Aariz-e-shams-o-Qamar Se Bhi Hain Anwar Aeriyan Lyric in Urdu

عارض شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
عرش کی آنکھوں کے تارے ہیں وہ خوشتر ایڑیاں

جاں بجا پر تو فگن ہیں آسماں پر ایڑیاں

دن کو ہیں خورشید شب کو ماہ و اختر ایڑیاں

نجم گردوں تو نظر آتے ہیں چھوٹے اور وہ پاؤں

عرش پر پھر کیوں نہ ہوں محسوس لاغر ایڑیاں

دب کے زیرِ پا نہ گنجائش سمانے کو رہی

بن گیا جلوہ کفِ پا کا ابھر کر ایڑیاں

ان کا منگتا پاؤں سے ٹھکرادے وہ دنیا کا تاج

جس کی خاطر مرگئے منعم رگڑ کر ایڑیاں

دو قمر دو پنجئےخور دو ستارے دس ہلال

ان کے تلوے پنجے ناخن پائے اطہر ایڑیاں

ہائے اس پتھر سے اس سینہ کی قسمت پھوڑیے

بے تکلف جس کے دل میں یوں کریں گھر ایڑیاں

تاج روح القدس کے موتی جسے سجدہ کریں

رکھتی ہیں واللہ وہ پاکیزہ گوہر ایڑیاں

ایک ٹھوکر میں احد کا زلزلہ جاتا رہا

رکھتی ہیں کتنا وقار اللہ اکبر ایڑیاں

چرخ پر چڑھتے ہی چاندی میں سیاہی آگئی

کرچکی ہے بدر کو ٹکسال باہر ایڑیاں

اے رضا طوفان محشر کے طلاطم سے نہ ڈر

شاد ہو ہیں کشتیِ امت کو لنگر ایڑیاں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.