Fatwa online | Part 5 – In Urdu | Nikah w Talaq

Hurmat w Jawaz

السلام علیکم ورحمت الله

مفتیان کرام سے گذارش هے کہ درج ذیل سوال میں رهنمائی فرمائیں >>>

جن کے گهر اولاد نہیں هوتی وه خاندان میں کسی سے لڑکا یا لڑکی گود لے لیتے هیں پهر اس لڑکے یا لڑکی کا نام رکهنے کے بعد متبنٰی باپ اپنا نام لگا دیتا هے سارے سرٹیفکٹس اسی طرح بنتے هیں حتی کہ نوبت یہاں تک پہونچ جاتی هے کہ کسی گهر صرف بیٹیاں هوتی هیں تو لڑکا گود لینے کی صورت میں متبنٰی باپ کے انتقال کے بعد متبنٰی لڑکا مال کا وارث هوجاتا هے اور لڑکیاں ره جاتی هیں کہیں کچھ ملتاهے کہیں کچھ بهی نہیں !!!!

دریافت یہ ہے کہ گود لینے میں منھ بولے باپ کے لۓ کیا شرعی حکم هے آیا وه اپنا نام بتاۓ یا حقیقی باپ کا ? بینوا توجروا !!!

المستفتی : محمد فاروق مصباحی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ

 جواب لڑکا یا لڑکی کی پرورش کرنے سے وہ لڑکا صاحب پرورش کا نہیں ہوجاتا ہے اور نہ حقیقتا وہ اس کا بیٹا ہوجاتا ہے لہذا بچہ کہیں بھی پرورش پائے اس کے ولدیت میں اصل والد ہی  کا نام لکھنا اور پکارنا ضروری ہے کسی غیر کی طرف اس بچہ کی نسبت دینا ناجائز و حرام ہے كما قال الله تعالى فى القرآن المجيد : وَمَا جَعَلَ اَدۡعِیَآءَکُمۡ  اَبۡنَآءَکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ قَوۡلُکُمۡ بِاَفۡوَاہِکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَقُوۡلُ الۡحَقَّ وَهوَ  یَهدِی  السَّبِیۡلَ ، اُدۡعُوۡهمۡ لِاٰبَآئِهمۡ ہُوَ  اَقۡسَطُ عِنۡدَ الله ” اھ یعنی اور نہ تمہارے لئے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایا یہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے اور اللہ حق تعالی فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے ، انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے ” اھ ( پ 21 سورہ احزاب آیت 4 ) اور حدیث شریف میں ہے کہ ” عن امير المؤمنين على كرم الله وجهه عن النبى صلى الله تعالى عليه وسلم من ادعى الى غير ابيه او انتمى الى غير مواليه فعليه لعنة الله و الملائكة و الناس اجمعين لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا ” اھ یعنی امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرمایا جو شخص اپنے باپ کے سوا دوسرے کی طرف ادعا کرے یعنی کسی دوسرے باپ بنائے یا اپنے مولی کے سوا دوسرے کو اپنا مولی بنائے تو اس پر اللہ تعالی اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے نہ ان کا فرض قبول اور نہ نفل ” اھ  ( مسلم شریف ج 1 ص 442 : کتاب الحج ، باب فضل المدینة ) اور صحیحین وغیرھما میں ہے کہ ” من ادعى الى غير ابيه فالجنة عليه حرام ” اھ یعنی جو اپنے باپ کے سوا دوسرے کو اپنا باپ بنائے تو اس پر جنت حرام ہے ” اھ ( بخاری شریف : کتاب المغازی ج 2 ص 619 / مسلم شریف ج 1 ص 57 ) ھکذا فی الفتاوی الرضویہ من الجزء التاسع مطبع رضا اکیدمی ممبئی )

مذکورہ آیت و حدیث سے واضح ہوا کہ متبنی بیٹے کا پرورش کرنے والے کی نسبت کرنا ناجائز و حرام ہے بلکہ ہر صورت میں اپنی نسبت اپنے حقیقی باپ کی طرف کرنا لازم و ضروری ہے اگرچہ کافر ہیں جیسے عکرمہ بن ابو جہل ۔

واللہ اعلم بالصواب

کریم اللہ رضوی

Haram w Ibahat

السلام علیکم۔۔۔

مفتی صاحب کو چند دوستوں نے رقم جمع کرکے الماری  خرید کر دیا ۔۔۔۔

جمع کردہ رقم کے اندر  ایک ایسے شخص نے بھی پیسہ دیا جو کسینوں کے ذریعہ ہرام کماتا ہے

اب اس الماری کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں۔۔۔

جواب عنایت فرماکر دعاوں کے مستحق بنے۔۔۔

الجواب : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ…

اس الماری کا استعمال درست ہے چاہے وہ مفتی صاحب کے لیے خرید کی جائے یا کسی اور کے لیے . جب مال حلال میں حرام مخلوط ہوجائے اس طرح کہ امتیاز نہ رہے تو مجموعہ پر حرمت کا حکم ساقط ہوجاتا ہے . عالم گیری میں ہے: امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : بہ نأخذ ما لم نعرف شیئا حراما لعینہ.

علاوہ ازیں ان رقوم سے الماری خرید کر مفتی صاحب کو دی گئی ہے نا کہ خود رقوم اور بالفرض اگر وہ کل رقوم حرام ہوتیں تب بھی ان کی حرمت الماری کی طرف سرایت نہ کرتی کہ جب تک  مال حرام پر عقد و نقد دونوں جمع نہ ہوجائے اس کی حرمت متعدی نہیں ہوتی. (عقد کی صورت یہ کہ خاص مال حرام دکھلایا  اور کہا کہ اس کے بدلے دے اور نقد کی صورت یہ کہ اس مال حرام کو دکھلا کر بیع کرنے کے بعد فورا اسی کو دیا ) اور ظاہر ہے کہ آج کل پورے ہندوستان بلکہ دنیا میں ہر جگہ تقریبا بوقت بیع ثمن کو مطلق رکھاجاتا ہے, کہیں بھی ثمن کو دکھا کر بیع نہیں کی جاتی. پس جب الماری خرید کر دام فورا ادا کیا گیا اور وہ رقم بالفرض حرام ہی ہو تو چوں کہ مال حرام پر نقد تو جمع ہوا مگر  مال حرام پر عقد نہیں پایا گیا لہذا اس رقم کی حرمت الماری کی طرف منجر نہ ہوگی . تفصیل کے لیے فتاوی رضویہ اور رد المحتار؛ کتاب الغصب کا مطالعہ کریں .

واللہ تعالی اعلم

کتبہ محمد مزمل برکاتی

خادم دار الرلوم غوث اعظم پوربندر

دار العلوم

Aqidah

سائل عبدالرزاق جام نگر

الله تعالیٰ کے لیے لفظ حاضر و ناظر کا استعمال کرنا چاہئے یا نہیں

الجواب بعون الملک الوھاب

نہیں کہنا چاہیے مقالات کاظمی میں ہے, “حاضر اس وجود کو کہتے ہیں جو غائب بھی ہوسکے اور ناظر آنکھ کی پتلی سے دیکھنے والے کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ  نہ غائب ہوسکتا ہے اور نہ آنکھ کی پتلی سے دیکھتا ہے کیونکہ وہ جسم اور جسمانیت سے پاک ہے لہذا حقیقی معنی کے اعتبار سے خداوندتعالیٰ کو حاضر وناظر نہیں کہہ سکتے اسلئے قرآن و احادیث میں کسی جگہ اللہ تعالیٰ  کانام حاضرو ناظر نہیں آیا۔ ہاں البتہ مجازی معنی کے اعتبار سے سمیع و بصیر اور شہید کے معنی میں اللہ تعالیٰ  کو حاضر وناظر کہہ سکتے ہیں۔ حقیقی معنی کے اعتبار سے حاضر و ناظر ہونا اللہ تعالیٰ  کی شایان شان نہیں.”(ح ٤ ص ٣٣) واللہ تعالی اعلم بالصواب

سید سرفراز علی

Nikah w Talaq

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں ھندہ کی شادی ہوئی اور شوہر کے ساتھ تقریباً آٹھ مہینہ   رہی اس کے بعد اس کا شوہر تقریباً آٹھ سال سے لا پتہ ہے ایسی صورت میں ھندہ کسی دوسرے مرد سے شادی کر سکتی ہے یا نہیں حوالے کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں عین نوازش ہوگی

الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مستفسرہ میں مسلک حنفی کے مطابق شوہر کی عمر ستر سال کی ہونے تک عورت کو انتظار کا حکم ہوتا ہے مگر دور حاضر کے علما حرج عظیم کی وجہ سے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے مذھب پر عمل کرتے ہیں ھندہ کو چاہیے کہ وہ اپنا معاملہ قاضی یا اپنے علاقے کے بڑے عالم کے پاس جو سنی صحیح العقیدہ ہو پیش کرے اور وہ تحقیق کے لیے ھندہ کو مزید چار سال انتظار اور شوہر کے تلاش کی مہلت دے, معاملہ قاضی یا بڑے عالم کے سامنے پیش ہونے کے ٹھیک چار سال بعد تک اگر شوہر کا پتہ نہ چلے تو وہ عالم ھندہ کا نکاح فسخ کردے اور ھندہ عدت گزار کر دوسری شادی کرے ایسا ہی فتاوی بحر العلوم جلد سوم میں ہے. واللہ تعالی اعلم و علمہ اتم و احکم

سید سرفراز علی

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.