Fatwa online | Part 3

 

مفتی صاحب کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ عورت سے ایجاب کروایا گیا اور گواہان اور وکیل اور مرد سب کو متعیّنہ عورت کی خبر ہے کہ اس عورت سے نکاح کرنا یے جس کے باپ کا نام فلان ہے،   لیکن ہوا ایسا کہ نکاح ہڑھانے والے نے  باپ کا نام تو وہی بولا لیکن عورت نام بھول سے دوسرا کوئ نام بول دیا اور شوہر کو معلوم ہے کہ نام بولنے میں غلطی یورہی ہے اور اسنے قبول کر لیا،

    تو اس صورت میں کیا نکاح پر کچھ اثر پڑےگا   ؟  برائے کرم جواب عنایت فرمائے .

الجواب اللہم ہدایۃ الحق و الصواب: جب کہ وہ عورت مجلس نکاح میں موجود نہیں تھی ( جیسا کہ یہی ہندوستان میں متعارف و رائج ہے کہ عورت مجلس عقد میں نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کی طرف سے اس کا وکیل حاضر رہتا ہے ) اور وکیل نے عورت کا نام لینے میں غلطی کی مثلا ہندہ بنت عمرو کے بجائے خالدہ بنت عمرو کہہ دیا تو یہ نکاح ہندہ کے ساتھ منعقد نہیں ہوا کہ نکاح میں تو خالدہ بنت عمرو کا نام لیا گیا  اور یہ ہندہ بنت عمرو ہے. وجہ یہ ہے کہ صحت نکاح کے لیے منکوحہ کی تعریف بوقت عقد اس طرح ضروری ہے کہ وہ گواہوں کے نزدیک دیگر عورتوں سے ممتاز و متعین ہوجائے اور جہالت نہ رہے اور جب کہ نکاح خواں نے نام لیتے وقت غلطی سے کسی دوسری عورت کا نام لے لیا تو منکوحہ کی تعیین و تمییز تو نہ ہوئی. ولہذا اگر وہ عورت مجلس نکاح میں ہو اور اس کی طرف اشارہ کرکے کہا گیا کہ اس سے تمہارا نکاح کیا اور پھر نکاح خواں نے نام لینے میں غلطی کی تو یہ نکاح ہوگیا کہ نام لینے سے مقصود تعریف تھی اور وہ اشارے کے ذریعہ پہلے ہی حاصل ہوگئی لہذا بعد میں نام لینے میں غلطی صحت نکاح میں اثر انداز نہ ہوئی۔ شامی میں بحر الرائق سے ہے : ” لَا بُدَّ مِنْ تَمْيِيزِ الْمَنْكُوحَةِ عِنْدَ الشَّاهِدَيْنِ لِتَنْتَفِي الْجَهَالَةُ، فَإِنْ كَانَتْ حَاضِرَةً مُنْتَقِبَةً كَفَى الْإِشَارَةُ إلَيْهَا وَإِنْ كَانَتْ غَائِبَةً وَلَمْ يَسْمَعُوا كَلَامَهَا بِأَنْ عَقَدَ لَهَا وَكِيلُهَا فَإِنْ كَانَ الشُّهُودُ يَعْرِفُونَهَا كَفَى ذِكْرُ اسْمِهَا إذَا عَلِمُوا أَنَّهُ أَرَادَهَا، وَإِنْ لَمْ يَعْرِفُوهَا لَا بُدَّ مِنْ ذِكْرِ اسْمِهَا وَاسْمِ أَبِيهَا وَجَدِّهَا. اھ ۔

وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْغَائِبَةَ لَا بُدَّ مِنْ ذِكْرِ اسْمِهَا وَاسْمِ أَبِيهَا وَجَدِّهَا، وَإِنْ كَانَتْ مَعْرُوفَةً عِنْدَ الشُّهُودِ عَلَى قَوْلِ ابْنِ الْفَضْلِ، وَعَلَى قَوْلِ غَيْرِهِ يَكْفِي ذِكْرُ اسْمِهَا إنْ كَانَتْ مَعْرُوفَةً عِنْدَهُمْ، وَإِلَّا فَلَا وَبِهِ جَزَمَ صَاحِبُ الْهِدَايَةِ فِي التَّجْنِيسِ وَقَالَ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ التَّسْمِيَةِ التَّعْرِيفُ وَقَدْ حَصَلَ وَأَقَرَّهُ فِي الْفَتْحِ وَالْبَحْرِ” . اھ . ملتقطا

 اسی میں ہے: ” إذَا سَمَّاهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا وَلَمْ يُشِرْ إلَيْهَا فَإِنَّهُ لَا يَصِحُّ كَمَا فِي التَّنْجِيسِ” . ( در مختار و رد المحتار : 4 / 89 ، 90)

فتاوی رضویہ میں ہے: ” اگر ہندہ اس جلسہ نکاح میں حاضر نہ تھی اورا س کی طرف اشارہ کرکے نہ کہا گیا کہ اس ہندہ بنت بکر کا نکاح تیرے ساتھ کیا بلکہ ہندہ کی غیبت میں یہ الفاظ کہے گئے توہندہ کانکاح نہ ہوا۔ نہ اسے طلاق کی حاجت نہ عدت کی ضرورت جس سے چاہے اپنا نکاح کرسکتی ہے کہ نکاح تو ہندہ بنت بکر کا ہوا اور یہ ہندہ بنت بکر نہیں، ہاں اگر بکر نے اسے  پرورش یا متبنی کیا تھا اور وہ عرف میں ہندہ بنت بکر کہی جاتی ہے اور اس کے کہنے سے اس کی طرف ذہن جاتا ہے تونکاح ہوگیا ” ۔ (فتاوی رضویہ جدید : 11 / 250) واللہ تعالی اعلم

کتبہ: محمد مزمل برکاتی

خادم تدریس وافتا دار العلوم غوث اعظم پوربندر ، گجرات

Fatwa online Imamt

الجواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ….

اگر فی الواقع امام مذکور ان حرکات کا مرتکب ہے جو سائل نے بیان کیا ہے تو ایسا امام فاسق معلن ہے اور تا وقتیکہ اپنے گناہ سے علانیہ توبہ نہ کرلے  اس کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز و گناہ ہے اور پڑھ لی تو اعادہ

واجب ہے . رد المحتار میں منیہ سے ہے: وفی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ و قد وجب علیہم اھانتہ شرعا. اور غنیہ شرح منیہ میں ہے: لو قدموا فاسقا یأثمون بناء علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم. اور درمختار میں ہے: کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا. واللہ تعالی اعلم

کتبہ: محمد مزمل برکاتی

خادم تدریس و افتا دارالعلوم غوث اعظم پوربندر

Fatwa online Hillo Ibahat

مفتیانِ کرام شرکائے مشق افتا گروپ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بعدِ سلام عرض ہے کہ ۔۔۔۔۔کسی عورت کو مسلسل تین بچے آپریشن سے پیدا ہوئے اور ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اب اگر ڈِلِوری ہوئی تو عورت کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے اور اس عورت کے شوہر کا کہنا ہے کہ اگر احتیاط نہ کرپایا تو ہو سکتا ہے کہ حمل ٹھہر جائے پھر یا تو عورت کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے یا پھر اگر حمل رہا تو اسے اسقاط کرانا پڑےگا اور یہ بھی شریعت میں منع اور گناہ کا کام ہے تو کیا اس صورت میں اس عورت کی نسبندی کرانا جائز ہے یا نہیں

برائے کرم حکم شرعی سے آگاہ فرمائیں۔

کیا اسکے لئے دوسری شادی بہتر نہی ہے

تا کہ نسل جاری رہے

زبردست

اسلامی نظریاتی مشورہ

الجواب :وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ….

ایسی عورت کی نس بندی ھی حرام ہے. مستقبل کے امر موہوم کے اندیشے کےسبب حرام ؛ حلال نہیں ہوجایا کرتا ہے. شریعت اسلامیہ کا مشہور ضابطہ ہے ” الیقین لا یزول الا بالیقین “.

شخص مذکور پر لازم ہے کہ عزل کرے یا عارضی طور سے مانع حمل ادویہ جو بازاروں میں بکتی ہیں اور برانڈ کمپنیوں کی ملتی ہیں انہیں یا کنڈوم کو استعمال کرے .

واللہ تعالی اعلم

کتبہ محمد مزمل برکاتی

خادم دار العلوم غوث اعظم پوربندر

علمائے ذوی الاحترام کی بارگاہ میں یہ سوال ہے کہ ایک شخص نے اپنے گھر میں چوہوں کی پریشانی کی وجہ سے چوہوں کو قید کرنے کا پنجرہ لگایا جس میں چوہا قید ہو گیا اب ان کا کہنا یہ ہے کہ چوہے کو گرم پانی ڈال کر مار سکتے ہیں یا رہا کر دیا جائے۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

یہ کوئی مزاحیہ سوال نہیں ہے بہت سارے لوگ گرم پانی ڈال کر چوہوں کو مار دیتے ہیں تو پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح کسی موذی جانور کو انتہائی تکلیف دے کر مارنا کیسا ؟

کتبہ محمد مزمل برکاتی

خادم دار العلوم غوث اعظم پوربندر

الجواب اللھم ھدایۃ الحق و الصواب: اس طرح چوہوں کو یا کسی بھی حیوان کو گرم پانی میں ڈال کر ہلاک کرنا جائز نہیں کہ اولا یہ بلا ضرورت سخت اذیت دینا اور تڑپا تڑپا کر مارنا ہے جو جائز نہیں. حدیث پاک میں ہے : ” اذا قتلتم فاحسنوا القِتلۃ“. ثانیا یہ آگ سے سزا دینا ہے کیوں کہ پانی آگ ہی سے گرمایا ہوا ہے اور بخاری شریف میں ہے: ” ان النار لا یعذب بھا الا اللہ“.اور اسی میں ایک اور حدیث پاک ہے : ” لا تعذبوا بعذاب اللہ“. اور مرقاۃ المفاتیح میں  مسند بزار سے روایت نقل ہے کہ حضرت عثمان بن حبان کہتے ہیں : میں حضرت ام درداء کے پاس تھا. ایک پسو پکڑ کر آگ میں ڈال دیا؛ یہ دیکھ کر حضرت ام درداء نے کہا کہ میں نے حضرت ابو درداء کو حضور کا ارشاد فرماتے سنا کہ آگ سے عذاب نہ دے مگر وہی جو آگ کا رب ہے. ثالثا گرم پانی سے مارڈالنے کی صورت میں بلا وجہ پانی کو نجس کرنا اور ضائع کرنا ہے .

لہذا یہ طریقہ جس میں متعدد شناعتیں ہیں ہرگز اختیار نہ کرے.

رَہا چوہے کو رِہا کرنا…. تو عرض ہے کہ اگر رہا ہی کرنا تھا تو پنجرہ ہی کیوں لگایا ؟؟؟؟ بلکہ حکم یہ ہے کہ اسے مار ڈالے. حدیث پاک میں ہے ” خمس فواسق یقتلن فی الحل و الحرم: الحیۃ و الغراب الابقع و الفارۃ و الکلب العقور و الحُدَیّا.  “

واللہ تعالی اعلم

کتبہ محمد مزمل برکاتی

خادم دار العلوم غوث اعظم پوربندر

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.