chal diye tum Aankh mein ashkon ka darya chhod kar lyrics

جب حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ العزیز اس دار فانی سے دار بقا کی جانب کوچ کئے تھے تب حضور تاج الشریعہ نے درد و غم اور حزن و ملال کو کس طرح لفظی جامہ پہنایا تھا
آج بعینہ وہی صورت حال ہے ایسے میں انھیں کے یہ درد بھرے اشعار ان کی بارگاہ میں بطور خراج پیش ہیں

===========================
چل دیئے تم آنکھ میں اشکوں کا دریا چھوڑ کر

رنج فرقت کا ہر اک سینہ میں شعلہ چھوڑ کر

لذت مے لے گیا وہ جام و مینا چھوڑ کر

میرا ساقی چل دیا خود مے کو تشنہ چھوڑ کر

ہر جگر میں درد اپنا میٹھا میٹھا چھوڑ کر

چل دیئے وہ دل میں اپنا نقش والا چھوڑ کر

جامۂ مشکیں لئے عرشِ معلی چھوڑ کر

فرش پر آئے فرشتے بزمِ بالا چھوڑ کر

عالم بالا میں ہر سو مرحبا کی گونج تھی

چل دیئے جب تم زمانے بھر کو سونا چھوڑ کر

موتِ عالِم سے بندھی ہے موتِ عالَم بے گماں

روحِ عالَم چل دیا عالَم کو مردہ چھوڑ کر

متقی بن کر دکھائے اس زمانے میں کوئی

ایک میرے مفتیٔ اعظم کا تقویٰ چھوڑ کر

خواب میں آکر دکھاؤ ہم کو بھی اے جاں کبھی

کون سی دنیا بسائی تم نے دنیا چھوڑ کر

ایک تم دنیا میں رہ کر تارک دنیا رہے

رہ کے دنیا میں دکھائے کوئی دنیا چھوڑ کر

اس کا اے شاہِ زمن سارا زمانہ ہوگیا

جو تمہارا ہوگیا سارا زمانہ چھوڑ کر

رہنمائے راہِ جنت ہے ترا نقش قدم

راہِ جنت طے نہ ہوگی تیرا رستہ چھوڑ کر

مثل گردوں سایۂ دست کرم ہے آج بھی

کون کہتا ہے گئے وہ بے سہارا چھوڑ کر

ہوسکے تو دیکھ اخترؔ باغِ جنت میں اسے

وہ گیا تاروں سے آگے آشیانہ چھوڑ کر

قیصررضا: سبرامپور کانکی اتر دیناجپور

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.