آنکھیں بھگو کے دِل کو ہلا کر چلے گئے

آنکھیں بھگو کے دِل کو ہلا کر چلے گئے

ایسے گئے کہ سبکو رُلا کر چلے گئے

افتا کی شان علم و درکا وقار تھے
سادہ مزاج دل کا دل کی بہار تھے
محفل ہر ایک سنّی بنا کر چلے گئے۔
عمر تمام دین کی خدمت میں کاٹ دی
اپنے قلم سے کُفر کی تاریخ چھانٹ دی
حُکم شریعت ہمکو بتا کر چلے گئے

ایسے گئے کہ سبکو رُلا کر چلے گئے

دینِ نبي کی خدمت مقبول ھو گئی
سینوں میں اُنکی اُلفت محبوب ہو گئی
دیوانہ اپنے سبكو بنا کر چلے گئے

ایسے گئے کہ سبکو رُلا کر چلے گئے

کے اعلان شہری جسنے بہدی كو دے دیا
اور پھر جلوس پاک بھی عطا کیا
تحریک کیسی کیسی چلا کر چلے گئے

ایسے گئے کہ سبکو رُلا کر چلے گئے

سلطان اسلم بھی سایہ نشان تھا اور

ہر ہر اِک لحاظ سے جو بہدی کی جان تھا
کیسا پہاڑ اعظم کاگرا کر چلے گئے

ایسے گئے کہ سبکو رُلا کر چلے گئے

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.