بے خود کیے دیتے ہیں

بے خود کیے دیتے ہیں

بے خود کیے دیتے ہیں ، انداز حیجابانا

آ دِل میں تجھے رکھ لوں ، اے جلوہ جانانہ

کیوں آنکھ ملائی تھی ، کیوں آگ لگائی تھی
اب رخ کو چھپا بیٹھے ، کر کے مجھے دیوانہ .

جی چاہتا ہے تووحفای میں بیحجون میں انہیں آنکھیں
کے درشن کا تو درشن ہو ، نظرانے کا نذرانہ .

کیوں آنکھ ملائی تھی ، کیوں آگ لگائے تھی
اب رخ کو چھپا بیٹھا کر کی مجھے دیوانہ .

پینے کو تو پی لوں گا پر عرض ذرا سی ہے
کے اجمیر کا ساقی ہو ، بغداد کا مے خانہ .

بیدام میری قسمت میں سجدے ہیں اسی گھر کے
چھوٹا ہے نا چووتے گا سنگ دَر جانانہ

%d bloggers like this: