ثَوَی الْمُفْتِی الْعُظَامُ مُخِلَّدًا

ثَوَی الْمُفْتِی الْعُظَامُ مُخِلَّدًا

بِدَارٍ فَأکْرِمْ بِھَامِنْ دَارٍ

مفتی اعظم ایک گھر میں اقامت گزیں ہوئے تو اس گھر کی کرامت کا کیا پوچھنا؟

حَوَتْ فِیْ عُقْرِھَاشَمْسُ الزَّمَانِ

فَاَمْسَتْ مِنْ سَنَا ھَا مَطْلَعَ الْاَنْوَارِ

جس نے اپنی تہہ میں زمانے کے سورج کو سمو لیا تو اس کی چمک سے وہ مطلع انوار ہوگیا۔

سَمآ ءُ الْفَضْلِ بَدْرُ سَمَائِنَا

اَیَادِیْہِ فِیْنَا کاَلسَّمَآءِ الْمِدْرَارِ

فضل کا آسمان اور ہم سنیوں کے آسمان کا ماہ تمام جس کے احسانات ہم میں بارش پیہم کی طرح ہیں ان کا سایہ اوجھل ہوگیا۔

سَمَاوَتُہٗ غَابَتْ فَاَظْلَمَتِ الدُّنیٰ

فَمَنْ لِوُقُوْفٍ مُوْقِفُ الْمُحتَارِ

روشنی گم ہوگئی اور دنیا اندھری ہوگئی اب حیرت میں کھڑے لوگوں کی دستگیری کو کون ہے؟

لَوِاسْتَمَعْنَا لٰکُنَّا فِدَائَ ہُ

وَزِدْنَاہُ اَضْعَافاً مِنَ الْاَعْمَارِ

اگر ہم کرسکتے تو ان کے اوپر فدا ہوجاتے اور ان کی عمر کو کئی گنا اپنی عمروں سے بڑھادیتے ۔

وَلَکِنَّ اَمَرَاللّٰہِ لَابُدَّ کَائِنٌ

وَمَاحِیْلَۃٌ تُغْنِیْ مِنْ الْاَقْدَارِ

لیکن اللہ کا کام لامحالہ ہوکررہتا ہے اور کوئی حیلہ قضا و قدر کے آگے نہیں چلتا۔

تَخَّلَیْتَ مِنْ دُنْیَاکَ یَابَھْجَۃُ الدُّنیٰ

فَھَا تِیْکَ قَفْرٌ دَارِسُ الْاٰ ثَا رِ

تم اپنی دنیا سے کنارہ کش ہوئے اے دنیا کی زینت اب دنیا ویرانہ ہے جس کے آثار مٹے ہوئے ہیں

رَحِیْلُکَ شَیْخِیْ ثَلْمَۃٍ اَیُّ ثَلْمَۃٍ

بِذَا الدِّ یْنِ جَلَّتْ عَنِ الْاَظْہَارِ

میرے مرشد تمہاری رحلت اس دین میں رخنہ ہے کیسا رخنہ کہ جس کا اظہار نہیں ہوسکتا۔

سَئَلُوْنِ اَخْتَرَ اِرْخَ رِحْلَۃِ سَیِّدِیْ

فَقُلْتُ عَظِیْمُ الشَّانِ لَیْثُنَا الدَّارِیْ

مجھ سے اخترؔمیرے سردار کی تاریخ رحلت لوگوں نے پوچھی تو میں نے کہا’’ عظیم الشان ‘‘

۱۴۰۶ ھ

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.