EID UL ADHA AUR QURBANI KE MAQASID

بسم الله الرحمن الرحیم

عید الاضحی اور فلسفہ قربانی

 

قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

 تم فرماؤ بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔

ہر سال مسلمانان عالم کروڑوں جانوروں کی قربانی کر کے جاں ثاری کے اس بےنظیر واقعہ کی یاد تازہ کرتے ہیں جو آج سے تقریبا سوا پانچ ہزار سال قبل عرب کی سرزمین میں اللہ کے گھر کے پاس پیش آیا تھا۔

کیسارقت انگیز اور ایمان افروز ہوگا وہ منظر جب ایک بوڑھے اور شفیق باپ نے اپنے نوخیز لخت جگر سے کہا

:يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ

 اے پیارے بٹے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں، بتا تیری کیا رائے ہے؟  اور لائق فرزند نے  کہا:

قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ

کہا ابا جان! آپ کوجو حکم دیا جارہا ہے اسے کر ڈالے، آپ ان شاءاللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے۔ اور پھر اخلاص ووفا کے اس پیکر نے خوشی خوشی اپنی معصوم گردن زمین پر اس لیے ڈال دی کہ اللہ کی رضا اور حکم کیتعمیل کیلئے اس پر چھری پھیر دی جائے۔ ایک ضعیف اور رحمدل باپ نے اپنے محبوب لخت جگر کے سینے پر گھٹنا ٹیک کر اس کی معصوم گردن پر اس لیے چھری پھیر دینے کا ارادہ کرلیا کہ اس کے رب کی مرضی اور حکم یہی ہے۔

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسمعیل کو آداب فرزندی

اطاعت وفرماں برداری کایہ بینظیرمنظر دیکھ کر رحمت خداوندی جوش میں آ گئی اور ندا آئی:

وناديناه أن يا إبراهيم قد صدقت الرؤيا

 قد صدقت الرؤيا إنا كذلك نجزي المحسنين

إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ

اور ہم نے انہیں آواز دی کہ اے ابراہیم ! بس تم نے اپنا خواب چ کر دکھایا، ہم وفادار بندوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں، یقینا یھ ایک کھلی آزمائش تھی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی قربانیوں کی یادگار ہے۔ حیات ابراہیم علیہ السلام کو اگر قربانی کی تفسیر کہا جائے تو زیاد صحیح ہوگا۔ الله کی راہ میں قربانی دینے کا مفہوم اگر آپ جانا چاہیں تو ضروری ہے
کہ آپ ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کو پڑھیں۔ الله کی خاطر آپ ماں باپ کی شفقت، دولت اور آسائش سے محروم ہوئے، خاندان اور برادری کی حمایت اور سہارے سے دستبردار ہوئے، وطن عزیز سے نکلنا پڑا آتش نمرود میں بے خطر کود کر اللہ کے حضور اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، اور اللہ کی رضا اور اطاعت میں آپ نے اپنی محبوب بیوی اور اکلوتے بچے کو ایک بے آب و گیاہ ریگستان میں لا کر ڈال دیا اور جب سی پر ذراسی شعور کون
کرکسی لائق ہوا، تو علم ہوا کہ اپنے ہاتھوں سے اس کے گلے پر چھری پھیر کر دنیا کے ہر

سہارے او تعلق سے کٹ جاؤ اور سلم حنیف بن کر اسلام کامل کی تصویر پیش کرو۔

اسلام کے معنی ہیں کامل اطاعت مکمل پردگی اور کی وفاداری ۔ قربانی کانی بے نظیرئل وہی کر سکتا ہے جو واقعتا اپنی پوری شخصیت اور پوری زندگی میں الله کامل اطاعت گزار ہوں جو زندگی کے ہر معاملے میں اس کا وفادار ہو، اور جس نے اپنا سب کچھ اللہ کے کوحوالے کر دیا ہو۔ اگر ہماری زندگی گواہی نہیں دے رہی ہے
کہ ہم اللہ کے مسلم اور وفادار ہیں اور ہم نے اپنی پوری زندگی اللہ کے حوالے نہیں کی ہے تو ہمتش چند جانوروں کا خون بہا کر ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو تازہ نہیں کر سکتے۔ اور اس عہد میں پورے نہیں اتر سکتے جو قربانی کرتے وقت ہم اپنے اللہ سے کرتے ہیں۔ دراصل ای واقع کو تازہ کرتا اور انہی جذبات کو دل و دماغ پر حاوی کرنا قربانی کی روح اور اس کا مقصد ہے۔ اگر یہ جذبات اور ارادے نہ ہوں، الله کی راہ میں قربان ہونے کی آرزو اور خواہش نہ ہو، ال کی کال اطاعت اور سب کچھ اس کے حوالے کر دینے کا عزم اور حوصلہ نہ ہو، تو محض جانوروں کا خون بہانا، گوشت کھانا، اورتقسیم کرنا قربانی نہیں ہے بلکہ گوشت کی ایک تقریب ہے جو ہر سال ہم مثالیا کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو تازہ کر دیا۔ الٹ کو نہ جانوروں کے خون کی ضرورت ہے نہ گوشت کی، اس کو اخلاص و وفا اور تقوی و جاں نثاری کے وہ احساسات و جذبات مطلوب ہیں جو آپ کے دل میں پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ ۚ  
 الد کو ان جانوروں کے گوشت مانتے ہیں، اور ان کا خون، اسے تو صرف تمہارا تقوی بنتا ہے۔

یہی تقوی اور اطاعت وفرماں برداری کا جوہر قربانی کی روح ہے، اور اللہ کے ہاں صرف وہی قربانی شرف قبولیت پاتی ہے جو متقی لوگ اطاعت، فرماں برداری اور جاں ثاری کے جذبات کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ تقوی، اخلاص، وفاداری اور جاں نثاری کے بی جذبات اس طرح پیدانہیں ہوتے کہ ہم گاہے کا ہے اللہ کو یاد کر لیں اور کچھ ایسے مخصوص اعمال بھی بھی کرلیں جو اللہ سے تعلق اور اس کی راہ میں قربانی کی علامت ہیں اور پھر اپنے افکار و خیالات، احساسات و جذبات، اخلاق و معاملات ، اطاعت و وفاداری، رسم ورواج ، معاشرت ومعیشت اور قیادت و سیادت میں آزاد ہیں کہ جو چاہیں سوچیں، جو چاہیں ارادے میں، جو چاہیں کریں، اور جس کی اطاعت وفرماں برداری کا چاہیں دم بھریں۔۔۔ اللہ سے یہ عہد کرنے کے بعد کہ میں رب العالمین کامسلم ہوں‘‘ کیا اس کی گنجائش ہے؟ کہ ہم دوسرے نظاموں کو اطاعت کے لیے اپنائیں؟ اور اپنے من مانے طریقوں کی پیروی کریں؟ کیا جانوروں کا فدی دے کر ہم نے اپنی جانوں کو اس لیے چھڑایا ہے کہ ہم اپنی جانوں اور اپنی قوت وصلاحیت کو جہاں چاہیں کھپائیں اور قربان کریں اور اللہ سے یہ امید کریں کہ وہ ان جانوروں کے گوشت اور خون کوقبول کرلے گا۔
الله کا دین آپ کی پوری شخصیت اور آپ کی پوری زندگی چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ آپ اس کی اطاعت کے ساتھ کسی اور کی اطاعت کا جوڑن لگائیں۔ جن برگزیدہ ہستیوں کی سنت کو آپ تازہ کر رہے ہیں نہیں دیکھیں کہ وہ کس طرح زندگی کے ہر معاملے میں صرف اور صرف اللہ کے تابع فرمان تھے۔ اللہ سے اسلام اور بندگی کا عہد کرنے والے ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی اسلام کی کیا تصور پیش کرتی ہے۔ ان کی زندگی کو آپ بار بار پڑھیں اور اپنے دل و دماغ اور شخصیت اور معاشرے پر ان جذبات اور اعمال کو طاری
کرنے کی کوشش کریں جو اس پاکیزہ زندگی میں آپ کونظر آ ئیں۔ ورن قربانی کا حاصل اس کے سوا کچھ نہیں کہ عام دنوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ گوشت کھانے اور کھلانے کے لیے ہم ایک جشن منارہے ہیں۔
محبت کا جنون باقی نہیں ہے مسلمانوں میں خون باقی نہیں ہے میں کی ، دل پریشاں ، سجدہ بے ذوق کہ جذب اندروں باقی نہیں ہے نماز و روزه و قربانی و ہ یہ سب باتی ہیں تو باقی نہیں ہے
انیشتیم

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.