Ask Fatwa Online

Read Fatwa in English

AqidaSalahZakat
RozaHajjNikah w Talaq
AqidaJanazaTijarat

Ask Fatwa Online

السلام علیکم ورحمت الله

مفتیان کرام سے گذارش هے کہ درج ذیل سوال میں رهنمائی فرمائیں >>>
جن کے گهر اولاد نہیں هوتی وه خاندان میں کسی سے لڑکا یا لڑکی گود لے لیتے هیں پهر اس لڑکے یا لڑکی کا نام رکهنے کے بعد متبنٰی باپ اپنا نام لگا دیتا هے سارے سرٹیفکٹس اسی طرح بنتے هیں حتی کہ نوبت یہاں تک پہونچ جاتی هے کہ کسی گهر صرف بیٹیاں هوتی هیں تو لڑکا گود لینے کی صورت میں متبنٰی باپ کے انتقال کے بعد متبنٰی لڑکا مال کا وارث هوجاتا هے اور لڑکیاں ره جاتی هیں کہیں کچھ ملتاهے کہیں کچھ بهی نہیں !!!!
دریافت یہ ہے کہ گود لینے میں منھ بولے باپ کے لۓ کیا شرعی حکم هے آیا وه اپنا نام بتاۓ یا حقیقی باپ کا ? بینوا توجروا !!!

المستفتی : محمد فاروق مصباحی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
جواب لڑکا یا لڑکی کی پرورش کرنے سے وہ لڑکا صاحب پرورش کا نہیں ہوجاتا ہے اور نہ حقیقتا وہ اس کا بیٹا ہوجاتا ہے لہذا بچہ کہیں بھی پرورش پائے اس کے ولدیت میں اصل والد ہی کا نام لکھنا اور پکارنا ضروری ہے کسی غیر کی طرف اس بچہ کی نسبت دینا ناجائز و حرام ہے كما قال الله تعالى فى القرآن المجيد : وَمَا جَعَلَ اَدۡعِیَآءَکُمۡ اَبۡنَآءَکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ قَوۡلُکُمۡ بِاَفۡوَاہِکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَقُوۡلُ الۡحَقَّ وَهوَ یَهدِی السَّبِیۡلَ ، اُدۡعُوۡهمۡ لِاٰبَآئِهمۡ ہُوَ اَقۡسَطُ عِنۡدَ الله ” اھ یعنی اور نہ تمہارے لئے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایا یہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے اور اللہ حق تعالی فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے ، انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے ” اھ ( پ 21 سورہ احزاب آیت 4 ) اور حدیث شریف میں ہے کہ ” عن امير المؤمنين على كرم الله وجهه عن النبى صلى الله تعالى عليه وسلم من ادعى الى غير ابيه او انتمى الى غير مواليه فعليه لعنة الله و الملائكة و الناس اجمعين لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا ” اھ یعنی امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرمایا جو شخص اپنے باپ کے سوا دوسرے کی طرف ادعا کرے یعنی کسی دوسرے باپ بنائے یا اپنے مولی کے سوا دوسرے کو اپنا مولی بنائے تو اس پر اللہ تعالی اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے نہ ان کا فرض قبول اور نہ نفل ” اھ ( مسلم شریف ج 1 ص 442 : کتاب الحج ، باب فضل المدینة ) اور صحیحین وغیرھما میں ہے کہ ” من ادعى الى غير ابيه فالجنة عليه حرام ” اھ یعنی جو اپنے باپ کے سوا دوسرے کو اپنا باپ بنائے تو اس پر جنت حرام ہے ” اھ ( بخاری شریف : کتاب المغازی ج 2 ص 619 / مسلم شریف ج 1 ص 57 ) ھکذا فی الفتاوی الرضویہ من الجزء التاسع مطبع رضا اکیدمی ممبئی )
مذکورہ آیت و حدیث سے واضح ہوا کہ متبنی بیٹے کا پرورش کرنے والے کی نسبت کرنا ناجائز و حرام ہے بلکہ ہر صورت میں اپنی نسبت اپنے حقیقی باپ کی طرف کرنا لازم و ضروری ہے اگرچہ کافر ہیں جیسے عکرمہ بن ابو جہل ۔

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مفتی حسن رضا امجدی ،جامنگر

السلام علیکم
سوال
زید کا ھندہ سے ایک بیٹا ہے بکر. زید نے دوسری شادی کی خالدہ سے. تو زید کا بیٹا بکر اپنے باپ کی دوسری بیوی خالدہ کی سگی بہن سے شادی کر سکتا ہے یا نہیں
سائل: عبد الرشید

الجواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ…. حاصل سوال یہ ہوا کہ سوتیلی ماں کی بہن سے شادی ہوسکتی ہے یا نہیں؟
ظاہر ہے کہ سوتیلی ماں (خالدہ) سے بکر کا کوئی نسبی تعلق نہیں ہے لہذا یہاں حرمت بالنسب نہ ہوا بلکہ اس کی حرمت صرف باپ کی منکوحہ ہونے کی وجہ سے ہے لہذا یہ حرمت بالسبب ہے. تو سوتیلی ماں کی بہن سے بکر کا کوئی نسبی رشتہ نہ ہوا لہذا حرمت کی کوئی وجہ نہیں ہے. درمختار میں ہے :اما بنت زوجۃ ابیہ او ابنہ فحلال. ( در مختار : 4/ 105) . اور عالم گیری میں ہے : واما خالۃ الخالۃ فإن کانت القربی خالۃ لأب وأم او لأم فخالتھا تحرم علیہ وإن کانت القربی خالۃ لأب فخالتھا لا تحرم علیہ. ( 1/ 273).
واللہ تعالی اعلم

     کتبہ مفتی حسن رضا امجدی ،جامنگر

السلام علیکم
سوال…
ایک آدمی نے قسم کھائی کہ میں نے یہ الفاظ کہے ہوں تو کل میدان محشر حضور اکرم کی شفاعت مجھ پر حرام
تو کیا یہ قسم صحیح ہے یا نہیں.؟

الجواب بعون الملک الوھاب
یہ قسم نہیں لیکن اگر وہ آدمی جھوٹ بول رہا ہے تو گنہ گار ہوگا بہار شریعت, قسم کے بیان میں ہے, “یہ الفاظ قسم نہیں اگرچہ ان کے بولنے سے گنہگار ہوگا جبکہ اپنی بات میں جھوٹا ہے اگر ایسا کروں تومجھ پر اﷲ (عزوجل) کا غضب ہو…رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی شفاعت نہ ملے.”(ح ۹ ص ١۹) واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید سرفراز علی

سوال : ساس اور بہو کا جھگڑا ہوا اور جھگڑے کے دوران بہو نے ساس سے کہا کہ میں قرآن پاک کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ اب کبھی بھی آپ کے گھر نہیں آئونگی اب جھگڑے کو کافی دن گزر گئے اور بہو کو یہ احساس ہوا کہ مجھے یہ قسم نہیں کھانی چاہیے تھی اور اب وہ اپنی ساس کے گھر جانا چاہتی ہے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ بہو اب کیا کرے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
قرآن کی قسم کھانے سے قسم منعقد ہو جاتی ہے.
بہار شریعت, قسم کے بیان میں ہے. “یوہیں خدا کی جس صفت کی قسم کھائی جاتی ہو اوس کی قسم کھائی ہوگئی مثلاخدا کی عزت وجلال کی قسم… قرآن کی قسم، کلام اﷲ کی قسم.”(ح ۹ ص١۹)
اور چونکہ بہو نے ایسے امر کی قسم کھائی ہے جس کے غیر میں بہتری ہے اس لیے اس قسم کا توڑنا مستحب ہے.
حدیث پاک میں ہے, – عَنْ عبْدِالرَّحْمنِ بْنِ سَمُرةَ  قَالَ: قَالَ لي رسُولُ اللَّه ﷺ: .. وَإِذَا حَلَفْتَ علَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَها خَيْرًا مِنهَا، فأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وكفِّرْ عَنْ يَمِينك (بخاری و مسلم) .
بہار شریعت میں ہے., ” تیسری وہ کہ اوس کا توڑنا مستحب ہے مثلا ایسے امر کی قسم کھائی کہ اوس کے غیر میں بہتری ہے تو ایسی قسم کو توڑ کروہ کرے جو بہتر ہے۔… منعقدہ جب توڑے گا کفارہ لازم آئیگا اگرچہ اوس کا توڑنا شرع نے ضروری قراردیا ہو.”(ح ۹ ص ١٧)
لہذا بہو قسم توڑ دے اپنی ساس کے گھر جائے اور کفارہ ادا کرے
قرآن پاک میں ہے,ترجمہ: تو ایسی قسموں کاکفارہ دس مسکین کو کھانا دینا ہے اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اوس کے اوسط میں سے یا اونھیں کپڑا دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جوان میں سے کسی بات پر قدرت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے. (پ۷،المآئدہ:۸۹) واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبہ مفتی حسن رضا امجدی ،جامنگر

سوال عرض ھےکہ جمعہ کے دونوں خطبوں کے درمیان کتنی دیر بیٹھے گے ۔
سائل : سید غلام محمد پور بندر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب جمعہ کے دونوں خطبوں کے درمیان تین آیت کے مقدار بیٹھنا سنت ہے جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ ” و مقدار الجلوس بينهما مقدار ثلاث أيات فى ظاهر الرواية هكذا فى السراج الوهاج ” اھ ( ج 1 ص 147 ) اور ارشاد الساری شرح صحیح البخاری میں ہے کہ ” و يستحب ان يكون جلوسه بينهما قدر سورة الإخلاص تقريبا لاتباع السلف و الخلف وان يقرأ فيه شيئا من كتاب الله للاتباع راوه ابن حبان ” اھ ( ج 2 ص 186 )

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مفتی حسن رضا امجدی ،جامنگر

کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ جمعہ کے دن دیہات میں نماز جمعہ جماعت کے ساتھ پڑھنے کے بعد پھر نماز ظہر باجماعت پڑھنا کیسا ہے؟ جبکہ ایک وقت میں دو جماعتیں ہو رہی ہیں

سائل :۔ قاری رئیس کوثر جمالی گریڈیہ جھارکھنڈ

الجواب

علمائے حنفیہ کے نزدیک دیہات میں جمعہ کی نماز جائز نہیں جیسا کہ ہدایہ جلد اول صفحہ 148 میں ہے لا تجوز فی القری لقوله علیہ السلام لا جمعة و لا تشریق و لا فطر و لا اضحی إلا فی مصر جامع ۔
لیکن دیہات میں جہاں لوگ جمعہ کی نماز پڑھتے ہوں انھیں اس سے منع نہیں کیا جائے گا کہ عوام جس طرح بھی اللہ و رسول کا نام لیں غنیمت ہے
اور جب دیہات میں جمعہ نہیں تو ایسی جگہ جمعہ پڑھنے کے بعد ظہر کی نماز ذمہ سے ساقط نہ ہو گی جس کا خلاصہ یہ ہوا کہ دیہات میں دوسرے دنوں کی طرح جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا واجب ہے ۔ جیسا کہ فتاوی رضویہ جلد سوم ص 704 پر اعلی حضرت نے تحریر فرمایا ہے
اور فتاوی عالمگیری جلد اول مصری ص 136 میں ہے و من لا تجب علیھم الجمعة من اھل القری و البوادي لهم أن یصلوا الظھر بجماعة یوم الجمعة باذان و إقامة
اور بہار شریعت حصہ چہارم ص 102 میں ہے کہ گاؤں میں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز اذان و اقامت کے ساتھ پڑھیں ۔

فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ 418

لہذا معلوم ہوا کہ جب نماز جمعہ دیہات میں ہے ہی نہیں تو دو جماعت کا ایک وقت میں ہونا لازم نہیں آیا

یہ سب کچھ بر بنائے ظاہرالروایہ تھا جو اصل مذہب ہے لیکن اب بوجہ عموم بلوی امام ابو یوسف رحمت اللہ علیہ کے روایت نوادر پر فتوی دیا جاتا ہے ۔
جس کی ترجمانی اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمت اللہ علیہ نے فتاوی رضویہ میں ان الفاظ میں فرمائی ۔ ہاں ایک روایت نادرہ امام ابو یوسف رحمت اللہ علیہ سے یہ آئی ہے کہ جب آبادی میں اتنے مسلمان مرد، عاقل بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہوسکے آباد ہوں کہ اگر وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سماسکیں یہاں تک کہ انہیں جمعہ کے لیے مسجد جامع بنانی پڑے وہ صحت جمعہ کے لیے شہر سمجھی جائے گی

فتاوی مرکز تربیت افتا جلد اول صفحہ 301

واللہ اعلم ورسولہ

کتبہ :۔  مفتی حسن رضا امجدی ،جامنگر

علمائے ذوی الاحترام کی بارگاہ میں یہ سوال ہے کہ ایک شخص نے اپنے گھر میں چوہوں کی پریشانی کی وجہ سے چوہوں کو قید کرنے کا پنجرہ لگایا جس میں چوہا قید ہو گیا اب ان کا کہنا یہ ہے کہ چوہے کو گرم پانی ڈال کر مار سکتے ہیں یا رہا کر دیا جائے۔۔۔۔۔۔؟

الجواب اللھم ھدایۃ الحق و الصواب: اس طرح چوہوں کو یا کسی بھی حیوان کو گرم پانی میں ڈال کر ہلاک کرنا جائز نہیں کہ اولا یہ بلا ضرورت سخت اذیت دینا اور تڑپا تڑپا کر مارنا ہے جو جائز نہیں. حدیث پاک میں ہے : ” اذا قتلتم فاحسنوا القِتلۃ“. ثانیا یہ آگ سے سزا دینا ہے کیوں کہ پانی آگ ہی سے گرمایا ہوا ہے اور بخاری شریف میں ہے: ” ان النار لا یعذب بھا الا اللہ“.اور اسی میں ایک اور حدیث پاک ہے : ” لا تعذبوا بعذاب اللہ“. اور مرقاۃ المفاتیح میں مسند بزار سے روایت نقل ہے کہ حضرت عثمان بن حبان کہتے ہیں : میں حضرت ام درداء کے پاس تھا. ایک پسو پکڑ کر آگ میں ڈال دیا؛ یہ دیکھ کر حضرت ام درداء نے کہا کہ میں نے حضرت ابو درداء کو حضور کا ارشاد فرماتے سنا کہ آگ سے عذاب نہ دے مگر وہی جو آگ کا رب ہے. ثالثا گرم پانی سے مارڈالنے کی صورت میں بلا وجہ پانی کو نجس کرنا اور ضائع کرنا ہے .
لہذا یہ طریقہ جس میں متعدد شناعتیں ہیں ہرگز اختیار نہ کرے.
رَہا چوہے کو رِہا کرنا…. تو عرض ہے کہ اگر رہا ہی کرنا تھا تو پنجرہ ہی کیوں لگایا ؟؟؟؟ بلکہ حکم یہ ہے کہ اسے مار ڈالے. حدیث پاک میں ہے ” خمس فواسق یقتلن فی الحل و الحرم: الحیۃ و الغراب الابقع و الفارۃ و الکلب العقور و الحُدَیّا. “
واللہ تعالی اعلم

کتبہ مفتی حسن رضا امجدی ،جامنگر

مفتیانِ کرام شرکائے مشق افتا گروپ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بعدِ سلام عرض ہے کہ ۔۔۔۔۔کسی عورت کو مسلسل تین بچے آپریشن سے پیدا ہوئے اور ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اب اگر ڈِلِوری ہوئی تو عورت کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے اور اس عورت کے شوہر کا کہنا ہے کہ اگر احتیاط نہ کرپایا تو ہو سکتا ہے کہ حمل ٹھہر جائے پھر یا تو عورت کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے یا پھر اگر حمل رہا تو اسے اسقاط کرانا پڑےگا اور یہ بھی شریعت میں منع اور گناہ کا کام ہے تو کیا اس صورت میں اس عورت کی نسبندی کرانا جائز ہے یا نہیں
برائے کرم حکم شرعی سے آگاہ فرمائیں۔

الجواب :وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ….
ایسی عورت کی نس بندی ھی حرام ہے. مستقبل کے امر موہوم کے اندیشے کےسبب حرام ؛ حلال نہیں ہوجایا کرتا ہے. شریعت اسلامیہ کا مشہور ضابطہ ہے ” الیقین لا یزول الا بالیقین “.
شخص مذکور پر لازم ہے کہ عزل کرے یا عارضی طور سے مانع حمل ادویہ جو بازاروں میں بکتی ہیں اور برانڈ کمپنیوں کی ملتی ہیں انہیں یا کنڈوم کو استعمال کرے .
واللہ تعالی اعلم

کتبہ مفتی حسن رضا امجدی ،جامنگر

السلام علیکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایک مسلمان شخص جانوروں کی خرید و فروخت کرتا ہے اگر کوئی جانور مر جاتا ہے تو پورا مردہ جانور کافر کو آدھی قیمت میں یہ کہکر فروخت کرتا ہے کہ میں قیمت صرف ہڈی اعصاب اور بال وغیرہ کی لے رہا ہوں تو کیا اس طرح بیچنا جائز ہے یا نہیں.
سائل : غلام مصطفی احمدآباد

وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ…
مردار جانور کافر حربی کے ہاتھ بیچنا جائز ہے. ارشاد باری ہے : والخبیثت للخبیثین و الخبیثون للخبیثت.
ضابطہ اس باب میں یہ ہے کہ کافر کا جو مال اس کی رضامندی سے ملے مسلمان کو اس کا لینا مباح ہے جب تک اس میں غدر نہ ہو. بلفظ دیگر کافر کے ساتھ اس کی رضا مندی سے ایسا عقد کرنا جو دو مسلمان کے درمیان فاسد ہو؛ جائز ہے . چنانچہ ردالمحتار میں کافر حربی سے جوا کھیلنے اور جوے کا مال وصول کرنے کے بارے میں ہے : فبأی أخذہ المسلم؛ أخذ مالا مباحا مالم یکن غدرا.
واللہ تعالی اعلم
کتبہ مفتی حسن رضا امجدی ،جامنگر

سوال . زید کو شھوت کے ساتھ مذی ہواتو زید ناپاک ہوگا یا نہیں اور وہ نماز پڑھ لیا کیا اسکی نماز ہوجاےگی تفصیل سے جواب نوازیں عین نوازش ہوگی
۵/۱۲/۲۰۱۸
========================
الجواب ھوالموفق للحق والصواب
میاں بیوی کے بوس و کنار یا جماع کے خیالات سے شرمگاہ سے جو سیال مادہ خارج ہوتا ہے اسے مَذی کہتے ہیں۔ مذی نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا۔ اس کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح فرمادیا ہے۔ چنانچہ سیدنا علی کرم اللہ وجھہ الکریم فرماتے ہیں کہ:
کُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَکُنْتُ أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ لِمَکَانِ ابْنَتِهِ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: يَغْسِلُ ذَکَرَهُ وَيَتَوَضَّأُ.
مجھے مذی بہت آتی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے براہ راست اس کا حکم معلوم کرنے سے مجھے شرم آتی تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں۔ اس لیے میں نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مذی کا حکم معلوم کریں۔ جب حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا توسرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضوکرلو۔کمافی الصحيح البخاری،
والصحيح المسلم،
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ ہم بسترہو(یعنی بوس وکنارکرے)اور بغیرانزال کے علیحدہ ہوجائےتو اس کے لیے کیاحکم ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
يَغْسِلُ مَا أَصَابَهُ مِنَ الْمَرْأَةِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّی.
اس کے جسم پرعورت کی شرمگاہ سے نکل کر جو چیز لگی ہواس کو دھو لے پھر وضو کرے، اس کے بعد نماز پڑھ سکتا ہے۔
بخاري، الصحيح،
مسلم، الصحيح،
لہٰذا ہمبستری کے دوران مرد و عورت کو انزال کے علاوہ جو پانی کی طرح کا مادہ آتا ہے اس سے غسل واجب نہیں ہوتا۔ جسم اور کپڑوں پرجتنی جگہ پر یہ پانی لگا ہو اسے دھوکروضوکر لینے سے جسم پاک ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر انزال ہو جائے‘خواہ ہمبستری سے ہو یا بوس و کنار سے‘توغسل واجب ہو جائے گا۔
ھذاماظھر لی والعلم عنداللہ وعلمہ احکم وأتم

کتبہ مفتی حسن رضا امجدی ،جامنگر