سبھی خوش ہیں خدائی بھی خُدا بھی

سبھی خوش ہیں خدائی بھی خُدا بھی

سبھی خوش ہیں
سبھی خوش ہیں خدائی بھی خُدا بھی
علی کے ساتھ ہے زہرا کی شادی

لڑکا ہے خُدا کے گھر کا
لڑکی ہیں نبی کے گھر کی
وہ عرض و سما کا مالک
یہ ملیکا بحر و بر کی
زمیں رقصا ہیں رقصا آسماں بھی

حیدر ہیں کُل اماں اور
کُل اسمت زہرا
اُس سر پے وفا کا سہرا
اِس سر پے حیا کا سہرا
وہ شہزادہ ہے اور یہ شہزادی

دولہا کے روپ میں پیارے علی ابنِ طالب ہیں
تھا باپ بھی سب سے غالب
یہ بھی ہیں کُل غالب
یہ داماد نبی ہیں اور وہ سمدھی

بّارات چلی حیدر کی رحمت کے سائے سائے
بارات کے آگے آگے قرآن قصیدے گائے
نبی سارے چلے بن کر براتی

تحفے میں ملے انہیں ایسے جنت اور کوثر کو
یہ سارا نمک اور پانی حق مہر ملا زہرا کو
سلامی میں ملی مرضی خُدا کی

قُدرت کی طرف سے انکو تحفے اور ملینگے
کل اِنکے حسیں آگن میں دو اصلی پھول کھلینگے
حسین شجرے جنہیں دینگے سلامی

اب چاہے کوئی تڑپے اب چاہے کوئی بھڑکے
اب میری بھلا سے چاہے مر جائے کوئی جل جل کے

خوشی کی بات تھی میں نے سنادی

کیسے بیان ہو وہ منظر جب ختم ہوئی سب رسمیں

کونین کی ہر شي گوہر کہتی تھی کھاکر قسمیں
مبارک ہے مبارک ہے یہ شادی