Fatwa online | Part 4

Fatwa online Salah w Jama’t

کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ جمعہ کے دن دیہات میں نماز جمعہ جماعت کے ساتھ پڑھنے کے بعد پھر نماز ظہر باجماعت پڑھنا کیسا ہے؟ جبکہ ایک وقت میں دو جماعتیں  ہو رہی ہیں

سائل :۔ قاری رئیس کوثر جمالی گریڈیہ جھارکھنڈ

الجواب

    علمائے حنفیہ کے نزدیک دیہات میں جمعہ کی نماز جائز نہیں جیسا کہ ہدایہ جلد اول صفحہ 148 میں ہے لا تجوز فی القری لقوله علیہ السلام لا جمعة و لا تشریق و لا فطر و لا اضحی إلا فی مصر جامع ۔

          لیکن دیہات میں جہاں لوگ جمعہ کی نماز پڑھتے ہوں انھیں اس سے منع نہیں کیا جائے گا کہ عوام جس طرح بھی اللہ و رسول کا نام لیں غنیمت ہے

اور جب دیہات میں جمعہ نہیں تو ایسی جگہ جمعہ پڑھنے کے بعد ظہر کی نماز ذمہ سے ساقط نہ ہو گی  جس کا خلاصہ یہ ہوا کہ دیہات میں دوسرے دنوں کی طرح جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا واجب ہے ۔ جیسا کہ فتاوی رضویہ جلد سوم ص  704 پر اعلی حضرت نے تحریر فرمایا ہے

اور فتاوی عالمگیری جلد اول مصری  ص 136 میں ہے  و من لا تجب علیھم الجمعة من اھل القری و البوادي لهم أن یصلوا الظھر بجماعة یوم الجمعة باذان و إقامة

اور  بہار شریعت حصہ چہارم ص 102  میں ہے کہ گاؤں میں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز اذان و اقامت کے ساتھ پڑھیں ۔

  فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ 418

لہذا معلوم ہوا کہ جب نماز جمعہ دیہات میں ہے ہی نہیں تو  دو جماعت کا ایک وقت میں ہونا لازم نہیں آیا

                یہ سب کچھ بر بنائے ظاہرالروایہ تھا  جو اصل مذہب ہے لیکن اب بوجہ عموم بلوی امام ابو یوسف رحمت اللہ علیہ کے روایت نوادر پر فتوی دیا جاتا ہے ۔

جس کی ترجمانی اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمت اللہ علیہ نے فتاوی رضویہ میں ان الفاظ میں فرمائی ۔ ہاں ایک روایت نادرہ امام ابو یوسف رحمت اللہ علیہ سے یہ آئی ہے کہ جب آبادی میں اتنے مسلمان مرد، عاقل بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہوسکے آباد ہوں کہ اگر وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سماسکیں یہاں تک کہ انہیں جمعہ کے لیے مسجد جامع بنانی پڑے وہ صحت جمعہ کے لیے شہر سمجھی جائے گی

فتاوی مرکز تربیت افتا  جلد اول صفحہ 301

واللہ اعلم ورسولہ

کتبہ :۔    محمد کوثر القادری مصباحی گریڈیہ

خادم التدریس :۔ جامعہ فاطمہ للبنات رگھونیہ ڈیہ 

زیر تربیت :۔ مرکز تربیت افتا اوجھا گنج بستی

          شعبہ تخصص فی الفقہ

Fatwa online Salah w Friday Prayer

سوال عرض ھےکہ جمعہ کے دونوں خطبوں کے درمیان کتنی دیر بیٹھے گے ۔

سائل : سید غلام محمد پور بندر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 جواب جمعہ کے دونوں خطبوں کے درمیان تین آیت کے مقدار بیٹھنا سنت ہے جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ ” و مقدار الجلوس بينهما مقدار ثلاث أيات فى ظاهر الرواية هكذا فى السراج الوهاج ” اھ ( ج 1 ص 147 ) اور ارشاد الساری شرح صحیح البخاری میں ہے کہ ” و يستحب ان يكون جلوسه بينهما قدر سورة الإخلاص تقريبا لاتباع السلف و الخلف وان يقرأ فيه شيئا من كتاب الله للاتباع راوه ابن حبان ” اھ ( ج 2 ص 186 )

واللہ اعلم بالصواب

 کریم اللہ رضوی

خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر

Fatwa online Salah w Masjid and Imamat

السلام علیکم

سوال

بعض مساجد میں محراب اس طرح بنا ہوتا ہے کہ محراب کی دیوار مسجد کی سامنے والی دیوار سے زیادہ اندر کی طرف ہوتی ہے. ایسے محراب میں اگر امام مکمل اندر کھڑے ہوکر نماز پڑھائے تو کیا حکم ہے. (نیچے ایسے محراب کی کچھ تصویریں دی جاتی ہیں) رہنمائی فرمائیں.

سائل: سید سرفراز علی

الجواب : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ…

امام کے لیے بلا ضرورت؛ محراب کے اندر نماز پڑھانا مکروہ تنزیہی ہے.

واللہ تعالی اعلم

کتبہ : محمد مزمل برکاتی

Fatwa online About Qasam

سوال : ساس اور بہو کا جھگڑا ہوا اور جھگڑے کے دوران بہو نے ساس سے کہا کہ میں قرآن پاک کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ اب کبھی بھی آپ کے گھر نہیں آئونگی اب جھگڑے کو کافی دن گزر گئے اور بہو کو یہ احساس ہوا کہ مجھے یہ قسم نہیں کھانی چاہیے تھی اور اب وہ اپنی ساس کے گھر جانا چاہتی ہے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ بہو اب کیا کرے؟

الجواب بعون الملک الوھاب

قرآن کی قسم کھانے سے قسم منعقد ہو جاتی ہے.

بہار شریعت, قسم کے بیان میں ہے. “یوہیں خدا کی جس صفت کی قسم کھائی جاتی ہو اوس کی قسم کھائی ہوگئی مثلاخدا کی عزت وجلال کی قسم… قرآن کی قسم، کلام اﷲ کی قسم.”(ح ۹ ص١۹)

اور چونکہ بہو نے ایسے امر کی قسم کھائی ہے جس کے غیر میں بہتری ہے اس لیے اس قسم کا توڑنا مستحب ہے. بہار شریعت میں ہے., ” تیسری وہ کہ اوس کا توڑنا مستحب ہے مثلا ایسے امر کی قسم کھائی کہ اوس کے غیر میں بہتری ہے تو ایسی قسم کو توڑ کروہ کرے جو بہتر ہے۔… منعقدہ جب توڑے گا کفارہ لازم آئیگا اگرچہ اوس کا توڑنا شرع نے ضروری قراردیا ہو.”(ح ۹ ص ١٧)

لہذا بہو قسم توڑ دے اپنی ساس کے گھر جائے اور کفارہ ادا کرے

قرآن پاک میں ہے,ترجمہ: تو ایسی قسموں کاکفارہ دس مسکین کو کھانا دینا ہے اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اوس کے اوسط میں سے یا اونھیں کپڑا دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جوان میں سے کسی بات پر قدرت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے. (پ۷،المآئدہ:۸۹) واللہ تعالی اعلم بالصواب

سید سرفراز علی

Fatwa online about Nikah

السلام علیکم

سوال

زید کا ھندہ سے ایک بیٹا ہے بکر. زید نے دوسری شادی کی خالدہ سے. تو زید کا بیٹا بکر اپنے باپ کی دوسری بیوی خالدہ کی سگی بہن سے شادی کر سکتا ہے یا نہیں

 سائل: عبد الرشید

الجواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ…. حاصل سوال یہ ہوا کہ سوتیلی ماں کی بہن سے شادی ہوسکتی ہے یا نہیں؟

ظاہر ہے کہ سوتیلی ماں (خالدہ) سے بکر کا کوئی نسبی تعلق نہیں ہے لہذا یہاں حرمت بالنسب نہ ہوا بلکہ اس کی حرمت صرف باپ کی منکوحہ ہونے کی وجہ سے ہے لہذا یہ حرمت بالسبب ہے. تو سوتیلی ماں کی بہن سے بکر کا کوئی نسبی رشتہ نہ ہوا لہذا حرمت کی کوئی وجہ نہیں ہے. درمختار میں ہے :اما بنت زوجۃ ابیہ او ابنہ فحلال. ( در مختار : 4/ 105) . اور عالم گیری میں ہے : واما خالۃ الخالۃ فإن کانت القربی خالۃ لأب وأم او لأم فخالتھا تحرم علیہ وإن کانت القربی خالۃ لأب فخالتھا لا تحرم علیہ. ( 1/ 273).

واللہ تعالی اعلم

کتبہ محمد مزمل برکاتی

Fatwa online Qasam w  Kaffarah

السلام علیکم

سوال…

ایک آدمی نے قسم کھائی کہ میں نے یہ الفاظ کہے ہوں تو کل میدان محشر حضور  اکرم کی شفاعت مجھ پر حرام

تو کیا یہ قسم صحیح ہے یا نہیں.؟

الجواب بعون الملک الوھاب

یہ قسم نہیں لیکن اگر وہ آدمی جھوٹ بول رہا ہے تو گنہ گار ہوگا بہار شریعت, قسم کے بیان میں ہے, “یہ الفاظ قسم نہیں اگرچہ ان کے بولنے سے گنہگار ہوگا جبکہ اپنی بات میں جھوٹا ہے اگر ایسا کروں تومجھ پر اﷲ (عزوجل) کا غضب ہو…رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی شفاعت نہ ملے.”(ح ۹ ص ١۹) واللہ تعالی اعلم بالصواب

 سید سرفراز علی

         

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.