کرم کی آ تی ہے ایسی بَہار توبہ سے

شب برات

گناہوں پر نادم وشرمندہ ہوکر توبہ کرنے والوں کے لیے عفو و کرم کی خاص رات “شبِ برات”

کرم کی آ تی ہے ایسی بَہار توبہ سے
کہ پھول بنتے ہیں فطرت کے خار توبہ سے

ضیاے عفو سے ذرے بھی جگمگاتے ہیں
عروج دیتا ہے پروردگار توبہ سے

خدا نے خود کو”غفورُُ رَّحیم” فرمایا
کہ مجرموں کو نہ ہو، کوئ عار توبہ سے

عنایت ایسی کہ “التائبُ کَمَن لاذنبْ”
خدا کو بندوں پہ آتا ہے پیار توبہ سے

رضاے مولٰی کا ملتا ہے اس کو پروانہ
کہ جس کی آنکھ ہوئ اشکبار توبہ سے

سنبھال لیتی ہے آغوشِ مغفرت اُس کو
جو ہے معافی کا امیدوار توبہ سے

ندامتوں سے ، سزا بھی جزا میں ڈھلتی ہے
بہشت پاتے ہیں عصیاں شعار، توبہ سے

اگر ارادۂ ترکِ گنہ ، نہیں پختہ
تو فائدہ نہیں ایسی ہزار توبہ سے

چلو چلیں درِمولٰی پہ صدقِ دل سے ہم
دلِ حزیں کو ملے گا قرار توبہ سے

نہ جانے کتنوں کو اللہ نے رہائ دی
لگی ہے کشتئ اعمال پار ، توبہ سے

کریم مولٰی نے بخشش کے باب کھول دییے
رہِ نجات ہوئ سازگار توبہ سے

درِ کریم پہ پتھر بھی بن گیے گوہر
بسے ہیں ٹوٹے دلوں کے دیار توبہ سے

جبیں پہ خاک ندامت لگائیے تو سہی
بڑھے گا فکر و عمل کا وقار توبہ سے

پہن کـے بیٹھیے پوشاک انکساری کی
اُتر ہی جائے گا عصیاں کا بار توبہ سے

اِسی سے رب کی رضا پا گیے “سِری سقطی”
ہوا ہے ولیوں میں ان کا شمار توبہ سے

سُرور ایسا ہے”لاتقنطوا” کے مُژدے میں
کہ دل کو سَیر نہیں ، بار بار توبہ سے

ہو عاجزی کی زمیں پر سدا جبیں میری
لباسِ روح رہے تار تار توبہ سے

غرور سے ہو فریدی کی زندگی محفوظ
ہو خاکساری کا دل پر حصار توبہ

از فریدی صدیقی مصباحی مسقط عمان

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.