Fatwa online | Part 2

Hazr w Ibahat

علمائے کرام کی بارگاہ میں سوال یہ ہے کہ بعض لوگ قرآن مجید میں مور پنکھ رکھتے ہیں کیا ایسا کرنا جائز ہے قرآن پاک کی بےادبی تو نہیں ہے ؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ ہمارے یہاں ایک مدرسہ اور عبادت گاہ ہے جس میں پنج وقتہ نماز ہوتی ہے اب عرض یہ کرنا ہے کہ اس عبادت گاہ میں قرآن شریف کی بہت ساری پیٹیاں رکھی ہوئی ہیں جن میں بعض تو پڑھنے میں ہیں اور بعض ایسے ہی پڑی ہیں تو کیا ان کو کسی اور مدرسے اور مسجد میں دے سکتے ہیں? براہ کرم جواب عنایت فرمائیں۔۔۔۔۔
 سائل : غلام یاسین رضوی ، احمد آباد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب ( 1 ) قرآن پاک میں مور کے پنکھ رکھنے کی شرعا کوئی اصل نہیں ، اس لئے اس کو باعث خیر و برکت اور ثواب سمجھ کر رکھنا درست نہیں ، ہاں اگر مور کے پر پاک ہوں اور ان کے حسن و خوبصورتی کی وجہ سے قرآن یا دیگر کتاب میں رکھے جائے تو کوئی قباحت بھی نہیں ۔
( 2 ) اگر قرآن پاک رکھنے والے کا مقصود اس مسجد پر وقف کرنا نہیں ہے تو رکھنے والے کو اختیار ہے قرآن اس کی ملک پر باقی رہیں گے اور اگر مسجد پر وقف کرنا مقصود ہے تو اس سلسلہ میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے کہ ایسی صورت میں دوسری مسجد میں منتقل کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور جب وہ صورت ہے تو دوسری مساجد میں اس کی ضرورت ہو تو قول جواز پر عمل کرتے ہوئے دوسری مساجد و مدارس میں منتقل کرسکتے ہیں اسی شہر کے ساتھ خاص نہیں جس شہر کی مسجد میں قرآن پاک رکھا ہے اگر اس شہر کی مسجدوں مدرسوں کی حاجت سے زائد ہو تو دوسرے شہروں کی مساجد و مدارس میں بھی بھیج سکتے ہیں مگر انہیں ہدیہ کرکے ان کی قیمت مسجد میں صرف کرسکتے ہیں ۔
اور صورت مسئولہ میں تو اور احوط و بہتر ہے کہ دوسرے مساجد و مدارس میں منتقل کر دیا جائے کہ قرآن پاک کو بے حرمتی سے بچانا لازم ہے در مختار : کتاب الوقف میں ہے کہ ” وقف مصحفا على اهل مسجد القراءة ان يحصون جاز و ان وقف مسجد جاز و يقرأ فيه ولا يكون محصورا على هذا المسجد ” اھ ( در مختار ج 6 ص 557 ۔ 558 ) ایسا ہی فتاوی رضویہ ج 6 ص 355 میں بھی ہے ” اھ ( فتاوی مرکز تربیت افتاء ج 2 ص 205 / 204 )

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ویسٹ ممبئی موبائل نمبر

7666456313

Nikah w Talaq

کیا فرماتے ہیں علماءکرام ومفتیان عظام،کسی عورت کا شوہر پاگل ھوجاءے اور ۲یا۳ سال کا عرصہ گزر گیا ہو تو اس عورت کےلیے رہائی کی کیا صورت ھوگی؟

الجواب بعون الملک الوھاب
ایسی صورت میں عورت قاضی یا اعلم علمائے بلد کی بارگاہ میں درخواست دے اور شوہر کا پاگل ہونا ثابت کرے ، قاضی یا اعلم علمائے بلد واقعہ کی تحقیق کرے، اگر واقعہ درست ثابت ہو تو پاگل کو علاج کے لیے ایک سال کی مہلت دےد ے ، سال گزرنے کے بعد بیوی پھر درخواست دے ، اگر شوہر کا جنون اب تک قائم ہو تو عورت کو اختیار دے دیا جائے، اس پر عورت اگر اسی مجلس میں نکاح کو ختم کرنے کا مطالبہ کرے  تو قاضی یا نائب قاضی تفریق واقع کر دے۔اور اگر شوہر کا مدت دراز سے پاگل ہونا قاضی کے نزدیک پہلے سے ثابت ہو تو ایک سال کی مہلت دینے کی ضرورت نہیں اسی وقت تفریق کردے.
فتاوی رضویہ میں ہے, “حکم یہ ہے کہ عورت حاکم شرعی کے حضور دعوٰی کرے وہ ثبوتِ جنون لےکر روزِنالش ایك سال کامل کی مہلت دے،اگر اس مدّت میں شوہر اچھا ہوگیا فبہا،اورا اگر اچھا نہ ہوا اور عورت نے بعد انقضائے سال پھر دعوٰی نہ کیا تو وُہ بدستور اس کی زوجہ ہے،اور اگر پھر رجوع لائی اور حاکم کو ثابت ہوا کہ شوہر ہنوز مجنون ہے تو اب وُہ عورت کو اختیار دے گا کہ چاہے اپنے شوہر کو اختیار کرے یا اپنے نفس کو،اور اگر عورت نے اپنے شوہر کو اختیار کیا یابغیر کچھ کہے چلی گئی یا کھڑی ہوگئی یا کسی نے اسے اٹھادیا یا حاکم خود اٹھ کھڑا ہوا تو اب عورت کو اصلًا اختیار نہ رہا وہ بدستور ہمیشہ اس مجنون کی زوجہ رہے گی،اور اگر مجلس بدلنے سے پہلے عورت نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو اب حاکم تفریق کردے گا اس روز سے عورت طلاق کی عدّت بیٹھے بعدہ،جس سے چاہے نکاح کرے،یہ اس صورت میں ہے کوجنون ثابت ہُوا س کا مطبق ہونا ثابت نہ ہُوا،اور اگر حاکم کو ثابت ہوجائے کہ واقعی مدتہائے دراز گزرگئیں کہ یہ شخص مجنون ہے اور آرام نہیں ہوتاجنون اس کا مطبق یعنی ملازم وممتد ہے تو اب سال کی مہلت نہ دے گا بلکہ فی الفور عورت کا اختیار دے گا کہ چاہے شوہر کو اختیار کرے یا اپنے نفس کو
ہندیہ میں ہے , “اذاکان بالزوج جنون او برص او جذام فلاخیار لھا کذا فی الکافی قال محمدرحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ ان کان الجنون حادثا یؤجلہ سنۃ کالعنۃ ثم یخیرالمرأۃ بعد الحول اذالم یبرأ وان کان مطبقا فھو کالجب وبہ ناخذ کذافی الحاوی القدسی.”(ترجمہ) جب خاوند میں جنون،برص یا جذام جیسی امراض کا عیب ہوتو بھی بیوی کو فسخ کااختیار نہیں ہے جیسا کہ کافی میں ہے کہ امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی نے فرمایا: اگر خاوند کو نکاح کے بعد جنون لاحق ہُوا تو نامرد کی طرح اس کو بھی قاضی ایك سال کی مہلت دے گا،پھر سال کے بعدتندرست نہ ہونے پر عورت کو نکاح کے فسخ کا اختیار دیا جائے گا،اور اگر جنون شروع سے چلا آرہا ہوتو اس کا حکم ذکر کٹے کی طرح ہوگا،اور اسی پر ہمارا عمل ہے جیسا کہ حاوی قدسی میں بیان کیا ہے۔

(ج ١۲ ص ٥۰٥)

واللہ تعالی اعلم بالصواب

Nikah

یا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس کے بارےمیں.
جس طرح نکاح کرنا فرض،واجب،سنت‌،حرام وغیرہ ھے۔اسی طرح اولاد پیدا کرنا بھی فرض،واجب وغیرہ کا کیا حکم ہے؟

حصول اولاد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کریمہ ہے بلکہ یہاں تک فرمایا گیا کہ تزوجوا الوَدُود الوَلُود فإني مكاثر بكم الأمم يوم القيامة. شرعا اس کا درجہ منفعت کا ہے اس سے اوپر نہیں. ولہذا عزل وغیرہ ایسی احتیاطی تدابیر جس سے عارضی طور پر استقرار حمل نہ ہو اجازت ہے.
ہاں استقرار حمل کے بعد اسقاط جائز نہیں کہ یہ نسل کشی ہے جو حرام ہے.
تو اولاد پیدا کرنا بمعنی اول حضور کی سنت ہے جس کا درجہ منفعت ہے اور بمعنی ثانی فرض ہے.
واللہ تعالی اعلم

Fatwa online about Zakat

Ek shakhs ne dusra rehne k liye makan liya fir irada badl gya k bechdunga to ab us makan par zakat he?? Ya nhi.? Jald javab ata farma kar indallah majur hon

 

الجواب : جب اس نے وہ مکان رہنے کے لیے لیا تو اس پر زکاۃ نہ ہوئی کہ یہ مال تجارت نہ ہوا . مال تجارت اس وقت ہوتا کہ جب تجارت کی نیت سے اسے خریدا ہو. لہذا اگر بوقت خرید نیت تجارت نہ تھی تو مال تجارت نہیں ہے. اور بعد میں جو نیت تبدیل ہوئی اس کا اعتبار نہیں.
ہاں اگر سال گزرنے سے پہلے مکان فروخت ہوجائے تو البتہ سال پورا ہونے پر اس کی زکاۃ ہوگی.
واللہ تعالی اعلم

کتبہ محمد مزمل برکاتی

Fatwa online about Salah

 

 

شبِ معراج آقا نے مسجدِ اقصیٰ میں انبیاء کو کونسی نماز پڑھائی تھی
برائے کرم جواب عنایت فرمائیں۔۔۔۔۔

الجواب : اس بارے میں اہل علم کے دو اقوال ہیں . پہلا یہ کہ مطلق نماز نفل تھی اور دوسرا قول یہ کہ یہ نماز فرض تھی مگر نماز پنج گانہ میں سے نہیں کہ نماز پنج گانہ کی فرضیت واقعہ معراج کے بعد ہوئی ہے. بلکہ یہ قیام اللیل تھی جو نماز پنج گانہ سے قبل حضور پر فرض تھی . اور سیدنا امام نووی کے کلام سے اسی قول دوم کی تایید ہوتی ہے . تفصیل کے لیے مواھب لدنیۃ اور امام زرقانی رحمۃ اللہ علیہ کی شرح مواھب اور سیدنا اعلی حضرت قدس سرہ کے رسالہ « جمان التاج فی بیان الصلاۃ قبل المعراج » کی طرف رجوع کریں .

واللہ تعالی اعلم

 

کتبہ محمد مزمل برکاتی

 

 

Fatwa online about Salaht

جن وقتوں میں نفل نماز مکروہ ہے کیا ان وقتوں میں قضا بھی مکروہ ہے  جواب عنا یت فرماٸیں؟

طلوع وغروب ونصف النہار ان تینوں وقتوں میں قضانماز مکروہِ ہے

ان کے علاوہ اور اوقات مکروہ میں نفل نماز مکروہ ہے مگر فضا جاءز ہے

کیا فرماتے علمائے دین و مفتیان کرام مسئلے ذیل میں کہ جن وقتوں میں نفل نماز مکروہ ہے کیا ان وقتوں میں قضا بھی مکروہ ہے  جواب عنا یت فرماٸیں؟

المستفتی : عاطف برکاتی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 جواب صبح صادق کے بعد سے طلوع آفتاب تک اورعصر کی نماز کے بعد سے غروب آفتاب تک نفل نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، البتہ ان دونوں وقتوں میں قضائے عمری پڑھنا درست ہے؛ لیکن سورج نکلنے اور غروب ہونے کے وقت قضاء نماز پڑھنا بھی مکروہ ہے جیسا کہ قال الحصکفى ” وکرہ نفل بعد صلاة فجر و صلاة عصر لایکرہ قضاء فائتة ، وکذا بعد طلوع فجر سوی سنته إلخ ․ قال ابن عابدین قولہ : ” کرہ “ کراهة تحریمیة ، کما صرح به فى الحلبة و قولہ : ” بعد صلاة فجر وعصر ” أي إلی ما قبل الطلوع و التغیر ․ و قال الحصکفي ” وکرہ تحریما صلاة مطلقًا ولو قضاءً أو واجبة أو نفلاً  مع شروق و استواء وغروب ” اھ  ( الدر المختار مع رد المحتار ج 2 ص 37 / 30 ) وکذا فى الفتاوی الہندیة ج 1 ص 109 ، کتاب الصلاة ، الأوقات التی تکرہ فیہا الصلاة ، زکریا دیوبند) اور ایسا ہی بہار شریعت میں ہے کہ ” طلوع و غروب نصف النہار ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں نہ فرض نہ واجب نہ نفل نہ ادا نہ قضا یوہیں سجدہ تلاوت و سجدہ سہو بھی ناجائز ہے البتہ اس روز اگر عصر کی نماز نہیں پڑھی تو اگر چہ آفتاب ڈوبتا ہو پڑھ لے مگر اتنی تاخیر کرنا حرام ہے ” اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 454 )

واللہ اعلم بالصواب

کریم اللہ رضوی

 خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر

Fatwa online about Kafan Dafan

 

علمائے کرام کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ

کیا مردے کو قبر میں اتارنے کے بعد رشتےداروں کو منہ دکھا سکتے ہیں۔۔؟

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ…. اگر میت مرد ہو تو ممانعت نہیں ہے.

کتبہ: محمد مزمل برکاتی

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.