتھ جوڑا گیا ان میں سے امام مسلم بن عقیل کے بچوں کا واقعہ بہت مشہور ہے۔ اس واقعے کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ اردو زبان میں واقعۂ کربلا پر لکھی جانے والی تقریباً ہر کتاب میں یہ موجود ہے، یہاں تک کہ بعض معتبر مصنفین نے بھی اپنی کتابوں میں اسے نقل کیا ہے۔

جن کتابوں میں یہ واقعہ لکھا گیا ہے، ان کی تعداد سو کے قریب ہے۔ یہ تمام کتب واقعۂ کربلا کے پیش آنے کے سیکڑوں بلکہ ہزار سال بعد لکھی گئی ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ لکھنے والوں نے کہیں سے اخذ کیا ہوگا اور وہ ماخذ ہی ہمیں حقیقت بتا سکتا ہے لہذا اب ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کا اصل ماخذ کیا ہے؟

وہ تمام کتب جن میں یہ واقعہ درج ہے، انھیں ہم تین حصوں میں بانٹ سکتے ہیں۔ پہلی تو وہ کتابیں ہیں جن میں کسی کتاب کا حوالہ نہیں ہے، بس واقعہ موجود ہے،
دوسری وہ ہیں جن میں ماضی قریب میں لکھی جانے والی کسی کتاب کا حوالہ دیا گیا ہے،
اور تیسری وہ ہیں جن میں ایک ایسے ماخذ کا ذکر کیا گیا ہے جو اس واقعے کا اصل مرکز ہے۔

پہلی دو قسموں کو الگ کرتے ہیں کیوں کہ وہ اصل ماخذ تک معاون نہیں بن سکتیں۔ اب جو تیسری قسم کی کتابیں ہیں ان میں جس ماخذ کا ذکر ہے وہ “روضۃ الشھداء” نامی کتاب ہے۔ یہ کتاب فارسی زبان میں ہے اور مصنف کا نام ملا حسین بن علی کاشفی ہے جس کا انتقال 910ھ میں ہوا۔ یہی وہ سب سے پہلا شخص ہے جس نے اس من گھڑت قصے کو بیان کیا ہے ورنہ کتب تاریخ میں اس کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ ایک شیعہ مرزا تقی لسان نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سب سے پہلے امام مسلم کے بچوں کی شہادت کا واقعہ “روضۃ الشھداء” میں بیان کیا گیا ہے اور پہلے مؤرخین میں صرف عاصم کوفی نے بچوں کا تذکرہ کیا ہے وہ بھی نام لیے بغیر اور شہادت کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ مرزا تقی نے ایک کتاب کے حوالے سے یہ تک لکھا ہے کہ امام حسین کی شہادت کے بعد جب اہل بیت کو قیدی بنا کر لایا گیا تو امام مسلم کے چھوٹے صاحبزادے ان کے ساتھ قیدی تھے۔ اس واقعے کے سلسلے میں “روضۃ الشھداء” پہلی کتاب ہے۔ اس کتاب اور صاحب کتاب پر ہم تفصیل سے کلام کریں گے لیکن اس سے پہلے تاریخ کی روشنی میں اس واقعے کی حقیقت کو ملاحظہ فرمائیں جسے محقق اہل سنت، حضرت علامہ محمد علی نقشبندی رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے۔

علامہ ابن اثیر جزری لکھتے ہیں کہ امام مسلم بن عقیل (جب کوفہ کی طرف روانہ ہوئے تو پہلے) مدینے میں رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں گئے اور نماز ادا کرنے کے بعد دو راستہ بتانے والوں کو اجرت پر لے کر ان کے ساتھ (جانب کوفہ) چل پڑے۔ راستے میں سب کو بہت زیادہ پیاس لگی جس کی وجہ سے وہ دونوں مر گئے اور مرتے وقت امام مسلم کو پانی کا راستہ بتا گئے۔

(الکامل فی التاریخ، ج4، ص21، مطبوعہ بیروت)

یہ ایسی کتاب کا حوالہ ہے جسے شیعہ و سنی دونوں معتبر جانتے ہیں۔ اس میں امام مسلم کے بچوں کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہے۔ امام مسلم کا مدینے جانا، راستے میں پیاس لگنا، دونوں راستہ بتانے والوں کی موت ہو جانا، اس پورے واقعے میں امام مسلم کا بچوں کو ساتھ لے جانا مذکور نہیں ہے۔ اگر بچے ساتھ تھے تو کہیں تو ذکر ہونا چاہیے تھا؟ خصوصاً پیاس کے وقت ان کی حالت کا ذکر ہونا چاہیے تھا۔

علامہ ابن خلدون، علامہ ابن کثیر اور طبری نے بھی امام مسلم بن عقیل کے بچوں کا ذکر نہیں کیا حالانکہ مدینہ جانے، راستہ بتانے والوں کو ساتھ لینے اور پیاس کی شدت سے انتقال کر جانے کا تذکرہ کیا ہے۔

(تاریخ ابن کثیر، ج8، ص198۔ تاریخ ابن خلدون، ج2، ص512۔ تاریخ طبری، ج4، ص147)

کتب تاریخ میں امام مسلم کا اپنے بچوں کو ساتھ لے جانا ہی ثابت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ شیعوں کی معتبر کتب میں بھی اس کا ثبوت نہیں ہے۔ شیعوں کی سب سے بڑی اور ضخیم کتاب “بحار الانوار” جو 110 جلدوں پر مشتمل ہے، اس میں بھی امام مسلم بن عقیل اور راستہ بتانے والوں کا تو ذکر ہے لیکن بچوں کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔

(بحار الانوار، ج44، ص335، مطبوعہ تہران)

تاریخ کی دیگر کتابوں میں بھی امام مسلم کے بچوں کا کوئی ذکر نہیں ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قصہ جو ہمارے درمیان مشہور ہے محض ایک افسانہ ہے جسے رونے رلانے کے لیے گھڑا گیا ہے۔ جو دلائل پیش کیے گئے وہ اس واقعے کی تردید کے لیے کافی ہیں اور ان کے علاوہ امام مسلم کی وصیت بھی قابل غور ہے جس کا ذکر سنی و شیعہ دونوں طرف کی کتب میں موجود ہے، چناں چہ امام مسلم نے شہید ہونے سے پہلے چند وصیتیں فرمائیں اور وہ یہ تین ہیں:
(1) اس شہر (کوفہ) میں جو میرا قرض ہے اسے ادا کر دیا جائے۔
(2) شہادت کے بعد میرے جسم کو زمین میں دفن کر دیا جائے۔
(3) کسی کو بھیج کر امام حسین کو واپس جانے کا پیغام دے دیا جائے۔

(البدایۃ والنھایۃ، ج8، ص56، مطبوعہ بیروت۔
کتاب الفتوخ تصنیف احمد بن عاصم الکوفی، ص99، مطبوعہ حیدرآباد دکن۔
الکامل فی التاریخ، ج4، ص34، مطبوعہ بیروت۔
مقتل حسین مصنفہ ابو المؤید خوارزمی، ص212، مطبوعہ ایران۔
تاریخ طبری، ج6، ص212، مطبوعہ بیروت۔
ناسخ التواریخ، ج2، ص98، مطبوعہ تہران جدید)

یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جب امام مسلم اپنے قرض اور اپنے جسم کے لیے وصیت کر رہے ہیں تو پھر اپنے بچوں کو کیسے بھول گئے؟
امام مسلم بن عقیل کی وصیت میں یہ بات ضرور موجود ہونی چاہیے تھی کہ میرے بچوں کو فلاں جگہ پہنچا دیا جائے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ بے شک امام مسلم اپنے بچوں سے محبت کرتے تھے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ انھیں بھول جائیں؟ مذکورہ تمام باتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام مسلم کا اپنے بچوں کو کوفہ لے جانا، ان بچوں کا یہاں سے وہاں بھٹکنا اور شہید کر دیا جانا سب قصے کہانیاں بے اصل و من گھڑت ہیں۔

اس قصے کو سب سے پہلے ملا حسین واعظ کاشفی نے روضۃ الشھداء میں لکھا ہے اور آپ کو شاید یہ بات کڑوی لگے لیکن سچ یہی ہے کہ ملا حسین کاشفی سُنی نہیں بلکہ اہل تشیع تھا۔ یہ اور اس کی کتاب اہل سنت کے نزدیک کوئی حجت نہیں۔

اس مکمل بحث کے بعد بھی اگر کوئی امام مسلم کے بچوں کے اس قصے کو روضۃ الشھداء میں ہونے کی وجہ سے ہضم کر لیتا ہے تو اسے چاہیے کہ اسی کتاب میں موجود دیگر واقعات کو بھی ہضم کر کے دکھائے جن میں سے کچھ مزے دار واقعات ہمارے ایک دوسرے قسط وار مضمون “اسے بھی ہضم کیجیے” میں موجود ہے، وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
پیشکش معین القادری ازہری
قاری عابد ۔وری قاری نذیر
ودیگر علمائے اہلسنت

bahas w mubahasa

[18:22, 9/7/2019] +91 91738 37667: لیکن محدث علی الاطلاق شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے اپنی کتاب سرالشہادتین میں شہزادگان امام مسلم کی شہادت کا ذکر کیا ہے
اور یقینا یہ معتبر ہے
[18:37, 9/7/2019] +91 87806 16019: سر الشہادتین شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کی ہے نا کہ شیخ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی کی
[18:47, 9/7/2019] +91 91738 37667: تو یہ کتاب معتبر ھے یا نھیں اور اس میں جو ذکر ھے شھادت پدران مسلم رضی اللہ عنھم
صحیح ھے ??

s -7/9/19

اس تحریر میں جن کتابوں کا ذکر محرر نے کیا ہے اس میں بتایا ہے کہ کسی کتاب میں پسران مسلم کا ذکر نہیں ..مگر کتاب میں,ذکر,نہ,ہونے سے یہ لازم نہیں,کہ وہ واقعہ سرے سے ہے ہی نہیں..بعض اہل سنت کی کتب میں ذکر,ہے جیسے سر الشہادتین وغیرہ

 

m -7/9/19

کسی کتاب کے معتبر ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اس کی ہر ہر جزوی بات بھی معتبر ہو بلکہ یہ مجموعے کے اعتبار سے ہوتا ہے . سر الشہادتین میں اس واقعے کے درج آنے سے یہ لازم نہیں کہ اس واقعہ کی صحت بھی ثابت ہو.

m-7/9/19

نہیں حضرت مولانا سلیمان صاحب !!! کہنے والے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری جو معتبر وم معتمد کتب سیر ہیں ان میں اس واقعے کا کوئی ذکر نہیں ہے جب کہ ان کا زمانہ واقعۂ کربلا سے نسبتا ان کتابوں کے قریب ہے بلکہ یہی کتب ہمارا ماخذ ہیں . آخر جب ان میں کسی کتاب میں یہ واقعہ سرے سے درج ہی نہیں تو بعد والوں نے یہ واقعہ اخذ کہاں سے کیا ؟؟؟ سر الشہادتین میں بھی اس روایت کا ماخذ کیا ہے …. مذکور نہیں … میرے پاس اس سلسلے میں ایک کتاب ہے . ان شاء اللہ تلاش کرکے اسے بھیجتا ہوں … اس میں پوری تحقیق سے کہا گیا ہے سب سے پہلے وہ واقعہ کس کتاب میں نظر آیا ….

 

 

sawal jawab

saa’il- 3081816647-8/9/19

میرا سوال ہے کے اہل کتاب میں سے ایک 1 ہوتے ہیں عیسائی دوسرے ہوتے ہیں یہودی اور حضرت داؤد کے ماننے والوں کو کیا کہتے ہیں۔ ان کا کبھی بھی نہیں سنا۔
یہودی حضرت موسیٰ کے ماننے والوں کو کہتے ہیں؟؟؟

mo sulaiman

حضرت داود علیہ السلام کا زمانہ تقریبا ایک ہزار قبل مسیح بتلایا جاتا ہے یعنی آج سے ۳ ہزار سال پہلے کا ہے۔ حضرت داود پر زبور کتاب نازل ہوئی جو اللہ کی حمد کے ترانوں پر مشتمل تھی نہ کہ کوئی علیحدہ سے شریعت یا قانون تھی کیونکہ حضرت داود بھی بنی اسرائیل ہی کے ایک پیغمبر تھے کہ ان کی شریعت بھی تورات ہی تھی۔

پھر بنی اسرائیل ہی کی اصلاح کے لیے ان میں ایک آخری پیغمبر عیسی علیہ السلام بھیجے گئے جن کی شریعت بھی تورات ہی تھی اور ان پر جو کتاب نازل ہوئی ہے یعنی انجیل اس کا موضوع تو تزکیہ نفس، اخلاق کی اصلاح اور حکمت کا بیان ہے کیونکہ یہود کے علما میں جو بگاڑ پیدا ہوا تھا وہ اخلاقی تھا، قانون یا شریعت کی تو وہ خوب بال کی کھال اتارتے تھے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد آج سے تقریبا ۲ ہزار سال پہلے ہوئی ہے۔ اس کے بعد نبوت بنی اسرائیل میں ختم ہوگئی اور وہاں سے نبوت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی نسل میں منتقل ہو گئی۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام کے شدید مخالف اور دشمن ہیں کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بنو اسماعیل میں آمد سے ان کی خاندانی مذہبی قیادت و سیادت یعنی بنو یعقوب کی قیادت ختم ہو گئی اور امت مسلمہ کا ٹائٹل بنی اسرائیل سے بنو اسماعیل کی طرف منتقل ہو گیا۔

 

9/9/19

مسلم بن عقيل کے بچوں کی شهادت ان حالات کی دلیل اور اس کا اتفاق

 

شاید آپ کو معلوم نہیں کہ مولانا حنیف قریشی باوجود اپنی صلاحیتوں کے ہمیشہ سنیت کے معاملے میں متنازع فیہ رہے ہیں … انہوں نے بارہا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہ گستاخیاں کی ہیں اور کئی بار انہوں نے توبہ کرکے پھر گستاخی کی تھی . شاید یہ بات آپ کو تلخ محسوس مگر واقعہ یہی یے . اس کے علاوہ شیعوں کے ساتھ ان کا اٹھنا بیٹھنا بہت زیادہ رہتا ہے جس پر علمائے پاکستان کی جانب سے متنبہ کیا گیا مگر اس سے بھی وہ باز نہیں آتے . یہ میں آپ کو پختہ رپورٹ بتا رہا ہوں….
قطع نظر اس سے؛ میزان الکتب میں یہ کہا گیا ہے کہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالی عنہ کے دونوں لڑکوں کا آپ کے ساتھ جانا اور کوفہ میں حارث نامی شخص کا بے دردی کے ساتھ انہیں شہید کرنا اور یہ واقعہ جس انداز میں بیان کیا جاتا ہے ؛ یہ سب موضوع ہے . نفس شہادت سے انکار نہیں کیا ہے بلکہ ایک روایت بھی ذکر فرمائی ہے کہ یزید نے ان کے ایک شہزادے کو جب کہ اہل بیت کا قافلہ دمشق پہنچا تو گرفتار کرکے قید میں ڈال دیا اور وہیں آپ کی شہادت ہوئی .
اور مولانا حنیف قریشی کے ذکت کردہ ماخذ سے جو ثابت ہوتا ہے وہ یہی کہ حضرت مسلم بن عقیل کے شہزادے کربلا میں امام کے ساتھ شہید ہوئے ہیں …. اتنا اتفاق ہوا ؛ اس سے زیادہ نہیں نہ ہی اس سے واقعہ کوفہ کے بیان پر استدلال درست … مفتی حنیف صاحب نے بھی یہی کہا ہے کہ کربلا میں امام حسین کے ساتھ شہید ہونے پر اتفاق …. اور ہم لوگ کوفہ والا واقعہ شہادت بیان کرتے ہیں جو ثابت نہیں ….. پھر تعجب خود مفتی حنیف پر ہوتا ہے کہ تاریخی حقائق سے وہ یہی ثابت کر رہے ہیں کہ امام عالی مقام کے ساتھ حضرت مسلم بن عقیل کے لڑکے شہید ہوئے ہیں اور شروع میں خود انہوں نے اس کو بالتصریح بیان بھی کردیا ہے اور اسی پر اتفاق کا دعوی بھی ذکر کردیا ہے مگر بعد میں خود ہی جب ان کے واقعہ شہادت کی تفصیل کی بات آئی تو سر الشہادتین اور سعادت الکونین کا حوالہ ذکر کرہے ہیں حالاں کہ ان میں کوفہ میں حارث نامی شخص کے ہاتھوں ان شہزادوں کے شہید ہونے کی روداد ذکر ہے جیسا کہ یہ مشہور ہے …. اب اگر یہ شہزادے کوفہ میں اپنے والد کے ساتھ شہید ہوئے ہیں تو کربلا میں امام کے ساتھ کیسے شہید ہوئے ہیں اور ان کے موقف پر استدلال کیسے درست ؟؟؟ اور اگر کربلا میں امام کے ساتھ شہید ہوئے ہیں تو کوفہ میں اپنے والد کے ساتھ ان کا شہید ہونا کیسے درست ؟؟؟؟
نیز سر الشہادتین میں اس واقعہ کا کوئی حوالہ مذکور نہیں . اور نہ کتب متقدمین میں اس واقعہ کا کوئی پتہ …. سب س پہلے اس کو روضۃ الشہداء…. ملا حسین کاشفی میں نقل کیا گیا ہے جو غیر معتبر کتاب ہے حد تو یہ ہے کہ شیعہ مؤرخین خود اس کو غیر معتبر مانتے ہیں . اس کتاب میں امام قاسم کی کربلا میں شادی والا بھی واقعہ ہے اور بعد میں حبیب السیر میں روضۃ الشہداء کے حوالے سے اس کو نقل کیا گیا جس میں اور بھی رنگ بھر کے اس واقعہ کو ذکر کیا گیا . اور حضرت علامہ شفیع اکاڑوی علیہ الرحمہ نے شام کربلا میں اسی کے حوالے سے ذکر کیا ہے اور جب اس کی واقعہ کی اصل معلوم ہوگئی تو نقل در نقل جن کتب میں یہ واقعہ موجود ہے اس سے اس واقعہ کی صحت لازم نہیں آئی کہ جب اصل تک رسائی ہوگئی اور اس کی حقیقت معلوم ہوگئی تو نقل در نقل اس کو مستند نہیں بنا دے گا .
اس کو علامہ شامی نے عقود رسم المفتی میں وضاحت کے ساتھ لکھا ہے . تفصیل کے لیے اسی کتاب کی طرف رجوع کریں

 

9/9/19

عمر میں خیر و برکت کیلیے دعائے عاشورہ
دسویں محرم الحرام کو جو کوئی دعائے عاشورہ پڑھے گا اس کی برکت سے عمر میں خیر (بھلائی) و برکت ہوگی اور زندگی میں فلاح (کامیابی) اور نعمت حاصل ہوگی ان شاءاللہ عزوجل.
(جنتی زیور 159مکتبةالمدینہ کراچی)

🌺دعائےعاشورہ🌺

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
“یَاقَابِلَ التَّوْبَةِ اٰدَمَ یَوْمَ عَاشُوْرَآءَ
یَافَارِجَ کَرْبِ ذِی النُّوْنِ یَوْمَ عَاشُوْرَآءَ
یَاجَامِعَ شَمْلِ یَعْقُوْبَ یَوْمَ عَاشُوْرَآءَ
یَاسَامِعَ دَعْوَةِمُوْسٰی وَھٰرُوْنَ یَوْمَ عَاشُوْرَآءَ
یَامُغِیْثَ اِبْرَاھِیْمَ مِنَ النَّارِ یَوْمَ عَاشُوْرَآءَ
یَارَافِعَ اِدْرِیْسَ اِلَی السَّمَآءِ یَوْمَ عَاشُوْرَآءَ
یَامُجِیْبَ دَعْوَةِصَالِحٍ فِی النَّاقَةِیَوْمَ عَاشُوْرَآءَ
یَانَاصِرَسَیِّدِنَامُحَمَّدٍصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ عَاشُوْرَآءَ
یَارَحْمٰنَ الدُّنْیَاوَالْاٰخِرَةِ وَرَحِیْمَھُمَا صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ
وَصَلِّ عَلٰی جَمِیْعِ الْاَنْبِیَآءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ
وَاقْضِ حَاجَاتِنَافِی الدُّنْیَاوَالْاٰخِرَةِ
وَاَطِلْ عُمْرَنَافِی طَاعَتِکَ وَمَحَبَّتِکَ وَرِضَاکَ
وَاَحْیِنَا حَیٰوةًطَیِّبَةً
وَتَوَفَّنَاعَلَی الْاِیْمَانِ وَالْاِسْلَامِ
بِرَحْمَتِکَ یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ
اَللّٰھُمَّ بِعِزِّالْحَسَنِ وَاَخِیْہِ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ وَجَدِّہٖ وَبَنِیْہِ فَرِّجْ عَنَّامَانَحْنُ فِیْہِ”
پھر سات بار یوں پڑھیے :
“سُبْحٰنَ اللّٰہِ مِلْءَالْمِیْزَانِ
وَمُنْتَھَی الْعِلْمِ وَمَبْلَغَ الرِّضٰی وَزِنَةَ الْعَرْشِ لَامَلْجَاَ وَلَامَنْجَاَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّا اِلَیْہِ
سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَدَدَ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَعَدَدَ کَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّاتِ کُلِّھَا نَسْئَلُکَ السَّلَامَةَ بِرَحْمَتِکَ یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ
وَھُوَ حَسْبُنَا وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ
نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ
وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَاِلَّابِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ
وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمِّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ عَدَدَ ذَرَّاتِ الْوُجُوْدِوَعَدَدَمَعْلُوْمَاتِ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ”

(مدنی پنج سورہ صفحہ 322,323,224 مکتبةالمدینہ کراچی)
فائدہ: اور ایک کتاب میں دعائے عاشوہ کے حوالے سے امام زین العابدین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا یہ فرمان موجود ہے کہ
“جو عاشورہ (10محرم الحرام ) والے دن طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب کے درمیان اس دعا کو خود پڑھ لے یا کسی سے پڑھوا کر سن لے تو اس سال ان شاءاللہ عزوجل اس کو موت نہیں آئےگی اور عجیب اتفاق ہے کہ اگر اس سال مرنا ہو تو اس کو یہ دعا پڑھنے یا سننے کی توفیق ہی نہیں ملے گی۔
نوٹ: مگر امام زین العابدین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ یہ فرمان جس کتاب میں موجود ہے اسمیں حوالہ موجود نہیں اور نہ وہ خود معتبر کتاب ہے لہذا اہلِ علم حضرات نے اگر کہیں امام زین العابدین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا یہ فرمان پڑھا ہو تو ضرور آگاہ کیجیے گا۔
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ
ابواسیدعبیدرضامدنی
20/09/2018
03068209672

 

9/9/19

دس محرم کی رات
(سلسلہ “کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات” سے منسلک)

دس محرم الحرام کی رات ہے……، میدان کربلا ہے……، رات کا پہلا حصہ ہے…..، اہل بیت قرآن کی تلاوت میں مصروف ہیں……، حضرت سکینہ نے جب سب کو قرآن پڑھتے دیکھا تو مچل گئیں اور اپنے والد امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس جا کر کہنے لگیں کہ ابا جان مجھے بھی قرآن شریف پڑھائیے۔
چناں چہ پانی نہ ہونے کی وجہ سے تیمم کروا کے “اعوذباللہ” اور “بسم اللہ” پڑھا اور پھر زاروقطار رونے لگے!
جب وجہ پوچھی گئی تو امام حسین نے فرمایا کہ قرآن شروع تو میں نے کروا دیا ہے لیکن یہ سوچ کر رو رہا ہوں کہ ختم کون کروائے گا۔

یہ واقعہ شاید ہم اچھی طرح سے لکھ نہیں پائے لیکن ہمارے مقررین بہت اچھے طریقے سے اسے بیان کرتے ہیں۔ خوب روتے ہیں اور بے چاری عوام بھی اپنے آنسوؤں کو روک نہیں پاتی، اور روکے بھی کیسے کہ واقعے میں درد ہی اتنا ہے۔

اس درد ناک قصے کے بارے میں حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ جس کذاب اور جعل ساز مقرر نے اسے بیان کیا اس سے پوچھا جائے کہ اس نے کہاں دیکھا۔ عوام بھی ایسے پھکڑ باز اور چرب زبان مقرر کو سر پر بٹھاتی ہے، منھ مانگی فیس دیتی ہے، اس کے مقابل علما کو گھاس تک نہیں ڈالتی؛ آخر ان جعل سازوں کی اصلاح کیسے ہوگی؟ اس روایت کو بیان کرنے والا جعل ساز مقرر اگر زندہ ہے تو اس سے پوچھا جائے کہ تم نے یہ روایت کہاں دیکھی ہے؟

(ملتقطاً و ملخصاً: فتاوی شارح بخاری، ج2، ص72)

یہ روایت من گھڑت اور جھوٹ ہے اور اس کو بیان کرنے والا مقرر…………، بہت ہو گیا، اب ہم کیا کہیں۔

عبد مصطفی

13/9/19

مستند واقعۂ کربلا

کہتے ہیں:
محدث اعظم پاکستان، حضرت علامہ مولانا ابوالفضل سردار احمد نوراللہ مرقدہ کو ایک محفل میں کہا گیا:
حضرت! واقعۂ کربلا مستند طریقے سے بیان کریں۔

آپ نے خطبہ پڑھ کر ارشاد فرمایا:

“امام حسین کربلا میں گئے اور بڑی بے دردی کے ساتھ شہید کر دِیے گئے”

وماعلینا الا البلاغ المبین

علامہ قاری لقمان شاہد حفظہ اللہ

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.