آ جائے بلوا مجھے آقا تیرے دَر سے

آ جائے بلوا مجھے آقا تیرے دَر سے

آ جائے بلوا مجھے آقا تیرے دَر سے
جس دَر کی غلامی کو تو جبریل بھی ترسے

پیدل ہی نکلتے ہیں ، ماساافات کا نہیں خوف

تھکتی ہی نہیں ہَم تو مدینی كے سفر سے

سنت پہ تیری چلنے کا آ جائے قرینہ

یہ ابر کرم کاش میرے دشت پہ برسے

Zاراح بھی لگے گوہر الماس سے بڑھ کر

دیکھے تو کوئی خاک ارب میری نظر سے

اک میں ہی نہیں طالب جلوہ میرے آقا !

ہر اک مسلمان تیرے دید کو ترسے

ناموس محمد كے لیے جان بھی دوں گا

ہو جاؤں گا واقف میں شہادت كے ہنر سے

دنیا كے فقط چند ہی لمحات تھے گزرے

ہو آئے پیامبر میرے سادیاون كے سفر سے

جو شام سحر صلی اعلی کہتا رہے گا

آئے گا بلوا اسے آقا كے نگر سے

کچھ خوف نہیں مجھ کو کادیی دھوپ کا امجد

سایہ مجھے ملتا ہے ریساالت كے شجر سے