Ask Fatwa Online | Islam Question and Answer

Ask Fatwa Online | Islam Question and Answer

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال: امام تشھد پڑھ کے کھڑا ہو گیا جبکہ آہستہ خواں مکبر کی نصف تشھد باقی ہے مکبر کیا کرے جبکہ دیر سے تکبیر کہنے میں فتنے کا اندیشہ بھی ہو ؟
بینوا و توجروا

الجواب : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ …. امام کی متابعت مقتدی پر صرف سنن
ومستحبات میں ہے نہ کہ ترک واجب میں بلکہ واجب ہے کہ مقتدی اس صورت میں امام کی متابعت نہ کرے بلکہ اپنا واجب پورا کرے . لہذا مکبر کوجائز نہیں کہ وہ اپنا ما بقی تشہد ترک کرکے امام کے ساتھ کھڑا ہوجائے بلکہ اس پر واجب ہے کہ اپنا تشہد پورا کرکے کھڑا ہو . رہ گیا یہ کہ تشہد ختم کرنے میں دیر ہوجائے گی جس سے فتنے کا اندیشہ ہے تو اس کا ازالہ اس طرح ہوجائے گا کہ اس مکبر کے آس پاس جو لوگ تشہد ختم کر چکے ہوں ان میں سے کوئی بلند آواز سے تکبیر کہہ لے کیوں کہ جس کو بطور مکبر کے مقرر کیا گیا وہی شرعا تکبیر کے لیے متعین نہیں ہے بلکہ یہ تو آسانی کے لیے کیا جاتا ہے . پس جب صورت مذکورہ میں آسانی متعذر ہے تو یہ خود منتفی . لہذا اب جو آسان صورت ہے وہ اپنائی جائے. مثلا ایک وہی طریقہ جو اوپر مذکور ہوا . دوسرا یہ کہ مکبر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر رکھے جائیں تاکہ اس صورت خاص میں جب کوئی ادائیگی واجب کے سبب امام کے ساتھ تکبیر نہ کہہ سکے تو دوسرا جو اس کے قریب ہے اس کی آواز پر مقتدی انتقالات کر سکیں .

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
کیا فرماتے ہیں علماء کرام
جیون بیمہ(life insurance ) کرانا جائز ہے یا نہیں؟
المستفتی :- بومحمد ذاکرخان رضوی لوناواڈہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب جیون بیمہ کرانا جائز نہیں جیسا کہ بحر العلوم مفتی عبد المنان قدس سرہ فتاوی بحر العلوم میں اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ ” جیون بیمہ اپنی اصل کے اعتبار سے قمار ہے اس میں نقصان اور نفع دونوں کا ہی خطرہ ہے اس لئے شرع مطہرہ نے اس کو حرام قرار دیا ۔
لیکن اعلی حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ نے فتاوی رضویہ ج 7 ص 113 میں تحریر فرمایا کہ اگر جیون بیمہ کمپنیوں کے سب مالکان غیر مسلم ہوں اور اس میں بیمہ کرانے والے کو کسی قسم کی غیر شرعی پابندی لازم نہ ہو اور مسلمان کا اس میں فائدہ ہی فائدہ ہو تو یہاں ہندوستان میں اس کی اجازت ہے ” اھ ( فتاوی بحر العلوم ج 4 ص 96 ) اور تفصیل درکار ہو تو مفتی نظام الدین مد ظلہ العالی کی کتاب جدید بینک کاری کا مطالعہ کریں ۔

و اللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئ فون نمبر 7666456313

سوال : ایک شخص کی دو مرتبہ نمازجنازہ پڑھنا کیسا ہے؟؟؟؟ وضاحت فرمائیں!!!
اور اگر کسی گاؤں میں دو مرتبہ پڑھنے کا رواج ہو تو جنازہ میں شامل ہونے والے لوگوں کو کیا حکم دیا جائے گا ؟؟؟
المستفتی : محمد اسلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب مذہب حنفی کے مطابق میت پر نماز جنازہ کی تکرار ( یعنی دوبارہ اس پر جنازہ پڑھنا ) ناجائز ہے مگر ولی اقرب کی اجازت کے بغیر پڑھی تو وہ دوبارہ پڑھ سکتا ہے اور اگر ولی اقرب نے نماز جنازہ پڑھ لی یا اس کی اجازت سے کسی نے پڑھ لی ہو تو پھر اس کا اعادہ نہیں ہے جیسا کہ ایک میت پر دوبارہ نماز جنازہ پڑھنے کے حوالے سے امام اجل برہان الملت و الدین صاحب ہدایہ ابوبکر اپنی کتاب ہدایہ میں فرماتے ہیں کہ ” ان صلى غير الولى و السلطان اعاد الولى ان شاء لان الحق للاولياء وان صلى الولى لم يجز لاحد ان يصلى بعده لان الفرض يتادى بالاول و التنفل بها غير مشروع و لهذا رأينا الناس تركوا من اخرهم الصلوة على قبر النبي صلى الله تعالى عليه وسلم وهو اليوم كما وضع ” اھ یعنی اگر ولی و حاکم اسلام کے سوا اور لوگ نماز جنازہ پڑھ لیں تو ولی کو اعادہ کا اختیار ہے کہ حق اولیاء کا ہے اور ولی پڑھ چکا تو اب کسی کو جائز نہیں کہ فرض تو پہلی نماز سے ادا ہو چکا اور یہ نماز بطور نفل پڑھنی مشروع نہیں لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ تمام جہاں کے مسلمانوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار اقدس پر نماز چھوڑ دی حالانکہ حضور آج بھی ویسے ہی ہیں جیسے جس دن قبر مبارک میں رکھے گئے تھے ” ( الھدایہ فصل فی الصلوۃ علی المیت ج 1 ص 160 ) اور اس کی شرح میں امام محقق علی الاطلاق صاحب فتح القدیر فرماتے ہیں کہ ” لو كان مشروعا لما اعرض الخلق كلهم من العلماء والصالحين و الراغبين فى التقريب اليه عليه الصلوة و السلام بانواع الطريق عنه فهذا دليل ظاهر فوجب اعتباره ” اھ ( فتح القدیر ، فصل فی الصلوۃ علی المیت ج 2 ص 84 ) یعنی اگر نماز جنازہ کی تکرار مشروع ہوتی تو مزار اقدس پر نماز پڑھنے سے تمام جہاں اعراض نہ کرتا جس میں علماء ، صلحاء اور وہ بندے ہیں جو طرح طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں تقرب حاصل کرنے کی رغبت رکھتے ہیں تو یہ تکرار کی مشروعی پر کھلی دلیل ہے پس اس اعتبار واجب ہوا ۔ اور درمختار میں ہے کہ ” تكرارها غير مشروع ” اھ ( درمختار باب صلوة الجنازة ، ج 1 ص 123 ) اور غنیہ شرح منیہ میں ہے کہ ” تكرار الصلوة على ميت واحد غير مشروع ” اھ ( غنیة المستملى شرح منية المصلى ، فصل فى الجنائز ص 59 ) اور سیدی اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ اپنے رسالہ نہی الحاجز میں فرماتے ہیں کہ ” نماز جنازہ کی تکرار ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے نزدیک تو مطلقا ناجائز و نامشروع ہے مگر جب کہ اجنبی غیر احق نے بلا اذن و بلا متابعت ولی پڑھ لی ہو تو ولی اعادہ کرسکتا ہے ” اھ ( فتاوی رضویہ جدید ج 9 ص 269 )

و اللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئ فون نمبر 7666456313

[12:44, 6/25/2018] Haji Altaf: بینک سے لون لینا کیسا ہے؟ مفتیان کرام کی بارگاہِ میں عرض کی قرآن وحديث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں بڑا کرم ہوگا
المستفتی : محمد مجسم القادری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب اولا تو کافروں کی تین قسمیں ہیں ذمی، مستامن، اور حربی– ذمی وه کافر ہیں جو دارالاسلام میں رہتے ہوں اور بادشاه اسلام نے ان کی جان و مال کی حفاظت اپنے ذمے لیا ہو اور مستامن وه کافر ہیں کہ کچھ دنوں کے لیے امان لے کر دارالاسلام میں اگئے ہوں اور ظاہر ہے کہ ہندوستان کے کفار نہ تو ذمی ہے اور نا مستامن بلکہ وه تیسری قسم یعنی کافر حربی ہیں جیسا کہ رئیس الفقها حضرت ملا جیون رحمة الله علیہ تحریر فرماتے ہیں ” ان هم الاحربى وما يعقلها الا العالمون ” (تفسیرات احمدیه ص300 )
اور یہاں ہندوستان میں حکومت کافروں کی ہے ۔اورمسلمان و کافر کے درمیان سود نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے “لا ربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب”
اور دار الحرب کی قید واقعی ہے نہ کہ احترازی لهذا یہاں کی حکومت کے بینکوں سے نفع لینا جائز ہے لیکن اس کو دینا جائز نہیں ہاں اگر تھوڑا نفع دینے میں اپنا نفع زیاده ہو تو جائز ہے ۔ جیسا کہ ردالمحتار میں ہے ” الظاھر ان الاباحة یفید نیل المسلم الزیادة وقد الزم الاصحاب فی الدرس ان مرادھم من حل الربا و القمار ما اذا حصلت الزیادة للمسلم ” (ردالمحتار، ج 4 ص 188)
لہذا بینک یا کسی کمپنی سے لون لیکر اپنا بزنس چلانا اس وقت جائز ہے جبکہ اسکی ضرورت ہو یا اسکی حاجت ہو کہ بغیر اسکے کام نہیں چلے گا یا چلے گا لیکن بہت دشواری سے چلےگا اور یہ صورت حاجت شدیده کی ہے اور اس میں نفع مسلم بھی زیاده ہے تو جائز ہے ۔
حضور مفتی اعظم هند علیه الرحمه بھی بینک سے لون لینے کی اجازت اس میں مسلمانوں کو نفع کثیر ہونے کی بنا پر دیتے تھے لیکن یہ اجازت مطلقا نہیں ہے یہ اس طور پر مشروط ہے کہ جس کام کے لیے لون لے رہا ہے یہ اسکی شرعی ضرورت ہو کہ اسکے بغیر کوئی چارا نہ ہو یا ہو کہ کام تو چل جائےگا لیکن بہت مشقت سے چلےگا ۔
اور لیتے وقت اسے پورا اعتماد ہو کہ مدت مقرره میں قسطیں ادا کر دیگا تو جائز ہے۔ کہ اس میں بینک کا تھوڑا فائده ہے لیکن مسلمانوں کا نفع زیادہ ہے ۔ اسی طرح فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے کہ ” گورنمنٹ کے بینک فاضل مال دینے کی شرط پر قرض لیا تو یہ اس شرط پر ہے کہ بینک کو جو زائد رقم سود دینی پڑتی ہے اس زائد رقم کے برابر یا اس سے زیاده نفع کا حصول یقینی طور پر معلوم ہو جب تو فاضل مال دینے کی شرط پر قرض لینا جائز ہے ورنہ نا جائز ” (فتاوی مرکز تربیت افتاء ج 2 ) اور بہار شریعت میں ہے ” کہ اگر اس طرح بھی قرض نہ مل سکے تو صحیح شرعی مجبوری کی صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے ” (بہار شریعت ح 11 ) اور الاشباه میں ہے “فى القنية و البغية يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح ” ( الاشباه والنظائر ص92 ) اور اعلی حضرت فاضل بریلوی علیه الرحمه تحریر فرماتے ہیں”سود دینے والا اگر حقیقة صحیح شرعی مجبوری کے سبب دیتا ہے اس پر الزام نہیں در مختار میں ہے ” یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح ” اور اگر بلا مجبوری شرعی سود لیتا ہے مثلا تجارت بڑھانے یا جائداد میں اضافہ کرنے یا محل اونچا بنوانے یا اولاد کی شادی میں بہت کچھ لگانے کے واسطے سودی قرض لیتا ہے تو وه بھی سود کھانے والے کے مثل ہے ” (فتاوی رضویہ ج 3 ص 243 ) اور ایسا ہی فتاوی فیض الرسول ج 2 میں لکھا ہے ۔

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی فون نمبر 7666456313
[15:42, 6/25/2018] +91 99793 87828: بینک سے لون لینا کیسا ہے؟ مفتیان کرام کی بارگاہِ میں عرض کی قرآن وحديث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں بڑا کرم ہوگا
المستفتی : محمد مجسم القادری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب اولا تو کافروں کی تین قسمیں ہیں ذمی، مستامن، اور حربی– ذمی وه کافر ہیں جو دارالاسلام میں رہتے ہوں اور بادشاه اسلام نے ان کی جان و مال کی حفاظت اپنے ذمے لیا ہو اور مستامن وه کافر ہیں کہ کچھ دنوں کے لیے امان لے کر دارالاسلام میں اگئے ہوں اور ظاہر ہے کہ ہندوستان کے کفار نہ تو ذمی ہے اور نا مستامن بلکہ وه تیسری قسم یعنی کافر حربی ہیں جیسا کہ رئیس الفقها حضرت ملا جیون رحمة الله علیہ تحریر فرماتے ہیں ” ان هم الاحربى وما يعقلها الا العالمون ” (تفسیرات احمدیه ص300 )
اور یہاں ہندوستان میں حکومت کافروں کی ہے ۔اورمسلمان و کافر کے درمیان سود نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے “لا ربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب”
اور دار الحرب کی قید واقعی ہے نہ کہ احترازی لهذا یہاں کی حکومت کے بینکوں سے نفع لینا جائز ہے لیکن اس کو دینا جائز نہیں ہاں اگر تھوڑا نفع دینے میں اپنا نفع زیاده ہو تو جائز ہے ۔ جیسا کہ ردالمحتار میں ہے ” الظاھر ان الاباحة یفید نیل المسلم الزیادة وقد الزم الاصحاب فی الدرس ان مرادھم من حل الربا و القمار ما اذا حصلت الزیادة للمسلم ” (ردالمحتار، ج 4 ص 188)
لہذا بینک یا کسی کمپنی سے لون لیکر اپنا بزنس چلانا اس وقت جائز ہے جبکہ اسکی ضرورت ہو یا اسکی حاجت ہو کہ بغیر اسکے کام نہیں چلے گا یا چلے گا لیکن بہت دشواری سے چلےگا اور یہ صورت حاجت شدیده کی ہے اور اس میں نفع مسلم بھی زیاده ہے تو جائز ہے ۔
حضور مفتی اعظم هند علیه الرحمه بھی بینک سے لون لینے کی اجازت اس میں مسلمانوں کو نفع کثیر ہونے کی بنا پر دیتے تھے لیکن یہ اجازت مطلقا نہیں ہے یہ اس طور پر مشروط ہے کہ جس کام کے لیے لون لے رہا ہے یہ اسکی شرعی ضرورت ہو کہ اسکے بغیر کوئی چارا نہ ہو یا ہو کہ کام تو چل جائےگا لیکن بہت مشقت سے چلےگا ۔
اور لیتے وقت اسے پورا اعتماد ہو کہ مدت مقرره میں قسطیں ادا کر دیگا تو جائز ہے۔ کہ اس میں بینک کا تھوڑا فائده ہے لیکن مسلمانوں کا نفع زیادہ ہے ۔ اسی طرح فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے کہ ” گورنمنٹ کے بینک فاضل مال دینے کی شرط پر قرض لیا تو یہ اس شرط پر ہے کہ بینک کو جو زائد رقم سود دینی پڑتی ہے اس زائد رقم کے برابر یا اس سے زیاده نفع کا حصول یقینی طور پر معلوم ہو جب تو فاضل مال دینے کی شرط پر قرض لینا جائز ہے ورنہ نا جائز ” (فتاوی مرکز تربیت افتاء ج 2 ) اور بہار شریعت میں ہے ” کہ اگر اس طرح بھی قرض نہ مل سکے تو صحیح شرعی مجبوری کی صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے ” (بہار شریعت ح 11 ) اور الاشباه میں ہے “فى القنية و البغية يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح ” ( الاشباه والنظائر ص92 ) اور اعلی حضرت فاضل بریلوی علیه الرحمه تحریر فرماتے ہیں”سود دینے والا اگر حقیقة صحیح شرعی مجبوری کے سبب دیتا ہے اس پر الزام نہیں در مختار میں ہے ” یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح ” اور اگر بلا مجبوری شرعی سود لیتا ہے مثلا تجارت بڑھانے یا جائداد میں اضافہ کرنے یا محل اونچا بنوانے یا اولاد کی شادی میں بہت کچھ لگانے کے واسطے سودی قرض لیتا ہے تو وه بھی سود کھانے والے کے مثل ہے ” (فتاوی رضویہ ج 3 ص 243 ) اور ایسا ہی فتاوی فیض الرسول ج 2 میں لکھا ہے ۔

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی فون نمبر 7666456313

🌹جرمانہ کا پیسہ مسجد میں لگانا کیسا ہے🌹

ایک شخص سے زنا سرزد ہوا تو پنچ نے اس سے پانچ سو روپیہ جرمانہ وصول کرکے مسجد میں دیا تو اس روپئے کو مسجد کی ضروریات پر خرچ کرنا کیسا ہے

🌹سائل ندیم رضا حشمتی🌹
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸

الجواب………جرمانہ لینا جائز نہیں جیساکہ اعلی حضرت امام احمدرضا محدث بریلوی تحریر فرماتے ہیں جرمانہ کے ساتھ تعزیر کہ مجرم کا کچھ مال خطاکے عوض لے لیا جاے منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں

فتاوی رضویہ جلد پنجم ص 935

اور حضرت علامہ ابن عابدین شامی رحمة اللہ تعالی علیہ شرح الاثار کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں
التعزیربالمال کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ

شامی جلد سوم ص 196

لھذاجن لوگوں نے پانچ سو روپیہ جرمانہ کے طور پر وصول کیا ہے وہ گنہگار ہوے ان پر واجب ہے کہ اس روپئے کو واپس کردیں کہ اسکا ضروریات مسجد میں خرچ کرنا جائز نہیں ہاں جو شخص گناہوں کا عادی ہو اور یہ معلوم ہو کہ بغیر جرمانہ لئے بازنہ آے گا تو اس سے لے لیں اور جب توبہ کرلے تو رقم اسےواپس کردیں جیساکہ حضرت صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں تعزیر مال یعنی جرمانہ لینا جائز نہیں ہاں اگر دیکھے بغیر لئے باز نہیں اےگا تو وصول کرلے پھر جب اس کام سے توبہ کر لے توواپس دیدے

📚بہار شریعت حصہ نہم ص 115

فتاوی فقیہ ملت جلد دوم ص 99

🌹واللہ اعلم🌹
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
🌹✍ازقلم حضرت علامہ ومولانامحمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی اعلی حضــرت زندہ بادگروپ اہل علم کےلئے🌹👇👇👇
4
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
المشتہـــر محمد ایــوب رضـا خان🌹1

📱 کیا موبائیل میں قرآن کی آیتیں احادیث روضۂ مقدس کی تصویریں آتی ہیں انہیں مٹانا درست ہے؟
ا======================|
📜 سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاۃ
عرض یہ کہ موبائیل میں قرآن کی آیتیں احادیث روضۂ مقدس کی تصویر آتی ہیں ؟کیا انہیں اڑانا
درست ہے کیوں کہ ان میسج کا جمع رکھنا مشکل ہے فقط والسلام
محمد یوسف فتحپو ر یو پی
ا======================|
✍🏼 الجواب بعون الملک الوھاب:

📙 درج بالا آلات سے قرآن کریم کاحذف عام حالات میں ناجائز ہے
ہاں بعض صورتوں میں جائز یا واجب ہے

📘 اگر اندیشہ ہو کہ میموری کے اندر جو قرآن محفوظ ہے اسکی حرمت کا لحاظ نہیں رکھ پائیں گے بلکہ جانے انجانے میں اسکی حرمت پامال ہوگی تو اس مقصد کے تحت درج بالاآلات قرآن کا حذف جائز ہے کہ اس میں مقصود قرآن پاک کی بے حرمتی نہیں بلکہ اسکی پاسداری ہے اور الامور مقاصدھا کے تحت اسکو ناجائز نہیں کہ سکتے

📖 اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں امام اہلسنت اعلی حضرت علیہ الرحمہ فتاوی رضویہ جلد نہم میں فرماتے ہیں

🗞 دیواروں پر کتابت قرآن عظیم میں رجحان جانب ممانعت ہے اور اگر ممبر پر کھڑے ہو نے میں اس طرف امام کی پیٹھ ہوتی ہو تو ضرور خلاف ادب ہے اور اگر پاوں یا مجلس سے بلا ساتر نیچے ہیں تو اور زیادہ سوء ادب ہے
ان حالتوں میں ان کا سیمینٹ یا چونے یا کسی پاک چیز سے بند کر دینا حرج نہیں رکھتا بلکہ بنیت ادب محمود ہے اور اگر نہ نیچے ہیں نہ پیچھے جب بہی اگر اس قول راجح کے لحاظ سے یا اس لئیے کہ محراب میں کوئی شئ شاغل نظر نہ ہونی چاہیئے بند کرنے میں حرج معلوم نہیں ہو تا فان الا مور بمقاصدھا وانما لکل امرئ مانوی

📕 کسی غرض صحیح کی تحصیل کے لئیے قرآن کا حذف کیا جائے تو بعض صورتوں میں واجب بہی ہے

مثلا
📂 قرآن کا کوئی کلمہ یا اسکی آیت غلط کمپوز ہو جائے یا نا مناسب جگہ پر کمپوز ہوجائے تو اس کا حذف واجب ہے

📂 بد مذہبوں کی تقریر وں وتحریروں کو قرآنی آیات کیساتھ حذف کر دینا واجب ہے
📂 ہاں اگر کوئی سنی عالم اس پائے کا ہو کہ وہ ان میں مذکور باطل عقائد ونظریات کا دنداں شکن جواب دے سکتا ہو تو وہ ڈیلیٹ نہ کرے

📂 یوں ہی روضہ پاک واحادیث پاک کے حذف کو بہی قیاس کیا جاسکتا ہے

📂 اس لئیے کہ اگرحسب ضرورت بھی اجازت حذف نہ ملے تو بہت ممکن ہیکہ اسکی وجہ سے دیگر منافع حیات وضروریات اپلوڈ نہ کی جاسکیں اور یہ باعث حرج ہے

ھذا ماظھر لی وسبحانہ تعالی اعلم بالصواب
ا======================|
🖊شرف قلم:
علامہ محمد شرف الدین رضوی
(مدظلہ النوراني)
دار العلوم قادر یہ حبیبہ، فیل خانہ، ہوڑہ، بنگال

📠 المشتہر:
اسلامی سوالات و جوابات گروپ
مولانا نظر الاسلام رضوی مصباحی
(مدظلہ العالي)

کیا صدقةالفطر اور زکوٰۃ کی ملک نصاب میں کچھ فرق ہے؟
یا جس پر زکوٰۃ فرض ہے صدقہ فطر بھی صرف اسی پر ہے؟

بینوا تؤجروا

الجواب : دونوں کی ملک نصاب میں تو کوئی فرق نہیں ہے . البتہ دونوں کے وجوب میں فرق ہے . ایک : زکاۃ کے لیے مال نامی ہونا شرط ہے اور صدقہ فطر میں یہ شرط نہیں ہے . دوم : زکاۃ کے وجوب لیے حولان حول ضروری ہے بخلاف صدقہ فطر کے . سوم : زکاۃ نابالغ پر نہیں ہے نہ اس کی جانب سے اس کے ولی پر بخلاف صدقہ فطر کے . واللہ تعالی اعلم

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ جنازے کی نماز چھت نیچے پڑھ سکتے ہیں ؟

نیز مسجد میں نماز جنازہ پڑھانا کیسا ہے ؟

الجواب : عین مسجد میں نماز جنازہ مطلقا مکروہ تحریمی ہے خواہ یوں کہ جنازہ کے ساتھ کچھ لوگ مسجد میں ہوں یا یوں کہ تنہا جنازہ مسجد میں رکھا ہو اور لوگ باہر ہوں. اور فنائے مسجد میں اختلاف ہے ؛ راجح یہی ہے کہ اس صورت میں بھی مکروہ وممنوع ہے . تفصیل کے لیے در مختار مع شامی اور فتاوی رضویہ کتاب الجنائز کو دیکھیں . واللہ تعالی اعلم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان دین اس بارے میں کہ حدیث پاک میں آیا ہے کہ ماہ رمضان میں جو انتقال کر جائے اس سے قبر کے سوالات نہیں ہوتے. عذاب نہیں ہوتا. کیا یہ حدیث صحیح ہے اگر ہاں تو عذاب صرف رمضان کے لیے اٹھیگا یا ہمیشہ کے لیے ؟ ؟ ؟مدلل جواب عنایت فرمائیں.

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ… جی بالکل حدیث میں اس طرح وارد ہے . فتاوی رضویہ میں؛ میں نے یہ پڑھا ہے . نیز اعلی حضرت نے یہ بھی فرمایا کہ کسی حدیث میں نہیں آیا ہے کہ بعد رمضان عذاب مرفوع ہی رہےگا یا کہ نہیں ؟ پھر آپ

نے فرمایا کہ کریم کا کرم اسی کا متقاضی ہے کہ ایک بار اٹھالینے کے بعد عود نہ فرمائے گا

 

السلام علیکم
سوال…
ایک آدمی نے قسم کھائی کہ میں نے یہ الفاظ کہے ہوں تو کل میدان محشر حضور اکرم کی شفاعت مجھ پر حرام
تو کیا یہ قسم صحیح ہے یا نہیں.؟

الجواب بعون الملک الوھاب
یہ قسم نہیں لیکن اگر وہ آدمی جھوٹ بول رہا ہے تو گنہ گار ہوگا بہار شریعت, قسم کے بیان میں ہے, “یہ الفاظ قسم نہیں اگرچہ ان کے بولنے سے گنہگار ہوگا جبکہ اپنی بات میں جھوٹا ہے اگر ایسا کروں تومجھ پر اﷲ (عزوجل) کا غضب ہو…رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی شفاعت نہ ملے.”(ح ۹ ص ١۹) واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید سرفراز علی

سوال : ساس اور بہو کا جھگڑا ہوا اور جھگڑے کے دوران بہو نے ساس سے کہا کہ میں قرآن پاک کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ اب کبھی بھی آپ کے گھر نہیں آئونگی اب جھگڑے کو کافی دن گزر گئے اور بہو کو یہ احساس ہوا کہ مجھے یہ قسم نہیں کھانی چاہیے تھی اور اب وہ اپنی ساس کے گھر جانا چاہتی ہے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ بہو اب کیا کرے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
قرآن کی قسم کھانے سے قسم منعقد ہو جاتی ہے.
بہار شریعت, قسم کے بیان میں ہے. “یوہیں خدا کی جس صفت کی قسم کھائی جاتی ہو اوس کی قسم کھائی ہوگئی مثلاخدا کی عزت وجلال کی قسم… قرآن کی قسم، کلام اﷲ کی قسم.”(ح ۹ ص١۹)
اور چونکہ بہو نے ایسے امر کی قسم کھائی ہے جس کے غیر میں بہتری ہے اس لیے اس قسم کا توڑنا مستحب ہے.
حدیث پاک میں ہے, – عَنْ عبْدِالرَّحْمنِ بْنِ سَمُرةَ  قَالَ: قَالَ لي رسُولُ اللَّه ﷺ: .. وَإِذَا حَلَفْتَ علَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَها خَيْرًا مِنهَا، فأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وكفِّرْ عَنْ يَمِينك (بخاری و مسلم) .
بہار شریعت میں ہے., ” تیسری وہ کہ اوس کا توڑنا مستحب ہے مثلا ایسے امر کی قسم کھائی کہ اوس کے غیر میں بہتری ہے تو ایسی قسم کو توڑ کروہ کرے جو بہتر ہے۔… منعقدہ جب توڑے گا کفارہ لازم آئیگا اگرچہ اوس کا توڑنا شرع نے ضروری قراردیا ہو.”(ح ۹ ص ١٧)
لہذا بہو قسم توڑ دے اپنی ساس کے گھر جائے اور کفارہ ادا کرے
قرآن پاک میں ہے,ترجمہ: تو ایسی قسموں کاکفارہ دس مسکین کو کھانا دینا ہے اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اوس کے اوسط میں سے یا اونھیں کپڑا دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جوان میں سے کسی بات پر قدرت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے. (پ۷،المآئدہ:۸۹) واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید سرفراز علی

سوال عرض ھےکہ جمعہ کے دونوں خطبوں کے درمیان کتنی دیر بیٹھے گے ۔
سائل : سید غلام محمد پور بندر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب جمعہ کے دونوں خطبوں کے درمیان تین آیت کے مقدار بیٹھنا سنت ہے جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ ” و مقدار الجلوس بينهما مقدار ثلاث أيات فى ظاهر الرواية هكذا فى السراج الوهاج ” اھ ( ج 1 ص 147 ) اور ارشاد الساری شرح صحیح البخاری میں ہے کہ ” و يستحب ان يكون جلوسه بينهما قدر سورة الإخلاص تقريبا لاتباع السلف و الخلف وان يقرأ فيه شيئا من كتاب الله للاتباع راوه ابن حبان ” اھ ( ج 2 ص 186 )

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی

یا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ جمعہ کے دن دیہات میں نماز جمعہ جماعت کے ساتھ پڑھنے کے بعد پھر نماز ظہر باجماعت پڑھنا کیسا ہے؟ جبکہ ایک وقت میں دو جماعتیں ہو رہی ہیں

سائل :۔ قاری رئیس کوثر جمالی گریڈیہ جھارکھنڈ

الجواب

علمائے حنفیہ کے نزدیک دیہات میں جمعہ کی نماز جائز نہیں جیسا کہ ہدایہ جلد اول صفحہ 148 میں ہے لا تجوز فی القری لقوله علیہ السلام لا جمعة و لا تشریق و لا فطر و لا اضحی إلا فی مصر جامع ۔
لیکن دیہات میں جہاں لوگ جمعہ کی نماز پڑھتے ہوں انھیں اس سے منع نہیں کیا جائے گا کہ عوام جس طرح بھی اللہ و رسول کا نام لیں غنیمت ہے
اور جب دیہات میں جمعہ نہیں تو ایسی جگہ جمعہ پڑھنے کے بعد ظہر کی نماز ذمہ سے ساقط نہ ہو گی جس کا خلاصہ یہ ہوا کہ دیہات میں دوسرے دنوں کی طرح جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا واجب ہے ۔ جیسا کہ فتاوی رضویہ جلد سوم ص 704 پر اعلی حضرت نے تحریر فرمایا ہے
اور فتاوی عالمگیری جلد اول مصری ص 136 میں ہے و من لا تجب علیھم الجمعة من اھل القری و البوادي لهم أن یصلوا الظھر بجماعة یوم الجمعة باذان و إقامة
اور بہار شریعت حصہ چہارم ص 102 میں ہے کہ گاؤں میں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز اذان و اقامت کے ساتھ پڑھیں ۔

فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ 418

لہذا معلوم ہوا کہ جب نماز جمعہ دیہات میں ہے ہی نہیں تو دو جماعت کا ایک وقت میں ہونا لازم نہیں آیا

یہ سب کچھ بر بنائے ظاہرالروایہ تھا جو اصل مذہب ہے لیکن اب بوجہ عموم بلوی امام ابو یوسف رحمت اللہ علیہ کے روایت نوادر پر فتوی دیا جاتا ہے ۔
جس کی ترجمانی اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمت اللہ علیہ نے فتاوی رضویہ میں ان الفاظ میں فرمائی ۔ ہاں ایک روایت نادرہ امام ابو یوسف رحمت اللہ علیہ سے یہ آئی ہے کہ جب آبادی میں اتنے مسلمان مرد، عاقل بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہوسکے آباد ہوں کہ اگر وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سماسکیں یہاں تک کہ انہیں جمعہ کے لیے مسجد جامع بنانی پڑے وہ صحت جمعہ کے لیے شہر سمجھی جائے گی

فتاوی مرکز تربیت افتا جلد اول صفحہ 301

واللہ اعلم ورسولہ

کتبہ :۔ محمد کوثر القادری مصباحی گریڈیہ
خادم التدریس :۔ جامعہ فاطمہ للبنات رگھونیہ ڈیہ
زیر تربیت :۔ مرکز تربیت افتا اوجھا گنج بستی
شعبہ تخصص فی الفقہ

علمائے ذوی الاحترام کی بارگاہ میں یہ سوال ہے کہ ایک شخص نے اپنے گھر میں چوہوں کی پریشانی کی وجہ سے چوہوں کو قید کرنے کا پنجرہ لگایا جس میں چوہا قید ہو گیا اب ان کا کہنا یہ ہے کہ چوہے کو گرم پانی ڈال کر مار سکتے ہیں یا رہا کر دیا جائے۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

الجواب اللھم ھدایۃ الحق و الصواب: اس طرح چوہوں کو یا کسی بھی حیوان کو گرم پانی میں ڈال کر ہلاک کرنا جائز نہیں کہ اولا یہ بلا ضرورت سخت اذیت دینا اور تڑپا تڑپا کر مارنا ہے جو جائز نہیں. حدیث پاک میں ہے : ” اذا قتلتم فاحسنوا القِتلۃ“. ثانیا یہ آگ سے سزا دینا ہے کیوں کہ پانی آگ ہی سے گرمایا ہوا ہے اور بخاری شریف میں ہے: ” ان النار لا یعذب بھا الا اللہ“.اور اسی میں ایک اور حدیث پاک ہے : ” لا تعذبوا بعذاب اللہ“. اور مرقاۃ المفاتیح میں مسند بزار سے روایت نقل ہے کہ حضرت عثمان بن حبان کہتے ہیں : میں حضرت ام درداء کے پاس تھا. ایک پسو پکڑ کر آگ میں ڈال دیا؛ یہ دیکھ کر حضرت ام درداء نے کہا کہ میں نے حضرت ابو درداء کو حضور کا ارشاد فرماتے سنا کہ آگ سے عذاب نہ دے مگر وہی جو آگ کا رب ہے. ثالثا گرم پانی سے مارڈالنے کی صورت میں بلا وجہ پانی کو نجس کرنا اور ضائع کرنا ہے .
لہذا یہ طریقہ جس میں متعدد شناعتیں ہیں ہرگز اختیار نہ کرے.
رَہا چوہے کو رِہا کرنا…. تو عرض ہے کہ اگر رہا ہی کرنا تھا تو پنجرہ ہی کیوں لگایا ؟؟؟؟ بلکہ حکم یہ ہے کہ اسے مار ڈالے. حدیث پاک میں ہے ” خمس فواسق یقتلن فی الحل و الحرم: الحیۃ و الغراب الابقع و الفارۃ و الکلب العقور و الحُدَیّا. “
واللہ تعالی اعلم

کتبہ محمد مزمل برکاتی
خادم دار العلوم غوث اعظم پوربندر

مفتیانِ کرام شرکائے مشق افتا گروپ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بعدِ سلام عرض ہے کہ ۔۔۔۔۔کسی عورت کو مسلسل تین بچے آپریشن سے پیدا ہوئے اور ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اب اگر ڈِلِوری ہوئی تو عورت کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے اور اس عورت کے شوہر کا کہنا ہے کہ اگر احتیاط نہ کرپایا تو ہو سکتا ہے کہ حمل ٹھہر جائے پھر یا تو عورت کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے یا پھر اگر حمل رہا تو اسے اسقاط کرانا پڑےگا اور یہ بھی شریعت میں منع اور گناہ کا کام ہے تو کیا اس صورت میں اس عورت کی نسبندی کرانا جائز ہے یا نہیں
برائے کرم حکم شرعی سے آگاہ فرمائیں۔

الجواب :وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ….
ایسی عورت کی نس بندی ھی حرام ہے. مستقبل کے امر موہوم کے اندیشے کےسبب حرام ؛ حلال نہیں ہوجایا کرتا ہے. شریعت اسلامیہ کا مشہور ضابطہ ہے ” الیقین لا یزول الا بالیقین “.
شخص مذکور پر لازم ہے کہ عزل کرے یا عارضی طور سے مانع حمل ادویہ جو بازاروں میں بکتی ہیں اور برانڈ کمپنیوں کی ملتی ہیں انہیں یا کنڈوم کو استعمال کرے .
واللہ تعالی اعلم

کتبہ محمد مزمل برکاتی
خادم دار العلوم غوث اعظم پوربندر

السلام علیکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایک مسلمان شخص جانوروں کی خرید و فروخت کرتا ہے اگر کوئی جانور مر جاتا ہے تو پورا مردہ جانور کافر کو آدھی قیمت میں یہ کہکر فروخت کرتا ہے کہ میں قیمت صرف ہڈی اعصاب اور بال وغیرہ کی لے رہا ہوں تو کیا اس طرح بیچنا جائز ہے یا نہیں.
سائل : غلام مصطفی احمدآباد

وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ…
مردار جانور کافر حربی کے ہاتھ بیچنا جائز ہے. ارشاد باری ہے : والخبیثت للخبیثین و الخبیثون للخبیثت.
ضابطہ اس باب میں یہ ہے کہ کافر کا جو مال اس کی رضامندی سے ملے مسلمان کو اس کا لینا مباح ہے جب تک اس میں غدر نہ ہو. بلفظ دیگر کافر کے ساتھ اس کی رضا مندی سے ایسا عقد کرنا جو دو مسلمان کے درمیان فاسد ہو؛ جائز ہے . چنانچہ ردالمحتار میں کافر حربی سے جوا کھیلنے اور جوے کا مال وصول کرنے کے بارے میں ہے : فبأی أخذہ المسلم؛ أخذ مالا مباحا مالم یکن غدرا.
واللہ تعالی اعلم
کتبہ محمد مزمل برکاتی
خادم دار العلوم غوث اعظم پوربندر

سوال . زید کو شھوت کے ساتھ مذی ہواتو زید ناپاک ہوگا یا نہیں اور وہ نماز پڑھ لیا کیا اسکی نماز ہوجاےگی تفصیل سے جواب نوازیں عین نوازش ہوگی
۵/۱۲/۲۰۱۸
========================
الجواب ھوالموفق للحق والصواب
میاں بیوی کے بوس و کنار یا جماع کے خیالات سے شرمگاہ سے جو سیال مادہ خارج ہوتا ہے اسے مَذی کہتے ہیں۔ مذی نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا۔ اس کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح فرمادیا ہے۔ چنانچہ سیدنا علی کرم اللہ وجھہ الکریم فرماتے ہیں کہ:
کُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَکُنْتُ أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ لِمَکَانِ ابْنَتِهِ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: يَغْسِلُ ذَکَرَهُ وَيَتَوَضَّأُ.
مجھے مذی بہت آتی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے براہ راست اس کا حکم معلوم کرنے سے مجھے شرم آتی تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں۔ اس لیے میں نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مذی کا حکم معلوم کریں۔ جب حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا توسرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضوکرلو۔کمافی الصحيح البخاری،
والصحيح المسلم،
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ ہم بسترہو(یعنی بوس وکنارکرے)اور بغیرانزال کے علیحدہ ہوجائےتو اس کے لیے کیاحکم ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
يَغْسِلُ مَا أَصَابَهُ مِنَ الْمَرْأَةِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّی.
 اس کے جسم پرعورت کی شرمگاہ سے نکل کر جو چیز لگی ہواس کو دھو لے پھر وضو کرے، اس کے بعد نماز پڑھ سکتا ہے۔
بخاري، الصحيح،
مسلم، الصحيح،
لہٰذا ہمبستری کے دوران مرد و عورت کو انزال کے علاوہ جو پانی کی طرح کا مادہ آتا ہے اس سے غسل واجب نہیں ہوتا۔ جسم اور کپڑوں پرجتنی جگہ پر یہ پانی لگا ہو اسے دھوکروضوکر لینے سے جسم پاک ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر انزال ہو جائے‘خواہ ہمبستری سے ہو یا بوس و کنار سے‘توغسل واجب ہو جائے گا۔
ھذاماظھر لی والعلم عنداللہ وعلمہ احکم وأتم

کتبہ
منظوراحمدیارعلوی
دارالعلوم برکاتیہ
گلشن نگرجوگیشوری
ممبئی

الجواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ….
اگر فی الواقع امام مذکور ان حرکات کا مرتکب ہے جو سائل نے بیان کیا ہے تو ایسا امام فاسق معلن ہے اور تا وقتیکہ اپنے گناہ سے علانیہ توبہ نہ کرلے اس کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز و گناہ ہے اور پڑھ لی تو اعادہ
واجب ہے . رد المحتار میں منیہ سے ہے: وفی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ و قد وجب علیہم اھانتہ شرعا. اور غنیہ شرح منیہ میں ہے: لو قدموا فاسقا یأثمون بناء علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم. اور درمختار میں ہے: کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا. واللہ تعالی اعلم

کتبہ: محمد مزمل برکاتی
خادم تدریس و افتا دارالعلوم غوث اعظم پوربندر

مفتی صاحب کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ عورت سے ایجاب کروایا گیا اور گواہان اور وکیل اور مرد سب کو متعیّنہ عورت کی خبر ہے کہ اس عورت سے نکاح کرنا یے جس کے باپ کا نام فلان ہے، لیکن ہوا ایسا کہ نکاح ہڑھانے والے نے باپ کا نام تو وہی بولا لیکن عورت نام بھول سے دوسرا کوئ نام بول دیا اور شوہر کو معلوم ہے کہ نام بولنے میں غلطی یورہی ہے اور اسنے قبول کر لیا،
تو اس صورت میں کیا نکاح پر کچھ اثر پڑےگا ؟ برائے کرم جواب عنایت فرمائے .

الجواب اللہم ہدایۃ الحق و الصواب: جب کہ وہ عورت مجلس نکاح میں موجود نہیں تھی ( جیسا کہ یہی ہندوستان میں متعارف و رائج ہے کہ عورت مجلس عقد میں نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کی طرف سے اس کا وکیل حاضر رہتا ہے ) اور وکیل نے عورت کا نام لینے میں غلطی کی مثلا ہندہ بنت عمرو کے بجائے خالدہ بنت عمرو کہہ دیا تو یہ نکاح ہندہ کے ساتھ منعقد نہیں ہوا کہ نکاح میں تو خالدہ بنت عمرو کا نام لیا گیا اور یہ ہندہ بنت عمرو ہے. وجہ یہ ہے کہ صحت نکاح کے لیے منکوحہ کی تعریف بوقت عقد اس طرح ضروری ہے کہ وہ گواہوں کے نزدیک دیگر عورتوں سے ممتاز و متعین ہوجائے اور جہالت نہ رہے اور جب کہ نکاح خواں نے نام لیتے وقت غلطی سے کسی دوسری عورت کا نام لے لیا تو منکوحہ کی تعیین و تمییز تو نہ ہوئی. ولہذا اگر وہ عورت مجلس نکاح میں ہو اور اس کی طرف اشارہ کرکے کہا گیا کہ اس سے تمہارا نکاح کیا اور پھر نکاح خواں نے نام لینے میں غلطی کی تو یہ نکاح ہوگیا کہ نام لینے سے مقصود تعریف تھی اور وہ اشارے کے ذریعہ پہلے ہی حاصل ہوگئی لہذا بعد میں نام لینے میں غلطی صحت نکاح میں اثر انداز نہ ہوئی۔ شامی میں بحر الرائق سے ہے : ” لَا بُدَّ مِنْ تَمْيِيزِ الْمَنْكُوحَةِ عِنْدَ الشَّاهِدَيْنِ لِتَنْتَفِي الْجَهَالَةُ، فَإِنْ كَانَتْ حَاضِرَةً مُنْتَقِبَةً كَفَى الْإِشَارَةُ إلَيْهَا وَإِنْ كَانَتْ غَائِبَةً وَلَمْ يَسْمَعُوا كَلَامَهَا بِأَنْ عَقَدَ لَهَا وَكِيلُهَا فَإِنْ كَانَ الشُّهُودُ يَعْرِفُونَهَا كَفَى ذِكْرُ اسْمِهَا إذَا عَلِمُوا أَنَّهُ أَرَادَهَا، وَإِنْ لَمْ يَعْرِفُوهَا لَا بُدَّ مِنْ ذِكْرِ اسْمِهَا وَاسْمِ أَبِيهَا وَجَدِّهَا. اھ ۔
وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْغَائِبَةَ لَا بُدَّ مِنْ ذِكْرِ اسْمِهَا وَاسْمِ أَبِيهَا وَجَدِّهَا، وَإِنْ كَانَتْ مَعْرُوفَةً عِنْدَ الشُّهُودِ عَلَى قَوْلِ ابْنِ الْفَضْلِ، وَعَلَى قَوْلِ غَيْرِهِ يَكْفِي ذِكْرُ اسْمِهَا إنْ كَانَتْ مَعْرُوفَةً عِنْدَهُمْ، وَإِلَّا فَلَا وَبِهِ جَزَمَ صَاحِبُ الْهِدَايَةِ فِي التَّجْنِيسِ وَقَالَ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ التَّسْمِيَةِ التَّعْرِيفُ وَقَدْ حَصَلَ وَأَقَرَّهُ فِي الْفَتْحِ وَالْبَحْرِ” . اھ . ملتقطا
اسی میں ہے: ” إذَا سَمَّاهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا وَلَمْ يُشِرْ إلَيْهَا فَإِنَّهُ لَا يَصِحُّ كَمَا فِي التَّنْجِيسِ” . ( در مختار و رد المحتار : 4 / 89 ، 90)
فتاوی رضویہ میں ہے: ” اگر ہندہ اس جلسہ نکاح میں حاضر نہ تھی اورا س کی طرف اشارہ کرکے نہ کہا گیا کہ اس ہندہ بنت بکر کا نکاح تیرے ساتھ کیا بلکہ ہندہ کی غیبت میں یہ الفاظ کہے گئے توہندہ کانکاح نہ ہوا۔ نہ اسے طلاق کی حاجت نہ عدت کی ضرورت جس سے چاہے اپنا نکاح کرسکتی ہے کہ نکاح تو ہندہ بنت بکر کا ہوا اور یہ ہندہ بنت بکر نہیں، ہاں اگر بکر نے اسے پرورش یا متبنی کیا تھا اور وہ عرف میں ہندہ بنت بکر کہی جاتی ہے اور اس کے کہنے سے اس کی طرف ذہن جاتا ہے تونکاح ہوگیا ” ۔ (فتاوی رضویہ جدید : 11 / 250) واللہ تعالی اعلم

کتبہ: محمد مزمل برکاتی
خادم تدریس وافتا دار العلوم غوث اعظم پوربندر ، گجرات

کیا فرماتے علمائے دین و مفتیان کرام مسئلے ذیل میں کہ جن وقتوں میں نفل نماز مکروہ ہے کیا ان وقتوں میں قضا بھی مکروہ ہے جواب عنا یت فرماٸیں؟
المستفتی : عاطف برکاتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب صبح صادق کے بعد سے طلوع آفتاب تک اورعصر کی نماز کے بعد سے غروب آفتاب تک نفل نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، البتہ ان دونوں وقتوں میں قضائے عمری پڑھنا درست ہے؛ لیکن سورج نکلنے اور غروب ہونے کے وقت قضاء نماز پڑھنا بھی مکروہ ہے جیسا کہ قال الحصکفى ” وکرہ نفل بعد صلاة فجر و صلاة عصر لایکرہ قضاء فائتة ، وکذا بعد طلوع فجر سوی سنته إلخ ․ قال ابن عابدین قولہ : ” کرہ “ کراهة تحریمیة ، کما صرح به فى الحلبة و قولہ : ” بعد صلاة فجر وعصر ” أي إلی ما قبل الطلوع و التغیر ․ و قال الحصکفي ” وکرہ تحریما صلاة مطلقًا ولو قضاءً أو واجبة أو نفلاً مع شروق و استواء وغروب ” اھ ( الدر المختار مع رد المحتار ج 2 ص 37 / 30 ) وکذا فى الفتاوی الہندیة ج 1 ص 109 ، کتاب الصلاة ، الأوقات التی تکرہ فیہا الصلاة ، زکریا دیوبند) اور ایسا ہی بہار شریعت میں ہے کہ ” طلوع و غروب نصف النہار ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں نہ فرض نہ واجب نہ نفل نہ ادا نہ قضا یوہیں سجدہ تلاوت و سجدہ سہو بھی ناجائز ہے البتہ اس روز اگر عصر کی نماز نہیں پڑھی تو اگر چہ آفتاب ڈوبتا ہو پڑھ لے مگر اتنی تاخیر کرنا حرام ہے ” اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 454 )

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی

.

%d bloggers like this: