fatwa online | Islamic law | sharia law rules | Part 9

Aasif Razavi:

سوال :– اس پانی کے پینے کی کوئی صورت ہو تو ارشاد فرمائیں

Sayyad Chhote:

سوال:کیا فرما تے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ذیل کے اس مسئلہ میں کہ کھےکھڑا

(CRAB)

کا کاروبار کرنا ایک مسلم کے لیے کیسا ہے؟

 Aasif Razavi:

سوال :–کیا مسجد میں غیر روزہ دار کو افطار کرنا جائز ہے؟

Sayyad Chhote: मस्जिद की इफ़्त़ारी ग़ैर रोज़ेदार को खाना ह़राम है…..! 

सरकार आला ह़ज़रत अज़ीमुल बरकत मुजद्दिद ए दीन ओ मिल्लत अश’शाह इमाम अह़मद रज़ा ख़ान फ़ाज़िल ए बरेलवी रदिअल्लाहु ताला अन्हु वा अर्दाहो अन्ना फ़तावा रज़विय्या शरीफ़ में इर्शाद फ़रमाते हैं कि मस्जिद की इफ़्त़ारी ग़ैर रोज़ेदार को खाना ह़राम है क्यूंकि मस्जिद की इफ़्त़ारी भेजने वाले ने रोज़ेदारों के लिए वक़्फ़ किया है वक़्फ़ का माल मिस्ल ए माल ए यतीम है जिसे नाह़क़ खाने पर अल्लाह रब्बुल इज़्ज़त ने इर्शाद फ़रमाया:

اِنَّمَا یَأکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھمْ نَارًا وَّ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا

तर्जुमा:- अपने पेट में निरी आग भरते हैं और अनक़रीब जहन्नम में जायेंगे…..!

{सूरह ए निसा आयत न॰10}

{फ़तावा रज़विय्या शरीफ़ जिल्द 16 सफ़्ह़ा 485 से 488 तक}

HASAN PATHAN:

غیر روزے دار کے لۓ افطاری اس صورت میں حرام ہے جب کہ وقف بالتخصیص روزہ دارکی افطاری کے لۓ ہو جیسا کہ حضور سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے وضاحت فرمائ ۔ البتہ ہمارے یہاں لوگ افطاری محض کار خیر سمجھکر بلا نیت وقف و تخصیص روزہ دار بھیجتے ہیں. اگر چہ صراحۃ اجازت نہیں ہوتی البتہ دلالۃ ضرور پای جاتی ہے کہ دہندہ کا دیکھنا اور انکار نا کرنا اس لۓ اس صورت میں مسجد میں غیر روزہ دار کا افطار کرنا جاءژ ہے۔

Sabbir Sikka:

ایک بزرگ جو مراقبہ کے ذریعے لوگوں کے مسائل کی تشخیص اور علاج کرتے تھے, ان کے پاس ایک صاحب آئے جن کو یہ تکلیف تھی کہ 10 دن سے وہ اپنی پلکیں نہیں جھپکا پا رہے تھے, نہ سو سکتے تھے نہ رو سکتے تھے, تکلیف کی شدت ازیت بن گئی تھی ڈاکٹروں کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا مسئلہ ہے سب ہاتھ کھڑے کر چکے تھے اس لیے وہ ان بزرگ کے پاس حاضر ہوے تھے اپنے مسئلے کے حل کے لیے اور دعا کروانے کے لیے۔

بزرگ نے مراقبہ کیا مگر ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آیا کافی کوشش کے بعد بھی کچھ سامنے نہ آیا تو مریض کو اگلے دن آنے کا کہا اور اس کا نام اور مسئلہ اپنے پاس لکھ لیا۔

عصر کے بعد پھر ان صاحب کے مسئلے پر بذریعہ مراقبہ غور کیا لیکن سوائے دھندلے اور نامکمل تصویری خاکوں کے کچھ سمجھ نہ آیا۔

ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ کسی کے متعلق کوئی راہنمائی نہ ملے ضرور کوئی خاص بات تھی آپ ذکر اذکار میں مصروف ہو گئے اور اللہ سے خصوصی دعا کہ یہ معاملہ سلجھا دے۔

عشاء کے بعد پھر مراقبہ میں گئے تو دیکھا ایک طرف کچھ ہندو بیٹھے ہیں دوسری طرف مسلمان، ان مسلمانوں میں وہ شخص بھی بیٹھا نظر آیا جو پلکیں نہیں جھپکا پا رہا تھا مسلمان اور ہندو دونوں مذاہب کے لوگ اپنے اپنے طریقے سے روزہ افطار کرنے کے لیے بیٹھے تھے۔

اس شخص نے اپنے ساتھ بیٹھے فرد سے کچھ کہا جس پر انتظامیہ نے اس شخص کو سزا کے طور پر اٹھایا اور ہندوؤں کے پاس جانے کو کہا اس کے ساتھ ہی بزرگ کا مراقبہ ختم ہو گیا کافی دیر غور کرنے کے بعد بات کچھ کچھ سمجھ آنے لگی تھی اسی بات پر غور کرتے کرتے وہ بزرگ نیند کی أغوش میں چلے گئے۔

اگلے دن ضرورت مندوں میں وہ شخص بھی شامل تھا اپنی باری آنے پر وہ شخص سامنے آ کر بیٹھا تو اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی آئی تھی بزرگ نے خیریت دریافت کرنے کے بعد پوچھا کہ رمضان کے روزے کیسے گزرے آپ کے?

“ہمیشہ کی طرح اچھے گزرے اس دفعہ بھی”. اس نے جواب دیا۔

ہندوؤں کے روزوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

” میں کچھ سمجھا نہیں” اس نے حیرانی کا اظہار کیا

لیکن اس کی بیوی کی آنکھیں کسی خیال سے روشن ہو گئیں شاید اسے بات کچھ سمجھ آ رہی تھی وہ گویا ہوئی

ایک دن روزوں پر بات ہو رہی تھی تو انہوں نے مذاق میں ایک بات کہی تھی کہ “ہم سے اچھے تو ہندوؤں کے روزے ہیں وہ پھل کھا سکتے ہیں روزے میں”

بزرگ نے اس شخص کی طرف دیکھا تو اس کا سر جھکا ہوا تھا اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا غلطی کا خیال آتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور وہ اپنے رب سے گڑگڑا کر معافی مانگنے لگا کچھ دیر بعد اسے احساس ہوا کہ اب وہ اپنی پلکیں بھی جھپکا رہا ہے۔

بزرگ گویا ہوئے “دیکھو بیٹا! اکثر ہماری پکڑ ہماری زبان کی وجہ سے ہو جاتی ہے مذاق مذاق میں کی گئی باتیں کب اللہ کی ناراضی کا سبب بن جائیں ہم نہیں جانتے ہماری ایسی ہی بے تکلفی میں کی گئی باتیں ہماری پکڑ کی وجہ بن جاتی ہیں۔

یہ پکڑ کسی کی جسمانی تکلیف کی صورت میں سامنے آتی ہے اور کسی کے لیے ذہنی تکلیف کی صورت میں کسی کو دلی سکون حاصل نہیں تو کسی کی راتوں کی نیند غائب ہو جاتی ہے کسی کے رزق سے برکت ختم ہو جاتی ہے تو کسی کے رشتوں میں اختلافات آ جاتے ہیں۔

اسلام کی ایک ایک بات اللہ کی مصلحت اور معرفت سے لبریز ہے اور اللہ کا بتایا ہوا ہر اصول اور حکم کائنات کا بہترین عمل اور اصول ہے ہم مذاق میں یا بے دھیانی میں کچھ کہہ کر اللہ کے بنائے ہوئے اس اصول کی بےادبی اور گستاخی کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔

جیسے :

کسی کے لیے فجر کے لیے اٹھنا مشکل ہے تو سوچے سمجھے بغیر کہہ دیا کہ “یہ فجر کی نماز ضروری تھی کیا” استغفر اللہ

کسی لڑکی نے کہہ دیا کہ جو بھی ہو جائے میں کسی داڑھی والے سے شادی نہیں کروں گی۔

اسی …

Sabbir Sikka:

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا کسی تنظیم کو یا کسی ادارے کو یا کسی مفتی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ چاند کے نہ ہونے کا خصوصاً رمضان المبارک کے چاند کی نفی کا اعلان کرے

 Sabbir Sikka:

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا کسی تنظیم کو یا کسی ادارے کو یا کسی مفتی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ چاند کے نہ ہونے کا خصوصاً رمضان المبارک کے چاند کی نفی کا اعلان کرے
اور اگر کرے تو کب کرے قبل عشاء یا بعد عشاء یا قبل سحری
اور اگر نفی کا اعلان ہونے کے بعد شرعی شہادت کے ملنے پر اگر عوام پہلی گواہی پر اعتماد کر کے روزہ ترک کر دیں تو کیا حکم ہے؟

Tahir Juna:

یوم الشک کا روزہ:

اگر اہل سنت کی طرف سے چاند کی کوئی تصدیق نہیں ملتی ہے تو کل یوم الشک ہے اور یوم الشک میں روزہ رکھنا جائز نہیں. “من صام یوم الشک فقد عصیٰ ابا القاسم”
یعنی جس نے یوم الشک میں روزہ رکھا تو اس نے ابو القاسم (یعنی حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم) کی نافرمانی کی.

Tahir Juna:

Some issues of zakat, Moon sighting and others.

Mufti Akhtar Raza Khan
Taaj-us-Shariah
Maddzillahul aali

Zakaat, Chand ki rooyat aur dusre masloñ par
Sawaal jawaab

HASAN PATHAN:

مسئلہ ۱۶۶: از رائے پورسی پی محلہ بیجناتھ پارہ مرسلہ بہادر علی خاں سپرنٹنڈنٹ پنشنر محکمہ بندوبست ۲۴ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ شعبان کی ۲۹ کو اگر چاند نظر نہ آئے تو ۳۰ کو علاوہ قاضی و مفتی کے عوام کو روزہ رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور جائز ہے تو کس نیت سے؟ الجواب : اگر ۲۹کی شام کو مطلع صاف ہو اور چاند نظر نہ آئے تو ۳۰ کو قاضی مفتی کوئی بھی روزہ نہ رکھے اور اگر مطلع پرابر وغبار ہوتو مفتی کو چاہئے کہ عوام کو ضحوہ کبری یعنی نصف النہار شرعی تک انتظار کا حکم دے کہ جب تک کچھ نہ کھائیں پئیں،نہ روزے کی نیت کریں، بلا نیت روزہ مثل روزہ ر ہیں، اس بیچ میں اگر ثبوت شرعی سے رویت ثابت ہوجائے تو سب روزے کی نیت کرلیں روزہ رمضان ہوجائے گا، اور اگر یہ وقت گزر جائے کہیں سے ثبوت نہ آئے تو مفتی عوام کو حکم دے کہ کھائیں پئیں،ہاں جو شخص کسی خاص دن کے روزے کا عادی ہو، اور اگر اس تاریخ وہ دن آکر پڑے مثلا ایک شخص ہر پیر کو روزہ رکھتا ہے اور یہ دن پیر کا ہو تو وہ اپنے اسی نفلی روزے کی نیت کر سکتا ہے شک کی وجہ سے رمضان کے روزے کی نیت کرے گا یا یہ کہ چاند ہو گیا تو آج رمضان کا روزہ رکھتا ہوں ورنہ نفل،تو گنہ گار ہوگا۔ حدیث میں ہے:من صام یوم الشک عصی اباالقاسم۱؎صلی اﷲتعالی علیہ وسلم۔ واﷲتعالی اعلم جس نے یوم شک کا روزہ رکھا اس نے حضرت ابو القاسم محمد صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۔ واﷲتعالی اعلم(ت)

Kisi ne aaj ramzaan samjh kar roza rakh liya ab Woh kya kare

HASAN PATHAN:

ذمہدار ادارہ یا شخص بلا شرعی گواہی اثبات نہیں کرسکتا تو لا محالہ نفی کرتا رہے ملنے تک یعنی نصف النہار پھر بعد شرعی گواہی ملے تو بعد رمضان قضا کرے.

 HASAN PATHAN:

کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی وہابی، دیوبندی، تبلیغی جماعت والے کی زکوٰۃ سنّی لے سکتا ہے؟
يا پھر کسی وہابی، دیوبندی، تبلیغی جماعت والے کے پاس سے زکوٰۃ کی رقم لیکر کسی سنّی حقدار کو یہ نہ بتایا جائے کہ زکوٰۃ کس نے دی ہے؟ تو اس طرح سے سنّی کا زکوٰۃ لینا زکوٰۃ دلوانا کیسا ہے؟
برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں

 HASAN PATHAN:

الجواب وہابی دیوبندی وغیرہ گستاخ رسول اور ضروریات دین کے منکر ہونے کی وجہ مرتد ہیں اور مرتد کے افعال نا عبادت میں شمار ہیں اور نا ان کے اموال قابل زکاۃ کہ مرتد کے زمانہ ردت کا مکسوب مال بیت المال کا ہے.فئ للمسلیمین ہے ایسا ہی ( فتاوی مصطفویہ ج 1 ص 421 میں ہے ) لہزا مرتدین سے زکاۃ کے نام پر پییسہ لینا دینا ،دلانا سب ناجائز وحرام ہے بلکہ ان سے کوئ معاملات جائز نہیں. جیسا کہ حدیث مشہور میں مذکور۔

HASAN PATHAN: کسی مسلمان سے غزا کے لئے کیکڑا کی خرید وفروخت ناجائز ہے. بہار شریعت ( ح 8 بیع کے متفرق مسائل ) میں ہے مچھلی کے سوا پانی کے تمام جانور مینڈک کیکڑا وغیرہ…… کی بیع ناجائز ہے.

Mufti Hussain:

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ” میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور ہر مہینے میری تنخواہ سے دس فیصد % کاٹ کے رکھ لیتی ہے جو ریٹائر کرنے کے بعد ملے گی وہ بھی ۱۰۰ فیصد نہی بلکہ 75 فیصد تو کیا ابھی تک جمع شدہ رقم کی ذکوہ(zakat ) دینا ہم پر فرض ہے یا نہی
سوال نمبر ۲۔۔۔ بینک میں بچی کے نام سے sukniya yojna اکاؤنٹ کھولا ہوں اس کی zakat بھی ہمارے ذمہ ہے کیونکہ بچی کے بعد بلوغ بغیر بچی کی اجازت ہم پیسہ نہی نکال سکتے ہیں بینک کے اصول کے مطابق ” برائے مہربانی ان سوالوں کے جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں

HASAN PATHAN: الجواب : پہلے مسئلہ میں اصل جمع شدہ رقم پر زکاۃ ہر سال واجب ‎ہوتی رہےگی البتہ اس کی ادائیگی اس وقت واجب، جب ملے.
اور دوسرے مسئلہ میں بچی کے بلوغ کے بعد ایک سال ہونے پر، اس پر زکاۃ ہر سال واجب اگر بقدر نصاب ہو اور ادائیگی بعد حصول .
فتاوی رضویہ (ج 4 ص 428)

Tahir Juna: سوال

کیا شہر یا گاوں میں جو مکتب چلتا ہے جہاں مقامی طلبہ ڈیڑھ دو گھنٹے کے لئے آتے ہیں اور پڑھ کر چلے جاتے ہیں

کیا ایسے مکتب میں زكوة فطرہ دے سکتے ہیں؟؟؟

HASAN PATHAN: الجواب : بلا حاجت شرعیہ دینا جائز نہیں بالخصوص وہ مکاتب جہاں خود کے یا مالداروں کے بچے زیر تعلیم ہو کہ اب کوئ حاجت نہ رہی. ہاں اگر کہیں واقعی حاجت ہو تو بعد حیلہ شرعی دے سکتے ہیں کہ وقت ضرور ہر کار خیر میں زکاۃ دینا, مصارف زکاۃ “و في سبيل اﷲ “کے زمرہ سے ہے جیساکہ رد المحتار( 2: 323، بيروت: دار الفک ) میں ہے و في سبيل اﷲ عبارة عن جميع القرب فيدخل فيه کل من سعی في طاعة اﷲ وسبيل الخيرات إذا کان محتاجا.

Aasif Razavi: . شرائط وضوابط 

💫 “Barkate Raza Islamic Masail “💫

1⃣.Barkate Raza خالص علماء کرام کا گروپ ہے اور اس میں علماء ہی شامل رہیں گے.

2⃣. سوال مہذب انداز میں کرنا لازمی ہے.
3⃣. مفتیان کرام ومجیبین حضرات کسی بھی سوال کاجواب معتبر کتب کے حوالے اور دلائل سے مزین فرمائیں .
4⃣. کسی بھی اکابر اہلسنت کی توہین تحقیر لفظا وکنایۃ قابل برداشت نہیں ہوگی.
5⃣.گروپ کےتمام ممبران میں اتحاد واتفاق لازمی ہے
6⃣. گروپ میں سلام اور جواب سلام کے علاوہ آپسی گفتگو کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی.
7⃣. اکابرین حلقہ کی توہین وتحقیر ہرگز قابل معافی نہیں ہوگی.
8⃣ . کسی بھی سوال کے جواب میں عجلت نہ کریں اگر عجلت ہوں تو اکابرین حلقہ کی ذاتی آئ ڈی پر رابطہ کریں.
9⃣.عامیانہ سوال سے پرہیز لازمی ہےاور یومیہ تین سوال سے زیادہ کی اجازت نہیں ہوگی.
🔟. گروپ میں امیج یاتصویر ارسال کرناناقابل تلافی عمل قرار دیا جائیگا.

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
نوٹ : کسی کی بار خاطر کے لئے معذرت.

صرف اور صرف سوال و جواب کے لئے یہ گروپ بنایا گیا ہے

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.