دنگ ہیں سب دیکھ کر آدھا اِدھر آدھا اُدھر

دنگ ہیں سب دیکھ کر آدھا اِدھر آدھا اُدھر

دنگ ہیں سب دیکھ کر آدھا اِدھر آدھا اُدھر
ہوگیا پل میں قمر آدھا اِدھر آدھا اُدھر

چاند کیا آسماں کوبھی اگر کہتے حضور
وہ بهی گِرتا ٹوٹ کر آدھا اِدھر آدھا اُدھر

اعلیٰ حضرت کے غلاموں سے اُلجھنا چھوڑ دو
فیک دینگے کاٹ کر آدھا اِدھر آدھا اُدھر

جب رضا کی اٹھ گئی تلوار تو پھِر کیا ہوا
ہو گیا نجدی کا سر آدھا اِدھر آدھا اُدھر
ایک طرف مکّے کی سرحد ایک طرف شہرِ نبی
کاش ہوتا میرا گھر آدھا اِدھر آدھا اُدھر

دشمنانِ مصطفیٰ کو دیکھ لینا پُل صراط
ڈال دیگا کاٹ کر آدھا اِدھر آدھا اُدھر