fatwa online | Islamic law | sharia law rules | Part 8

[14:50, 5/23/2018] Aasif Razavi: سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں، مسجد کے اندر سوال کرنا اپنے یا غیر کے واسطے اور سائل کو دینااس کے یا غیر کے واسطے جائز ہے یا نہیں
[21:02, 5/24/2018] Tahir Juna: سوال

اذان سے قبل انبیاء کرام پر اس طرح سلام پیش کرنا

الصلاة والسلام عليك يا آدم صفى الله
الصلاة والسلام عليكم يا نوح نجى الله

اس طرح کئی انبیاء علیہم السلام پر سلام پیش کرنا کیسا؟؟
[23:07, 5/24/2018] HASAN PATHAN: الجواب: حضور سرکار علی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ایسے ہی ایک سوال کے حواب میں فرمایا ” جو مسجد میں غل مچادیتے ہیں نمازیوں کی نماز میں خلل ڈالتے ہیں لوگوں کی گردنیں پھلانکتے ہوئے صفوں میں پھرتے ہیں مطلقا حرام ہے اپنے لئے خواہ دوسرے کے لئے،حدیث میں ہےمسجدوں کو بچوں اور پاگلوں اور بلند آواز سے بچاؤ حدیث میں ہے :جس نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اس نے جہنم تک پہنچنے کا اپنے لئے پل بنالیااور اگر یہ باتیں نہ ہوں جب بھی اپنے لئے مسجد میں بھیک مانگنا منع ہے۔رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں :جو کسی مسجد میں اپنی گمی چیز دریافت کرنے سنے اس سے کہے اللہ تجھے وہ چیز نہ ملائے مسجدیں اس لئے نہیںجب اتنی بات منع ہے تو بھیک مانگنی خصوصا اکثر بلا ضرورت بطور پیشہ کے خود ہی حرام ہے یہ کیونکر جائز ہوسکتی ہے ولہذا ائمہ دین نے فرمایا جو مسجد کے سائل کو ایک پیسہ دے وہ ستر۷۰ پیسے راہ خدا میں اور دے کہ اس پیسہ کے گناہ کا کفارہ ہوں اور دوسرے محتاج کے لئے امداد کو کہنا یا کسی دینی کام کے لئے چندہ کرنا جس میں نہ غل شور ہو نہ گردن پھلانگنا نہ کسی کی نماز میں خلل یہ بلا شبہہ جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے۔ اور بے سوال کسی محتاج کو دینابہت خوب اور مولٰی علی کرم اللہ تعالی وجہہ سے ثابت ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ ” فتاوی رضویہ شریف ( ج ۲٣ ص ٣۹٦)۔
Mufti Azhar Ahmed Basti, Molana Gulam Mustafa Panthora, and Maulana IRFAN Barkati
[20:33, 5/26/2018] HASAN PATHAN: الجواب: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم و دیگر انبیاء علیہم السلام پر, اذان سے پہلے اور بعد میں درود و دعا و سلام پڑھنا جائز و مستحسن ہے. ایسا ہی (فتاویٰ امجدیہ، جلد 1، ص 67, 66, 65 ) میں ہے۔
[23:25, 5/26/2018] Tahir Juna: ما شاء اللہ
جزاک اللہ تعالی خیرالجزاء 🌷🌷🌷🌷🌷
[23:34, 5/26/2018] Tahir Juna: اسلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں ۔

کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ظاہری سے پہلے بھی قبر میں تین سوال ہوتے تھے ?
اگر ہاں , تو تیسرا سوال کیا تھا
اور اس کا اشارہ کس کے طرف ہوتا تھا ؟
برائے مہربانی دلیل سے مزیّن جواب عطا فرمائیں
[12:16, 5/28/2018] hafz aslam: Jis. Ne roza na rakkha ho aor masjid me Rozedaro ke sath iftar kare Iske liye kiya hukm he
[22:56, 5/31/2018] HASAN PATHAN: و علیکم السلام الجواب : اگر ہندہ کو اس کے والد اور سسر نے صرف پہنے کے لئے دیا یا تملیکاً دیا مگر کے پاس فقط پانچ چھ تولہ سونا ہی ہے. اور اس کے علاوہ چاندی, روپیہ پیسہ یا مالِ تجارت وغیرہ اموال زکاۃ میں سے کچھ بھی اس کے پاس نہیں ہے. (اور کسی کے پاس صرف سونا ہو اور کچھ نہ ہو یہ فی زمانہ بہت نادر ہے ) تو ان دونوں صورتوں فقط پانچ چھ تولہ سونے پر زکاۃ واجب نہیں ہوگی اگر چہ اس کی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی سے زائد ہو جائے کہ سونے پر زکاۃ واجب ہونے کا شرعی نصاب ساڑھے سات تولہ ہے. اس سے کم میں زکاۃ نہیں. در مختار میں ہے نصاب الذھب عشرون مثقالاً والفضۃ مائتا درھم اس کے تحت شامی میں ہے. فما دون ذلك لا زكاة في. ( ج ٢ ص ٣١) ہاں اگر اس کے ساتھ چاندی, روپے پیسے یا مال تجارت میں سے کچھ بھی ہو تو سب کے مجموعہ قیمت ملاکر ساڑھے باون تولہ چاندی کے مساوی یا زائد ہو جائے تو تو زکاۃ فرض ہوگی. اور ظاہر ہے کہ ہندہ کے پاس پانچ چھ تولہ سونا ہے اس لئے اس تیسری صورت میں زکاۃ فرض ہے.
[19:07, 6/2/2018] Tahir Juna: ما شاء اللہ
سبحان اللہ بہت ہی عمدہ جواب

🌷🌹💐🥀🌻🌺🌷🌹💐🥀🌻🌺
[22:52, 6/5/2018] HASAN PATHAN: و علیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ ۔۔ الجواب : اصح و راجح قول کے مطابق امم سابقہ سے قبر میں کوئ سوال نہیں ہوتا تھا. قبر میں تین ساوالات, یہ اس امت محمدیہ، علی صاحبہا الصلاۃ والسلام کا خاصہ ہے۔ فتاوی شامی ( ج ۲ ص ١٩٢ ) میں ہے. نقل العقلی فی شرحه على الجامع الصغير ان الراجح أيضًا اختصاص السوال بهذه الامة خلافاً لما استظھرہ ابن القيم و نقل أيضاً عن الحافظ ابن حجر العسقلاني ان الذي يظهر اختصاص السوال ۔ اور فتاوی حديثيہ ( ص ١١ ) میں ہے. و كان اختصاصهم بالسوال في القبر من تخفيفات التي اختصوا بها عن غيرهم لما تقرر فتأمل ۔ ایسا ہی فتاوی مرکز تربیت افتا ( ج ١ ص ٣٤٠ ) میں ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
[23:26, 6/5/2018] Tahir Juna: ما شاء اللہ

سبحان اللہ بہت ہی عمدہ جواب

جزاک اللہ خیرا 🌷💐🥀🌻🌺🌹
[00:04, 6/8/2018] Tahir Juna: السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سوال

🌺 کیا معتکف اذان دینے کے لئے مسجد سے باہر جاسکتا ہے؟؟

🌺 اگر کسی بنا پر اعتکاف فاسد ہو گیا تو اسکی قضا کریگا؟؟

🌺 رمضان کے آخری عشرے کا معتکف ہے اور مثلا اسکا پچسویں رمضان کا اعتکاف جاتا رہا تو کیا وہ ہمیشہ کے لئے نکل گیا یا 26 وے اعتکاف میں شامل ہوجائے گا؟؟؟
[10:59, 6/9/2018] Tahir Juna: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ… (1) ہاں اس کی اجازت ہے کما فی الہندیۃ و الدر مع الرد. (2) جس دن ٹوٹا اسی کی قضا لازم ہوگی . (3) ٰاعتکاف مسنون فاسد ہونے کے بعد ما بقی ایام کا اعتکاف اعتکاف نفل ہوگا. اگر چاہے تو کرسکتا ہے . اعتکاف نفل کا ثواب پائے گا.

جواب از قلم مفتی محمد مزمل برکاتی صاحب قبلہ پوربندر
[20:48, 6/9/2018] HASAN PATHAN: (3) ٰاعتکاف مسنون فاسد ہونے کے بعد ما بقی ایام کا اعتکاف اعتکاف نفل ہوگا. اگر چاہے تو کرسکتا ہے . اعتکاف نفل کا ثواب پائے گا.

حوالہ پیش فرمائیں.
[01:08, 6/10/2018] Tahir Juna: کیوں

کوئی اشکال ہو تو فرمائیں
[03:26, 6/10/2018] HASAN PATHAN: بغیر حوالہ کوئ بات قابل قبول نہیں.
[04:33, 6/10/2018] Aasif Razavi: بہار شریعت
[04:38, 6/10/2018] HASAN PATHAN: اس عبارت میں, فساد اعتکاف کے بعد نفل ہونا. یہ مذکور نہیں.
[04:50, 6/10/2018] Aasif Razavi: نفلی اعتکاف کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں لہٰذا اعتکاف سنت ٹوٹنے کے بعد بہتر ہے کہ اعتکاف نفلی رکھے. والله أعلم
[04:52, 6/10/2018] Hafiz Husain K: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں

آج کل جو بارہویں کلاس یا سائنس کی تعلیم میں کچھ باتیں قرآن و حدیث کے خلاف ہوتی ہیں امتحان کے وقت ان میں سے کوئی ایک بات آجائے جو واقعی قرآن و حدیث کے خلاف ہو اسکا جواب لکھنے کے باریمے حکم شرع کیا ہوگا جواب لکھنے پر وہ مجبور ہے کہ جواب نہیں لکھے گا تو مارکس کٹ جائینگے
[05:10, 6/10/2018] HASAN PATHAN: میرا مطلوب یہ نہیں —
عرض یہ کہ اگر پچسویں ۲٥ رمضان کا اعتکاف جاتا رہا تو ۲٦ میں شامل ہوگا یا نہیں.
اس پر مفتی صاحب جواب ما بقی ایام کا اعتکاف اعتکاف نفل ہوگا.

یہ کس کتاب میں ہے ؟
[05:26, 6/10/2018] HASAN PATHAN: کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ۲١ سے ۲٤ اعتکاف میں رہے اور پچسواں جاتا رہے پھر ۲٦ سے مسنون اعتکاف کی نیت سے شامل ہو جائے؟ اور بعد رمضان ایک کی قضا کریں؟
[05:50, 6/10/2018] Tahir Juna: نہیں ایسا نہیں ہو سکتا

کیونکہ اعتکاف مسنون مکمل 10 دنوں کا ہوتا ہے
مذکورہ بالا صورت میں اعتکاف مسنون مکمل نہیں ہوا تو اب لا محالہ وہ اعتکاف نفلی ہی ہوگا

اعتکاف تین قسموں میں منحصر ہے
واجب
مسنون ( جو مکمل آخری عشرے کا ہوتا ہے۔)
نفل

اعتکاف ان ہی میں سے ایک ہوگا۔

ھذا ما عندی
و اللہ و رسولہ اعلم بالصواب
عز و جل، صلی اللہ علیہ وسلم
[06:06, 6/10/2018] HASAN PATHAN: اور مفتی صاحب کا پہلا جواب( ہاں اس کی اجازت ہے کما فی الہندیۃ و الدر مع الرد بھی قابل غور ہے.) کہ مفتی صاحب نے مطلقا اجازت کا ذکر فرمایا جبکہ بہار شریعت میں ہے” کہ یا اذان کہنے کے لئے منارہ پر جانا, جبکہ منارہ پر جانے کے لئے باہر ہی سے راستہ ہو اور اگر منارہ کا راستہ اندر سے ہو تو غیر مؤذن بھی منارہ پر جاسکتا ہے. مؤذن کی تخصیص نہیں.” اس سےظاہر کہ اگر معتکف مؤذن ہو تو اذان کے لئے جا سکتا ہے خواں منارہ راستہ کا اندر سے ہو یا باہر سے اورمؤذن نہ ہو تو نہیں جا سکتا ہے مگر جب کہ راستہ اندر سے ہو.
[06:33, 6/10/2018] HASAN PATHAN: حزاکم اللہ. مولانا طاہر صاحب, مولانا آصف صاحب و مفتی مزمل صاحب .

اللہ جل شانہ سب کے علم و عمل میں خوب برکتیں عطا فرماءیں.
ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو!
[07:24, 6/10/2018] Mufti Asgar Ali Razavi: مولانا طاہر صاحب کے جواب میں یہ بات قابل غور ہے کہ اعتکاف توڑا تو اب لا محالا نفل ہی کی نیت سے اعتکاف ہوگا عرض یہ ہے کہ سنت مؤکدہ کی قضا یا منت کی نیت سے کیوں نہیں ؟
[11:13, 6/10/2018] Tahir Juna: بہار شریعت کا وہ مسئلہ غیر مفتی بہ ہے : ملاحظہ ہو :
[11:17, 6/10/2018] Tahir Juna: لا محالہ نفل ۔۔۔۔

جبکہ اس کے ذمہ میں کوئی واجب نہ ہو۔۔۔۔

میں نے آگے لکھا ہے کہ اعتکاف تین قسموں میں منحصر ہے

اب جبکہ مسنون اعتکاف جاتا رہا تو بقیہ دو میں سے کر سکتا ہے
آخری عشرے کا مسنون اعتکاف نہیں ہو پائے گا

فتدبر یا اخی
[11:33, 6/10/2018] Tahir Juna: عالمگیری 👆
[11:58, 6/10/2018] HASAN PATHAN: آپ نے بڑی آسانی سے بہار شریعت کےاس مسئلہ کو غیر بفتی بہ کہدیا, جس سے یہ لازم, کہ اس معتبر و مستند کے بعض مسائل غیر مفتی بہ ہیں.
اگر ہم کسی مسئلہ کو بہار شریعت و دیگر قدیم کتابوں میں مختلف پائیں تو کس پر اعتماد کریں.
اپنا ناقص مطالعہ یا حضرت کی تحقیق پر!!!!
[12:36, 6/10/2018] Tahir Juna: کمال کرتے ہو آپ بھی
[12:37, 6/10/2018] Tahir Juna: کچھ مطالعہ کر لیا کیجئے
[12:37, 6/10/2018] Tahir Juna: نہیں تو اوپر جو کتابوں کی فوٹوز ہیں ان کو دیکھ لیجئے
[14:06, 6/10/2018] Tahir Juna: محب گرامی وقار ، برادر اکبر حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد حسن رضا صاحب قبلہ کی شان میں مجھ سے گستاخی ہوگئی اور میں نے کچھ نازیبا کلمات کہے میں حضرت سے معذرت خواہ ہوں اور عرض گزار ہوں کہ مجھ اپنا چھوٹا بھائی سمجھ کر معاف فرمائیں ۔🙏

اللہ تعالی تمامی اہل سنت و جماعت کو اور بالخصوص علماء کرام کو اتفاق و اتحاد کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔🌹
[14:15, 6/10/2018] HASAN PATHAN: حضرت بفضلہ تعالی, آپ کے مشورہ سے پہلے ہی فقیر نے ان جزءیات کا مطالعہ کیا اور بہار شریعت میں اس مسئلہ کو مختلف پایا,
اور پھر مجھ احقر میں بہار شریعت کے کسی مسئلہ کو “غیر مفتی بہ” کہنے کی نا قابلیت. اس لئے فقیر کے لئےمذکورہ مساءیل قابل غور اور مزید مطالعہ کے داعی ہیں.

اور بہت شکریہ مولانا طاہر صاحب. آپ کے مطالعہ سے بہار شریعت کے اس مسئلہ کا غیر مفتی بہ ہونا بھی معلوم ہوا. اللہ تعالی مزید آپ کے علم میں وسعت عطا فرمائے. اور پھر یہ مسئلہ بھی ویسا ہی ہو جیسا آپ نے تحقیق فرمائ.
واللہ تعالی اعلم باصواب.
[14:16, 6/10/2018] Aasif Razavi: سبحان اللہ
آمین
جزاك الله خيرا
[14:51, 6/10/2018] Tahir Juna: جی حضور
دعاؤں کے لئے اور حوصلہ افزائی کے لئے بہت بہت شکریہ

آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ ۔🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
[14:51, 6/10/2018] Tahir Juna: آمین ثم آمین ۔۔🌺🌺🌺🌺

 

صحيح مسلم الجزء الأول
(Sahieh Muslim Shareef jild 1)

download from here

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.