Aek Tabsara Radd Par by Molana Sarfaraz Misbahi Mahesana

ایک تبصرہ رد پر
خراج عقیدت بموقعہ صد سالہ عرس رضا
رد کا معنی ہے موڑنا پھیرنا انکار کرنا رد کبھی باعث مضر ہوتا ہے اور کبھی باعث مفید کبھی ایسے حالات واقع ہو جاتے ہیں کہ جن میں رد نا گزیر ہو جاتا ہے اور کبھی مصلحتا رد سے کف لسان کیا جاتا ہے مصلحتا کی جہاں تک بات ہے تو اس صورت حال سے بیشتر لوگ واقف ہیں کہ کہاں خاموشی بہتر ہے مگر جہاں رد نا گزیر ہے اگر وہاں بھی خاموشی کا چولا اوڑھ کر خواب خرگوش سوئے رہیں تو حالات نا گفتہ بہ ہو جاتے ہیں اور آج یہی خاموشی امت کے لے ناسور بن چکی ہے آج امت میں کچھ شر پسند عناصر اسلام کی بیخ کنی میں لگے ہوئے ہیں اور ہم اور ہمارے اکابر مصلحت اور خاموشی کا لبادہ پہنے خواب غفلت میں بیدار ہے اور سمجھ رہے ہیں کہ ابھی حالات اتنے ابتر نہیں ہیں اور اس خاموشی کا نتیجہ یے ہوا کی شر پسندوں کی شر انگیزیاں اتنی بڑھ گئی کی اب وہ صحابہ کرام کی شان میں اعلانیہ گستاخیاں کرنے لگے اولیائے کرام بزرگان دین اور ہمارے اسلاف کی توہین آمیز ویڈیو بنا کر سوشیل میڈیا پر شیئر کرنے لگے اور حد تو تب ہو گئی جب ایک کانگریسی لیڈر نے حضور غریب نواز کی شان میں نازیبا الفاظ بکے اور ہمارے رد پر سوالیہ؟نشان چھوڑ دییے. ہمارے کچھ غیور مسلمانوں نے اسکا جواب قانونی لہجہ میں اسے دے بھی دیا جسکی بنا پر اسے گرفتار کر لیا گیا مگر کیا اتنا رد کافی ہے آخر کیا وجہ ہے کہ شر پسند اپنے مفاد کے لیے بار بار ہمارے اسلاف کی عزت سے کھیلتے ہیں کیا ہمارے اسلاف کی عزت اتنی سستی ہے کہ کوئی بھی ایرا غیرا نتھو ہمارے جزبات سے کھیل کر چلا جائے ہرگزنہیں ہمیں اپنےرد کرنے کا معیار تبدیل کرنا ہوگا. معیار رد کو سمجھنا ہوگا اور اس راز کو سمجھایا تھا اعلی حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی عليه الرحمه نے کہ کن حالات میں رد کس معیار کا ہونا چاہیے. جب گستاخ نبی رفعت نبی عظمت نبی پر حملے کر رہے تھے تو خنجر رضا کی ایسی کاری ضرب لگی کہ انھیں اپنے منہ کی کھانی پڑی جب رافضیت نے عظمت صحابہ پر حملہ کیا تو شمشیر رضا انکے رفض پر ایسی برق صاعقہ بن کر گری کہ انہوں نے اپنے ہوش کے ناخن لیے مگر فی زمانہ انکے شرور و فتن کے سنگ پھر طلوع ہورہے ہیں لہاذا ضرورت ہے آج پھر رد معیار رضا کی کہ ایسا رد کیا جائے کہ گستاخوں کی زباں گنگ ہو جائے اور وہ رافضی نما سنی بے نقاب ہو جائے اور یہاں پر میں اپنی عوام سے ایک اور بات کہنا چاہوں گا کہ جو لوگ محبت اہل بیت کے نام پر اپنی دکانیں چلاتے ہیں ان سے ہوشیار رہے انہیں دین سے کوئی لینا دینا نہیں ہیں انہیں عظمت اولیائے سے کچھ لینا دینا نہیں ہیں انکا مقصد تو صرف اہل سنت کی شیرازہ بندی کو بکھیرنا ہیں مثلا……….
ابھی گجرات کے جیت پور نامی گاؤں کے صلاح الدین نامی شخص نے صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کی اور ہمارے اسلاف اور بزرگان دین کی خوب قصر شان کی مگر غور کرنے والی بات یے ہیکہ جب اس کانگریسی لیڈر نے حضور غریب نواز کی شان میں گستاخی کی تو یہ صلاح الدین اور اجمیری خادموں کی طرف سے کوئ رد عمل سامنے نہیں آیا معلوم ہوا ہاتھی کے دانت کھانے کے کچھ اور دکھانے کے کچھ اور ہے تو میری عوام اہل سنت سے گذارش ہیکہ کوئی بھی انکے دام فریب میں نہ آئے……………….
از قلم سرفراز شبیری مصباحی

Aek Tabsara Radd Par by Molana Sarfaraz Misbahi Mahesana

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.