زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہد گل کو

زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہد گل کو

الٰہی طاقت پرواز دے پر ہائے بلبل کو

بہاریں آئیں جوبن پر گھرا ہے ابر رحمت کا

لب مشتاق بھیگیں دے اجازت ساقیا مل کو

ملے لب سے وہ مشکیں مہر والی دم میں دم آئے

ٹپک سن کر قم عیسیٰ کہوں مستی میں قلقل کو

مچل جاؤں سوال مدعا پر تھام کر دامن

بہکنے کا بہانہ پاؤں قصد بے تامل کو

دعا کر بخت خفتہ جاگ ہنگام اجابت ہے

ہٹایا صبح رخ سے شاہ نے شبہائے کاکل کو

زبان فلسفی سے امن و خرق والتیام اسرائ

پناہ دور رحمت ہائے یک ساعت تسلسل کو

دو شنبہ مصطفی کا جمعہ آدم سے بہتر ہے

سکھانا کیا لحاظ حیثیت خوئے تامل کو

وفور شان رحمت کے سبب جرات ہے اے پیارے

نہ رکھ بہر خدا شرمندہ عرض بے تامل کو

پریشانی میں نام ان کا دل صد چاک سے نکلا

اجابت شانہ کرنے آئی گیسوئے توسل کو

رضا یہ سبزہ گردوں ہیں کوتل جس کے موکب کے

کوئی کیا لکھ سکے اس کی سواری کے تجمل کو

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.